خلاصہ خطبہ جمعہ

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام کے پُر معارف ارشادات کی روشنی میں قرآن کریم کے فضائل، مقام و مرتبہ اور عظمت کا بیان: خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲؍مارچ۲۰۲۴ء

٭… خوش قسمت ہیں وہ جوقرآن کریم کو اپنا لائحہ عمل بنا کر اس پر عمل کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں، سچائی کو پکڑ لیں اور سچائی پر قائم ہو جائیں

٭… ہميں آپؑ کي کتب اور تفاسير پڑھنے کي بھي ضرورت ہے تاکہ اس عظيم کلام اور ہدايت کو سمجھ کر ہم اس پر عمل کر سکيں

٭… رمضان ميں خاص طور پر ہر ايک کو کم از کم ايک سپارہ روزانہ تلاوت کرني چاہيے تاکہ قرآن کريم کا ايک دَور مکمل ہو جائے

٭… اس وقت قرآن کريم کا حربہ ہاتھ ميں لو تو تمہاري فتح ہے اس نُور کے آگے کوئي ظلمت نہ ٹھہر سکے گي

٭… فلسطین، سوڈان اور دیگر مسلمان ممالک کے لیے دعا کی تحریک

٭…مکرم ڈاکٹر ظہير الدين منصور احمد صاحب آف امریکہ،مکرم حسن عابدين آغا صاحب آف کینیڈا، مکرم عثمان حسين محمد خير صاحب آف سعودی عرب،مکرم محمد زہرابي صاحب آف الجزائر، مکرم  سعيد احمد وڑائچ صاحب آف ربوہ اور مکرم شہباز گوندل صاحب آف ہالینڈکا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۲؍مارچ۲۰۲۴ء بمطابق ۲۲؍امان ۱۴۰۳؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۲؍مارچ ۲۰۲۴ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔جمعہ کي اذان دينےکي سعادت ناصر منور صاحب کے حصے ميں آئي۔ تشہد، تعوذ، سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۶کی تلاوت و ترجمہ کے بعد حضورِ انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نےانسانوں کےلیے ایک عظیم ہدایت قرآن کریم میں تمام اُمور کا احاطہ کرکے، اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کے تمام راستے، شیطان کے راستوں سے ہوشیار کرکے موجودہ اور آئندہ آنے والے خطرات سے بچنے کے طریقے اور خدا تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے اور ہدایت پر قائم رہنے کے راستے سکھاکر آخری اور کامل شریعت بیان کرکے رمضان کے مہینے کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ جو اس عظیم کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنا کر اس پر عمل کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوارلیں اورسچائی پر قائم ہو جائیں پھر اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے پیار کے سلوک کے نظارے بھی دیکھیں گے۔پس

یہ ہے رمضان کے مہینے کی اہمیت کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے کامل شریعت ہم پر اتاری اور اس کتاب میں ہمیں روزوں کی فرضیت اور عبادتوں کے طریقے بھی سکھائے۔ جب تک ہم اس کامل ہدایت کے بارے میں ادراک حاصل نہ کریں اور پھر اسے اپنی زندگی کا لائحہ عمل نہ بنائیں ہمیں رمضان کی اہمیت کا ادراک نہیں ہوگا۔

ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اس بات کا ادراک ہمیں انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ غلامِ  صادق اور مسیح و مہدی معہودنے عطا فرمایا۔اس کے لیے ہمیں آپؑ کی کتب اور تفاسیر پڑھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس عظیم کلام اور ہدایت کو سمجھ کر ہم اس پر عمل کر سکیں۔

کل یوم مسیح موعود ؑہے جس میں ہم بڑی باقاعدگی سے جلسے وغیرہ بھی کرتے ہیں،اُسے مناتے ہیں اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق مسیح موعودؑ کی آمد کے بارے میں تقاریر کرتے ہیں لیکن صرف اس حد تک ایمان کی ترقی کافی نہیں بلکہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں جو قرآن کریم کے حوالے سے خزانہ عطا فرمایا ہے اُس کو پڑھنا،اُس پر عمل کرنا اور اُسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا بھی انتہائی اہم ہے جس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔
رمضان میں روزے رکھنے،فرض نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے یا کچھ نوافل پڑھ لینے سے رمضان کا حق ادا نہیں ہوتا بلکہ قران کریم کو پڑھنے اور اس کے احکامات تلاش کر کے اس پر عمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے

اور یہی بات اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت اورصفت رحیمیت کے جلوے سےہمیں فیض اُٹھانے والا بنائے گی اور اس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بےشمار ارشادات اور تحریرات کو پڑھ کر اوراُن پر عمل کر کے ہم حقیقی رنگ میں قرآن کریم سے فیض اُٹھانے والے بن سکتے ہیں۔

رمضان میں خاص طور پر ہر ایک کو کم از کم ایک سپارہ روزانہ تلاوت کرنی چاہیے تاکہ قرآن کریم کا ایک دَور مکمل ہو جائے۔

حضرت جبرئیلؑ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں نازل  شدہ قرآن کریم کا ایک دَور مکمل کروایا کرتے تھے اور آخری سال میں قرآن کریم کا دو مرتبہ دَور مکمل کیا۔ پس قرآن کریم کی تلاوت کی اہمیت کو ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یہی ایک فقرہ ہے جس سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کےلیے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔

پھر فرماتے ہیں کہ مَیں نے قرآن کے لفظ میں غور کی۔ تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبردست پیشگوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔ اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لیے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لیے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔ یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔ اس لیے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔

ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔

اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے اس نُور کے آگے کوئی ظلمت نہ ٹھہر سکے گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن شریف جیسے مراتب علمیہ میں اعلیٰ درجہ کمال تک پہنچاتا ہے ویسا ہی مراتبِ عملیہ کے کمالات بھی اسی کے ذریعہ سے ملتے ہیں۔پس طالبِ حق کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ آسمانی برکتیں اور ربّانی نشان صرف قرآن شریف کے کامل تابعین میں پائے جاتے ہیں۔ نشانات اگر دیکھنے ہیں تو صرف قران کریم کے کامل اتباع کرنے والوں میں پائے جاتے ہیں اور دوسرے تمام فرقے جو حقیقی اور پاک الہام سےرُوگردان ہیں وہ اس نُور ِصداقت سے بے نصیب اور بے بہرہ ہیں۔ پھرفرماتے ہیں کہ

کس قدر ظلم ہے کہ اسلام کے اصولوں اورقرآن کو چھوڑ کر جس نے ایک وحشی دنیا کو انسان اور انسان سے باخدا انسان بنایا ایک دنیا پرست قوم کی پیروی کی جائے۔

کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے۔ صحابہؓ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو دیکھو اُنہوں نے جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے اُن سے کیے تھے پورے ہو گئے۔ فرمایا کہ جب تک مسلمانوں کا رجوع قرآن شریف کی طرف نہ ہوگا ان میں وہ ایمان پیدا نہ ہوگا۔ یہ تندرست نہ ہوں گے عزت اورعروج اِسی راہ سے آئے گا جس راستے پہلےآیا تھا۔پس ایمان اور عمل میں ترقی بھی دنیا داروں کی پیروی سے نہیں ہوگی بلکہ قرآن کریم کی پیروی سے ہوگی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےفرمایا :مسلمانوں کو چاہیے تھا اور اب بھی ان کےلیے یہی ضروری ہے کہ وہ اس چشمے کو عظیم الشان نعمت سمجھیں اور اس کی قدر کریں۔ اس کی قدر یہی ہے کہ اس پر عمل کریں اور پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح ان کی مصیبتوں اور مشکلات کو دور کر دیتا ہے۔ کاش مسلمان سمجھیں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کےلیےیہ ایک نیک راہ پیدا کر دی ہے اور وہ اس پر چل کر فائدہ اُٹھائیں۔ فرمایا

جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ پرایمان لاتا ہے اور اس کی پاک کتاب پر عمل کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کو لاانتہابرکات سے حصہ دیتا ہے۔ ایسی برکات دی جاتی ہیں جو اس دنیا کی نعمتوں سے بہت ہی بڑھ کر ہوتی ہیں۔

ان میں سے ایک عفو گناہ بھی ہے یعنی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لوگ اس نعمت سے بالکل بے بہرہ ہیں۔فرمایا میری باتوں کو پوری توجہ سے سُنو اور ان کو دل میں جگہ دو اور اپنے عمل سے دکھاؤ کہ تم نے ان کو سرسری طور پر نہیں سنا اور ان کا اثر اسی آن تک نہیں بلکہ گہرا اثر ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ کر خطبہ سننے تک اثر نہیں ہے بلکہ بعد میں بھی اس پر عمل ہو اور عمل یہی ہے کہ قرآن کریم کو پڑھیں۔ رمضان میں اس کی عادت ڈالیں۔پھر مستقل زندگی کا حصہ بنائیں اور پھر اس کی تعلیم پر ہم عمل کرنے والے ہوں۔

احمدیوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ ہم قرآن کریم میں تحریف کرنے والے ہیں۔ پاکستان میں آج کل اسی قانون کےپیچھےمقدمےقائم کیے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قران شریف قانون آسمانی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم اس میں تبدیلی کریں تو یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔

تعجب ہوگا کہ ہم یہودیوں اور عیسائیوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور پھر قرآن شریف کےلیے وہی روا رکھتے ہیں۔ مجھے اَور بھی افسوس اورتعجب آتا ہے کہ وہ عیسائی جن کی کتابیں فی الواقع محرف اور مبدل ہیں وہ تو کوشش کریں کہ تحریف ثابت نہ ہو اور ہم خودتحریف کی فکر میں ہیں۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ مبارک وہ جو خدا کے لیے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بدبخت وہ جو اپنے نفس کے لیے خدا سے جنگ کر رہے ہیں اور اس سے موافقت نہیں کرتے۔جو شخص اپنے نفس کے لیے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہوگا سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تاتم اسی کے لیے پکڑے نہ جاؤ کیونکہ ایک ذرہ بدی کا بھی قابلِ پاداش ہے

وقت تھوڑا ہے اور کار عمر ناپیدا تیز قدم اُٹھاؤ جو شام نزدیک ہے جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار بار دیکھ لو ایسا نہ ہو کہ کچھ رہ جائے اور زیان کاری کا موجب ہو یا سب گندی اور کھوٹی متاع ہو جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے والےہوں۔ہم صرف رمضان میں نہیں بلکہ ہمیشہ قرآنی تعلیم کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔ جب یہ ہوگا تبھی ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ اس رمضان میں بھی اور پھر بعد میں ہمیشہ ہمیں قرآن کریم کی تعلیم سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔

حضور انور نے فلسطینیوں کے لیے، پاکستان اور یمن کے اسیران راہ مولیٰ کے لیے اور پاکستان کے احمدیوں کے لیےدعا کی تحریک فرمائی

جس کی تفصیل درج ذیل لنک پر ملاحظہ ہو سکتی ہے:

حضور انور نے آخر میں مکرم ڈاکٹر ظہیر الدین منصور احمد صاحب آف امریکہ، مکرم حسن عابدین آغا صاحب آف کینیڈا،مکرم عثمان حسین محمد خیر صاحب آف سعودی عرب، مکرم محمد زہرابی صاحب آف الجزائر، مکرم سعید احمد وڑائچ صاحب آف ربوہ اور مکرم شہباز گوندل صاحب آف ہالینڈ کی وفات پر ان کے ذکر خیر اور ان کی جماعتی خدمات کا تذکرہ کرنے کے بعد ان سب کے نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان بھی کیا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button