پیارے حضور (ایّدہ اللہ) کی پیاری باتیں

اگر خدا ہے، تو پھر وہ دنیا میں ظلم کی اجازت کیوں دیتا ہے؟

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ناصرات الاحمدیہ اور واقفاتِ نَو کے ایک وفد کی ملاقات میں ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ وہ اپنے دہریہ دوستوں کو کیا جواب دے، جب وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر خدا ہے، تو پھر وہ دنیا میں ظلم کی اجازت کیوں دیتا ہے؟

اس پر حضورِانور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ اللہ نے کہاں ظلم کی اجازت دی ہے؟ اللہ تو کبھی بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا، ا للہ تو کہتا ہے کہ انصاف کرو۔ اللہ نے تو کہا ہے کہ جو unjustکرتے ہیں، مَیں اُن کو سزا دوں گا، اُن کو سزا ملے گی۔انہیں اللہ کے غضب سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔

حضورِانور نے اسلام کے بلند معیارِ انصاف کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں واضح فرمایا کہ اللہ میاں نے تو کہیں نہیں کہا کہ injusticeکرو، اللہ تو کہتا ہے کہ تمہارا جسٹس کا لیول اور standard اتنا بلندہونا چاہیے کہ اگر تمہیں اپنے parents کے متعلق بھی صحیح بات کہنی پڑے اور اگر اُن کو سزا بھی ملتی ہوتو کہو، اگر تمہارے اپنے siblings [یعنی بہن بھائیوں]کے بارے میں کہنا پڑے، تب بھی کہو، کسی بڑے آدمی کے بارے میں کہنا پڑے، تو بے شک سچی بات کرو تاکہ جسٹس قائم ہو۔ قرآن شریف میں توبے شمار جگہ آیا ہے کہ انصاف کرو اور اگر تم نے انصاف نہ کیا تو تمہیں سزا دی جائے گی…

آخر میں حضورِانور نےقرآنی دلائل اور اِس پر مبنی اپنے فرمودات کے نوٹس دوسروں کو بطورحوالہ پیش کرنے کی نصیحت فرمائی کہ قرآنِ شریف میں کئی جگہ لکھا ہوا ہے، اُن کو بتایا کرو کہ قرآنِ شریف پڑھو، اپنے ابّا سے کہو یا اُمّی سے کہو کہ تمہیں آیتیں نکال کے بتا دیں۔ مَیں نے اس پر بہت ساری تقریریں کی ہوئی ہیں، اُن میں سے نوٹ لے لو، اَور جگہوں پر بھی بیان کیا ہوا کہ کس طرح peace قائم کر سکتے ہیں، کس طرح absolute justiceہو سکتا ہے، وہ پڑھ کے اور نوٹ کر کے بتایا کرو کہ یہ دیکھو، اللہ میاں تو یہ کہتا ہے۔

(الفضل انٹرنیشنل 23؍اکتوبر 2025ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button