کلامِ امام علیہ الصلوٰۃ والسلام
دہریے کا اثر پڑنا بند ہوگیا
[حضرت مصلح موعودؓ ]بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سکھ طالبعلم نے جو گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اخلاص کا تعلق رکھتا تھا حضرت صاحب کو کہلا بھیجا یا دوسری روایت میں ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ سے کہلا کے بھیجا (ماخوذ از اپنے اندر یکجہتی پیدا کرو … انوار العلوم جلد24 صفحہ422) کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُسے کہلا بھیجا کہ جہاں تم کالج میں جس سیٹ پر بیٹھتے ہو اُس جگہ کو بدل لو۔ چنانچہ اُس نے جگہ بدل لی اور پھر بتایا کہ اب خدا تعالیٰ کے بارے میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا۔ جب یہ بات حضرت صاحب ؑکو سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس پر ایک شخص کا اثر پڑ رہا تھا جو اس کے پاس بیٹھتا تھا اور وہ دہریہ تھا۔ جب جگہ بدلی تو اس کا اثر پڑنا بند ہو گیا اور شکوک بھی نہ رہے۔ تو برے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بھی بِلا اس کے کہ وہ کوئی لفظ کہے اثر پڑتا ہے اور اچھے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بِلا اس کے کہ وہ کچھ کہے اچھا اثر پڑتا ہے۔
(ماخوذ ازملا ئکۃ اﷲ، انوار العلوم جلد 5صفحہ537بحوالہ خطبہ جمعہ 30؍ اکتوبر 2015ء بعنوان سیرت حضرت مسیح موعودؑ: حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ بعض روایات)