بچوں کا الفضل

کیوں؟

پیارے بچو! آج کے نئے سوال اور اس کے جواب کے ساتھ حاضر ہیں۔ اور آج کا سوال یہ ہے کہ

خزاں میں درخت پتے کیوں جھاڑ دیتے ہیں؟

پیارے بچو! اس وقت زمین کے بعض جنوبی علاقوں میں خزاں کا موسم ہے۔یہ وہ موسم ہےجس میں کئی درخت اپنے پتے جھاڑ دیتے ہیں۔ مگر اس کے پیچھے کیا سائنس ہے؟

درخت دراصل سردیوں کے سخت ٹھنڈے موسم میں اپنی بقا کی جنگ لڑنے کی خاطر اپنے پتے جھاڑ دیتے ہیں۔ سردیوں میں دھوپ اور پانی کی قلت رہتی ہے۔ اور یہ دو اجزا ء درختوں کی حیات ہیں۔ درخت اپنے پتوں میں موجود ایک خاص مالیکیول جسے کلوروفِل کہتے ہیں کی مدد سے سورج کی روشنی کو جذب کرتے ہیں اور زمین سے اپنی جڑوں سے کشید کیا ہوا پانی اور ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ کو روشنی کی مدد سے ایک کیمیائی عمل کے تحت اپنے لیے خوراک بناتے ہیں۔ اس عمل کو فوٹو سینتھیسز کہتے ہیں۔ مگر پتوں کو ہرا اور زندہ رکھنے کے لیے بھی مسلسل پانی اور خوراک کی ضرورت رہتی ہے۔ لہٰذا جیسے ہی موسم سرد اور ھوپ کم ہونے لگتی ہے تو درختوں میں ایک ہارمون ایتھین بڑھ جاتا ہے جو اشارہ دیتا ہے کہ وقت آ گیا ہے پتے جھڑنے کا۔ درخت سردیوں میں خوراک اور پانی بچانے کے لیے پتوں میں سے تمام نیوٹرنٹس نکال کر جڑوں میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ سب سے پہلے کلوروفِل جو پتوں کو سبز رنگ دیتا ہے اسے توڑا جاتا ہے۔ یوں اس کے ٹوٹنے کے عمل پر کی وجہ سے پتے کا رنگ سرخ سے لے کر ہلکے پیلے تک ہو جاتا ہے۔ یہ تو بچو درختوں کے پتوں کے پیلے ہونے کا عمل تھا اب جانتے ہیں کہ درخت پتے کیسے جھاڑتے ہیں؟

درخت دراصل پتوں کی جڑ اور ٹہنی کے بیچ خلیوں کی ایک تہ بناتے ہیں جو پتوں تک خوراک اور پانی کا راستہ روک دیتی ہے۔ اسے ابسیشن لیئر (abscission layer)کہتےہیں۔ یعنی کاٹنے والی تہ اسی طرح درخت گرنے والے پتوں کی جگہ پر خلیوں کی ایک اور حفاظتی تہ بھی بناتا ہے تاکہ یہاں سے خوراک یا پانی ہوا میں جانے نہ پائے۔ پتوں کے جھڑنے کا ایک اور فائدہ درخت کو یہ بھی ہوتا ہے کہ بہار کے موسم کے آغاز پر اس سے اس کا پولینیشن(pollination) یعنی بیج پھیلانے کا عمل بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ یعنی بیج پتوں سے ٹکرانے کی بجائے اب سیدھا اور زیادہ دُور تک پھیل سکتے ہیں۔ جس سے درخت کی نسل زیادہ علاقے میں پھیل سکتی ہے۔

مگر ایسا تمام درخت نہیں کرتے۔ کچھ درخت سدا بہار ہوتے ہیں جن کے پتے سارا سال سبز رہتے ہیں۔ اِن کے پتوں کی ساخت اور اس کے ساتھ لگے ہوئےکانٹے اور ان پر ایک طرح کی مومی تہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ گرمیاں ہوں یا سردیاں پتوں سے پانی اور خوراک کا اخراج کم سے کم ہو۔

تو بچو!آپ کو آج کا سوال اور اِس کا جواب کیسا لگا؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو ہمیں بھجوائیں ان شا ءاللہ ہم آپ کو اس کا بھی جواب دیں گے۔

آپ کا بھائی۔نبیل احمد کاشف۔ جرمنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button