نظم
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی
ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی
باقی وہی ہمیشہ، غیر اُس کے سب ہیں فانی
غیروں سے دِل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی
سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی
دل میں میرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
اَے قادر و توانا آفات سے بچانا
ہم تیرے دَر پہ آئے ہم نے ہے تجھ کو مانا
غیروں سے دِل غنی ہے جب سے ہے تجھ کو جانا
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
(محمودکی آمین)
