دادی جان کا آنگن

آنحضورﷺ کا اسوۂ حسنہ

احمد: دادی جان ! ہر اتوار کو ہماری کلاس میں خطبہ جمعہ سے سوال و جواب ہوتے ہیں۔ ناظم صاحب اطفال نے ہمیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا 19؍دسمبر 2025ء کا خطبہ سن کر تیاری کرنے کو کہا ہے۔

دادی جان: ماشاء اللہ۔ چلیں میں تیاری کروا دوں آپ کی؟

محمود: جی دادی جان

دادی جان: اچھا مجھے Tab پکڑائیں میں الفضل انٹرنیشنل سے خطبہ پڑھ کر سناتی ہوں۔ اور پھر آپ سے سوالات کروں گی۔ آپ نوٹس بناتے رہیں۔ محمود آپ گڑیا آپی کو بھی بلا لائیں۔ احمد Tab پکڑاتا ہے تو دادی جان الفضل کی ویب سائٹ سے خلاصہ تلاش کرنے لگتی ہیں۔ اس دوران محمود گڑیا کو بھی لے آتا ہے۔

دادی جان خطبہ پڑھ کر سنایا۔

چلیں اب میں آپ سے سوالات پوچھتی ہوں۔دادی جان نے عینک ٹھیک کی اور مسکرا کر بولیں۔

محمود فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اور بولاجی دادی جان! پہلا سوال آپ مجھ سےہی پوچھیں۔

دادی جان نے خلاصہ دیکھتے ہوئے کہا:اچھا محمود، یہ بتاؤ کہ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ کے آغاز میں کون سی آیت تلاوت فرمائی تھی؟

محمود: حضورِ انور نے سورۃ الاحزاب کی یہ آیت تلاوت فرمائی تھی کہ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب:22)

یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے۔

دادی جان: واہ آپ نے یاد کر لی؟

محمود سر کھجاتے ہوئے: اصل میں یہ میں نے اپنی تقریر میں یاد کی ہوئی تھی۔

دادی جان: شاباش محمود بیٹا۔ اور اِس آیت میں کیا بات بیان کی گئی؟

احمد نے ذرا سوچ کر جواب دیا:دادی جان، اس آیت میں آگے مزید بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر اُس شخص کے لیے بہترین نمونہ ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔

دادی جان خوش ہو گئیں۔

شاباش! اب گڑیا، یہ بتاؤ کہ حضرت عائشہؓ نے آنحضرتﷺ کے اخلاق کے بارے میں سوال کے جواب میں کیا فرمایا؟

گڑیا نے فوراً کہا:حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ سے کسی نے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ کے اخلاقِ عالیہ اور آپؐ کے اُسوہ کے بارے میں کچھ بتائیں تو حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ کیا تم نے قرآنِ کریم نہیں پڑھا؟اِس میں تو الله تعالیٰ نے خود آپؐ کے اُسوہ کے بارے میں گواہی دے دی ہے۔ جیسا کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ کہ اَے رسول! تُو یقیناً اخلاق کےاعلیٰ ترین مقام پر ہے۔

دادی جان نے اثبات میں سر ہلایا اور اگلا سوال پوچھا:

اچھا، حضورِ انور نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ کو نبوت سے پہلے لوگوں نے کون سا لقب دیا تھا اور وہ کیوں اصل انعام تھا؟

احمد نے جواب دیا: لوگوں نے آپ ﷺ کو صادق اور امین کہا تھا، اور یہ اصل انعام اس لیے تھا کہ پوری قوم نے بغیر کسی کمیٹی یا حکومت کے متفقہ طور پر آپؐ کے کردار کو تسلیم کیا تھا۔

دادی جان نے کہا: بہت خوب! اب یہ بتاؤ کہ حضورِ انور نے کیوں فرمایا کہ صرف ایمان لے آنا کافی نہیں؟

محمود نے جواب دیا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت ﷺ کو اُسوہ بنا کر بھیجا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم آپؐ کی باتوں پر عمل بھی کریں۔

دادی جان نے tab دیکھتے ہوئے اگلا سوال کیا: اچھا، عبادت کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا کون سا خاص نمونہ بیان ہواہے؟

گڑیا نے کہا: آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی عشقِ الٰہی میں ڈوبی ہوئی تھی، چاہے جنگیں ہوں یا مشکلات، آپؐ نے کبھی عبادت میں کمی نہیں کی۔

دادی جان مسکرائیں:بالکل صحیح۔ اب یہ بتاؤ کہ حضرت عائشہؓ نے جب رات کی عبادت کے بارے میں سوال کیا تو آنحضرت ﷺ نے کیا جواب دیا؟

گڑیا نے ادب سے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے قرب عطا فرمایا ہے تو کیا یہ فرض نہیں کہ میں زیادہ سے زیادہ شکر ادا کروں؟

دادی جان نے اگلا سوال کیا:سورۃ النساء کی تلاوت کے وقت آنحضرت ﷺ کیوں رو پڑے تھے؟

محمودنے جواب دیا:اس لیے کہ آپؐ کو اپنی امت کی فکر تھی کہ کہیں قیامت کے دن مجھے ان کے خلاف گواہی نہ دینی پڑ جائے۔

دادی جان نے کہا: اچھا، تکلف والی عبادت کے بارے میں حضور ﷺ نے کیا بات بیان فرمائی ہے؟

احمد نے فوراً کہا:آپ ﷺ نے فرمایا کہ عبادت اتنی کرنی چاہیے کہ دل میں خوشی رہے، تھکن ہو جائے تو آرام کر لینا چاہیے، زبردستی اور تکلف فائدہ نہیں دیتا۔

دادی جان نے آگے بڑھتے ہوئے پوچھا:نماز کے بارے میں جلدی جلدی پڑھنے والے لوگوں کی اصلاح کیسے فرمائی گئی؟

محمود بولا:حضورِ انور نے فرمایا کہ نماز سنوار کر، توجہ اور انکساری کے ساتھ پڑھنی چاہیے، نہ کہ جلدی میں فرض ادا کر کے فارغ ہو جانا چاہیے۔

آخر میں دادی جان نے کہا کہ یہ آخری سوال ہے۔آنحضرت ﷺ کا لوگوں اور گھر والوں سے سلوک کیسا تھا؟

گڑیا نے مسکرا کر جواب دیا: آپ ﷺ بیویوں کے ساتھ مشفق اور عادل تھے، سخت بات پر بھی صبر کرتے تھے، اور عام لوگوں کی بات پوری سنتے تھے۔

دادی جان نے ٹیب بند کیا اور بولیں:ماشاء اللہ بچو! اگر آپ سب ان باتوں پر عمل بھی کرنے لگ جاؤ تو یہی اصل کامیابی ہوگی۔

احمد اور محمود نے ایک ساتھ کہا: جزاک اللہ دادی جان! اب ہماری تیاری مکمل ہے۔

(ابو الفارس محمود)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button