حضرت مصلح موعود ؓ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور امنِ عالَم (قسط نمبر3۔آخری)

(تقریر سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرمودہ ۱۱؍ دسمبر ۱۹۳۸ء برموقع جلسہ سیرۃ النبیؐ بمقام قادیان)

پھر یہ کہ اِس مدرسہ کی تعلیم کیا ہو گی؟ اس کے لئے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر اعلان فرما دیا کہ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ (المائدہ:17،16)یعنیاے لوگو! تم تاریکی میں پڑے ہوئے تھے تم کو یہ پتہ نہیں تھا کہ تم اپنے خدا کی مرضی کو کس طرح پورا کر سکتے ہو اس لئے دنیا میں ہم نے تمہارے لئے ایک مدرسہ بنا دیاہے مگر خالی مدرسہ کام نہیں دیتا جب تک کتابیں نہ ہوں۔ پس فرمایا قَدْجَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌخدا کی طرف سے تمہاری طرف ایک نور آیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور اس کے ساتھ ایک کتاب مبین ہے، ایسی کتاب جو ہر قسم کے مسائل کو بیان کرنے والی ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے امن کا مدرسہ بھی قائم کر دیا، امن کا کورس بھی مقرر کر دیا اور مدرّسِ امن بھی بھیج دیا۔ مدرّسِ امن محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور امن کا کورس وہ کتاب ہے جویَہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ کی مصداق ہے۔ جو شخص خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اِس کتاب کو پڑھے اِس میں جس قدر سبق ہیں وہ سُبُلَ السَّلٰمِ یعنی سلامتی کے راستے ہیں اور کوئی ایک حکم بھی ایسا نہیں جس پر عمل کر کے انسانی امن برباد ہو سکے۔

ایک بالا ہستی کا وجود ہمارے ارادوں کو درست کرتا ہے، مدرسہ کا قیام ہماری عملی مشکلات کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات اس کتاب کی عملی تفسیر ہے، جیساکہ آپ فرماتے ہیں کہ میرے ذریعہ خدا تعالیٰ نے وہ کتاب بھیج دی ہے جس میں وہ تمام تفصیلات موجود ہیں جن سے امن حاصل ہو سکتا ہے۔

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ یہ امن جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے کس کے لئے ہے؟ اللہ تعالیٰ اِس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ (النمل:60)یعنی اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! تُوکہہ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سب تعریف اُس اللہ کے لئے ہے جس نے دنیا میں امن قائم کر دیا اور انسان کی تڑپ اور فکر کو دُور کر دیا اور کہو وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ وہ بندے جو خدا تعالیٰ کے پسندیدہ ہو جائیں اور اپنے آپ کو اس کی راہ میں فدا کر دیں اُن کے لئے بھی امن پیدا ہو جائے گا اور وہ بھی با امن زندگی بسر کرنے لگ جائیں گے۔ یہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جو آپ کی اِتّباع کرنے والے اور آپ کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہیں ان کے لئے کامل امن ہے اور وہ اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی بدامنی نہیں دیکھ سکتے۔

پھر سوال پیداہوتا تھا کہ جب خدا سلام ہے تو اس کی طرف سے امن ساروں کے لئے آنا چاہئے نہ کہ بعض کے لئے کیونکہ اگر خالی اپنوں کے لئے امن ہو تو یہ کوئی کامل امن نہیں کہلا سکتا۔ اس کا بھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جواب دیتا ہے فرمایا وَقِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ۔ فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ (الزخرف:90،89)محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک ایسی تعلیم لے کر آئے ہیں جو ساروں کے لئے ہی امن کا موجب ہے اور ہر شخص کے لئے وہ رحمت کا خزانہ اپنے اندر پوشیدہ رکھتی ہے مگر افسوس کہ لوگ اس کو نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس تعلیم کے خلاف لڑائیاں اور فساد کرتے ہیں جو اِن کے لئے نوید اور خوشخبری ہے۔ یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی یہ کہنا پڑا کہ خدایا !میں اپنی قوم کی طرف امن کا پیغام لے کر آیا تھا مگر اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَیہ قوم جس کے لئے مَیں امن کا پیغام لایا تھا یہ تو مجھے بھی امن نہیں دے رہی۔ امَنَکے معنی ایمان لانے کے بھی ہوتے ہیں اور امَنَکے معنی امن دینے کے بھی ہوتے ہیں۔قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ میں اسی امر کاذکر ہے کہ ہمارا نبی ہم سے پکار پکار کر کہتا ہے کہ خدایا! باوجود یکہ میں اپنی قوم کے لئے امن کا پیغام لایا تھا وہ اِس کی قدر کرنے کی بجائے میری مخالفت پر کمربستہ ہوگئی ہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے میرے امن کو بالکل برباد کر دیا ہے۔ مگر فرمایا فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ ہم نے اپنے نبی سے یہ کہا ہے کہ ابھی ان لوگوں کو تیری تعلیم کی عظمت معلوم نہیں اِس لئے وہ غصہ میں آ جاتے اور تیری مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں تو اِن سے درگزر کر کیونکہ ہم نے تجھے امن کے قیام کے لئے ہی بھیجا ہے وَقُلۡ سَلٰمٌ اور جب تجھ پر یہ حملہ کریں اور تجھے ماریں تویہی کہتا رہ کہ مَیں تو تمہارے لئے سلامتی لایا ہوں فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ عنقریب دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) دنیا کے لئے امن لایا تھا لڑائی نہیں لائے تھے۔ گویا وہ امن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لائے وہ صرف مومنوں کے لئے ہی امن نہ رہا بلکہ سب کے لئے امن ہو گیا۔

پھر صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہی نہیں بلکہ عام مو منوں کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا (الفرقان:64)وہ جاہل جو اسلام کی غرض و غایت کو نہیں سمجھتے جب مسلمانوں سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں تو مومن کہتے ہیں کہ ہم تو تمہاری سلامتی چاہتے ہیں چاہے تم ہمارا بُرا ہی کیوں نہ چاہو۔ جب دشمن کہتا ہے کہ تم کیسے گندے عقائد دنیا میں رائج کر رہے ہو تو وہ کہتے ہیں یہ گندے عقائد اور بیہودہ باتیں نہیں بلکہ سلامتی کی باتیں ہیں۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی لائی ہوئی سلامتی صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے ہی نہیں بلکہ مومنوں کے لیے بھی ہے اور صرف مومنوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ سلامتی عارضی ہے یا مستقل؟کیونکہ یہ تو ہم نے مانا کہ ایک السَّلٰمُ خدا سے امن لاکر محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا کو دیا مگر بعض امن عارضی بھی ہوتے ہیں جن کے نیچے بڑی بڑی خرابیاں پوشیدہ ہوتی ہیں جیسے بخار کا مریض جب ٹھنڈا پانی پیتا ہے تو اُسے بڑا آرام محسوس ہوتا ہے مگر دو منٹ کے بعد یکدم اُس کا بخار تیز ہو جاتا ہے اور کہتا ہے آگ لگ گئی ہے۔ پھر برف پیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آرام آگیا مگر یکدم پھر اُسے بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔ پس سوال ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو امن دے رہے ہیں یہ عارضی ہے یا مستقل؟ اِس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ وَاللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ (یونس:26)کہ دنیا فسادوں کی طرف لے جاتی ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو تعلیم دی گئی ہے وہ موجودہ زمانہ کے لئے ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسا امن ہے جو مرنے کے بعد بھی چلتا چلا جاتا ہے اور جو اِس دنیا کے بعد ایک ایسے گھر میں انسان کو پناہ دیتا ہے جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے گویا یہ زنجیر ایک مکمل زنجیر ہے۔ اس کے ماضی میںایک سلام ہستی کھڑی ہے ،اس کے حال میںامن ہے کیونکہ ایک مدرسہ امن جاری ہو گیا ہے ایک مدرِّس امن خدا تعالیٰ نے بھیج کر امن کا کورس بھی مقرر کر دیااورعملی طور پر ایک ایسی جماعت تیار کر دی جو اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا کی مصداق ہے۔ پس اس کے ماضی میں بھی امن ہے اور اس کے حاضر میں بھی امن ہے،پھر اس کے مستقبل میں بھی امن ہے کیونکہ وَاللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِالسَّلٰمِؕ مرنے کے بعد وہ انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جائے گا جہاں سلامتی ہی سلامتی ہوگی پس یہ ساری زنجیر مکمل ہو گئی اور کوئی پہلوتشنۂ تکمیل نہیں رہا۔

اس کے بعد امنِ حقیقی کے قیام کے ذرائع کا سوال آتا ہے۔ سو اِس کے متعلق بھی قرآن کریم روشنی ڈالتا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان سے فرماتا ہے وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا ؕ فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (الانعام :82)کہ میرے دل کا امن کس طرح برباد ہو جائے ان بتوں کو دیکھ کر جن کو تم خدائے واحد کا شریک قرار دے رہے ہو وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا ؕ حالانکہ تم اپنے دلوں میں جھوٹے طور پر مطمئن ہو اور خطرہ تمہارے اِردگرد ہے۔ پس اگر تم عدمِ علم اور جہالت کے باوجود مطمئن ہو اور تمہارا عدمِ علم تم کو امن دے سکتا ہے تو تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ میرا کامل عِلم مجھے امن نہیں بخش سکتا۔ فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ تم بتائو کہ ان دونوں میں سے کس کو امن حاصل ہوگا۔ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ اگر تم حماقت کی باتیں نہ کرو اور عقل و خرد سے کام لو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ کون مأمون ہے اور کون غیرمأمون۔

اس جگہ امن کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے دو عظیم الشان گُر بیان کئے ہیں۔ اوّل یہ کہ توحیدِ کامل کے قیام کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک توحید قائم نہ ہوگی اُس وقت تک لڑائیاں جاری رہیں گی۔ شرک کا صرف اتنا ہی مفہوم نہیں ہوگا کہ کوئی ایک کی بجائے تین خدائوں کا قائل ہو بلکہ جب باریک در باریک رنگ میں شرک شروع ہوتا ہے تو کئی کئی قسم کا شرک نظر آنے لگ جاتا ہے اس کے علاوہ جب مختلف مذاہب کی تعلیمیں مختلف ہیں ،ان کے خیالات مختلف ہیں تو اس حالت میں امن اُس وقت تک قائم ہی نہیں ہو سکتا جب تک لوگوں کے اندر حقیقی مواخات پیدا نہ ہو اور حقیقی مواخات ایک خدا کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں اس بات پر تو لڑائیاں ہو جاتی ہیں کہ ایک کہتا ہے میرا دادا فلاں عظمت کا مالک تھا اور دوسرا کہتا ہے کہ میرا دادا ایسا تھا مگر کبھی تم نے بھائیوں کو اس بات پر لڑتے نہیں دیکھا ہوگا کہ ایک دوسرے کو کہے میں شریف النسب ہوں اور تم نہیں۔ اسی طرح جب دنیا میں توحیدِ کامل ہوگی تبھی اِس قسم کی لڑائیاں بند ہوں گی۔ پس اخوت و مساوات کا جو سبق توحید سے حاصل ہوتا ہے اَور کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کے متعلق دشمن بھی یہ اقرار کرتا ہے کہ اخوت کا جو سبق آپ نے دیا وہ کسی اور نے نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کا سبق الگ کر کے نہیں دیا بلکہ آپ نے اصل میں توحید کا سبق دیا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہؤاکہ مسلمانوں میں اخوت پیدا ہو گئی۔ مثلاً جب میں نماز میں کہوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(فاتحہ:2)سب تعریف اُس اللہ کی ہے جو عیسائیوں کا بھی ربّ ہے، ہندوئوں کا بھی ربّ ہے اور یہودیوں کا بھی ربّ ہے تو میرے دل میں ان قوموں کی نفرت کس طرح ہو سکتی ہے کیونکہ میں ربّ العٰلمینکے لفظ کے نیچے تمام قوموں، تمام نسلوں اور تمام مذہبوں کو لے آتا ہوں۔ میں جب نماز میںاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہتا ہوں تو دوسرے الفاظ میں مَیں یہ کہتا ہوں کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْمَذَاہِبِ کُلِّھَا یعنی میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام مذاہب کا ربّ ہے۔ اسی طرح جب میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہتا ہوں تو اِس کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْاَقْوَامِ کُلِّھَا یعنی مَیں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام اقوام کا ربّ ہے۔ اسی طرح جب میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہتا ہوں تو اِس کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْبِلَادِ کُلِّھَا۔ یعنی میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام مُلکوں کا ربّ ہے اور جب کہ میں تمام اقوام، تمام مُلکوں اور تمام لوگوں میں حُسن تسلیم کر وں گا تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مَیں ان سے عداوت رکھ سکوں۔ پس اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَمیںبتا دیا گیا ہے کہ اگر حقیقی توحید قائم ہو اور ربّ العٰلمین کی حمد سے انسان کی زبان تر ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی قوم کا کینہ انسان کے دل میں رہے اور ایک طرف تو وہ ان کی بربادی کی خواہش رکھے اور دوسری طرف ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف بھی کرے۔

دوسرا نکتہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ نازل فرمایا ہے کہ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا ؕ یعنی دنیا میں امن تبھی برباد ہوتا ہے جب انسان فطرتی مذہب کو چھوڑ کر رسم و رواج کے پیچھے چل پڑتا ہے اگر انسان طبعی اور فطرتی باتوں پر قائم رہے تو کبھی لڑائیاں اور جھگڑے نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسلام دینِ فطرت ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ جو دینِ فطرت ہوگا وہی دنیا میں امن قائم کر سکے گا اور وہی مذہب امن پھیلا سکے گا جس کا ایک ایک ٹکڑہ انسان کے دماغ میں ہو۔ آخر یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اُس تعلیم کی طرف بلائے جس کا جواب ہماری فطرت میں نہیں اور جس کی قبولیت کا مادہ پہلے سے خدا نے ہمارے دماغ اور ہمارے ذہن میں نہیں رکھا۔ پس فرمایا مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا ؕ تم کہہ دو کہ تم ان تعلیموں کے پیچھے چل رہے ہو جو فطرت کے خلاف ہیں اور مَیں تم کو ان باتوں کی طرف بلاتا ہوں جو تمہاری فطرت میں داخل ہیں اب جوں جوں انسان اپنی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کرے گا اُس کا دل پکار اُٹھے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو کتاب ہے وہ بالکل سچی ہے کیونکہ اِس کا دوسرا نسخہ میرے ذہن میں بھی ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ دنیا ایک مرکز پر آ جائے گی اور ایک ہی خیال پر متحد ہو جائے گی جس کے نتیجہ میں امن قائم ہو جائے گا۔

اب ایک اَور سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ بےشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدرّسِ امن ہیں، بے شک آپ نے امن کا مدرسہ دنیا میں جاری کر دیا، بے شک امن کا کورس خدا نے مقرر کر دیا،بے شک اسلام نے تعلیم وہ دی ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جسے دیکھ کر انسانی فطرت پُکار اُٹھتی ہے کہ واقعہ میں یہ صحیح تعلیم ہے مگر کیا لڑائی بالکل ہی بُری چیز ہے؟ قرآن کریم اِس کا بھی جواب دیتا اور فرماتا ہے کہ امن کے قیام کے لئے بعض دفعہ جنگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ فرمایا وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ (البقرۃ:252)کہ بے شک امن ایک قیمتی چیز ہے، بے شک اِس کی تعلیم خدا نے انسانی دماغ میں رکھی ہے مگر کبھی انسان کا دماغ فطرت سے اتنا بعید ہو جاتا ہے اور انسانی عقیدے مرکز سے اتنے پرے ہٹ جاتے ہیں کہ وہ امن سے بالکل دور جا پڑتے ہیں اور نہ صرف امن سے دور جا پڑتے ہیں بلکہ حُریّتِ ضمیر کوبھی باطل کرنا چاہتے ہیں۔ فرماتا ہے ایسی حالت میں امن کے قیام اور اس کو وسعت دینے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ جو شرارتی ہیں ان کا مقابلہ کیا جائے۔ پس وہ جنگ امن مٹانے کیلئے نہیں بلکہ امن قائم کرنے کے لئے ہوگی۔ جیسے اگر انسان کے جسم کا کوئی عضو سَڑ،گل جائے تو فیس خرچ کر کے بھی انسان ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ اس عضو کو کاٹ دو۔ اسی طرح کبھی ایسے گروہ دنیا میں پیدا ہو جاتے ہیں جو سرطان اور کینسر کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور ضروری ہوتا ہے کہ ان کا آپریشن کیا جائے تا وہ باقی حصۂ قوم کو بھی گندہ اور ناپاک نہ کر دیں۔ پس فرمایالَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ اگر بعض کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بعض کی شرارتوں کو دُور نہ کرتا تو لَّفَسَدَتِبجائے امن قائم ہونے کے فساد بڑھ جاتا۔ جس طرح سپاہیوں کو بعض دفعہ لاٹھی چارج کا حُکم دیا جاتا ہے اسی طرح بعض دفعہ ہم بھی اپنے بندوںکو اجازت دیتے اور انہیں کہتے ہیں جائو اور لاٹھی چارج کرو اِس لئے کہلَّفَسَدَتِ اگر لاٹھی چارج نہ کیا جاتا تو ساری دنیا کا امن برباد ہو جاتا۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ (البقرۃ:252)یعنی اللہ صرف ایک قوم کو ہی امن نہیں دینا چاہتا بلکہ وہ ساری دنیا کو باامن دیکھنے کا خواہشمند ہے اور چونکہ ان لوگوں سے دنیا کا امن برباد ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کا مقابلہ کیا جائے تا ساری دنیا میں امن قائم ہو۔ بے شک اس کے نتیجہ میں خود ان لوگوں کا امن مٹ جائے گا مگر دنیا میں ہمیشہ موازنہ کیا جاتا ہے جب ایک بڑا فائدہ چھوٹے فائدے سے ٹکرا جائے تو اُس وقت بڑے فائدہ کو لے لیا جاتا ہے اور چھوٹے فائدہ کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کثیر دنیا کے امن کی خاطر ایک قلیل گروہ سے جنگ کی جاتی ہے اور اُس وقت تک اُسے نہیں چھوڑا جاتا جب تک وہ خلافِ امن حرکات سے باز نہ آ جائے۔

یہ ایک مختصر سا ڈھانچہ اُس تعلیم کا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامِ امن کے سلسلہ میں دی۔ میں نے بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح دنیا میں امن قائم کیا اور کس طرح بدامنی کے اسباب کا آپ نے قلع قمع کیا۔ پس آپ کا وجود دنیا کا سب سے بڑا مُحسن ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے ماتحت کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (الاحزاب:57)آپ پر درود بھیجیں اور کہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

(ریویو آف ریلیجنز قادیان۔ جون ۱۹۳۹ء صفحہ۳ تا ۱۹)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button