خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ فرمودہ 21؍ جون 2019ء

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21؍ جون2019ء بمطابق 21؍احسان1398 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد (ٹلفورڈ، سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

گذشتہ خطبہ میں مَیں حضرت زید بن حارثہؓ کے حوالے سے باتیں کر رہا تھا اور اس ضمن میں یہ بات ہوئی تھی کہ حضرت زینب بنت جحشؓ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بعد میں شادی ہوئی۔ اس حوالے سے میں نے کہا تھا کہ بعض مزید باتیں بیان ہونے والی ہیں۔

حضرت زینب بنت جحشؓ کی عمر شادی کے وقت 35 سال کی تھی اور عرب کے حالات کے لحاظ سے یہ عمر ایسی تھی جسے گویا ادھیڑ عمر، بڑی عمر کہنا چاہیے۔ حضرت زینبؓ ایک نہایت متقی اور پرہیز گار اور مخیر خاتون تھیں۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں صرف زینب ہی وہ بیوی تھیں جو حضرت عائشہؓ کا مقابلہ کرتی تھیںاور ان کی ہمسری کا دم بھرتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ ان کے ذاتی تقویٰ اور طہارت کی بہت مداح تھیں اور اکثر کہا کرتی تھیں کہ میں نے زینبؓ سے زیادہ نیک عورت نہیں دیکھی اور یہ کہ وہ بہت متقی، بہت راست گو، بہت صلہ رحمی کرنے والی، بہت صدقہ و خیرات کرنے والی اور نیکی اور تقربِ الٰہی کے اعمال میں نہایت سرگرم تھیں۔ بس اتنی بات تھی ان کی طبیعت ذرا تیز تھی مگر تیزی کے بعد وہ جلد ہی خود نادم ہو جایا کرتی تھیں۔ صدقہ اور خیرات میں تو ان کا یہ مرتبہ تھا کہ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اَسْرَعُکُنَّ لِحَاقًا بِیْ اَطْوَلُکُنَّ یَدًا۔ یعنی تم میں سے جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہے وہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے فوت ہو کر میرے پاس پہنچے گی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہم نے اس سے ظاہری ہاتھ سمجھے اور اپنے ہاتھ ناپا کرتی تھیں لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے زینب بنت جحشؓ کا انتقال ہوا تو تب جا کر ہم پر یہ راز کھلا کہ ہاتھ سے مراد صدقہ و خیرات کا ہاتھ تھا نہ کہ ظاہری ہاتھ۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ مزید لکھتے ہیں کہ جیسا کہ اندیشہ کیا جاتا تھا حضرت زینبؓ کی شادی پر منافقینِ مدینہ کی طرف سے بہت اعتراضات ہوئے اورانہوں نے برملا طور پر طعن کیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر کے گویا اپنی بہو کواپنے اوپر حلال کرلیا ہے لیکن جب اس شادی کی غرض ہی عرب کی اس جاہلانہ رسم کو مٹانا تھی تو پھر ان طعنوں کا سننا بھی ضروری تھا۔ اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ابنِ سعد اورطبری وغیرہ نے حضرت زینب بنت جحشؓ کی شادی کے متعلق ایک سراسر غلط اوربے بنیاد روایت نقل کی ہے اورچونکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف اعتراض کاموقع ملتا ہے اس لیے بعض مسیحی مؤرخین نے اس روایت کونہایت ناگوار صورت دے کر اپنی کتب کی زینت بنایا ہے۔

روایت یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحشؓ کی شادی زید کے ساتھ کردی تواس کے بعد آپؐ کسی موقع پر زیدؓ کی تلاش میں ان کے مکان پر تشریف لے گئے۔ اس وقت اتفاق سے زید بن حارثہؓ اپنے مکان پر نہیں تھے۔ چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے سے باہر کھڑے ہوکر زیدؓ کو آواز دی تو زینبؓ نے اندر سے جواب دیا کہ وہ مکان پر نہیں ہیں اورساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پہچان کر وہ لپک کر اٹھیں اورعرض کیا یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پرقربان ہوں۔ آپؐ اندر تشریف لے آئیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا اورواپس لوٹنے لگے ۔

اب یہ راوی اس طرح کی روایت آگے لکھتے ہیں کہ مگر چونکہ حضرت زینبؓ گھبرا کرایسی حالت میں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں کہ ان کے بدن پراوڑھنی نہیں تھی اور مکان کادروازہ کھلا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ان پر پڑ گئی اورآپؐ نعوذ باللہ ان کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر یہ الفاظ گنگناتے ہوئے واپس لوٹ گئے کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ سُبْحَانَ اللّٰہِ مُصَرِّفِ الْقُلْوبِ۔ کہ پاک ہے وہ اللہ جو سب سے بڑائی والا ہے اورپاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں لوگوں کے دل ہیں جدھرچاہتا ہے انہیں پھیردیتا ہے۔ جب زید بن حارثہؓ واپس آئے تو زینبؓ نے ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کا قصہ بیان کیا اور زیدؓ کے دریافت کرنے پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے تھے۔ حضرت زینبؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بیان کیے اورکہا میں نے تو عرض کیا تھا کہ آپؐ اندر تشریف لے آئیں مگر آپؐ نے انکار فرمایا اورواپس تشریف لے گئے۔ یہ سن کر زیدؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اورکہا یارسولؐ اللہ! شاید آپؐ کو زینب پسند آگئی ہے۔ اگر آپؐ پسند فرمائیں تو میں اسے طلاق دے دیتا ہوں اورپھر آپؐ اس کے ساتھ شادی فرما لیں۔ آپؐ نے فرمایا زید! خدا کا تقویٰ کرو اور زینبؓ کو طلاق نہ دو ۔یہ روایت لکھنے والے پھر آگے اس طرح لکھتے ہیں کہ مگر اس کے بعد زیدؓ نے زینبؓ کو طلاق دے دی۔ یہ وہ روایت ہے جو ابنِ سعد اورطبری وغیرہ نے اس موقع پر بیان کی ہے اورگو اس روایت کی ایسی تشریح کی جاسکتی ہے جوچنداں قابلِ اعتراض نہیں، بالکل قابلِ اعتراض نہیں ہوگی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قصہ سرتاپا محض غلط اورجھوٹ ہے اور روایت ودرایت ہر طرح سے اس کا جھوٹا ہونا ظاہر ہے۔ روایتاً تو اس قدر جاننا کافی ہے کہ اس قصے کے راویوں میں زیادہ تر واقدی اورعبداللہ بن عامر اَسْلَمِیکاواسطہ آتا ہے اوریہ دونوں شخص محققین کے نزدیک بالکل ضعیف اور ناقابلِ اعتماد ہیں حتیٰ کہ واقدی تو اپنی کذب بیانی اوردروغ بیانی میں ایسی شہرت رکھتا ہے کہ غالباً مسلمان کہلانے والے راویوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ اوراس کے مقابلہ میں وہ روایت جو ہم نے اختیار کی ہے جس میں زیدؓ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر زینبؓ کی بدسلوکی کی شکایت کرنا بیان کیا گیا تھا، (وہ پچھلے خطبے میں بیان ہوئی تھی) اوراس کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان بیان کیا گیا تھا کہ تم خدا کا تقویٰ اختیار کرواورطلاق نہ دو، یہ روایت جو ہے وہ بخاری کی روایت ہے جو دوست اوردشمن کے نزدیک قرآن شریف کے بعد اسلامی تاریخ کا صحیح ترین ریکارڈ سمجھی جاتی ہے اورجس کے خلاف کبھی کسی حرف گیر کو انگلی اٹھانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ پس اصولِ روایت کی رو سے دونوں روایتوں کی قدروقیمت ظاہر ہے۔

اسی طرح عقلاً بھی غور کیا جاوے توابنِ سعد وغیرہ کی روایت کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا کیونکہ جب یہ بات مسلّم ہے کہ زینبؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں حتیٰ کہ آپؐ ہی نے ان کے ولی بن کر زید بن حارثہؓ سے ان کی شادی کی تھی اور دوسری طرف اس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ اب تک مسلمان عورتیں پردہ نہیں کرتی تھیں بلکہ پردہ کے متعلق ابتدائی حکم حضرت زینبؓ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے بعد نازل ہوئے تھے تو اس صورت میں یہ خیال کرنا کہ زینبؓ کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ،صرف اس وقت اتفاقی نظر پڑ گئی اورآپؐ ان پر فریفتہ ہوگئے ایک صریح اوربدیہی بطلان اور جھوٹ ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یقیناً اس سے پہلے آپؐ نے ہزاروں دفعہ زینب کودیکھا ہوگا اور ان کے جسم کا حسن وقبح جوکچھ بھی تھا آپؐ پر عیاں تھا اور گو اوڑھنی کے ساتھ دیکھنا اوراوڑھنی کے بغیر دیکھنا کوئی فرق نہیں رکھتا لیکن جب رشتہ اس قدر قریب تھا اورپردے کی رسم بھی اور حکم بھی اس وقت شروع نہیں ہوا تھا اورہر وقت کی میل ملاقات تھی تو اَغلب یہ ہے کہ آپؐ کو کئی دفعہ انہیں بغیر اوڑھنی کے دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا ہو گا اور زینبؓ کاآپؐ کو اندر تشریف لانے کے لیے عرض کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت ان کے بدن پر اتنے کپڑے ضرور تھے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہونے کے لیے تیار تھیں۔ پس جس جہت سے بھی دیکھا جائے یہ قصہ ایک محض جھوٹا اوربناوٹی قصہ قرار پاتا ہے جس کے اندر کچھ بھی حقیقت نہیں اور اگر ان دلائل کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کامل درجہ مقدس اور زاہدانہ زندگی کو بھی مدنظر رکھا جائے جو آپؐ کی ہر حرکت وسکون سے واضح اور عیاں تھی تو پھر تو اس واہیات اورفضول روایت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا اوریہی وجہ ہے کہ محققین نے اس قصے کو قطعی طورپر جھوٹا اور بناوٹی قرار دیا ہے۔ مثلاً علامہ ابنِ حجرنے فتح الباری میں، علامہ ابن ِکثیر نے اپنی تفسیر میں، علامہ زرقانی نے شرح مَوَاہِب میں وضاحت کے ساتھ اس روایت کوسراسر جھوٹا قرار دے کر اس کے ذکر تک کو صداقت کی ہتک سمجھا ہے اوریہی حال دوسرے محققین کا ہے۔ اورمحققین پر ہی بس نہیں بلکہ ہر شخص جسے تعصّب نے اندھا نہیں کر رکھا وہ اس بیان کو جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی لکھا ہے کہ ہم نے قرآن شریف اوراحادیث ِصحیحہ کی بنا پرمرتب کرکے پیش کیا ہے اُس لچر اورناقابلِ التفات قصے پر ترجیح دے گا جسے بعض منافقین نے اپنے پاس سے گھڑ کر روایت کیا اور مسلمان مؤرخین نے جن کا کام صرف ہر قسم کی روایات کوجمع کرنا تھا اسے بغیر کسی تحقیق کے اپنی تاریخ میں جگہ دے دی اورپھر بعض غیر مسلم مؤرخین نے مذہبی تعصب سے اندھا ہوکر اسے اپنی کتاب کی زینت بنایا۔

اس بناوٹی قصے کے ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے ۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یہ اپنی سیرت خاتم النبیینؐ میں لکھا ہے کہ یہ زمانہ اسلامی تاریخ کا وہ زمانہ تھا جبکہ منافقینِ مدینہ اپنے پورے زور میں تھے اورعبداللہ بن ابی بن سلول کی سرکردگی میں ان کی طرف سے ایک باقاعدہ سازش اسلام اوربانیٔ اسلام کوبدنام کرنے کی جاری تھی اوران کا یہ طریق تھا کہ جھوٹے اوربناوٹی قصے گھڑگھڑ کرخفیہ خفیہ پھیلاتے رہتے تھے یااصل بات توکچھ ہوتی تھی اوروہ اسے کچھ کا کچھ رنگ دے کر اوراس کے ساتھ سو قسم کے جھوٹ شامل کرکے اس کی درپردہ اشاعت شروع کردیتے تھے۔ چنانچہ قرآن شریف کی سورۂ احزاب میں جس جگہ حضرت زینبؓ کی شادی کا ذکر ہے اس کے ساتھ ساتھ منافقینِ مدینہ کا بھی خاص طورپر ذکر کیاگیا ہے اوران کی شرارتوں کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلًا۔ (الاحزاب:61)

یعنی اگرمنافق لوگ اوروہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی اورفتنہ انگیز خبروں کی اشاعت کرنے والے لوگ اپنی ان کارروائیوں سے باز نہ آئے تو پھر اے نبی ہم تمہیں ان کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی اجازت دیں گے اورپھر یہ لوگ مدینہ میں نہیں ٹھہرسکیں گے مگرتھوڑا۔ اس آیت میں صریح طور پر اس قصہ کے جھوٹا ہونے کی طرف اصولی اشارہ کیا گیا ہے۔ پھرجیسا کہ آگے چل کے ذکر آتا ہے اسی زمانہ کے قریب قریب حضرت عائشہؓ کے خلاف بہتان لگائے جانے کا بھی خطرناک واقعہ پیش آیا اورعبداللہ بن ابی اوراس کے بددیانت ساتھیوں نے اس افترا کااس قدر چرچا کیا اورایسے ایسے رنگ دے کر اس کی اشاعت کی کہ مسلمانوں پران کا عرصہ عافیت تنگ ہو گیا اوربعض کمزور طبیعت اور ناواقف مسلمان بھی ان کے اس گندے پروپیگنڈا کاشکار ہو گئے۔ الغرض یہ زمانہ منافقوں کے خاص زور کا زمانہ تھا اوران کا سب سے زیادہ دل پسند حربہ یہ تھا کہ جھوٹی اورگندی خبریں اڑا اڑا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے متعلقین کو بدنام کریں اور یہ خبریں ایسی ہوشیاری کے ساتھ پھیلائی جاتی تھیں کہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کے اکابر صحابہؓ کو تفصیلی علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تردید کا موقع بھی نہیں ملتا تھا او راندر ہی اندر ان کا زہر پھیلتا جاتا تھا۔ ایسی صورتوں میں بعض بعد میں آنے والے مسلمان جو زیادہ تحقیق اورتدقیق کے عادی نہیں تھے انہیں سچا سمجھ کر ان کی روایت شروع کردیتے تھے اوراس طرح یہ روایتیں واقدی وغیرہ کی قسم کے مسلمانوں کے جو مجموعے تھے ان میں راہ پاگئیں مگرجیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے صحیح احادیث میں ان کا نام ونشان تک نہیں پایا جاتا اور نہ محققین نے انہیں قبول کیا ہے۔

حضرت زینب بنت جحشؓ کے قصہ میں سرولیم میور نے جن سے یقیناً ایک بہتر ذہنیت کی امید کی جاتی تھی واقدی کی غلط اوربناوٹی روایت کو قبول کرنے کے علاوہ اس موقع پریہ دلآزار طعن بھی کیا ہے۔ وہ معترض تھا۔ ان سے تو یہی امید ہونی چاہیے تھی اور پھر جب حوالہ مسلمانوں کا مل جائے تو پھر ان کو مزید طعن کرنے کا بھی موقع مل جاتا ہے کہ گویا بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نفسانی خواہشات بھی ترقی کرتی جاتی تھیں (نعوذ باللہ) اور میور صاحب آپؐ کے حرم کی جو توسیع تھی، شادیوں میں اضافہ تھا اس کو میور صاحب اسی جذبے پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ یہی کہتے ہیں کہ یہ نفسانی خواہشات تھیں، نعوذ باللہ۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ میں بھی ایک مؤرخ کی حیثیت سے اس بات کو بغیر کسی مذہبی بحث میں پڑنے کے بیان کرتا ہوں مگر تاریخی واقعات کوایک غلط راستے پر جب ڈالا جاتا ہے تو اسے دیکھ کر اس ناگوار اورغیر منصفانہ طریق کے خلاف آواز بلند کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ پس علاوہ مذہبی جذبات کے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس کے سوال کے ، جس پر ایک حقیقی مسلمان اور ایک مومن تو اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہے ،عقلی اور تاریخی حقائق جو ہیں وہ بھی اس بیہودہ بات کی نفی کرتے ہیں۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ بے شک یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اوریہ بات بھی مسلمہ تاریخ کا حصہ ہے کہ علاوہ حضرت خدیجہؓ کے آپؐ کی ساری شادیاں اس زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جسے بڑھاپے کازمانہ کہا جاسکتا ہے مگر بغیر کسی تاریخی شہادت کے بلکہ واضح اور صریح تاریخی شہادت کے خلاف یہ خیال کرنا کہ آپ کی یہ شادیاں نعوذ باللہ جسمانی خواہشات کے جذبہ کے ماتحت تھیں ایک مؤرخ کی شان سے بہت بعید ہے اورایک شریف انسان کی شان سے بھی بعید تر ہے۔ میورصاحب اس حقیقت سے بے خبر نہیں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پچیس سال کی عمر میں ایک چالیس سالہ ادھیڑ عمر کی بیوہ عورت سے شادی کی اورپھر پچاس سال کی عمر تک اس رشتہ کواس خوبی اور وفاداری کے ساتھ نباہا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی اور اس کے بعد بھی آپؐ نے پچپن سال کی عمر تک عملاً صرف ایک بیوی رکھی اوریہ بیوی حضرت سودہؓ بھی حسنِ اتفاق سے ایک بیوہ اورادھیڑ عمر کی خاتون تھیں اوراس تمام عرصہ میں جو جذباتِ نفسانی کے ہیجان کا مخصوص زمانہ ہے آپؐ کو کبھی دوسری شادی کا خیال نہیں آیا۔ میور صاحب اس تاریخی واقعہ سے بھی ہرگز ناواقف نہیں تھے کہ جب مکہ والوں نے آپؐ کی تبلیغی مساعی سے تنگ آ کر اوران کو اپنے قومی دین کامخرِّب (خراب کرنے والا) خیال کرکے آپؐ کے پاس عتبہ بن ربیعہ کوبطور ایک وفد کے بھیجا تھا اور آپؐ سے بڑی پُرزور استدعا کی درخواست کی تھی کہ آپؐ اپنی ان کوششوں سے رُک جائیں اور دولت اور ریاست کی طمع دینے کے علاوہ ایک یہ درخواست بھی پیش کی کہ اگرآپؐ کسی اچھی لڑکی کے ساتھ شادی کرکے ہم سے خوش ہوسکتے ہیں اورہمارے دین کو برا بھلا کہنے اوراس نئے دین کی تبلیغ سے باز رہ سکتے ہیں تو آپؐ جس لڑکی کو پسند کریں ہم آپؐ کے ساتھ اس کی شادی کیے دیتے ہیں۔ اس وقت آپؐ کی عمر بھی کوئی ایسی زیادہ نہیں تھی پھرجسمانی طاقت بھی بعد کے زمانہ کی نسبت یقیناً بہترحالت میں تھی مگر جو جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤسائے مکہ کے اس نمائندہ کودیا وہ بھی تاریخ کاایک کھلا ہوا ورق ہے جس کے دوہرانے کی، حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ضرورت نہیں ہے اور یہ تاریخی واقعہ بھی میور صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں تھا کہ مکہ کے لوگ آپؐ کو آپؐ کی بعثت سے قبل یعنی چالیس سال کی عمر تک ایک بہترین اخلاق والا انسان سمجھتے تھے مگر باوجود ان سب شہادتوں کے میور صاحب کایہ لکھنا کہ پچپن سال کی عمر کے بعد جب ایک طرف آپؐ کی جسمانی طاقتوں میں طبعاً انحطاط رونما ہونے لگا تھا اوردوسری طرف آپؐ کے مشاغل اورذمہ داریاں اس قدربڑھ گئیں جوایک مصروف سے مصروف انسان کے مشاغل کو بھی شرماتی ہیں توآپؐ عیش وعشرت میں مبتلا ہو گئے۔ یہ یقیناً ہرگز کوئی غیر متعصبانہ ریمارک نہیں سمجھا جاسکتا۔ یقیناً یہ تعصّب سے بھرا ہوا ریمارک ہے۔ کہنے کوتو کوئی شخص جوکچھ بھی کہنا چاہے کہہ سکتا ہے اوراس کی زبان اور قلم کوروکنے کی دوسروں میں طاقت نہیں ہوتی مگر عقل مند آدمی کوچاہیے کہ کم از کم ایسی بات نہ کہے جسے دوسروں کی جو عقل ِسلیم ہے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ میورصاحب اور ان کے ہم خیال لوگ اگراپنی آنکھوں سے تعصّب کی پٹی اتار کر دیکھتے توانہیں معلوم ہو جاتا کہ محض یہ بات ہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شادیاں آپؐ کے بڑھاپے کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جسمانی اغراض کے ماتحت نہیں تھیں بلکہ ان کی تہ میں کوئی دوسری اغراض بھی مخفی تھیں خصوصاً جبکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آپؐ نے اپنی جوانی کے ایام ایک ایسی حالت میں گزارے جس کی وجہ سے آپؐ نے اپنوں اوربیگانوں سے امین کا خطاب پایا۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں اور ہر پڑھنے والے کے، تاریخ جاننے والے کے یقیناً یہی جذبات ہوتے ہیں کہ اس بات کے مطالعہ سے مجھے ایک روحانی سرور حاصل ہوتا ہے کہ آپؐ کی عمر کے جس زمانہ میں آپؐ کی یہ شادیاں ہوئیں وہ وہ زمانہ ہے جب کہ آپؐ پر آپؐ کے فرائضِ نبوت کا سب سے زیادہ بار تھا اور اپنی ان لاتعداد اوربھاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں آپؐ بالکل محو ہو رہے تھے اور ہر انصاف پسند، شریف انسان کے نزدیک محض یہ منظر ہی اس بات کی ایک دلیل ہے کہ آپؐ کی یہ شادیاں آپؐ کے فرائضِ نبوت کا حصہ تھیں جوآپؐ نے اپنی خانگی خوشی کوبرباد کرتے ہوئے تبلیغ وتربیت کی اغراض کے ماتحت کی تھیں۔ ایک بُرا آدمی دوسرے کے افعال میں بری نیت تلاش کرتا ہے اوراپنی گندی حالت کی وجہ سے بسا اوقات دوسرے کی نیک نیت کو سمجھ بھی نہیں سکتا مگر ایک شریف انسان اس بات کو جانتا اورسمجھتا ہے کہ بسااوقات ایک ہی فعل ہوتا ہے جسے ایک گندہ آدمی بری نیت سے کرتا ہے مگر اسی کو ایک نیک آدمی نیک اورپاک نیت سے کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔

پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اسلام میں شادی کی غرض یہ نہیں ہے کہ مرد اورعورت اپنی نفسانی خواہشات کے پورا کرنے کے لیے اکٹھے ہوسکیں بلکہ گونسلِ انسانی کے بقا کے لیے مرد وعورت کا اکٹھا ہونا نکاح کی ایک جائز غرض ہے مگر اس میں بہت سی اَور پاکیزہ اغراض بھی مدِّنظر ہیں۔ پس ایک انسان کی شادیوں کی وجہ تلاش کرتے ہوئے، جس کی زندگی کا ہرحرکت اورسکون اس کی بے نفسی اور پاکیزگی پر ایک دلیل ہے ،گندے آدمیوں کی طرح گندے خیالات کی طرف مائل ہونے لگنا اس شخص کوتو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کے متعلق یہ رائے لگائی جاتی ہے مگر رائے لگانے والے، دینے والے کے اپنے اندرونے کاآئینہ ضرورسمجھا جا سکتا ہے۔ مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ پس اس سے زیادہ اس اعتراض کے جواب میں، مَیں کچھ نہیں کہتاکہ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ۔ کہ اللہ ہی ہے جس سے اس بات پر مدد مانگی جا سکتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 549 تا 555)

حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ نے بھی اس شادی اور نکاح کے حوالے سے ایک نکتہ اپنے ایک نکاح کے خطبہ میں بیان فرمایا تھا وہ بھی مَیں پڑھ دیتا ہوں۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی کی لڑکی کا نکاح زیدؓ سے کرایا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استخارہ نہیں کیا ہو گا ۔ دعائیں نہیں کی ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ پر اتکال نہ کیا ہوگا توکّل نہیں کیا ہو گا۔ یہ سب باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہوں گی۔ آپؐ نے استخارہ بھی کیا ہو گا۔ دعائیں بھی کی ہوں گی مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی کوشش کو بارآور نہیں کیا۔ آپؓ لکھتے ہیں یہ نکتہ بیان فرما رہے ہیں کہ اصل وجہ اس بات کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ یہ بات لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد نہیں ہے خواہ قانونِ قدرت والی اولاد ہو یا قانون ِملکی والی، (جو بچے adoptکر لیتے ہیں وہ ملکی قانون کے تحت اولاد تصور ہوتی ہے۔) قانونِ قدرت کے مطابق تو آپؐ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی مگر ملکی دستور اور اس وقت کے قانونِ شریعت کے مطابق آپؐ کی اولاد موجود تھی جیسا کہ زیدؓ تھے۔ لوگ انہیں ابنِ محمدؐ کہا کرتے تھے۔ حضرت زینبؓ کے نکاح کے واقعہ سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اولاد وہی ہوتی ہے جو قانونِ قدرت کے مطابق ہو یعنی جسمانی اولاد ہو۔ قانون ملکی والی اولاد حقیقی اولاد نہیں ہوتی۔ (جو adopt کیے ہوئے بچے ہوتے ہیں وہ بھی حقیقی اولاد نہیں ہوتی) اور نہ شریعت نے حقیقی اولاد کے لیے جو قوانین رکھے ہیں وہ دوسروں پر عائد ہوتے ہیں۔ اس بات کو قائم کرنے کے لیے واحد طریق یہی تھا کہ حضرت زیدؓ کی مطلقہ کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکاح فرماتے۔ اللہ تعالیٰ نے زیدؓ اور اس کی بیوی کے تفرقہ کو دور نہ ہونے دیا۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو دور ہو سکتا تھا لیکن نہیں دور ہونے دیا۔ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استخارہ بھی کیا تھا دعائیں بھی کی تھیں اللہ تعالیٰ پر اتکال کیا تھا، کوشش کی تھی مگر حکمتِ الٰہی یہی تھی کہ زیدؓ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں جائے تا کہ یہ ثابت ہو کہ قانون ِملکی کے لحاظ سے اولاد قانونِ قدرت والی اولاد کی طرح نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک نکتہ ہے جو اس شادی کی حکمت کے پیچھےآپؓ نے بیان فرمایا ۔

(ماخوذ از خطباتِ محمودؓ جلد 3 صفحہ 390-391)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد شدہ غلاموں کے ساتھ جو برتاؤ تھا اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سیرت خاتم النبیینؐ میں لکھتے ہیں کہ

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ لوگوں کے پرانے خیالات کی اصلاح کی غرض سے آپؐ غلاموں اورآزاد شدہ غلاموں میں سے قابل لوگوں کی تعظیم وتکریم کاخیال دوسرے لوگوں کی نسبت بھی زیادہ رکھتے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے بہت سے موقعوں پر اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہؓ اوران کے لڑکے اسامہ بن زیدؓ کو جنگی مہموں میں امیر مقرر فرمایااوربڑے بڑے صاحبِ عزت اورجلیل القدر صحابیوں کو ان کے ماتحت رکھااورجب ناسمجھ لوگوں نے اپنے پرانے خیالات کی بنا پر آپؐ کے اس فعل پراعتراض کیا توآپؐ نے فرمایا …… تم لوگوں نے اسامہؓ کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا ہے اور اس سے پہلے تم اس کے باپ زیدؓ کی امارت پر بھی طعن کرچکے ہو مگر خدا کی قسم جس طرح زیدؓ امارت کا حق دار اوراہل تھا اورمیرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اسی طرح اسامہؓ بھی امارت کا اہل ہے اورمیرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔

اس ارشادِ نبویؐ پر جو اسلام کی حقیقی مساوات کا حامل تھا صحابہ کی گردنیں جھک گئیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اسلام میں کسی شخص کا غلام یا غلام زادہ ہونا یا بظاہر کسی ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھنا اس کی ترقی کے رستہ میں حارج نہیں ہو سکتا، (کوئی روک نہیں بن سکتا ) اور اصل معیار بہر صورت تقویٰ اور ذاتی قابلیت پر مبنی ہے۔‘‘

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ683)

’’پھراس سے بڑھ کرکیا ہوگا کہ آپؐ نے اپنی حقیقی پھوپھی کی لڑکی زینب بنت جحشؓ کو زید بن حارثہؓ سے بیاہ دیا اور عجیب کرشمہ یہ ہے کہ سارے قرآن میں اگر کسی صحابی کانام مذکور ہوا ہے تو وہ یہی زیدبن حارثہؓ ہیں۔‘‘

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ398-399)

غلاموں کی اسلامی طریق پر آزادی کے بارے میں آپؓ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اسلامی طریق پر آزاد ہونے والے لوگوں میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی نظر آتی ہے جوہرقسم کے میدان میں ترقی کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچے ہیں اورجنہوں نے مختلف شعبوں میں مسلمانوں میں لیڈر ہونے کا مرتبہ حاصل کیا …… صحابہؓ میں زید بن حارثہؓ ایک آزاد شدہ غلام تھے مگر انہوں نے اتنی قابلیت پیدا کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قابلیت کی وجہ سے بہت سی اسلامی مہموں میں انہیں امیرالعسکر‘‘ (یعنی پورے لشکر کا امیر) ’’مقرر فرمایا اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابی حتیٰ کہ خالدبن ولیدؓ جیسے کامیاب جرنیل بھی ان کی ماتحتی میں رکھے۔‘‘

(سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ403)

حضرت زید ؓغزوۂ بدر، احد، خندق، حدیبیہ، خیبر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔

ضرت زیدؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہر تیر اندازوں میں سے شمار ہوتے تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ مُرَیْسِیْع (یہ غزوۂ بنو مصطلق کا دوسرا نام ہے) جو سیرۃ الحلبیہ کے مطابق شعبان 5؍ ہجری میں ہوا تھا، اس کے لیے جانے لگے تو آپؐ نے حضرت زیدؓ کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا ۔حضرت سلمہ بن اکوعؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی اور نو ایسے سرایا میں شامل ہوا (وہ جنگیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لشکروں میں شامل نہیں ہوئے تھے) جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر حضرت زید بن حارثہؓ کو امیرِ لشکر مقرر کیا تھا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہؓ کو جب بھی کسی لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا تو ہر دفعہ اس لشکر کا امیر ہی مقرر فرمایا اور حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ اگر حضرت زیدؓ بعد میں بھی زندہ رہتے تو آپؐ انہی کو امیر مقرر فرماتے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 33 زید الحب بن حارثہؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
(السیرۃ الحلبیہ جلد 2 صفحہ377-378 باب غزوہ بنی المصطلق مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سیرت خاتم النبیینؐ میں غزوۂ سَفَوَانْ جسے غزوۂ بدر اولیٰ بھی کہتے ہیں جو جمادی الآخر 2؍ہجری میں ہوا۔ اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غزوۂ عُشَیْرَہکے بعد ’’ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومدینہ میں تشریف لائے دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مکہ کے ایک رئیس کُرْزبِنْ جَابِر فِہْرِی نے قریش کے ایک دستے کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر جو شہر سے صرف تین میل پر تھی اچانک حملہ کیا اورمسلمانوں کے اونٹ وغیرہ لوٹ کر چلتا ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کویہ اطلاع ہوئی توآپؐ فوراً زید بن حارثہؓ کواپنے پیچھے امیر مقرر کر کے اور مہاجرین کی ایک جماعت کوساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے اور سَفَوَان تک جوبدر کے پاس ایک جگہ ہے اس کا پیچھا کیا مگر وہ بچ کر نکل گیا۔ اس غزوہ کو غزوۂ بدر الاولیٰ بھی کہتے ہیں۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 330)

جس کی پہلے وضاحت کی تھی اور جو غزوۂ عُشَیْرَة ہے اس کے بارے میں مختصر بتا دوں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے بد ارادوں کی خبر ملی تو آپؐ یہ خبر سن کر مدینہ سے نکلے اور ساحلِ سمندر کے پاس عُشَیْرَة مقام تک پہنچے۔ گو قریش سے وہاں مقابلہ نہیں ہوا لیکن وہاں قبیلہ بنو مدلج کے ساتھ بعض شرائط پر آپس میں امن کا معاہدہ ہوا اور اس کے بعد آپؐ مدینہ تشریف لے آئے۔ تو عُشَیْرَة سمندر کے کنارے مقام تھا۔ وہاں آپؐ خبر سن کے گئے تھے کہ کافر وہاں جمع ہو رہے ہیں اور شاید فوج اکٹھی ہو رہی ہے تو آپؐ نے سوچا کہ وہیں باہر نکل کے ان کا مقابلہ کیا جائے لیکن بہرحال جنگ نہیں ہوئی اور اس سفر کا یہ فائدہ ہوا کہ ایک قبیلے سے آپؐ کا امن کا معاہدہ ہو گیا۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 329)

غزوہ اور سَرِیَّہکے بارے میں بھی یہ وضاحت کر دوں ۔ بعضوں کو نہیں پتا ہوگا کہ غزوہ اسے کہتے ہیں جس مہم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہوئے اور سَرِیّہیا بعث اسے کہتے ہیں جس میں آپؐ شامل نہیں ہوئے۔ غزوہ اور سَرِیّہدونوں میں یہ بھی واضح ہو جائے کہ تلوار کے جہاد کے لیے نکلنا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر وہ سفر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کی حالت میں شریک ہوئے ہوں وہ غزوہ کہلاتا ہے خواہ وہ خصوصیت سے لڑنے کی خاطر نہ بھی کیا گیا ہو لیکن بعد میں مجبوری سے جنگ کرنی پڑی ہو۔اسی طرح سَرِیّہبھی ہے۔ پس ہر غزوہ اور سَرِیّہلڑائی کی مہم کاہی نہیں ہوتا ۔غزوۂ عُشَیْرَة میں بھی جیسا کہ بیان ہوا کوئی جنگ نہیں ہوئی۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ327)

جب جنگِ بدر ختم ہو گئی تو ’’بدر سے روانہ ہوتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہؓ کو مدینہ کی طرف روانہ فرمایا تا کہ وہ آگے آگے جا کر اہلِ مدینہ کوفتح کی خوشخبری پہنچا ویں۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ سے پہلے پہنچ کر مدینہ والوں کو فتح کی خبر پہنچائی جس سے مدینہ کے صحابہ کو اگر ایک طرف اسلام کی عظیم الشان فتح ہونے کے لحاظ سے کمال درجہ خوشی ہوئی تو اس لحاظ سے کسی قدر افسوس بھی ہوا کہ اس عظیم الشان جہاد کے ثواب سے وہ خود محروم رہے۔ اس خوشخبری نے اس غم کو بھی غلط کر دیا جو زید بن حارثہؓ کی آمد سے تھوڑی دیر قبل مسلمانانِ مدینہ کو عموماً اور حضرت عثمانؓ کو خصوصاً رقیہؓ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہنچا تھا جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے بیمار چھوڑ کر غزوۂ بدر کے لیے تشریف لے گئے تھے اور جن کی وجہ سے حضرت عثمانؓ بھی شریکِ غزوہ نہیں ہو سکے ۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ367)

حضرت زید بن حارثہؓ کے ایک سَرِیّہ جو جمادی الآخر سن 3؍ہجری میں قَرَدَہ کے مقام کی طرف بھیجا گیا تھا، اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ

بَنُو سُلَیْم اوربَنُو غَطَفَانْ کے حملوں سے کچھ فرصت ملی تو مسلمانوں کو ایک اورخطرہ کے سدِّباب کے لیے وطن سے نکلنا پڑا۔ اب تک قریش اپنی شمالی تجارت کے لیے عموماً حجاز کے ساحلی راستے سے شام کی طرف جاتے تھے لیکن اب انہوں نے یہ راستہ ترک کر دیا کیونکہ ……اس علاقہ کے قبائل مسلمانوں کے حلیف بن چکے تھے اور قریش کے لیے شرارت کا موقع کم تھا بلکہ ایسے حالات میں وہ اس ساحلی راستے کو خود اپنے لیے خطرے کا موجب سمجھتے تھے۔ بہرحال اب انہوں نے اس راستے کو ترک کرکے نجدی راستہ اختیار کرلیا جو عراق کوجاتا تھا اور جس کے آس پاس قریش کے حلیف اورمسلمانوں کے جانی دشمن تھے، پہلے رستے وہ تھے جن سے مسلمانوں کا معاہدہ ہوا تھا اور اس رستے پر جس کو قریش نے اختیار کیا وہاں ان کے اپنے معاہدے والے تھے اور وہ لوگ اور قبائل آباد تھے جو مسلمانوں کے بھی جانی دشمن تھے جو قبائل سُلَیْم اور غَطَفَان تھے۔ چنانچہ جمادی الآخر کے مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کویہ اطلاع موصول ہوئی کہ قریش ِمکہ کاایک تجارتی قافلہ نجدی راستے سے گزرنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر قریش کے قافلوں کاساحلی راستے سے گزرنا مسلمانوں کے لیے موجبِ خطرہ تھا تونجدی راستے سے ان کا گزرنا ویسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر اندیشہ ناک تھا کیونکہ برخلاف ساحلی راستے کے اس راستے پرقریش کے حلیف آباد تھے جوقریش ہی کی طرح مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے اورجن کے ساتھ مل کر قریش بڑی آسانی کے ساتھ مدینہ میں خفیہ چھاپہ مار سکتے تھے یاکوئی شرارت کرسکتے تھے اورپھر قریش کوکمزور کرنے اور انہیں صلح جوئی کی طرف مائل کرنے کی غرض کے ماتحت بھی ضروری تھا کہ اس راستے پربھی ان کے قافلوں کی روک تھام کی جاوے۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر کے ملتے ہی اپنے آزادکردہ غلام زیدبن حارثہؓ کی سرداری میں اپنے صحابہ کاایک دستہ روانہ فرما دیا۔

قریش کے اس تجارتی قافلے میں ابو سُفْیان بن حَرْب اورصَفْوَان بن اُمَیَّہ جیسے رؤساء بھی موجود تھے۔ زیدؓ نے نہایت چستی اورہوشیاری سے اپنے فرض کوادا کیا اورنجد کے مقام قَرَدَہ میں ان دشمنانِ اسلام کو جا پکڑا اور اس اچانک حملہ سے گھبرا کر قریش کے لوگ قافلہ کے اموال اور جو بھی ان کا مال تھا اس کو چھوڑ کربھاگ گئے اورزید بن حارثہؓ اوران کے ساتھی ایک کثیر مالِ غنیمت کے ساتھ مدینہ میں کامیاب و کامران واپس آئے۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ قریش کے اس قافلہ کاراہبر ایک فرات نامی شخص تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوا اور مسلمان ہونے پر رہا کر دیا گیا لیکن دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کا جاسوس تھا مگر بعد میں مسلمان ہو کر مدینے میں ہجرت کرکے آگیا۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 465-466)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضرت زید بن حارثہؓ ایک سریے سے مدینہ واپس لوٹے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے۔ حضرت زیدؓ آئے اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کا استقبال کیا اور انہیں گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا۔

(سنن الترمذی ابواب الاستئذان باب ما جاء فی المعانقۃ والقبلۃ حدیث 2732)

شعبان 5؍ ہجری میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کی طرف روانہ ہونے کی تحریک فرمائی تو بعض روایات کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ ؓکو مدینہ کا امیر مقرر کیا۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 558)

غزوۂ خندق کے دن مہاجرین کا جھنڈا بھی حضرت زید بن حارثہؓ کے پا س تھا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد دوم صفحہ 51 باب غزوہ رسول اللہ ﷺ الخندق مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

یہ ذکر شاید ابھی کچھ مزید چلے۔

دوسرے اب میں ذکر کروں گا۔ یہ ایک افسوسناک خبر ہے۔ (جنازہ آ گیا ہوا ہے؟) عزیزہ مریم سلمان گُل جو مبارک احمد صدیقی صاحب کی بیٹی تھیں 17؍ جون کو 25 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ چند روز قبل ہی ان کی بیماری کا پتہ چلا تھا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر ہسپتال داخل کرایا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی، جانبر نہیں ہو سکیں۔ عزیزہ بچی کے بارے میں جو بھی ان کے ملنے والے ہیں انہوں نے یہی کہا ہے کہ بڑی ملنسار اور خوش اخلاق بچی تھیں۔ نمازوں کی بڑی پابند تھیں۔ ہمدرد اور خدمت گزار تھیں۔ خلافت سے بڑا محبت کا تعلق تھا اور مرحومہ نے والدین اور شوہر کے علاوہ اپنی یادگار دو بیٹیاں نایاب اور زریاب چھوڑی ہیں۔ نایاب پانچ سال کی ہے اور زریاب ڈیڑھ سال کی۔ لکھنے والے نے لکھا ہے کہ مریم سلمان صاحبہ کی والدہ گل مبارک صاحبہ کو پچھلے چھ ہفتوں میں تین صدمات دیکھنے پڑے یعنی گل مبارک صاحبہ کے ایک بھائی فوت ہوئے۔ پھر بہن پچھلے مہینے مئی میں ہوئیں اور اب ان کی بیٹی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔ خدا تعالیٰ ان کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔

مریم سلمان صاحبہ اپنی جماعت ایپسم (Epsom)کی سیکرٹری نومبائعات تھیں۔ بڑی خوش اخلاق، ہنس مکھ اور مستحق افراد کی باقاعدگی سے مدد کرنے والی تھیں۔ ان کے حلقہ کی صدر لجنہ کہتی ہیں کہ عزیزہ مریم سلمان سیکرٹری نومبائعات کے طور پر بہت اچھا اور مثالی کام کر رہی تھیں اور نئی احمدی ہونے والی خواتین سے ایسا پیار کا تعلق قائم رکھتی تھیں کہ نئی احمدی خاتون کو جماعت کے نظام سے خود بخود محبت ہو جاتی تھی۔ ایک نئی احمدی خاتون فریدہ نیلسن کہتی ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی بار میٹنگ پر گئی تو مجھے فکر تھی کہ میں خود کو الگ تھلگ محسوس کروں گی لیکن مجھے دیکھتے ہی مریم کے چہرے پر ایک بڑی مسکراہٹ آ گئی اور مسکراہٹ لیے میری طرف بڑھی۔ مجھے گلے لگایا اور سارا وقت میرے ساتھ بیٹھی رہی۔ پھر اس کے بعد بھی گھر میرے لیے چاکلیٹ کا تحفہ لے کے آئی اور مجھے جماعت کی اور خلافت کی برکات بتاتی رہی۔ اسی طرح ایک اور نئی احمدی خاتون نومبائعہ عندلیب صاحبہ ہیں۔ وہ بھی کہتی ہیں کہ میرے خیال میں ہر سیکرٹری نو مبائعہ کو مریم کی طرح ہونا چاہیے کیونکہ مجھے یاد ہے کہ جب میری پہلی ملاقات مریم سے ہوئی تو وہ مجھے گلے لگا کر اتنے پیار اور محبت سے ملی کہ مجھے لگا کہ مجھے ایک پیار کرنے والی بہن مل گئی ہے۔ وہ میرے گھر میں میرے لیے اور میرے بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحائف لے کر آتی تھیں۔ فون کے ذریعہ اور ملاقات کے ذریعہ ہر وقت مجھ سے رابطے میں رہتی تھیں۔ دوستوں اور لوگوں میں باتوں باتوں میں اکثر خلافت کی برکات اور نظام جماعت کے بارے میں بتاتی رہتی تھیں۔ نومبائعات کی بہترین دوست بنتی تھیں۔ ان کی مدد کرتی تھیں جس سے جماعت کے پروگراموں میں جانے کا شوق پڑ گیا اور اب یہ نومبائعہ کہتی ہیں کہ اس بچی کی تربیت کی وجہ سے، اب میں اس حلقے کی جنرل سیکرٹری بن چکی ہوں اور اپنی معمولی جیب خرچ سے بچت کر کے وہ خدمتِ خلق بھی کرتی رہتی تھی۔
عزیزہ مریم کے والد مبارک صدیقی صاحب لکھتے ہیں۔ بڑی باقاعدگی سے خطبات سنتی تھی۔ ہر کام میں دین کو دنیا پر مقدم رکھتی تھی۔ وفات سے ایک دو دن قبل مجلسِ شوریٰ تھی اور مریم آئی سی یو میں تھی اور میں نے اس سے کہا کہ میں لکھ کر شوریٰ نہ اٹنڈ (attend)کرنے کی اجازت لے لیتا ہوں لیکن مریم کہنے لگی کہ نہیں۔ آپ میری فکر نہ کریں اور میری وجہ سے جماعت کا پروگرام نہیں چھوڑنا اور شوریٰ میں شامل ہوں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہم نے یہی عہد کیا ہوا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔ انگریزی نظمیں بھی لکھتی تھی اور ایک انگریزی نظم کا خلاصہ کچھ یہ ہے کہ جب بھی تم نیکی کا کوئی کام کرنا شروع کرو گے تو تمہیں بہت مشکلات آئیں گی اور لوگ تمہارے خلوص پر شک کریں گے۔ لوگوں کو اپنا کام کرنے دو اور تم اپنا نیکی کا کام کرتے جاؤ۔ اسی طرح انہوں نے خلافت پر ایک نظم اردو میں بھی لکھی تھی۔

سینٹ جارجز(St. Georges)ہسپتال لندن میں جہاں داخل تھیں وہاں ان کی جو نرس تھی وہ ایک جرمن عورت تھی۔ وہ کہتی ہے کہ مریم سے باتیں کر کے مجھے لگتا تھا کہ میں کسی فرشتے سے مل رہی ہوں۔ گرمیوں میں جب یہاں زیادہ گرمی ہوتی تھی تو اپنے فریج میں پانی کی بوتلیں رکھ دیتیں۔ پھر چھٹی والے دن بچیوں کے ساتھ باہر بیٹھ کے لوگوں کو پانی پلانے کے لیے اوپر لکھ دیتی تھیں کہ بغیر کسی قیمت کے مفت پانی ہے اور انگریز بہت سارے آتے تھے اور سٹال دیکھ کر رک جاتے تھے، چیزیں لیتے تھے۔ ایک انگریز عورت کا انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے مریم سے پوچھا کہ یہ خیال تمہیں کیسے آیا کہ گھر کے باہر تم میز پہ یہ چیزیں پانی اور چاکلیٹ وغیرہ رکھ کے اوپر لکھ دیتی ہو کہ مفت ہے ، لے جاؤ۔ کہنے لگی کہ بچوں کو سکول سے ایک ہفتہ چھٹیاں ہیں اور میں نے بچوں کی تفریح کے لیے سارا ہفتہ ایسا ہی سٹال لگانا ہے۔ وہ انگریز کہنے لگی کہ میں تفریح اور سکون کے لیے بچوں پر ہزاروں پاؤنڈ خرچ کر کے دُور دراز لے کے جاتی ہوں اور مجھے سکون نہیں ملتا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ اصل خوشی اس طرح گھر بیٹھے حاصل ہو سکتی ہے کہ لوگوں کی خدمت کی جائے۔

ہمیشہ سلام کرنے اور دوسروں کا حال پوچھنے میں پہل کرتی تھیں اور اگر کسی واقف کار سے یا اپنے محلے کے لوگوں سے کچھ دن بات نہ ہوتی تو میسج کر کے حال پوچھتیں۔ ایک یہ بھی خوبی تھی کہ ہمیشہ دوسروں میں اچھی باتیں تلاش کرتی تھیں اور پھر ان اچھی باتوں کو appreciateکرتی تھیں۔ ہمیشہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ پر بہت توکل کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بہت شکر کرنے والی بچی تھی۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور جس طرح اس بچی نے اپنے خدا سے امید رکھی تھی اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر اس سے اپنے پیار کا سلوک فرمائے اور اپنے پیار کی آغوش میں لے لے۔ اس کے درجات بلند فرماتا رہے اور اس کی بچیوں کو بھی ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور تمام وہ دعائیں جو اس نے اپنی بچیوں کے لیے کی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ اس کے والدین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر کامل شرح صدر سے راضی ہوں اور اس کی بچیوں کی مثالی رنگ میں پرورش کرنے والے ہوں اور ان کی مدد کرنے والے ہوں۔ ان کے خاوند کو بھی بچیوں کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دینے والا بنائے۔ اللہ تعالیٰ درجات بلند فرماتا رہے۔

ابھی جمعہ کے بعد ان شاء اللہ عزیزہ مرحومہ بچی کا نماز جنازہ پڑھاؤں گا سب اس میں شامل ہوں۔ جنازہ مَیں باہر جا کر پڑھاؤں گا اور آپ لوگ جو اندر ہیں وہ یہیں اندر رہیں گے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button