بچوں کا الفضل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ

٭…حضرت مسیح موعودؑ 14؍شوال 1250ھ بمطابق 13؍فروری 1835ء بروز جمعۃ المبارک قادیان میں پیدا ہوئے۔

٭… آپؑ کو پہلا الہام تقریباً 1865ء میں ہوا۔ ثَمَا نِیْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ ذٰلِکَ اَوْتَزِیْدُ عَلَیْہِ سِنِیْنًا وَتَرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا۔ ترجمہ: تیری عمر اَسّی برس کی ہوگی یادوچار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا۔ (تذکرہ مطبوعہ 2023ء صفحہ 6)

٭… مارچ1882ء کو آپؑ کوماموریت کا پہلا الہام ہوا۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ترجمہ: کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

٭…1877ء میں ایک عیسائی رُلیا رام نے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف سب سے پہلا مقدمہ کیا۔ یہ مقدمہ ڈاکخانہ کے نام سے مشہور ہے۔

٭…12؍جنوری 1889ء کو حضرت مسیح موعودؑ نے بذریعہ اشتہار ’’تکمیل تبلیغ” دس شرائط بیعت کا اعلان کیا۔

٭…23؍مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں آپؑ نے پہلی بیعت حضرت صوفی احمد جان صاحب کے مکان پر لی۔ پہلے دن چالیس افراد نے بیعت کی اور سب سے پہلے حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ (خلیفۃ المسیح الاول) نے بیعت کی۔

٭…مارچ 1901ء میں مردم شماری کے موقع پر جماعت احمدیہ کا نام جماعت احمدیہ رکھا گیا۔

٭…حضرت مسیح موعودؑ کی کل 85 تصنیفات ہیں۔ پہلی “براہین احمدیہ حصہ اول و حصہ دوم” جو 1880ء میں شائع ہوئی اور آخری “پیغام صلح” جو 1908ء میں شائع ہوئی۔

٭…نومبر 1884ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی دوسری شادی دہلی کے مشہور صوفی حضرت خواجہ میر درد کے خاندان میں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ سے ہوئی اور انہی کے بطن مبارک سے مبشر اولاد ہوئی۔ (مبشر اولاد یعنی جن بچوں کی پیدائش سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان کی پیدائش کی خبر دی تھی)

٭…جنوری 1886ء میں آپؑ نے ہوشیار پور کا تاریخی سفر کیا۔ آپ نے وہاں چلہ کشی کی۔ اسی دوران آپ کو مصلح موعود کی عظیم بشارت دی گئی۔

٭…1890ء میں حضورؑ نے مسیحیت کا دعویٰ فرمایا۔

٭…27؍دسمبر 1891ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ ہوا۔

٭…حضرت مسیح موعودؑ کا عربی، فارسی، انگریزی، اردواور پنجابی کا الہام درج ذیل ہے:

عربی الہام: اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ (کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے؟)

فارسی الہام: مکُن تکیہ برعمر نا پائیدار (اس ناپائیدار زندگی کا بھروسہ مت کرو)

انگریزی الہام: I shall give you a large party of Islam

اردو الہام: دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیانے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔

پنجابی الہام: جے توں میرا ہورہیں سب جگ تیرا ہو

٭…حضرت مسیح موعودؑ کی چند کتب کے نام درج ذیل ہیں: سرمہ چشمِ آریہ، فتحِ اسلام، توضیح مرام، ازالۂ اوہام، آئینۂ کمالاتِ اسلام، حقیقۃُ الوحی، اعجاز المسیح، مسیح ہندوستان میں، تحفۂ گولڑویہ، کشتیٔ نوح۔

٭… آپؑ کے حین حیات سلسلہ احمدیہ کے دو اولین اخبارالحکم، البدر(بدر) اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو، انگریزی کا اجرا ہوا۔

٭…1905ء میں بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھی گئی۔

٭…29؍جنوری 1906ء کو صدر انجمن احمدیہ کا قیام ہوا۔

٭…ستمبر 1907ء میں وقف زندگی کی پہلی منظم تحریک ہوئی۔

٭…26؍مئی 1908ء کو حضرت مسیح موعودؑ نے لاہور میں وفات پائی اور 27؍مئی 1908ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓنے بہشتی مقبرہ قادیان میں نماز جنازہ پڑھائی اور وہیں تدفین ہوئی۔

٭…حضرت مسیح موعودؑ کے آخری الفاظ تھے: ’’اللہ میرے پیارے اللہ‘‘

٭٭٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button