متفرق مضامین

حضرت امام محمد بن ادریس شافعیؒ

نام و نسب

آپؒ کا نام محمد،کنیت ابو عبد اللہ اور لقب ناصر الحدیث تھا۔آپؒ کے والد محترم کا نام ادریس بن عثمان بن شافع تھا اوراپنےپڑداداشافع بن سائب کی نسبت کی وجہ سے آپؒ ’’شافعی‘‘ کہلائے۔آپؒ کا سلسلہ ٔنسب یہ ہے:ابو عبد اللہ محمد بن ادریس بن العباس بن عثمان بن شافع بن السائب بن عبید بن عبد یزید بن ہاشم بن المطلب بن عبد مناف۔

امام شافعیؒ کا تعلق قریش کی شاخ بنو ہاشم سے تھا اور عبد مناف پر جاکر سلسلہ نسب رسول کریمؐ سے جاملتا ہے۔ آپؒ کے جدامجدسائب بن عبید غزوہ بدر میں بنوہاشم کے علمبردار تھے۔جنگ میں قیدی بنے اور فدیہ دے کر رہائی پاکر اسلام قبول کیا۔

آپؒ کی والدہ ایک صالحہ،حاذقہ ،عالمہ اور مجاہدہ خاتون تھیں۔ان کے نسب کے بارہ میں اختلاف ہے ۔بعض مؤرخین کے نزدیک وہ ہاشمیہ تھیں اور ان کا نام فاطمہ تھا جبکہ دیگر مؤرخین کے نزدیک ان کا تعلق یمن کے قبیلہ ازد سے تھا اور ان کی کنیت ام حبیبہ تھی۔بہرحال ان کا یہی شرف کافی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ایک عظیم امام کو جنم دیا اور پروان چڑھایا۔

پیدائش

آپؒ کی پیدائش سے قبل آپؒ کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ مشتری (ستارہ)ان کے بطن سے نکلا اور مصر پر ٹوٹا اور اس کے روشن ٹکڑے ہر شہر میں جاگرے۔معبرین نے اس کی تعبیر یہ کی کہ ایک عظیم عالم ان کے بطن سے پیدا ہوگا جو بلادِ اسلام کو علم سے بھر دے گا۔

(مناقب شافعی للرازی صفحہ36)

ان پیشگوئیوں کے مطابق امام شافعیؒ150ھ میں فلسطین کے شہر ‘‘غزہ’’میں پیدا ہوئے۔150ھ وہی سال ہے جس میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کی وفات ہوئی۔

(توالی التاسیس لابن حجر عسقلانی جزء1 ص49)

تعلیم و تربیت

امام شافعیؒ کے والد ادریس نے روزگار کی تلاش میں مکہ سے فلسطین ہجرت کی تھی اور آپؒ کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ہی وفات پاگئے۔اس کے بعد آپؒ کی والدہ آپؒ کو عسقلان لے گئیں اور آپؒ کی پرورش نہایت عمدہ طریق پر کرنے لگیں۔پھروہاں سے یمن میں لے گئیں،جب آپؒ کی عمر دس سال ہوئی توآپؒ کی والدہ کواس بات کا اندیشہ ہوا کہ اپنے خاندان سے دوری کے باعث کہیں آپؒ کا شریفانہ نسب بھلا نہ دیا جائے اور ضائع نہ ہوجائے نیزیہ بھی ادراک ہوا کہ شافعی کی صحیح تربیت غزہ کی بجائے مکہ میں ہی ہوسکتی ہے جہاں ان کا خاندان اور قبیلہ آباد ہے جہاں علم و فضل ہے،جہاں ان کے بچے کی زبان کو فصاحت و بلاغت مل سکتی ہے اور اس کے لیے مکہ کی طرف رخت سفر باندھا۔

(توالی التاسیس جزء1 ص109)

مکہ میں آپؒ کو ایک علم الانساب کے ماہر کے پاس بھیجا گیا جس نے آپؒ کو کہا کہ طلب علم میں جلدی مت کریں پہلے کچھ کما لیں کوئی ذریعہ معاش بنا لیں۔تو آپؒ نے فرمایا: میری لذت تو حصول علم میں ہے۔

(توالی التاسیس جزء1ص110)

اس کے بعد ایک مکتب میں حصول علم کے لیے داخل ہوئے لیکن غربت کی وجہ سے معلم کی پوری اجرت نہ دینے کی وجہ سے اس کی صحیح نظر التفات نہ پاسکے۔جب معلم تدریس سے فارغ ہوجاتا توامام شافعیؒ بچوں کو کتاب پڑھایا کرتے۔اس یتیم ذکی الفہم قریشی بچے کا حافظہ اتنا اچھا تھا کہ جب معلم بچوں کو آیت املا کروارہا ہوتاتھا تو املا کے اختتام تک آپؒ نے وہ آیت حفظ کر لی ہوتی تھی ۔جب معلم نے یہ دیکھا توایک دن کہا کہ میرے لیے جائز نہیں کہ میں آپؒ سے کوئی اجرت لوں اورپھر جوتھوڑی بہت اجرت امام شافعیؒ کی والدہ سے وصول کرتا تھا وہ بھی لینا بند کر دی۔چنانچہ آپؒ نے سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیااورمؤطا امام مالک دس سال کی عمر میں یاد کر لی ۔

(مناقب شافعی للبیھقی جزء1ص94)

امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ جب میں نے قرآن ختم کیا تو میں مسجد میں جا کر علماء کی مجالس میں بیٹھتا اور احادیث یا کوئی مسئلہ بیان ہوتا تواس کو یاد کرلیتااورہم مکہ میں شعب خیف میں بیٹھا کرتے تھے۔میں بہت غریب تھا حتی ٰکہ کاغذوغیرہ بھی نہیں خرید سکتا تھا تو میں ہڈیوں اور استعمال شدہ کاغذوں کی پشت پر لکھ لیا کرتا تھا۔

(مناقب شافعی للرازی صفحہ37)

مبشر خوابیں

آپؒ کاحقیقی علم تو خدادا دتھا جو رسول اللہ ؐکے توسّل سے آپؒ کو موہبت ہوا۔امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

’’میں نے رسول اللہؐ کو خواب میں دیکھا۔آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے! تم کس قبیلہ سے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! آپؐ کے قبیلہ سے۔آپؐ نے فرمایا: میرے قریب آؤ۔میں قریب ہوا تو آپؐ نے اپنا لعاب دہن میری زبان،منہ اور ہونٹوں پر لگایا اور فرمایا کہ جاؤ،اللہ تم پر برکت نازل فرمائے۔‘‘

(مناقب شافعی للرازی صفحہ36)

اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک اور دفعہ بھی خواب میں رسولؐ اللہ کو مسجد الحرام میں لوگوں کی امامت کرتے دیکھا۔نماز کے بعد جب آپؐ لوگوں کو علم سکھانے لگے تومیں رسولؐ اللہ کے قریب ہوا اور کہا کہ مجھے بھی سکھائیے۔تو رسولؐ اللہ نے اپنی آستین سے ایک میزان(ترازو) نکال کرمجھے عنایت فرمائی اور فرمایا یہ تیرے لیے ہے(اللہ تجھے ہدایت دے)۔امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک معبر کے پاس اپنی یہ خواب بیان کی تو اس نے کہا کہ آپؒ رسولؐ اللہ کی سنت پر قائم ہوتے ہوئے امام اور عالم بنیں گے۔کیونکہ مسجد الحرام کا امام تمام ائمہ سے افضل ہے اور جہاں تک میزان کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپؒ کو علم حقائق الاشیاء سے نوازا جائے گا۔

(مناقب شافعی للرازی صفحہ36)

علم کے ساتھ کھیل کا اہتمام

آپؒ کو علم کے ساتھ کھیل کا بھی شوق تھا۔ تیر اندازی اورگھڑ سواری میں خاص مہارت رکھتے تھے۔آپؒ اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے تیراندازی میں حصہ لیا اور دس میں سے دس نشانے لگائے۔اسی طرح آپؒ بھاگتے گھوڑے پرچھلانگ لگاکر سوار ہوجاتے تھے۔آپؒ نے اس بارہ میں ایک کتاب ‘‘کتاب السبق والرمی’’ بھی لکھی۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء2ص127-129)

تعلیم فقہ اور امام مالکؒ کی شاگردی

امام شافعیؒ نحو و ادب سیکھنے کے لیے نکلے تومفتی مکہ مسلم بن خالد زنجی سے آپؒ کی ملاقات ہوئی۔تعارف کے بعد انہوں نے شافعی کوان کی ذہانت اورکمال حافظہ کی و جہ سے علم فقہ سیکھنے کا مشورہ دیا۔امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں ساری رات اس بارہ میں سوچتا رہا ۔پھر ایک خواب کی بنیاد پر فقہ سیکھنا شروع کیا۔آپؒ کی ذہانت،ذکاوت اور قوت حفظ کی وجہ سے مسلم بن خالدآپؒ سے کافی مانوس تھے اورفقہ و حدیث کی تعلیم تین سال تک دی۔بعد میں آپؒ کی خواہش پر ایک خط دے کرمدینہ امام مالکؒ کی خدمت میں بھیجا۔ اس وقت آپؒ کی عمر قریباً13 برس تھی۔امام مالک کے پاس جب آپؒ نے خط پیش کیا تو امام مالک نے خط پڑھ کرپھینک دیا اور کہاکہ سبحان اللہ!اب کیا رسول اللہؐ کا علم اس قابل رہ گیا ہے کہ رسائل کےذریعہ حاصل کیا جائے۔

امام شافعیؒ آگے بڑھے اورکہا کہ میں بنومطلب سے ہوں اور اپنا سارا حال کہہ سنایا۔تو امام مالک نے آپؒ کو ایک نظر دیکھا۔امام مالک صاحب فراست تھے۔پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے؟امام شافعیؒ نے فرمایا: محمد۔تو امام مالک نے کہا کہ اے محمد! اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور معاصی سے بچتے رہنا۔پس یقیناً وہ عنقریب تمہاری شان ظاہر کردے گا۔پھر کہا یقینا ًاللہ تعالیٰ نے تمہارے دل پر نور ڈالا ہے تم اسے معصیت سے بجھا نہ دینا۔پس کل جہاں سے مؤطا پڑھنی ہے لے کر آنا۔امام شافعیؒ نے کہا کہ میں اپنے حافظہ سے اسے پڑھوں گا۔اگلے روزجب امام مالک نے آپؒ سے مؤطا سنی تو آپؒ کی قراءت انہیں بہت پسند آئی اورانہیں اپنی شاگردی میں لے لیا۔پھرامام مالک کی وفات تک آپؒ نے مدینہ میں زانوئے تلمذ تہ کیا۔اس دوران صحابہ کرام، تابعین اور امام مالکؒ کی فقہ کو اچھی طرح سمجھا اور یاد کیا۔

(مناقب الشافعی للرزای ص39)

فتویٰ دینے کی اجازت

امام مالکؒ اور دیگر فقہائے مدینہ نے آپؒ کی قابلیت کو جاننے کے بعد متفقہ طور پرپندرہ سال کی عمر میں انہیں فتویٰ دینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔مفتی مکہ مسلم بن خالد زنجی نے امام شافعیؒ سے فرمایا:‘‘یا ابا عبد اللّٰہ افت الناس فقد آن لک واللّٰہ ان تفتی’’

(توالی التاسیس جزء1ص124)

یمن کی طرف سفر اور نجران کی ولایت

امام مالکؒ کی وفات کے بعدغربت کی وجہ سے والی یمن کے ساتھ چلے گئے جہاں ان کے سپرد مختلف کام ہوئے جن کو امام شافعیؒ نے بڑی ایمانداری اورتندہی سے انجام دیاجس کی وجہ سے لوگ آپؒ کی تعریفیں کرنے لگے اور آپؒ کے سپرد مزید کام کردئیے گئے۔کچھ عرصہ بعد نجران کی ولایت آپؒ کے سپرد ہوئی۔وہاں بنو حارث اور موالی ثقیف آباد تھے جوہرنئے والیٔ نجران کو رشوت دے کر اپنے مقاصد پورے کر لیا کرتے تھے۔آپؒ نے ان کی رشوت سے انکار کر دیا اور بغیر کسی رعایت کے عدل و انصاف کا قیام کیا اورسات بااعتماد آدمیوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جن سے آپؒ تنازعات کے فیصلہ جات میں مشورہ لیا کرتے تھے اور ان سے فیصلے بھی کروایا کرتے تھے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص107)

قید اور رہائی

آپؒ کے حسن خلق،عدل و انصاف،طلاقت لسانی اور عالی النسب ہونے کی وجہ سے اہل یمن آپؒ کے گرویدہ ہوگئے۔ یہ بات حاسدین کو ہضم نہ ہوئی۔انہوں نے ہارون الرشید کو آپؒ کے خلاف بھڑکایااور یہ باور کرایا کہ یہ شخص خلافت کا خواہاں ہے اورایک خط میں علویوں سے ڈراتے ہوئے لکھا کہ ان کے ساتھ یہاں ایک ایسا شخص ہے جسے محمد بن ادریس الشافعی کہا جاتا ہے جس کی زبان تلوار سے بڑھ کراپنا کام کردکھاتی ہے ۔اگر آپؒ کو حجازسے کچھ واسطہ ہے تو اس شخص کو اپنے پاس لے جائیں۔

(مناقب الشافعی للرازی 39-40)

جب ہارون الرشید نے یہ پڑھا تو بصیغۂ راز حماد بربری کو حکم نامہ ارسال کیا کہ شافعی اور تمام مشکوک افراد کو گرفتار کرکے عراق بھجوا دو۔حکم نامہ پہنچتے ہی حماد بربری نے امام شافعیؒ اور ایک گروہ کوگرفتار کرکے ہارون الرشید کے پاس پہنچا دیا۔چنانچہ وہ روزانہ دس دس افراد سے پردے کے پیچھے سے بات کر تا اور انہیں قتل کرنے کا حکم دیتا رہا۔آخرایک روز امام شافعیؒ کی باری آئی۔ہارون الرشید نے پہلے توآپؒ کے قتل کا حکم دے دیالیکن پھر آپؒ کا موقف سننا چاہا۔تب امام شافعیؒ نے ایسی فصیح و بلیغ اور اثر انگیز تقریر کی کہ ہارون الرشید نے قتل کا ارادہ بدل دیا اور قید میں رکھنے کا فرمان صادر کیا۔پس آپؒ کو دارالعامۃ میں محبوس کر دیا گیا۔اس عرصہ میں ایک علمی بحث محمد بن حسن کے ساتھ ہوئی جس کا ذکر ہرثمہ نے ہارون الرشید سے کیا۔اس نے آپؒ کو بلا کر قرآن،حدیث،لغت،شعر و ادب،علم طب ،علم نجوم وغیرہ کے متعلق سوالات کیے جس کے آپؒ نے کافی و شافی جوابات دئیے۔پھرہارون الرشیدنے اپنے سامنے محمد بن حسن سے مناظرہ کرنے کا کہا۔محمد بن حسن نے امام شافعیؒ سے نکاح کے احکام کے بارہ میں سوال کیا جس کا آپؒ نے پر حکمت جواب دیا پھر امام شافعیؒ نے محمد بن حسن سے سنت نبوی ؐکے متعلق ایک سوال کیا جس کا جواب وہ نہ دے سکے۔یہ دیکھ کر ہارون الرشید نے امام شافعی ؒکی تعریف کی اورآپؒ کوپانچ سو دینارانعام دے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔ہرثمہ نے پانچ سو اپنے پاس سے ملا کر امام شافعیؒ کو ایک ہزار دیناردے کر رخصت کردیا۔

(مناقب الشافعی للآبری جزء 1ص70+توالی التاسیس لابن حجر جزء1ص16+مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص115)

بغداد میں علمی مجالس اور تصنیف

195ھ میں امام شافعیؒ بغداد آکردو سال رہے پھر مکہ کی طرف چلے گئے۔پھر198ھ میں دوبارہ بغداد آگئے۔وہاں آپؒ نے اپنے علم سے علماء اور لوگوں کو مستفیض کیا۔علماء کے منتشر گروہوں کو یکجا کیا۔کتاب اللہ ،سنت نبویہؐ اور علم حدیث کی ترویج کی۔بدعات کے خلاف جہاد کیا۔علماء آپؒ کے پاس آکر حدیثوں کا علم پاتے تھے۔مامون الرشید بھی آپؒ کی علمی مجالس میں شامل ہوا کرتے تھے۔حسین بن علی کہتے ہیں کہ میں نے(اِس زمانہ میں) امام شافعیؒ کی مجلس سے بہتراور شریف کوئی مجلس نہیں دیکھی۔اس مجلس میں اہل فقہ،اہل حدیث اوراہل شعرشامل ہوتے تھے۔اہل فقہ اور اہل شعر کے علمائے کبار آپؒ کی خدمت میں آتے تھے اورسب آپؒ سے سیکھتے اور مستفید ہوتے تھے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص226)

حسن بن محمد الزعفرانی کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعیؒ کی کوئی مجلس ایسی نہیں دیکھی جس میں احمد بن حنبل موجود نہ ہوں۔امام احمد ہم سے زیادہ امام شافعیؒ کے ساتھ رہتے تھے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص227)

بغداد میں قیام کے دوران عبد الرحمٰن بن مہدی نے امام شافعیؒ کو قرآن کریم کے معانی و مطالب ،حجت اجماع اور کتاب اللہ و سنت رسول سے قرآنی نسخ ومنسوخ کی وضاحت پرایک کتاب لکھنے کی درخواست کی۔جس پر امام شافعیؒ نے ایک مدلل اور آسان فہم ‘‘کتاب الرسالہ’’لکھی۔اس کتاب کی تصنیف کے بعدعبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں میں نے امام شافعیؒ کے لیے دعا نہ کی ہو۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص230)

مصر میں آمد

200ھ میں امام شافعیؒ مصر چلے آئے۔آپؒ سفر کے دوران بھی علمی کام نہایت تندہی سے کیا کرتے تھے۔ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعیؒ کو مصر میں داخل ہونے سے پہلے نصیبین میں دیکھا کہ آپؒ نہ دن کو کھانا کھاتے اور نہ رات کو سوتے تھے۔ساراد ن علمی کام کرتے رہتے تھے۔اندھیرا ہوتے ہی خادمہ کو کہتے کہ چراغ جلا دو اور علمی کام میں لگ جاتے جو لکھنا ہوتا وہ لکھ لیتے اور جو مٹانا ہوتا وہ اس جگہ سے مٹا دیتے۔پھر جب تھک جاتے توچراغ بجھا کر کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ جاتے پھر کچھ دیر بعد اٹھ جاتے اور خادمہ کو چراغ جلانے کا کہتے اور کام میں مصروف ہوجاتے۔ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے آپؒ سے کہا کہ اے ابو عبد اللہ! اگر چراغ کو جلتا رہنے دیں تو خادمہ کی مشقت کم ہوجائے گی۔تو کہا کہ یہ چراغ ہی تو میرے دل کو مشغول رکھتا ہے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص238)

پھر ایک دن امام شافعیؒ نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے مصر کو کیوں چھوڑا؟ میں نے کہا کہ دو وجہ سے۔ایک وجہ یہ کہ وہاں ایک فرقہ ہے جو امام مالک کے اقوال کی پیروی کرتا ہے میں اس کے مطابق چلا لیکن پھراس سے اکتا کر چھوڑ دیا۔دوسرا ایک اور فرقہ ہے جو امام ابو حنیفہ کے اقوال کی پیروی کرتا ہے۔ میں نے اس کو اختیار کیا لیکن پھراسے بھی اکتا کر چھوڑ دیا۔

اس پر امام شافعیؒ نے کہا کہ میں اہل مصر کو ایک ایسی چیز پیش کروں گاجوانہیں امام مالک اور امام ابو حنیفہ دونوں کے اقوال سے ہٹا دے گی۔ربیع کہتے ہیں کہ پس آپؒ نے مصر میں آکرایسا ہی کیا۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص238)

جب آپؒ مصر میں داخل ہوئے تو سنت نبویؐ کے مطابق اپنے ننھیال قبیلہ ازد کے پاس اترے۔ہارون بن سعید الایلی کہتے ہیں کہ میں نے شافعی جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا وہ ہمارے پاس مصر آئے تو لوگوں نے کہا کہ قریش میں سے ایک شخص آیا ہے پس ہم ان کے پاس آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔پس میں نے آپؒ سے بہتر کسی کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی آپؒ سے حسین کوئی چہرہ دیکھا۔جب آپؒ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؒ نے کلام کیاپس ہم نے آپؒ سے بڑھ کر زیادہ خوبصورت کلام کرنے والا نہیں دیکھا۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص240)

مرض الموت اور وفات

حضرت امام شافعیؒ مصر میں200ھ تا204ھ قریباً چار سال رہے۔آپؒ بواسیر کے مرض میں مبتلا تھے۔اس شدید مرض کے باوجود آپؒ نے تصنیف کا کام جاری رکھا۔‘‘کتاب الام’’جو دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور‘‘کتاب السنن’’وغیرہ ان چار سالوں میں تصنیف و تالیف کیں۔

یونس بن عبد الاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے آپؒ کو شدید بیماری کی حالت میں دیکھا۔ایک روز میں آپؒ کے پاس حاضر ہوا تو آپؒ نے مجھے فرمایا کہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر120سے اگلی آیات ہلکی قراء ت میں پڑھ کر سنائیں۔تو میں نے وہ آیات پڑھ کر سنائیں ان آیات میں رسول اللہؐ اور صحابہ کرامؓ کے حالات کا ذکرہے۔

204ھ میں آپؒ کے مرض الموت کے وقت امام مزنی آپؒ کے پاس آئے اور کہا اے استاد! کیا حال ہے؟ آپؒ نے فرمایا: میں آج دنیا سے کوچ کرنے والا ہوں، اپنے بھائیوں سے جدا ہونے والا ہوں، موت کاجام نوش کرنے والا ہوں، اللہ کے پاس جانے والا ہوں اور اپنے برے اعمال کی سزا پانے والا ہوں۔پھر آسمان کی طرف دیکھا اور آپؒ کی آنکھیں تَر تھیں اور یہ شعر پڑھے:

الیک الہ الخلق ارفع رغبتی
وان کنت یا ذاالمن والجود مجرما
تعاظمنی ذنبی فلمّا قرنتہ
بعفوک ربی کان عفوک اعظما

ترجمہ: اے جود و کرم کرنے والے! اگرچہ میں ایک مجرم ہوں لیکن مخلوق کے معبود میں تجھ سے ہی بھیک مانگتا ہوں۔میں نے اپنے گناہ کوبہت بڑا سمجھا تھا مگر جب تیرے عفو سے اس کا مقابلہ کیاتو اے میرے(غفور و رحیم)ربّ!تیرا عفوسب سے عظیم ہے۔

پھر آپؒ نے حرملہ سے فرمایا کہ عباد ت گزار ادریس کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ میرے لیے اللہ عزو جل سے دعا کریں۔اس کے بعدنماز مغرب ادا فرمائی اور پھر29رجب 204ھ کو54سال کی عمر میں آپؒ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔آپؒ کی وفات کے وقت آپؒ کے اصحاب آپؒ کے پاس جمع تھے اور ایک آدمی سورۃ یٰس پڑھ رہا تھا۔اور جب تک آپؒ کو کفن نہ دیا گیا سب کے سب وہیں کھڑے رہے۔

ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ جمعہ کے روزعصر کے بعد ہم نے انہیں دفن کیا اور جب ہم جنازہ سے لوٹ رہے تھے تو ہم نے شعبان 204ھ کا چاند دیکھا۔

(توالی التاسیس جزء1ص194-196)

آپؒ کی قبر مصر میں جبل مقطم کے پاس اہل قریش کے مقبرہ میں مقابر بنی عبد الحکم کے درمیان ہے اور آپؒ کی قبر پر دو الواح نصب ہیں ایک سر کی طرف اور دوسری پاؤں کی طرف۔

ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعیؒ کی وفات سے قبل میں نے خواب میں آدم ؑکو دیکھا کہ وہ وفات پاگئے ہیں اور لوگ ان کے جنازے کے لیے نکل رہے ہیں۔صبح ہوئی تو میں نے بعض اہل علم سے اس بارہ میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ زمین میں جو سب سے زیادہ صاحب علم انسان ہے اس کی وفات ہوجائے گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عَلَّمَ آدمَ الْاَسْمَآء کُلَّھَا۔پس اس کے کچھ عرصہ بعد امام شافعیؒ کی وفات ہوگئی۔

(مناقب الشافعی للرازی ص34)

ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن مسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب ابو زرعہ الرازی کی وفات ہوئی تو میں نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ خدا نے آپؒ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ میرے بارہ میں یہ حکم دیا گیا کہ اسے ابو عبد اللہ اور ابو عبد اللہ اور ابو عبد اللہ کے ساتھ رکھو۔ پہلے ابو عبد اللہ امام مالک،دوسرے ابو عبد اللہ امام شافعیؒ اور تیسرے ابو عبد اللہ امام احمد بن حنبل ہیں۔

(توالی التاسیس جزء1ص196)

ازواج و اولاد

آپؒ کی اہلیہ صنعاء (یمن)کی ایک عثمانیہ عورت تھیں جن کا نام حمدہ بنت نافع بن عنبسہ بن عمرو بن عثمان تھا۔آپؒ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔آپؒ کے بڑے بیٹے ابو عثمان محمد شام کے شہر حلب کے قاضی رہے اور دوسرے بیٹے ابو الحسن جو آپؒ کی ایک جاریہ سے تھے بچپن میں ہی وفات پاگئے۔بیٹیوں کے نام زینب اور فاطمہ تھے۔

اساتذہ

امام شافعیؒ نے مختلف ممالک کے کثیر علماء و اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔یہاں صرف مشہور اہل فقہ،اہل فتاوی اور اہل علم اساتذہ کاذکر کردینا کافی ہے۔امام رازی لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام ضیاء الدین عمر بن الحسین الرازی کی کتاب میں دیکھا کہ آپؒ کے 19اساتذہ تھے۔ جن میں سے پانچ مکی۔چھ مدنی اور چار عراقی تھے۔

مکہ کے اساتذہ میں سے سفیان بن عینیہ،مسلم بن خالد زنجی،سعید بن سالم القداح،داؤد بن عبد الرحمٰن العطاراورعبد المجید بن عبد العزیز بن داؤدتھے اور مدینہ میں امام مالک بن انس،ابراہیم بن ابو یحی الاسلمی،محمد بن اسماعیل بن ابو فدیک اور عبداللہ بن نافع الصایغ۔صاحب ابن ابی ذؤیب آپؒ کے استاد رہے۔یمن سے آپؒ کے اساتذہ مطرف بن مازن،ہشام بن یوسف(قاضی صنعاء)،عمرو بن ابی سلمہ(صاحب الاوزاعی) اور یحی بن حسان تھے۔عراق سے آپؒ کے اساتذہ فوکیع بن جراح،ابو اسامہ،اسماعیل بن علیہ اور عبد الوہاب بن عبد المجید تھے۔

(مناقب الشافعی للرازی ص43-44)

ان تمام علماء سے آپؒ نے احادیث ، آثار صحابہ اورفقہ و فتاویٰ کو پڑھا اور جرح وتعدیل کے اصول وقواعد کو محفوظ کیا۔

آپؒ کے تلامذہ

امام شافعیؒ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔عراقی شاگردوں میں مشہور ابو عبد اللہ امام احمد بن حنبل،حسن بن محمد صباح الزعفرانی،حسین الکرابیسی اور مصری شاگردوں میں اسماعیل بن یحی المزنی،ربیع بن سلیمان المرادی،یوسف بن یحی بویطی،حرملہ بن یحی،یونس بن عبد الاعلیٰ،عبد اللہ بن زبیراور حجازی شاگردوں میں حمیدی ،ابن ابی جارود،ابراہیم بن محمد بن شافع وغیرہ شامل ہیں۔امام احمد بن حنبل کے استاد ہونے کی وجہ سے آپؒ کو استاذ الاساتذہ بھی کہا جاتا تھا۔

تصانیف

امام شافعیؒ ایک اعلیٰ پایہ کے مصنف بھی تھے۔آپؒ نے مختلف موضوعات پر متعدد کتب لکھیں جن کی تعداد قریباً 104بتائی جاتی ہے اور جہاں بھی آپؒ جاتے یا قیام فرماتے وہاں تالیف و تصنیف کا کام ضرور جاری رکھتے تھے۔معروف کتب یہ ہیں:کتاب الرسالہ قدیم، کتاب الرسالہ جدید، کتاب الام، کتاب السنن، کتاب المبسوط، کتاب بیان فرض اللّٰہ، احکام القرآن، جماع العلم، بیاض الغرض، صفۃ الامر والنھی، ابطال الاستحسان، اختلاف الحدیث، اختلاف العراقیین، اختلاف مالک و الشافعی، کتاب الرد علی محمد بن الحسن، کتاب علیّ و عبد اللّٰہ، فضائل قریش وغیرہ۔آپؒ نے اپنی اکثر تحریرات اپنی عمر میں ہی املا کروا دی تھیں۔

صاحب علم و کمال

امام شافعیؒ علم و فنون کے بحر بیکراں تھے۔شاید ہی کوئی علم ایسا ہو جس کے متعلق آپؒ کو کچھ نہ کچھ علم نہ ہو۔آپؒ علم قرآن،علم تفسیر،علم تاویل،علم حدیث،علم آثار صحابہ علم تاریخ، علم نجوم، علم طب،علم الشعر،علم نحو، علم ادب،علم انساب،علم قیافہ،علم مناظر ہ وغیرہ کے ماہر تھے۔غرضیکہ آپؒ ایک جامع العلوم والفنون تھے۔

جیسا کہ قبل ازیں مختصراً ذکر ہوچکا ہے کہ جب محمد بن حسن نے ہارون الرشید کو آپؒ کے متعلق یہ کہا کہ یہ شخص اپنے آپ کو خلافت کا اہل سمجھتا ہے؟ تو ہارون الرشید غضب ناک ہوااور سزا دینے کا ارادہ کیا لیکن اس نے امام شافعیؒ کی بات سنے بغیر جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہ سمجھا اور امام شافعیؒ سے سوالات کیے۔پہلا سوال اس نے قرآن کریم کے علم کے بارہ میں پوچھاتو امام شافعیؒ نے جواب دیا کہ اللہ نے اسے میرے سینے میں جمع کر دیا ہے۔ہارون الرشید نے پوچھا کہ اس کا علم آپؒ کو کس حد ہے؟ امام شافعیؒ نے جواب دیا کہ اے امیر المومنین!آپ قرآن کے کس علم کے بارہ میں جاننا چاہتے ہیں؟محکمات کے بارہ میں یا متشابہات کے بارہ میں،تقدیم و تاخیر کے بارہ میں یا ناسخ و منسوخ کے بارہ میں،علم تاویل و تنزیل کے بارہ میں یامکی و مدنی ہونے کے بارہ میں،اس کے لیل ونہار کے بارہ میں یااس کے سفروحضر کے بارہ میں،اس میں موجود انسانی علم کے بارہ میں یا جانوروں کے علم کے بارہ میں،اس کی ترتیب کے بارہ میں یا اس کی خوبیوں کے بارہ میں یا پھر اس کی سورتوں کی وجہ تسمیہ جاننا چاہتے ہیں؟یہ بات ہارون الرشید کو بہت پسند آئی۔اس نے کہا کہ آپؒ نے قرآن کریم کے متعلق ایک بہت بڑادعویٰ کیا ہے۔پھر اس نے فرائض کے بارہ میں سوال کیا جس کا آپؒ نے مسکت جواب دیا۔پھرہارون الرشید نے کہا کہ احکام کے بارہ میں اپنا علم بتائیں؟ امام شافعیؒ نے پوچھا کہ عبادات کے احکام یامعاملات کے، غلاموں کے بارہ میں احکام یا طلاق کے،قضاء کے یا کھانے پینے کے احکام،جہاد کے یا تجارت کے احکام کے بارہ میں بتاؤں؟پھر ہارون الرشید نے یہ کہا کہ طب کے بارہ میں آپؒ کی کیا معلومات ہیں؟ امام شافعیؒ نے فرمایا کہ

وم،بابل،بقراط،ساھمور،ارسطو،جالینوس نے جو بیان کیا اس کومیں جانتا ہوں۔پھر ہارون الرشید نے کہا کہ علم نجوم کے بارہ میں کیا جانتے ہیں؟ شافعی نے کہا کہ میں ستاروں کے مدار،چاند و سورج کی منازل،تعیین زمانہ اور تعیین مذکر و مؤنث اور خشکی و سمندر میں راستہ کی تعیین کا علم جانتا ہوں۔اسی طرح علم شعر اور علم انساب کے بارہ میں سوال کیا جس کا جواب دیتے ہوئے امام شافعیؒ نے کہا کہ جاھلی،مخضرمی اور جدید شاعری خوب جانتا ہوں اور معززین کے نسب کا بھی مجھے خوب علم ہے اور امیر المومنین کا اور میرا نسب ان معززین کے نسب میں شامل ہے۔جس پر ہارون الرشید نے آپؒ کے علوم کی تعریف کی اورمحمد بن حسن کے ساتھ مناظرہ کے بعد آپؒ سے بہت خوش ہوا اور انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔

(مناقب الشافعی للآبری جزء 1ص70+توالی التاسیس لابن حجر جزء1ص16+مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص115)

محدث و فقیہ

آپؒ ایک باکمال محدث اور فقیہ تھے۔جنہوں نے علم حدیث کے متعلق بھی بہت کام کیا۔آپؒ سے مروی احادیث کو مسند امام شافعیؒ میں جمع کیا گیا۔آپؒ نے حدیث کے اصول وضع کیے ۔حدیث قبول کرنے کے لیے شرائط مقرر کیں۔تطبیق کے اصول و قواعد مقرر کیے۔جرح و تعدیل کے ماہر تھے۔آپؒ نے اس بات کو واضح کیا کہ حدیث قرآن کی ناسخ نہیں ہوسکتی۔اس زمانہ میں محدثین سوئے ہوئے تھے امام شافعیؒ نے آکر ان کو جگایا۔امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اہل حدیث رسول اللہ ؐ کے مفہوم کو سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ امام شافعیؒ ہمارے پاس آئے اور انہوں نے اس معانی و مفہوم کوہم پر کھول کر بیان کردیا۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص301)

امام شافعیؒ نے فقہ شافعی کی بنیاد رکھی۔آپؒ نے اپنی خداداد علمی و فکری صلاحیتوں اور مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر قرآن و حدیث سے مسائل فقہ بیان کیے۔اصول فقہ اور فرو ع فقہ بیان کیں۔آپؒ کے فقہ کی بنیاد سب سے پہلے قرآن کریم پھر سنت و حدیث اورپھر اجماع صحابہ پرتھی۔آپؒ صحیح حدیث کی موجودگی میں قیاس کوجائز نہیں سمجھتے تھے۔ابن عینیہ کے پاس جب کوئی تفسیر یا فتویٰ پوچھنے آتا تو آپ امام شافعیؒ کی طرف توجہ فرماتے اور کہتے کہ اس نوجوان سے پوچھیں۔ آپؒ وہ واحد فقہی امام ہیں جنہوں نے اپنی فقہ کے اصول خوداپنی زندگی میں مرتب کیے۔آپؒ کے مقلدین شوافع کہلاتے ہیں ۔

اعلیٰ پایہ کےمناظر

امام شافعیؒ ایک اعلیٰ درجہ کے مناظربھی تھے۔آپؒ نے بڑے بڑے علماء سے مناظرہ کیا۔ابو سعید الفریابی سے پوچھا گیا کہ کیا امام شافعیؒ مناظرہ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں وہ مناظرہ کیا کرتے تھے یہاںتک کہ ان کی آواز مسجد سے باہر تک جاتی تھی اور وہ بہت منصف مزاج تھے۔

(مناقب الشافعی للابری جزء1ص85)

آپؒ فرماتے تھے کہ میں مناظرہ اس لیے نہیں کرتا کہ میں اپنی بڑائی بیان کروں بلکہ میں تو اس لیے کرتا ہوں کہ اعلائے کلمۃ اللہ والاسلام ہو۔ایک اَور جگہ فرمایا کہ میں نے کبھی مناظرہ اپنے غلبہ کے لیے نہیں کیابلکہ میرا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کتاب(قرآن کریم)کو سمجھیں اور نصیحت حاصل کریں۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص175)

فصاحت و بلاغت کا شاہکار

امام شافعیؒ فصیح اللسان تھے اورفصاحت و بلاغت میں آپؒ کا کوئی ثانی نہ تھا۔قبیلہ ہذیل میں رہ کر فصاحت لسانی کو صیقل کیا اور ان کے دیوان بھی حفظ کر لیے۔ آپؒ نے دس ہزار اشعار غرائب سمیت یاد کیے۔امام مالک کو آپؒ کی قراء ت آپؒ کے فصیح ہونے کی وجہ سے بہت پسند آئی۔آپؒ نے بہت سے اشعار کہے اور قصیدے بھی لکھے۔امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ لغت میں امام شافعیؒ کا کلام حجت ہے۔آپؒ قبیلہ ہذیل کے دیوان زبانی لکھوایا کرتے تھے۔مشہور شاعر اصمعی کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ ہذیل کے شعراء کے شعر امام شافعیؒ سے درست کروائے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء2ص42-44)

آپؒ محاورات اور امثال کاکثرت سے استعمال کرتے تھے۔امام شافعیؒ نے عربی زبان میں ایسا ادراک پایا کہ مبردنے آپؒ کے قول کو حجت قرار دیا۔ جاحظ نے آپؒ کی تحریر کو عمدہ قرار دیا گویا کہ آپؒ کی زبان موتی پروتی ہے۔ابو العباس ثعلب نے آپؒ کو لغت کا گھر قرار دیا۔ابومنصور ازہر، ابو سلیمان اور علامہ زمخشری وامام رازی نے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

عقل و فراست

آپؒ عظیم عقل و فراست کے مالک تھے۔ذہانت و فطانت کی اپنی مثال آپ تھے۔نہایت سریع الفہم تھے۔یونس بن عبد الاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے اما م شافعی سے بڑھ کر کوئی عقلمند نہیں دیکھا۔نیز ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ اگرنصف اہل دنیا کی عقل اور امام شافعیؒ کی عقل کا وزن کیا جائے تو امام شافعیؒ کی عقل کا پلڑا ہی بھاری ہوگا۔

(توالی التاسیس جزء1ص134)

حمیدی بیان کرتے ہیں کہ میں اور امام شافعیؒ مکہ سے نکلے اور ابطح میں ایک شخص سے ہم ملے۔میں نے امام شافعیؒ سے پوچھا کہ اس شخص کا ذریعہ معاش کیا ہے؟آپؒ نے فرمایا:بڑھئی یا درزی۔میں(حمیدی)نے اس شخص سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پہلے میں بڑھئی تھا آجکل درزی کا کام کر رہا ہوں۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء2ص130)

ترغیب تحصیل علم

امام شافعیؒ ایک عظیم عالم تھے اور آپؒ تحصیل علم کے ساتھ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔آپؒ فرماتے ہیں کہ علم حاصل کرنا نفلی نماز سے زیادہ افضل ہے۔نیز فرمایا کہ جو دنیا حاصل کرنا چاہتا ہے وہ علم حاصل کرے اور جو آخرت(میں بھلائی)کا طلبگار ہے وہ بھی علم ہی حاصل کرے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء2ص138-139)

آپؒ فرماتے تھے کہ عربی سیکھو کیونکہ یہ عقل کو ثابت رکھتی ہے اور مروت میں بڑھاتی ہے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص282)

تقویٰ و عبادت گزاری

امام شافعیؒ ایک متقی،پرہیز گار اور عبادت گزارانسان تھے۔آپؒ نے اپنی رات کے تین حصے تقسیم کیے ہوئے تھے ایک حصہ میں کتابت کا کام،دوسرے حصے میں عبادت اور تیسرے میں استراحت فرمایا کرتے تھے۔قرآن کریم کی تلاوت کا بہت شغف رکھتے تھے۔رمضان میں قرآن کریم کے متعدد دور کیا کرتے تھے۔آپؒ بہت عمدہ قراء ت کے مالک تھے۔بحر بن نصر کہتے ہیں کہ میں نے شافعی کے زمانہ میں شافعی سے بڑھ کر کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والا اور پرہیزگار نہیں دیکھا اور نہ ہی قرآن کو خوبصورت آواز میں پڑھنے والاسنا۔(مناقب الشافعی للبیھقی جزء2ص158) آپؒ کو جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔

اتباع سنت نبویؐ

امام شافعیؒ ایک عالم باعمل تھے۔آپؒ سنت و حدیث کی حمایت کیا کرتے تھے اور اس پر عمل کرنا اپنا نصب العین سمجھتے تھے۔اسی لیے آپؒ کو مکہ میں ‘‘ناصر الحدیث’’کا لقب ملا۔امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ ‘‘اگر تم میری کتاب میں سنت رسولؐ کے خلاف کوئی بات دیکھو تو اسے ترک کر دو اور سنت رسول پر عمل کرو۔’’

(توالی التاسیس ص63)

نیز فرمایا:جب تم دیکھو کہ رسول اللہؐ کی صحیح حدیث مجھ تک پہنچی ہو اور میں نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو جان لینا کہ میری عقل ختم ہوچکی ہے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص472)

ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ امام شافعیؒ نے کہا کہ مجھے کھڑے ہونے کی حالت میں پانی پلاؤ کیونکہ رسول اللہؐ نے بھی کھڑے ہونے کی حالت میں پانی پیا تھا۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1ص480)

سخاوت

امام شافعیؒ کی ابتدائی زندگی غربت و افلاس سے گزری لیکن بعد میں ایک عالم ہونے کی وجہ سے یہ غربت جاتی رہی۔جب اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو اپنی نعمتوں سے فیضیاب کیا تو آپؒ نے ان نعمتوں میں غربا و مساکین کا حق بھی ادا کیا۔ایک مرتبہ جب آپؒ صنعاء سے مکہ آئے تو آپؒ کے پاس دس ہزار دینار تھے جو آپؒ نے مکہ سے باہر ہی محتاجوں اور مسکینوں میں تقسیم فرما دئیے۔(حلیۃ الاولیاء جزء9ص130مناقب الشافعی للبیھقی جزء2ص220)اسی طرح آپؒ اپنی ساری زندگی سخاوت کی صفت سے متصف رہے۔


مراجع و مصادر
1۔مسند ابو داؤد طیالسی جزء1ص244

2۔توالی التاسیس بمعالی ابن ادریس از شہاب الدین احمد بن علی بن حجر الکنانی العسقلانی(متوفی:852ھ) مطبع دار ابن حزم سن اشاعت2008ء

3۔مناقب الشافعی للبیھقی از ابو بکر احمد بن الحسین البیھقی (متوفی:458ھ)مکتبہ دار التراث،قاہرہ سن اشاعت 1970ء

4۔مناقب الامام الشافعی از علامہ فخر الدین الرازی (متوفی606ھ) مکتبہ الکلیات الازھریۃ

5۔مناقب الامام الشافعی از محمد بن حسین ابو الحسن الآبری السجستانی(متوفی:363ھ)ناشر: الدار الاثریۃ سن اشاعت 2009ء

6۔حلیہ الاولیاء ازز ابو نعیم اصفہانی (متوفی:430ھ) دارالکتاب عربی بیروت لبنان سن اشاعت :1974ء

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 5

  1. نہایت مبسوط اور مفصل مضمون ہے لیکن خاکسار سمجھتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ جو طریق رائج ہے کہ پرانے علماء کی صرف تعریف و توصیف ہی ضروری سمجھی جاتی ہے یہ طریق بدلنا چاہیے اور جہاں پرانے علماء افراط و تفریط کا شکار ہوۓ یا قرآنی تعلیم کے خلاف گیے اور اپنے زمانے اور حالات کی وجہ سے غلطی میں پڑ گیے تھے ، ان باتوں کی تصحیح ہونی چاہیے ۔
    خاکسار
    ڈاکٹر محمد علی

    1. مکرم و محتر ڈاکٹر محمد علی صاحب
      آنمکرم کی گراں قدر رائے پر ممنون ہوں۔
      یہ ائمہ کرام بزرگ اورقابل احترام تھے اور اسلام کے لیے چاردیواری رہے ہیں۔ان کی اسلام کےلیے بے انتہاء خدمات ہیں۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ، وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِئِهِمْ. کہ اپنے فوت شدگان کی خوبیوں کا ذکر کیا کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے رک جاؤ۔(ترمذی) اسی طرح فرمایا: اذکروا موتاکم بالخیر۔اس لیے ان بزرگان کی سیرت کے مثبت پہلو پیش کیے جاتے ہیں۔
      تاہم تاریخ میں ائمہ کرام کے باہمی اختلافات کا بھی ذکر ملتا ہے جوان کے اپنے اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق خلوص نیت سے اجتہاد کی وجہ سے پیدا ہوئے۔یہ ایک الگ عنوان اور الگ تحقیق طلب مضمون ہے۔اس پر بھی انشاء اللہ لکھا جائے گا۔آنمکرم کی تجویز نوٹ کر لی گئی ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء
      والسلام

  2. پہلی بات تو یہ مضمون بہت عمدہ ہے۔ اور بہت مختصر ہونے کے باوجود لگتا ہے تفصیل سے سیرت و سوانح کا احاطہ کیا ہے۔ ماشاءاللہ۔
    ذیل کے جملے میں ’رسائل‘ کی سمجھ نہیں آئی کہ اس سے کیا مراد ہے؟
    ’’امام مالک نے خط پڑھ کرپھینک دیا اور کہاکہ سبحان اللہ!اب کیا رسول اللہؐ کا علم اس قابل رہ گیا ہے کہ رسائل کےذریعہ حاصل کیا جائے۔‘‘
    دوسرا میں اس خیال سے بھی دلچسپی سے مضمون پڑھ رہا تھا کہ شائد کہیں امام شافعی اور دیگر ائمہ کے درمیان جو بنیادی فقہی اختلاف ہیں ان کا کچھ علم ہوگا لیکن اس بارے میں کچھ بیان نہیں کیا۔ ویسے بھی شائد یہ الگ تفصیلی مضمون ہو۔ اس پر بھی لکھیں تو یہ بہت دلچسپ مضمون ہوگا کہ چاروں ائمہ کے درمیان بنیادی اختلافات کیا ہیں۔
    باقی مضمون بہت عمدہ اور دلچسپ ہے۔

    1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ

      آنمکرم کی قیمتی رائے پر خاکسار شکرگزار ہے۔
      نیزعربی میں خط کو ’’رسالة‘‘ کہتے ہیں۔رسالة کی جمع ’’رسائل‘‘ ہے یعنی خطوط۔مفتی مکہ مسلم بن خالد نے امام مالک کے نام امام شافعی کے لیے ایک سفارشی خط لکھ کر دیا تھا۔جسے دیکھ کر امام مالک نے مذکورہ بالا فقرہ فرمایا۔
      دوسرے یہ کہ ائمہ کے باہمی فقہی اختلافات کے بارہ میں ایک الگ مفصل مضمون درکار ہے جیسا کہ آنمکرم نے بھی ذکر کیا ہے۔آپ کی تجویز نوٹ کر لی گئی ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء
      والسلام

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button