بچوں کا الفضل

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کس طرح اپنے بچوں کو ہستیٔ باری تعالیٰ سے متعارف فرمایا؟

(ادارہ ریویو آف ریلیجنز کا صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب کے ساتھ ایک انٹرویو)

محترم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب کہتے ہیں کہ حضور نے بچپن میں ہم لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے تصور کو کیسے شیئر کیا یا خدا تعالیٰ کا تصور ہمارے دل میں کیسے پیدا کرنے کی کوشش کی۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد تو تمام نصائح جماعت کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ خلافت سے پہلے یا ہمارے بچپن میں حضرت صاحب نے کیسے اللہ کے تصور کو ہمارے سامنے پیش کیا۔ جو لوگ والدین ہیں ان کو پتہ ہے کہ بچہ جب بڑا ہو رہا ہوتا ہے اس وقت خدا تعالیٰ کا تصور اس کو سمجھانا بعض لحاظ سے ایک مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ جب بچہ بڑا ہو رہا ہوتا ہے تو وہ سوال پوچھتا ہے۔ اس کو مختلف چیزوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ تمہاری ماما ہیں، یہ تمہارے بابا ہیں، اس کو پانی کہتے ہیں، اس کو milkکہتے ہیں، یہ کھلونا ہے… اور جب ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو پہلا سوال جو بچے پوچھتے ہیں یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کون ہے؟ ہمیں نظر کیوں نہیں آتا؟ اب یہ چیزیں سمجھانے کے لیے بظاہر مشکل ہیں کیونکہ بچے کو ہر چیز ہم مادی طور پر یا دکھا کر سمجھا رہے ہوتے ہیں تو اس موقع پر خداتعالیٰ کا تصور بچوں کے دل میں ڈالنا، حضرت صاحب نے کیسے کیا۔ حضرت صاحب اور ہماری والدہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دونوں خلافت سے پہلے خدا تعالیٰ کی توحید پر بڑی سختی کے ساتھ قائم تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جب زندگی وقف کی تو حضرت صاحب کی پہلی پوسٹنگ گھانا ہوئی اور ہم لوگ اس وقت گھانا میں بچے تھے۔ ہمارے سکول کا جو سٹارٹ ہے، آغاز وہ بھی گھانا (افریقہ) میں ہوا۔ بچپن کی باتیں بہت زیادہ تو افریقہ کی یاد نہیں لیکن ایک بات چونکہ یاد رہ گئی اس میں کچھ ہمارے ساتھ ایک واقعہ ہوا۔ ہم نے سکول شروع کیا تو اس کے کچھ عرصہ بعد کوئی پروگرام تھا۔ کرسچن سکول تھا تو پروگرام تھا جس میں سب نے یہ کہنا تھا کہ Jesus is a son of God یعنی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور ہمیں یہ بچپن سے پتہ تھا، حضرت صاحب نے بھی اور ہماری والدہ نے بھی یہ بتایا تھا کہ شاید اس طرح کی بات ہو تو آپ نے کبھی یہ نہیں کہنا کہ Jesus is a son of God اور پھر حضرت صاحب اور ہماری والدہ دونوں بہت زیادہ اِس بات پر فکر مند ہوتے تھے کہ بچے خدا تعالیٰ کے ایک ہونے اور خدا تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوں تو ہمیں بچپن سے ایک سورت قرآن کریم کی بھی ہماری والدہ نے سکھائی، بلکہ ابھی کچھ عرصہ پہلے حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمارے بچوں کو بھی، جو اگلی جنریشن ہے چھوٹے بچے ہیں ان کو ابھی تک سورۂ اخلاص سکھائی ہے کہ نہیں کیونکہ آج کل وقف نَو سلیبس میں سورۂ کوثر سے، اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ سب سے چھوٹی سورت ہے وہ اس سے شاید سٹارٹ کرتے ہیں یا اتفاق ہوا کہ سورۃ الکوثر سکھاتے ہیں تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ نہیں بچوں کو سب سے پہلے سورۂ اخلاص سکھانی چاہیے کہ سورۂ اخلاص میں خدا تعالیٰ کے توحید کا، خدا تعالیٰ کے ایک ہونے کا اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت،unity of God کا جو تصور ہے وہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے اور آج کل کے زمانے اور حالات کے حساب سے یہ سورت بچوں کو فوراً پہلے سکھائیں تا کہ ان کے دل میں خدا تعالیٰ کے واحد ہونے کا اور لاشریک ہونے کا تصور پیدا ہو۔ سورۂ اخلاص جو ہے وہ ہے۔

قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۲﴾ اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۳﴾ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۴﴾ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۵﴾ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ اللہ بے احتیاج ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ جنا گیا اور اس کی صفات میں اس کا کوئی ہمسر نہیں۔

تو یہ سورہ بچپن سے حضور، ہماری والدہ ہمیں سکھاتے رہے ہیں بلکہ ہماری اگلی نسل کو بھی حضور پوچھتے ہیں کہ یہ سورہ ان کو سکھانے کے بعد اِس کا مطلب بھی سمجھائیں۔ تو یہ ایک پریکٹیکل کوشش تھی جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچے کے کان میں سب سے پہلے اذان دیں تا کہ خدا تعالیٰ کے نام اور اس کے الفاظ اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی اس کے دماغ میں سب سے پہلے جائے۔ ایک تو یہ طریقہ تھا جو حضرت صاحب اور ہماری والدہ بتاتے تھے کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے اور اس کی صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ باقی دعاؤں کے ساتھ سورۂ اخلاص کا سکھانا ایک پریکٹیکل کوشش تھی جس سے خدا تعالیٰ کے ایک ہونے کا تصور بچوں میں قائم ہونا تھا۔

دوسرا یہ کہ احتیاط بھی تھی کہ ہم ایک کرسچن ملک میں رہتے تھے، وہاں پہ مسلمان بھی ہیں لیکن عیسائی بہت زیادہ ہیں اور عیسائی جو پادری ہیں اُن کا بھی افریقہ میں، خاص طور پر گھانا میں کافی زور ہوتا تھا تو ہمیں سکول جاتے ہوئے یہ پتہ تھاکہ Jesus is a son of God نہیں ہے بلکہ ہمیں بتایا گیا تھاکہ Jesus is a Prophet of Allah یہ کہنا ہے۔اب ہوا یہ کہ سکول میں جب ہم نے Jesus is a son of God نہیں کہا تو جو ٹیچر تھیں،وہ کافی سخت قسم کی ٹیچر تھیں،انہوں نے اس پر ہمیں physical punishment دی۔ تو ہم نے گھر آ کے کہا کہ جب ہم Jesus is a son of God نہیں کہتے تو اس پہ ٹیچر ہمیں punishment دیتی ہیں، phyisically ہماری پٹائی بھی ہوتی ہے۔ تو حضرت صاحب نے کہا کہ ٹھیک۔ یہ بات تو آپ نے بہرحال نہیں کہنی۔تو ان شاء اللہ ہم ٹیچر سے مل کے اس کو یہ بات explainکریں گے۔ اگلے دن یہ واقعہ دوبارہ ہوا۔ ٹیچر پھر ناراض ہوئی اُس نے پھر مارا۔ پھر حضرت صاحب ہیڈ ٹیچر کو ملنے گئے اور اُن کو بتایا کہ دیکھو خدا تعالیٰ کی توحید جو ہے اور اُس کا ایک ہونا ہمارے fundamental beliefs میں سے ایک ہے اور ہم خدا تعالیٰ کی unity کے قائل ہیں، ہم عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ کے مقدس اور پاک نبی مانتے ہیں لیکن ہم ان کو اللہ کا بیٹا نہیں مانتے۔ پھر جب حضور واپس تشریف لائے تو مجھے یاد ہے رات کو حضور نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بیان کیا کہ عرب کی سوسائٹی میں بے شمار idol worshippers تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کا تصور نہیں تھا تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خدا تعالیٰ کے ایک ہونے کا تصوّر بیان کیا اور اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو شروع میں غریب لوگوں نے کثرت سے قبول کیا، کثرت سے تو نہیں لیکن یہ کہ ابتدائی قبول کرنے والے لوگوں میں بہت سادہ اور غریب غلام شامل تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے۔ تو حضور یہ واقعہ کئی دفعہ ہمیں سناتے تھے کہ حضرت بلالؓ جب مسلمان ہوئے تو ان پر بہت ظلم ہوا اور ان کا جو مالک تھا ان کا masterتھا وہ ان کو مکہ کی شدید گرمی میں زمین پر زبردستی گرم پتھریلی ریت کے اوپر لٹاتا تھا پھر ان کے سینے پہ گرم سخت پتھر رکھ دیتا تھا اور ان کو مارتا تھا کہ تم کہو کہ جو دو famous بت ہیں لات اور عزیٰ، اُن کے دو بت تھے ان کے نام لے کر کہ اُن کی بڑائی بیان کرو۔ تو حضرت بلالؓ کو چونکہ عربی نہیں آتی تھی حضرت بلال بار بار یہ لفظ دہراتے تھے کہ ’اَحد‘،’اَحد‘ اور خدا تعالیٰ ایک ہے اور اللہ ایک ہے۔ اور اس کے بعد جب وہ مار مار کے تھک جاتا تھا تو حضرت بلالؓ کو گلے میں رسی ڈال کے عرب کے غنڈے اور بدمعاش ٹائپ شرارتی لڑکوں کو دے دیتا تھا کہ ان کی باڈی کو گھسیٹیں۔ حضرت بلالؓ زخمی ہو جاتے تھے اور اس کے باوجود حضرت بلال مستقل اَحد اَحد کے الفاظ بیان کرتے تھے۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کی خاطر تھوڑی سی مار پڑ بھی جائے یا قربانی دینی پڑ جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کبھی یہ نہیں کہنا کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے یا اس بات پر compromiseکبھی نہیں کرنا۔ آج کل بھی ویسٹ میں بعض اوقات بچے پریشر میں آجاتے ہیں، peer pressureیا بعض اوقات ٹیچرز کے پریشر میں یا ساتھی بچوں کے پریشر میں اور جو سپیشل کرسچنز کے سکولز ہیں یا چرچ سکولز ہیں اُن میں کرسمس کے دنوں میں خاص طور پہ یہ بات ہو جاتی ہے، لوگ نارمل لیتے ہیں کوئی بات نہیں مسجد میں آ کے ’اللہ ایک ہے‘ کا تصور دوبارہ آ جائے گا سکول میں اگر کہہ بھی دیا تو کوئی بات نہیں۔

اس کے علاوہ حضرت صاحب بھی اور ہماری والدہ بھی کیونکہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور عبادت میں حقوق اللہ کے معاملے میں سنجیدہ اور ڈسپلینڈ (disciplined)لوگ تھے تو اس وجہ سے بھی ایک غیر محسوس طریقے سے خدا تعالیٰ کا تصور پیدا ہوتا چلا گیا۔

حضرت صاحب کاایک طریق یہ بھی تھا کہ زبانی نصیحت کے علاوہ حضور کا جو اپنا عمل ہے وہ بہت زیادہ سامنے آتا تھا کہ کس طرح حضرت صاحب دعا کر رہے ہیں کیونکہ حضور کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر، والدہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر یہ بات بچپن میں بھی سمجھ آ گئی تھی کہ کوئی اَور قوت ہے جس سے کچھ مانگا جا رہا ہے۔ اور اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کے بعض فضل ہوتے تھے تو اُن کا ذکر بھی گھر میں ہوتا تھا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اِس کے نتیجے میں اللہ میاں نے مشکل حل کر دی اور یہ مسئلہ اللہ نے حل کر دیا تو خود ہی ایک تصور خدا کا ذہن میں پیدا ہوگیا۔ (الفضل انٹرنیشنل 27؍ جولائی 2021ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button