خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍ دسمبر2025ء
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہٖ یعنی محمد اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
ایک طرف آپؐ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا دَرد تھا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی محبت کا دَرد اور انہیں تباہی سے بچانے کی خواہش تھی
اللہ تعالیٰ سے محبت حاصل کرنے کے طریق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ہی سیکھنے ہوں گے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خدا سے اس کی محبت کے طلبگار ہوتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِيْ يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِيْ وَأَهْلِيْ وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔
اے اللہ !مَیں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ ! تو اپنی محبت مجھے میری ذات، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ پس یہ وہ دعا ہے جو آج ہر اس شخص کو کرنی چاہیے جو آنحضرت ﷺسے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور جو یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کااظہار کرے ، اللہ تعالیٰ کامحبوب بنے اور اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل فرمائے
آنحضرتﷺ کی ساری زندگی عشق الٰہی میں ڈوبی ہوئی تھی ۔انہی عشق الٰہی کے نظاروں کو دیکھ کر مکہ کے لوگ یہی کہتے تھے کہ اِنَّ مُحَمَّدًا عَشِقَ رَبَّہٗ۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ربّ پر عاشق ہو گیا ہے
میرے دل کا ثمرہ اللہ کا ذکر ہے اور میرا شوق میرے ربّ میں ہے(ارشاد نبویﷺ)
’’صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس مردِ صادق کا منہ دیکھا تھا جس کے عاشق اللہ ہونے کی گواہی کفار قریش کے منہ سے بھی بے ساختہ نکل گئی اور روز کی مناجاتوں اور پیار کے سجدوں کو دیکھ کر اور فنافی الاطاعت کی حالت اور کمال محبت اور دلدادگی کے منہ پر روشن نشانیاں اور اس پاک منہ پر نور الٰہی برستا مشاہدہ کرکے کہتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہٖ کہ محمدؐ اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا نمونہ تھا ۔اسی نمونے کا اثر تھا کہ صحابہؓ میں ایک انقلاب پیدا ہوا اور انہوں نے وہ مقام پایا جس کا اس سے پہلے تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور یہی وہ کامل اور مکمل تعلیم ہے جسے آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اپنایا
آج ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی ماننے والے ہیں اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ہاتھ پر بیعت کر کے یہ تجدید اور وعدہ کیا ہے کہ آئندہ ہم اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو ہمیں پھر اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ ہم نے ہر کام خالصةً اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا ہے اور اس کی محبت میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔ جب ہم یہ کریں گے تو پھر ہی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بھی بن سکیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت میں ہونے کاصحیح حق ادا کر سکیں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کر سکیں گے اور آپؑ کے حقیقی ماننے والوں میں شمار ہو سکیں گے
پاکستان کے احمدیوں اور دنیا کے مظلوموں کے لیے دعاؤں کی تحریک
مکرم جلال الدین نیّر صاحب سابق صدر، صدر انجمن احمدیہ قادیان و صدر مجلس تحریک جدیدانجمن احمدیہ قادیان اور مکرم میر حبیب احمد صاحب کی وفات پر ان کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
آنحضرتﷺ کی محبتِ الٰہی
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍ دسمبر2025ء بمطابق 26؍فتح 1404 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
گذشتہ خطبہ میں مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے کچھ باتیں کی تھیں ۔
آج اللہ تعالیٰ کی محبت کے حوالے سے آپؐ کی سیرت کے کچھ پہلو بیان کروں گا۔
ہو سکتا ہے بعض باتیں مختصراً پہلے بیان ہو چکی ہوں لیکن ان کی تفصیل بھی یہاں بعض جگہ ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ
آپؐ کی سیرت کے اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کی آپؐ سے محبت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ صرف آپؐ کی اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بھی آپؐ سے محبت ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس اظہار کے بعد جو اللہ تعالیٰ کی محبت کا آپؐ سے ہے آپؐ کی راہنمائی فرمائی اور پھر کس طرح اس محبت میں مزید بڑھ کر آپؐ نے اپنی امّت کی تربیت کی اور امّت کی راہنمائی بھی کی۔
اللہ تعالیٰ نے جو تعلیم آپؐ پر نازل فرمائی آپؐ نے امّت تک کس طرح اسے پہنچایا تا کہ ان کی راہنمائی ہو ۔اس کے لیے آپؐ کے دل میں ایک درد تھا بلکہ یہ درد ہی تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہی آپؐ کی راہنمائی کی کہ آپؐ نے امّت کی بھی راہنمائی کرنی ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ
ایک طرف آپؐ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا دَرد تھا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی محبت کا دَرد اور انہیں تباہی سے بچانے کی خواہش تھی۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںسورۃ الضحیٰ میں فرماتا ہے کہ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی۔(الضحیٰ:8) اور جب اس نے تجھے اپنی قوم کی فکر میں سرگرداں دیکھا تو ان کی اصلاح کا صحیح طریقہ تجھے بتا دیا ۔اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی بنیں گے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے اپنی محبت میں بے انتہا صدمہ رسیدہ دیکھا اور آخر تجھے وہ راستہ بتا دیا جس پر چل کر تو ہمارے پاس پہنچ گیا۔ تفسیر کبیر امام رازی میں سورة الضحیٰ کی آیت وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی کی تفسیر میں لکھا ہے کہ
ضَلَالکے ایک معنی محبت کے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِمیں ضلال کا مطلب اپنی محبت ہے۔پس مفہوم یہ ہوگا کہ تُو مُحِب ہے۔ پس مَیں نے تیری ایسے راستوں کی طرف راہنمائی کی جن کے ذریعہ سے تُو اپنے محبوب کی خدمت کر کے قرب کی منازل طے کر سکتا ہے۔‘‘
(مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) جلد 16جزء 31 صفحہ 197۔ تفسیر سورۃ الضحیٰ زیر آیت 7۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)
اس سے اللہ تعالیٰ نے سند دے دی کہ تُو اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہے۔
اس محبت کا اظہار ہم مختلف روایات میں دیکھتے ہیں جو محبت اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے کی تھی اور جو محبت آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے تھی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن کریم کے اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اس پر پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم و رحیم جلّ شانہ اپنے خواص عباد کے لیے ،اپنے خاص بندوں کے لیے ،ایسے الفاظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتے ہیں مگر معناً نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے۔ بظاہر اگر اس لفظ کو عام طور پر استعمال میں دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ صحیح لفظ نہیں ہے کیونکہ ضَال کا مطلب گمراہی ہے ۔لیکن نہیں ! جب اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لیے خاص موقع پر اسے استعمال کرتا ہے تو اس کے معنی بدل جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا کہ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی۔ (الضحیٰ:8)اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنی مشہوراور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں ۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اے رسولؐ! تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔ یعنی کہ عام لوگ جو معنے کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقاد رکھے کہ کبھی آنحضرتﷺ نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کافر ہے ،بے دین ہے اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اِس جگہ وہ معنی لینے چاہئیں جو آیت کے سیاق و سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اللہ جلّ شانہ نے پہلے آنحضرت ﷺ کی نسبت فرمایا:اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی۔ وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔(الضحیٰ:7-9) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال یعنی عاشقِ وجہِ اللہ پایا۔ اللہ تعالیٰ کا عاشق پایا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی طرف تجھے کھینچ لایا اور تجھے درویش پایا پس اس نے تجھے غنی کر دیا۔
(ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 170-171)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ
’’چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا و توکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلیٰ و اصفا تھے اس لئے خدائے جلّ شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا۔ اور وہ سینہ اور دل جو تمام اوّلین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اوّلین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل ہو‘‘۔ یعنی بہت مضبوط اور مکمل ہو۔ اور ارفع و اتم ہو۔ اور بہت بلند اور کامل ہو۔ کامل ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔اس آئینے میں ،اس شیشے میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو بھی دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا ہر پہلو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بھی اور آپؐ کی تعلیم میں بھی نظر آتا ہے۔
فرمایا :’’سو یہی وجہ ہے قرآن شریف ایسے کمالات عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاؤں ا ور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہو رہی ہے۔‘‘ یعنی تمام صحف سابقہ اور ان کے کلام کی چمک اس کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔’’ کوئی ذہن ایسی صداقت نکال نہیں سکتا جو پہلے ہی سے اس میں درج نہ ہو۔‘‘ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جو دنیا کاانسان پیدا کر سکے یا نکال سکے اور قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔ ہاں !سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فرمایا: ’’کوئی فکر ایسے برہان عقلی پیش نہیں کر سکتا جو پہلے ہی سے اس نے پیش نہ کی ہو۔ کوئی تقریر ایسا قَوی اثر کسی دل پر ڈال نہیں سکتی جیسے قَوِی اور پُربرکت اثر لاکھوں دلوں پر وہ ڈالتا آیا ہے‘‘ یعنی قرآن کریم۔ فرمایا کہ’’وہ بلا شبہ صفات کمالیہ حق تعالیٰ کا ایک نہایت مصفّا آئینہ ہے جس میں سے وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک سالک کو مدارج عالیہ معرفت تک پہنچنے کے لئے درکار ہے۔ ‘‘
(ماخوذ از سرمہ چشم آریہ،روحانی خزائن2صفحہ71-72حاشیہ)
پس اب جو تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری وہ بھی ایسی پاک تھی جو سب چیزوں سے بالا تھی ۔سب تعلیموں سے بالا تھی ۔سب صحیفوں سے زیادہ بلند تھی ۔مکمل اور کامل تعلیم ہے قرآن کریم کی۔ اس لیے آپؐ کا وجود بھی اس تعلیم کا حامل ہے یعنی وہ بھی مکمل اور کامل ہے۔ آپؐ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ جو کتاب آپؐ پر نازل ہوئی وہ اسی وجہ سے ہوئی کہ آپؐ کا وجود سب انسانوں سے کامل ہے اور آپؐ ہی وہ کامل انسان ہیں جن کے مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ ہاں! اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے تمہارے لیے اسوہ ہے، ان کی پیروی کرنے کی کوشش کرو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعہ یہ بھی اعلان کروا دیا کہ لوگوں کو بتا دو کہ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللّٰہُ غُفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔(اٰل عمران:32) تُو کہہ دے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ پس
اللہ تعالیٰ سے محبت حاصل کرنے کے طریق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ہی سیکھنے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جو نظارے ہمیں نظر آتے ہیں، احادیث میں ایسی کئی روایات ملتی ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خدا سے اس کی محبت کے طلبگار ہوتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِيْ يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِيْ وَأَهْلِيْ وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔
(جامع ترمذی کتاب الدعوات باب دعاء داود: اللّٰھم انی اسألک حبک و حب من یحبک۔ حدیث 3490)
اے اللہ !میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اےاللہ! تُو اپنی محبت مجھے میری ذات، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔
پس
یہ وہ دعا ہے جو آج ہر اس شخص کو کرنی چاہیے جو آنحضرت ﷺسے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور جو یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کااظہار کرے۔ اللہ تعالیٰ کامحبوب بنے اور اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل فرمائے۔
اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن یزید خطمی انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ
اے اللہ !مجھے اپنی محبت عطا فرما اور اس کی محبت عطا فرما جس کی محبت مجھے تیرے حضور نفع بخشے۔ اے اللہ !میری پسندیدہ چیزیں جو تُو مجھے عطا کرے ان کو اپنی محبوب چیزوں کے حصول کے لیے میری قوت کا ذریعہ بنا دے اور میری وہ پیاری چیزیں جو تُو مجھ سے علیحدہ کر دے تو انہیں میرے لیے ان چیزوں کے حصول کے لیے طاقت کا ذریعہ بنا دے جنہیں تُو محبوب رکھتا ہے۔
(جامع ترمذی کتاب الدعوات باب دعاء: اللّٰھم ارزقی حبک و حب من ینفعی حبہ عندک۔ حدیث 3491)
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی کہ جو میری پسندیدہ چیزیں ہیں جو تُو مجھے عطا کرتا ہے ان کو اپنی محبوب چیزوں کے لیے بھی میری قوّت کا ذریعہ بنا دے، مزید طاقت بخش اور مَیں مزید ان چیزوں کو حاصل کروں جو تجھے محبوب ہیںاور ان کے ذریعہ مَیں مزید تیری محبت حاصل کرنے والا بنوں اور ان چیزوں کو حاصل کرنے والا بنوں جو تجھے پسند ہیں ۔اور فرمایا کہ جو میری پیاری چیزیں ہیں، جو چیزیں مَیں سمجھتا ہوں کہ مجھے پیاری ہیں یا میرے پیارے لوگ ہیں لیکن تُوا نہیں مجھ سے علیحدہ کر دیتا ہے تو میرے لیے ان چیزوں کو ،ان باتوں کے حصول کے لیے طاقت کا ذریعہ بنا دے جنہیں تُو محبوب رکھتا ہے۔ جو چیزیں مجھ سے علیحدہ ہو گئی ہیں ان کی وجہ سے مایوسی نہیں ہونی چاہیے بلکہ مجھے اس کے بعد پھر طاقت ملے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ پسند نہیں تھیں اور اس نے مجھ سے علیحدہ کر دیں یا اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی تھی، یہی رضا تھی تو جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی محبوب ہیں وہ مجھے مل جائیں۔ اللہ تعالیٰ مجھ سے ان چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اگر لے لے تواے اللہ! جو تیری محبوب چیزیں ہیں ،جو پسندیدہ باتیں ہیں انہیں حاصل کرنے کے لیے مجھے طاقت عطا فرما۔ پس یہ اللہ تعالیٰ سے آپ کی محبت کا اظہار تھا۔
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر آپؐ اس میں یہ کہا کرتے تھے کہ
سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔
کہ پاک ہے تُو اے ہمارے ربّ! اپنی حمد کے ساتھ اے اللہ!مجھے بخش دے۔
(صحیح البخاری کتاب التفسیر/اذا جاء نصر اللہ… باب سورۃ اذا جاء نصر اللہ۔ حدیث 4967)
اللہ تعالیٰ سے محبت کے ایک واقعہ کا ذکر حضرت عائشہؓ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ
میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی تو مَیں نے رات میں آپؐ کو موجود نہ پایا۔ مَیں نے رات کے اندھیرے میں آپؐ کو ٹٹولا تو میرا ہاتھ آپؐ کے پیروں پر لگا۔ آپؐ سجدے میں تھے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے تھے کہ
مَیں تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں تیری ناراضگی سے اور تیرے عفو کی پناہ میں آتا ہوں تیری سزا سے۔ میں ثناء کو تجھ پر شمار نہیں کر سکتا تُو ویسا ہی ہے جیسے تُو نے اپنے آپ کی تعریف کی ہے۔
(صحیح مسلم (مترجم) اردو، جلد 2 صفحہ 240، کتاب الصلاة باب ما یقال فی الرکوع و السجود۔ حدیث 743۔ نور فاؤنڈیشن ربوہ)
یعنی میں تو تیری اتنی تعریف کر ہی نہیں سکتا جو تُو نے خود اپنے بارے میں کہا ہے۔ وہی تیری تعریف ہے۔
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک جگہ فرماتی ہیں کہ
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ہاں باری تھی۔ میں سو گئی تو آپؐ خاموشی سے باہر تشریف لے گئے ۔مَیں نے گمان کیا کہ شاید آپؐ اپنی کسی دوسری بیوی کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ مَیں غیرت سے باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپؐ ایک کپڑے کی گٹھڑی کی طرح زمین پر سجدہ ریز ہیں ۔ مَیں نے آپؐ کو کہتے ہوئے سنا:
سَجَدَلَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي رَبِّ هَذِهِ يَدِي، وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيْم تُرْجَى لِكُلِّ عَظِيْمٍ فَاغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيْمَ۔
یعنی اے اللہ !تیرے لیے میرے جسم و جان سجدے میں ہیں اور میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔ اے میرے ربّ! یہ میرے دونوں ہاتھ ہیں جو تیرے سامنے دراز ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔
اب آنحضرتﷺ تو ایسے کامل انسان تھے جن سے سوائے نیکیوں کے کچھ نظر ہی نہیں آتا لیکن آپؐ بھی یہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اپنی جان پر جو ظلم کیا وہ تیرے سامنے ہے۔
اے بہت عظمتوں والے !جس سے ہر بڑی سے بڑی بات کی امید کی جاتی ہے تُو سب بڑے گناہوں کو بخش دے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ پھر آپؐ نے اپنا سرمبارک اٹھایا اور مجھے دیکھ لیا تو فرمایا کس بات نے تجھے باہر نکالا ،تم کیوں باہر آ گئی، تم تو سوئی ہوئی تھی؟ انہوں نے عرض کیا: اس وجہ سے کہ جو گمان میں نے کیا تھا۔ یعنی مجھے خیال ہوا تھا کہ آپؐ کہیں کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: یقیناً بعض گمان گناہ ہو جایا کرتے ہیں ۔ کیا تجھے مجھ پر شک ہوا؟ یہ تو گناہ ہے جیسا کہ حضرت عائشہؓ نے کہا تھا کہ مجھے شک ہوا تھا کہ دوسری بیوی کے ہاں نہ چلے گئے ہوں یہ بتایا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ گمان جو ہوتے ہیں یہ گناہ ہو جاتے ہیں ۔ اللہ سے بخشش مانگا کرو۔ پس
بدگمانی سے بچنے کے لیے ہر معاملے سے اللہ سے بخشش مانگنا استغفار کرنا بہت ضروری ہے۔
پھر آپؐ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ جبرئیلؑ میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کے لیے کہا تھا اس لیے تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو۔ اب تم نے سن تو لیا ہے یہ پڑھا کرو۔
جو شخص یہ کلمات پڑھے گا وہ سجدے سے سر اٹھانے سے پہلے بخشا جائے گا۔
(مجمع الزوائد کتاب الصلاۃ باب ما یقول فی رکوعہ و سجودہ۔ حدیث 2775۔ جلد 2 صفحہ 259۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)
ہاں! یہ شرط بھی ہے ساتھ کہ وہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والا بھی ہو ،یقین بھی کامل ہو اور باقی نیکیاں کرنے والا بھی ہو۔ تو آپؐ نے حضرت عائشہ ؓکو تو یہی فرمایا کیونکہ آپؐ کو پتہ تھا کہ حضرت عائشہ ؓکامعیار کیا ہے لیکن یہ نہیں کہ جو باقی نیکیاں نہیں بجا لاتا صرف اتنی ہی دعا پڑھ لے گاتو بخشا جائے گا۔
اسی طرح ایک اَور روایت میں آتا ہے جو زیادہ تفصیل سے صحیح مسلم میں ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ایک دفعہ اس رات جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تھے آپؐ گھر لوٹے، اپنی چادر رکھ دی، جوتے اتارے اور اپنے پاؤں کے قریب رکھ دیے اور اپنےاوپر والی چادر کا ایک پہلو بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے۔ اتنی دیر ہوئی کہ آپؐ نے خیال فرمایا کہ میں سو گئی ہوں تو آپؐ نے آہستہ سے اپنی چادر لی ،آہستہ سے اپنے جوتے پہنے ،دروازہ کھولا اور باہر چلے گئے ۔پھر دروازے کو آرام سے بند کر دیا۔ مَیں نے اپنی اوڑھنی اور اوپر والی چادر لی اور آپؐ کے پیچھے چل پڑی یہاں تک کہ آپؐ جنت البقیع پہنچ گئے۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور لمبا قیام فرمایا ۔پھر آپؐ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔پھر آپؐ واپس مڑے اور میں بھی مڑی۔ آپؐ تیز چلنے لگے ۔مَیں بھی تیز چلنے لگی۔ آپؐ نے رفتار اور تیز کی تو مَیں نے بھی کر لی۔ آپؐ اَور تیز چلنے لگے۔ مَیں بھی چلنے لگی۔ پھرآپؐ گھر آ گئے اور میں آپؐ سے پہلے اندر داخل ہوئی اور لیٹ گئی۔ جب آپؐ اندر تشریف لائے تو فرمایا اے عائشہ !تمہیں کیا ہوا ہے ،تمہارا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟ تیز چلنے کی وجہ سے سانس پھولا ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا ،محسوس کر لیا کہ سانس پھولا ہوا ہے۔ کہتی ہیں کہ تیز چلنے کی وجہ سے پھول گیا تھا۔ مَیں نے کہا کوئی بات نہیں ہے اور ٹالنے کی کوشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور مجھے بتاؤ گی ورنہ لطیف و خبیر خدا مجھے بتا دے گا۔ مَیں نے کہا یا رسول اللہ ؐ!میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں! پھر میں نے آپؐ کو ساری بات بتا دی کہ میرے دل میں کیا خیال آیا تھا اور کس طرح میں پیچھے گئی تھی ۔آپؐ نے فرمایا: اچھا تو وہ سایہ تم تھی جسے میں نے اپنے آگے دیکھا تھا۔ میں نے کہا جی ہاں ۔ آپؐ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جو مجھے محسوس ہوا اور فرمایا کیا تم نے گمان کیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ تمہاری حق تلفی کریں گے؟ حضرت عائشہ ؓکہنے لگیں جو کچھ لوگ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔یقینا ًاللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے اس نے آپؐ پہ ظاہر کر دینا تھا۔ مَیں ہی بتا دیتی ہوں اور جو میرے دل میں تھا مَیں نے بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جبرئیلؑ میرے پاس آئے تھے جب تم نے دیکھا اور انہوں نے مجھے بلایا۔ جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں باہر گیا ہوں تو وہ اس لیے تھا کہ انہوں نے مجھے بلایا تھا اور چونکہ انہوں نے تم سے یہ بات مخفی رکھی تھی اس لیے میں نے ان کی بات قبول کی اور اسے تم سے مخفی رکھا۔ اسی وجہ سے میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا اور ان کے ساتھ چلا گیا۔ مجھے خیال تھا کہ تم سو چکی ہو اور میں نے ناپسند کیا کہ تمہیں جگاؤں ۔ یہ بھی آپؐ نے فرما دیا کیونکہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم تنہائی محسوس کرو گی کہ اگر میں بتا کر جاتا تو تم کہتی کہ میں آج اکیلی ہوں ۔ جبرئیلؑ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ آپؐ کا ربّ آپؐ کو ارشاد فرماتا ہے کہ آپؐ اہلِ بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے بخشش مانگیں ۔ حضرت عائشہ ؓکہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ! کہ میں بھی اس ثواب میں داخل ہو سکتی ہوں؟ مَیں ان کے لیے کیسے دعا کروں ؟ آپؐ نے تو دعا کر لی ہے ،اب مَیں بھی وہاں سے ہو کر آئی ہوں تو مَیں کیا دعا کروں؟ آپؐ نے فرمایا تم کہو کہ
مومنوں اور مسلمانوں میں سے اس گھر والوں پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ ہم میں سے آگے جانے والوں اور بعد میں جانے والوں پر رحم فرمائے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۔
(صحیح مسلم مترجم (اردو) جلد 4 صفحہ 138-140، کتاب الجنائز باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء لاھلھا، حدیث 1607۔ نور فاؤنڈیشن ربوہ)
یہ دعا بھی آپ نے سکھائی۔
اسی طرح
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدا تعالیٰ سے محبت کے بارے میں ایک روایت
یوں بیان ہوئی ہے۔ عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور عبید بن عمیرؓ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو سب سے پیاری اور عجیب بات آپؓ نے دیکھی ہو وہ مجھے بتائیں ۔
راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت عائشہؓ رو پڑیں۔ پھر فرمایا :آپؐ کا ہر معاملہ ہی پیارا اور عجیب تھا۔ پھر حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ آپؐ میری باری کی رات میرے پاس تشریف لائے جب آپؐ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئے اور اپنے جسم کو میرے جسم سے لگایا۔ جب مَیں نے جسم محسوس کیا تو آپؐ نے فرمایا:اےعائشہ! اگر مجھے اجازت دو تو آج کی بقیہ ساری رات میں اپنے ربّ کی عبادت کروں گا۔ مَیں نے عرض کیا مجھے آپؐ کا قرب اور آپؐ کی خواہش دونوں محبوب ہیں ۔ مجھے آپؐ کا قرب بھی عزیز ہے ،آپؐ کی خواہش کا بھی احترام ہے ۔مجھے سب سے زیادہ یہی بات محبوب ہے کہ آپؐ کی سب خواہشیں پوری ہوں ۔ ٹھیک ہے آپؐ چاہتے ہیں عبادت کرنا تو کریں ۔ پھرآپؐ گھر میں رکھی ایک مشک کی طرف گئے اور وضو کیا ۔پانی کی مشک تھی۔ آپؐ نے زیادہ پانی نہیں انڈیلا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور قرآن پڑھنے لگے اور رونے لگے یہاں تک کہ مَیں نے دیکھا کہ آنسو آپؐ کے دامن تک پہنچ گئے ۔پھر آپؐ نے اپنے دائیں پہلو پر ٹیک لگائی اور اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھا اور پھر رونے لگے یہاں تک کہ مَیں نے دیکھا کہ آنسو زمین تک پہنچ گئے ہیں ۔ کہتی ہیں پھر صبح کا، فجر کی نماز کا وقت ہو گیا توحضرت بلالؓ آپؐ کو نماز ِفجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے۔ جب انہوں نے آپؐ کو روتے ہوئے دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ رو رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا :کیا مَیں شکرگزار بندہ نہ بنوں ۔
(اخلاق النبی ﷺ و آدابہ۔صفحہ 408-409، ذکر فعلہ فی لیلتہ، و فی فراشتہ …۔ حدیث 553۔دار اللؤلؤۃ۔ قاہرہ۔ 2016ء)
شکرگزاری کا ایک واقعہ گذشتہ خطبہ میں بھی مَیں نے بیان کیا تھا تو اس کی تفصیل میں مزید یہ بھی ایک ہے۔
ایک اَور روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپؐ بادل یا آندھی دیکھتے تو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا کہ آپؐ متفکّر ہیں ۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ!لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہوتے ہیں کہ اس میں بارش ہو گی لیکن مَیں دیکھتی ہوں کہ جب بھی آپؐ بادل دیکھتے ہیں تو آپؐ کے چہرے پر پریشانی معلوم ہوتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اے عائشہؓ !مجھے کیا بات تسلّی دلا سکتی ہے کہ اس میں وہ آندھی کا عذاب نہ ہو گا۔ مَیں غیب کا علم تو نہیں جانتا ۔اب کون سی بات ہے جو مجھے تسلی دلائے کہ اس میں آندھی کا عذاب نہیں ہے جو پہلی قوموں پر آیا تھا۔ ایک قوم پر عذاب آیا تھا جب اس قوم نےعذاب کو دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا جیسا کہ قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر ہے۔ تو مجھے کیا پتہ کہ اس میں کیا ہے اور کیا نہیں۔ اس لیے میں اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی محبت کی وجہ سے جو میرے دل میں ہے خوفزدہ ہو جاتا ہوں ۔
(صحیح البخاری مترجم( اردو)۔ جلد 12 صفحہ 68-69۔ کتاب التفسیر / الاحقاف باب : فلما رأوہ عارضًا مستقبل اودیتھم…حدیث 4829۔ نظارت اشاعت ربوہ)
ایک اَور جگہ حضرت عائشہؓ نے یہی روایت اس طرح بیان فرمائی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب آسمان میں بادل دیکھتے تو اِدھر اُدھر اندر باہر آتے جاتے اور آپؐ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور جب بادل برسنا شروع ہو جاتا تو آپؐ سے گھبراہٹ جاتی رہتی۔ نارمل طریقے سے بادل جب برستا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے آپؐ سے اس حالت کا سبب پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں نہیں جانتا کہ کہیں یہ ویسے بادل نہ ہوں جیسے عاد کی قوم نے سورة الاحقاف کی آیت کے مطابق کہا تھا کہ جب انہوں نے بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تھا تو کہا تھا کہ یہ بادل آ رہا ہے جو ہم پر برسے گا لیکن وہ ان پر عذاب لے کر آیا۔
(صحیح البخاری مترجم (اردو)۔ جلد 6 صفحہ 29-30۔ کتاب بدء الخلق۔ باب ما جاء فی قولہ: و ھو الذی ارسل الریاح بشرا بین یدی رحمتہ۔ حدیث 3206۔ نظارت اشاعت ربوہ)
پھر روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرةؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ بادل سے برسنے والے پہلے قطرے کے لیے اپنا سر ننگا کر دیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ہمارے ربّ عز ّوجلّ سے یہ تازہ نعمت آئی ہے اور سب سے زیادہ برکت والی ہے۔
(کنز العمال جلد 1 جزء 2 صفحہ 267، کتاب الاذکار / قسم الافعال، اوقات الاجابۃ، حدیث 4936۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)
جب نارمل بارش ہوتی تھی تو اس میں یہ بھی آپؐ کا طریقہ تھا۔
عروہ بن زبیر کی ایک روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے پوچھا کہ مجھے وہ بدترین سلوک بتائیں جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپؐ کی گردن میں ڈال کر آپؐ کا گلا زور سے گھوٹنا شروع کر دیا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچ گئے اور انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑ کر اسے دھکیل دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹا دیا۔ آپؐ نے کہا :
کیا تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے۔
(صحیح البخاری مترجم(اردو) جلد 7 صفحہ 332۔ کتاب مناقب الانصار باب ما لقی النبی ﷺ و اصحابہ من المشرکین بمکۃ حدیث 3856۔ نظارت اشاعت ربوہ)
یہ تو صرف اللہ کی محبت میں سرشار ہے اس میں ڈوبا ہوا ہے اور اس کی عبادت کر رہا ہے اور تم اس کو مارنے پر تُلے ہوئے ہو۔
آنحضرتﷺ کی ساری زندگی عشقِ الٰہی میں ڈوبی ہوئی تھی ۔انہی عشق الٰہی کے نظاروں کو دیکھ کر مکہ کے لوگ یہی کہتے تھے کہ اِنَّ مُحَمَّدًا عَشِقَ رَبَّہُ۔ یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ربّ پر عاشق ہو گیا ہے۔
(المنقذ من الضلال از امام غزالی صفحہ107’’تبتل النبی ﷺ بحراء دلیل الانقطاع الی اللّٰہ تعالیٰ‘‘۔ دار المنھاج 2015ء)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشقِ زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہٖ یعنی محمد اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘
(ملفوظات جلد 6صفحہ 6، ایڈیشن 2022ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک اَور جگہ فرماتے ہیں:
’’صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس مردِ صادق کا منہ دیکھا تھا جس کے عاشق اللہ ہونے کی گواہی کفارِ قریش کے منہ سے بھی بے ساختہ نکل گئی اور روز کی مناجاتوں اور پیار کے سجدوں کو دیکھ کر اور فنافی الاطاعت کی حالت اور کمال محبت اور دلدادگی کی منہ پر روشن نشانیاں ‘‘
یعنی منہ پر عشق کی روشن نشانیاں
’’اور اس پاک منہ پر نور الٰہی برستا مشاہدہ کرکے کہتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہِ کہ محمدؐ اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا ہے
اور پھر صحابہ نے صرف وہ صدق اور محبت اور اخلاص ہی نہیں دیکھا بلکہ اس پیار کے مقابلے پر جو ہمارے سید محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے ایک دریا کی طرح جوش مارتا تھا، خدا تعالیٰ کے پیار کو بھی تائیداتِ خارق عادت کے رنگ میں مشاہدہ کیا تب ان کو پتہ لگ گیا کہ خدا ہے اور ان کے دل بول اٹھے کہ وہ خدا اس مرد کے ساتھ ہے۔ انہوں نے اس قدر عجائبات الٰہیہ دیکھے اور اس قدر نشان آسمانی مشاہدہ کئےکہ ان کو کچھ بھی اس بات میں شک نہ رہا کہ فی الحقیقت ایک اعلیٰ ذات موجود ہے جس کا نام خدا ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں ہریک امر ہے اور جس کے آگے کوئی بات بھی انہونی نہیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے وہ کام صدق و صفا کے دکھلائے اور وہ جانفشانیاں کیں کہ انسان کبھی کر نہیں سکتا جب تک اس کے تمام شک و شبہ دور نہ ہوجائیں اور انہوں نے بچشم خود دیکھ لیا کہ وہ ذات پاک اسی میں راضی ہے کہ انسان اسلام میں داخل ہو اور اس کے رسول کریم کی بدل و جان متابعت اختیار کرے تب اس حق الیقین کے بعد جو کچھ انہوں نے متابعت دکھلائی اور جو کچھ انہوں نے متابعت کے جوش سے کام کیے اور جس طرح پر اپنی جانوں کو اپنے برگزیدہ ہادی کے آگے پھینک دیا۔‘‘
(شہادۃ القرآن،روحانی خزائن جلد 6صفحہ346)
یہ باتیں ممکن نہیں ہیں جب تک تجربہ نہ ہو۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپؐ کے طریق کے بارے میں پوچھا کہ آپؐ کا طریق کیا ہے تو آپؐ نے فرمایا کہ معرفت میرا سرمایہ ہے۔یعنی
زندگی کے کیا پہلو ہیں یا کیا طریقہ ہے جس پر آپؐ کی زندگی کا مدار ہے ۔
آپؐ نے فرمایا :
معرفت میرا سرمایہ ہے اور عقل میرے دین کا اصل ہے۔
معرفت مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے یہ میرا سرمایہ ہے اور میری دولت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے عقل دی ہے اور میں اسے اللہ تعالیٰ کی محبت میں استعمال کرتا ہوں اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتے ہوئے استعمال کرتاہوں ۔ یہ میرے دین کی اصل ہے اور بنیاد ہے ۔
اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہی میری زندگی کی اساس اور بنیاد ہے۔ خدا کی راہ میں آگے بڑھنے کا شوق میری سواری ہے۔
میں خدا کی راہ میں اور اس کی محبت میں آگے ہی بڑھتا چلا جاؤں ۔ یہ وہ شوق ہے جو میری سواری ہے۔ اس پر سوار ہو کرمیں مسلسل آگے بڑھ رہا ہوں اور مجاہدہ کرتا چلا جا رہا ہوں
اور اللہ تعالیٰ کا ذکر میرا دوست اور غمگسار ہے۔
میرا دوست کون ہے میرا غمگسار اور مجھے تسلی دینے والا کون ہے ؟وہ صرف خدا تعالیٰ کی یاد، اس کا ذکر اور دعائیں ہیں ۔
خدا پر بھروسہ میرا خزانہ ہیں ۔
میں صرف اسی پر توکل اور بھروسہ کرتا ہوں اور یہی میرا خزانہ ہے۔ تم جو طریق پوچھ رہے ہو تو یاد رکھو کہ
غم و حزن میرا رفیق ہے۔
اگر کوئی غم یا صدمہ مجھے پہنچتا ہے تو یہ میرے ساتھی اور زندگی کا حصہ ہیں۔ مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ پھر فرمایا کہ
علم میرا ہتھیار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ علم حاصل کرو کیونکہ علم حاصل کرنے سے ذہن کو جلا ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا عرفان مزید حاصل ہوتا ہے اور مجھے تو اللہ تعالیٰ علم سکھاتا ہے اور جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے اس سے بڑھ کر کون سا ہتھیار ہو سکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہی میرا ہتھیار ہے جس کی بدولت میں ترقی کر رہا ہوں ۔ دنیاوی علم میں بھی آپؐ نے دیکھا جیسے جنگوں کے واقعات میں مَیں نے پہلے بھی گذشتہ خطبات میں بیان کیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو وہ علم عطا کیا جس کی وجہ سے آپؐ بہترین منصوبہ بندی اور اعلیٰ planning فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح آپؐ کے پاس روحانی علم بھی بےشمار تھے جس کی کوئی انتہا نہیں ۔ اور وہ سب پر واضح ہے۔ ظاہر و باہر ہے۔ پھر فرمایا
صبر میری رِداء ہے۔
یعنی میری رِداء صبر ہے۔ میرا لباس صبر ہے۔
اور خدا کی مرضی پر راضی رہنا میرا مال غنیمت ہے۔
میں اللہ کی مرضی پر راضی رہتا ہوں اور یہی میرا مال غنیمت ہے۔
فقرمیرا فخر ہے
اور ظاہری طور پرفقیری یا مالی کمی کی حالت ہو تو یہی میرا فخر ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فقر کی حالت کے باوجود مجھے بےشمار نوازا ہے۔
زُہد میرا ہنر ہے۔
میرا ہنر زہد و تقویٰ ہے اور میں اسی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
یقین میری قوّت ہے۔
اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہے اور اسی سے مجھے قوّت ملتی ہے۔
سچائی میرا شفیع ہے۔
مَیں نے کبھی غلط بات نہیں کی اور سچائی ہی میری شفاعت کا ذریعہ ہے۔
اطاعت میرے لیے کافی ہے۔
میں اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر کامل اطاعت سے عمل کرنے والا ہوں ۔
جہاد میرا خلق ہے۔
چاہے وہ جسمانی جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں روحانی جہاد ہے یا اللہ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا جہاد ہے۔ یہی میراخلق ہے۔
میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
اگرچہ یہ ساری باتیں ہیں لیکن میری آنکھوں کی اصل ٹھنڈک نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ اس کی عبادت کرنا ہے۔ اس کی محبت کا اظہارکرنا ہے۔
ایک اَور حدیث میں ہے آپؐ نے فرمایا :
میرے دل کا ثمرہ اللہ کا ذکر ہے اور میرا شوق میرے ربّ میں ہے۔
(الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ۔ از قاضی عیاض۔صفحہ 191، فصل فی خوفہ ﷺ من ربہ، و طاعتہ لہ …الخ۔ حدیث 347-348۔ جائزۃ دبی الدولیۃ للقرآن الکریم۔ متحدہ عرب امارات۔ 2013ء)
پس
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا نمونہ تھا جس کی چند مثالیں میں نے پیش کی ہیں ۔ اسی نمونے کا اثر تھا کہ صحابہؓ میں ایک انقلاب پیدا ہوا اور انہوں نے وہ مقام پایا جس کا اس سے پہلے تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا جیساکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے جو پہلے میں نے پڑھا تھا اور یہی وہ کامل اور مکمل تعلیم ہے جسے آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اپنایا۔
آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی کی وجہ سے نوازا ہے۔ آپؑ نے فرمایا :
’’مجھے خواب میں دو دفعہ پنجابی میں مصرعے بتلائے گئے۔ ایک تو یہی …‘‘کہ جے تو میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو۔ اور ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے اس میں ایک مجذوب (جس میں محبت الٰہی کا جذبہ ہو) میری طرف آ رہا ہے۔ جب میرے ( پاس) پہنچا تو اس نے یہ شعر پڑھا۔
عشق الٰہی وَسّے مُنہ پر ولیاں ایہہ نشانی
(تذکرہ صفحہ439-440، ایڈیشن 2023ء )
یعنی ولیوں کی نشانی یہی ہے کہ ان کے منہ پر عشق الٰہی برستا ہے اور مطلب یہی تھا کہ اس نے مجھے دیکھ کے یہ کہا کیونکہ اس کو عشق الٰہی نظر آیا تھا۔ نور نظر آیا تھا۔
آپؑ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ جو کچھ میں نے حاصل کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں حاصل کیا۔
(ماخوذ ازحقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 64)
پس یہ آپ کا نمونہ تھا اور اسی لیےآپ نے جماعت قائم فرمائی تھی۔
آج ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی ماننے والے ہیں اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ہاتھ پر بیعت کرکے یہ تجدید اور وعدہ کیا ہے کہ آئندہ ہم اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو ہمیں پھر اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ ہم نے ہر کام خالصةً اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا ہے اور اس کی محبت میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔ جب ہم یہ کریں گے تو پھر ہی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بھی بن سکیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت میں ہونے کاصحیح حق ادا کر سکیں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کر سکیں گے اور آپؑ کے حقیقی ماننے والوں میں شمار ہو سکیں گے
اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان کے احمدیوں کے لیے بھی آجکل دعا کریں ۔
دو دن ہوئے وہاں ایک مقدمہ جو مبارک ثانی صاحب کا چل رہا تھا، ان کو سیشن جج نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ الزام یہ ہے قرآن کریم رکھا ہوا تھا۔ اسے پڑھتے بھی تھے اور پڑھاتے بھی تھے۔ یہ اب عدالتوں کا حال ہے۔ ان سے کیا بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس فیصلہ پر تو غیروں نے بھی لکھا ہے کہ کیا مضحکہ خیز فیصلہ ہے۔ گو بعض مولویوں کی طرف سے عمومی طور پر اس فیصلے کو بڑا سراہا جا رہا ہے اور جج کی بڑی تعریف کی جا رہی ہے لیکن انصاف پسند جو لکھنے والے ہیں وہ یہ لکھتے ہیں۔ بعض لوگوں نے بظاہر مذاقیہ اندازمیں لکھا ہے کہ اتنا بڑا جرم ہے کہ قرآن کریم پڑھتا ہے اور رکھا ہوا ہے گھر میں اور بچوں کو پڑھاتا ہے۔ تویہ بہرحال ان نام نہاد علماء اور ان کے چیلوں کا حال ہے۔ حکومت کی جو انتظامیہ ہے وہ بھی ان مولویوں کے پیچھے چل کر اسی بات پر بعض جگہ عمل کر رہی ہے۔ بہرحال ہم دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی جلد پکڑ کے سامان فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ ان شاء اللہ جلد ان پر آئے گی اور اس کے آثار نظر بھی آ رہے ہیں لیکن اس کی فکر ہونی چاہیے کہ ہماری دعاؤں میں کمی یا عمل یا عبادت کے حق صحیح نہ ادا کرنے کی وجہ سے اس میں تعطّل نہ ہو جائے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس خوف سے بعض دفعہ بادلوں کو دیکھ کے دعا کیا کرتے تھے۔ پس
دعاؤں کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
اسی طرح
باقی دنیا کے مظلوموں کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر ایک کو امن عطا فرمائے اور ہر فتنہ و فساد سے بچا کے رکھے۔
نماز کے بعد میں
دو جنازہ غائب پڑھاؤں گا
دو ذکر ہیں ۔ ایک پہلا ہے
مولانا جلال الدین نیّر صاحب۔
یہ قادیان میں سابق صدر، صدر انجمن احمدیہ اور صدر مجلس تحریک جدید تھے۔ گذشتہ دنوں یہ فوت ہوگئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد مکرم ایچ حسین صاحب عالمی جنگ کے دوران آرمی میں بطور کلرک کام کر رہے تھے۔ اس دوران بصرہ میں 1922ء میں احمدیت قبول کی اور کیرالہ سے شائع ہونے والے جماعتی رسالہ ستیہ دوتن (Sathiya Dooton) کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ کیرالہ کے رہنے والے تھے۔ فوج کے بعد وہاں آگئے۔ مرحوم کے والد مکرم ایچ حسین صاحب 1950ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریک برائے آبادی قادیان پر لبیک کہتے ہوئے اپنی پوری فیملی لے کر قادیان آ گئے اور وہیں آکےآباد ہو گئے لیکن ایک سال کے اندر ہی قادیان میں ان کی وفات ہو گئی۔ مولانا جلال الدین صاحب نیّر کی والدہ محترمہ زبیدہ سلطانہ صاحبہ نے پھر وہاں دوسری شادی چودھری عبدالحق صاحب سے کرلی جو درویش تھے اور انہوں نے نیّر صاحب کے بھائی بہنوں کو اپنی کفالت میں لے لیا۔
جلال الدین نیّر صاحب کی ابتدائی تعلیم قادیان میں ہوئی اور 1963ء میں انہوں نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ پھر ان کا تقرر ہو گیا۔ پہلے انجمن میں بطور انسپکٹر بیت المال کے طویل عرصہ تک خدمت کی اور پوری ہندوستان کی جماعتوں کا یہ دورہ کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے بڑی محنت سے اور محبت سے انہوں نے افراد جماعت کو چندوں کے نظام میں شامل کیا اور اسی وجہ سے ان کا ہندوستان کے طول و عرض میں جماعتوں کے احباب کے ساتھ ذاتی تعلق بھی تھا۔ تریسٹھ سال تک مرحوم کو جماعتی خدمت کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس دوران انسپکٹر بیت المال آمد کے بعد بطور آڈیٹر، محاسب اور پھر لمبا عرصہ بطور ناظر بیت المال آمد خدمت کا موقع ملا۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے سات سال تک یہ صدر، صدر انجمن احمدیہ قادیان بھی مقرر رہے اور پھر صحت نے جب تک اجازت دی صدر مجلس تحریک جدید بھی تھے۔ اسی طرح ذیلی تنظیموں میں بھی ان کو خدمت کی توفیق ملی۔ عبادت گزار اور صوم و صلوٰة کے پابند تھے اور خلافت کی ہر بات پر تعمیل کرنے والوں میں اوّلین لوگوں میں شامل تھے۔ کھلاڑی بھی تھے ،ایتھلیٹ بھی تھے ۔اس لحاظ سے بھی انہوں نے وہاں بڑا آرگنائز کیا ۔ ان کی شادی کشمیر کے ایک خاندان میں ہوئی تھی اور ان کی اہلیہ پہلے ہی وفات پا گئی تھیں ۔مرحوم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں جو جماعت کی خدمت کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔
دوسرا ذکر
مکرم میر حبیب احمد صاحب
کا ہے جو میر مشتاق احمد صاحب کے بیٹے تھے۔ گذشتہ دنوں اناسی (79)سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ بڑے شفیق ،ملنسار اور خلافت کے فدائی وجود تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی بھی تھے۔ ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا باؤ عبدالرحیم صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے حضرت میر قاسم علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایڈیٹر رسالہ فاروق کے توسط سے 1903ء میں بیعت کی تھی۔ حضرت میرقاسم علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میر حبیب صاحب کے والد مشتاق احمد صاحب کو گود لیا تھا کیونکہ حضرت میر قاسم علی صاحبؓ کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ میر حبیب صاحب نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی اور پھر بی ایس سی کی اور پھر اس کے بعد ایم ایس سی فزکس کی ڈگری حاصل کی۔ پھر یہ باہر بھی چلے گئے۔
جماعتی خدمات ان کی یہ ہیں کہ 1970ء سے 1971ء تک تعلیم الاسلام کالج میں بطور مدرس تدریسی خدمت کا آغاز کیا۔ اس وقت کالج نیشنلائز نہیں ہوئے تھے۔ 73ء تا 76ء نصرت جہاں سکیم کے تحت سیرالیون گئے جہاں فری ٹاؤن میں فزکس کے استاد کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ پھر 1976ء میں یہ واپس پاکستان آ گئے ۔ پھر 76ء میں ہی واپس نائیجیریا چلے گئے اور وہاں 1987ء تک گورنمنٹ کے سکول میں کام کیا اور وہیں افریقہ میں رہتے ہوئے 1987ء میں ہی انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی اور بطور واقف زندگی وہاں 1987ء میں احمدیہ سینیئر سکینڈری سکول اومائشہ (Umaisha) میں بطور پرنسپل حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے آپ کا تقرر فرمایا اور جہاں آپ نے 1991ء تک خدمت کی توفیق پائی۔ اس کے بعد پھر واپس پاکستان آ گئے اور یہاں آ کے بھی جماعتی خدمت کرتے رہے۔ 1992ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے جائزہ کے لیے ان کو سیرالیون بھجوایا اور وہاں ان کی جو ماہرانہ رائے تھی اس کی رپورٹ پر وہاں کچھ کام ہوئے۔ 96ء میں نظارت تعلیم کے تحت ان کا تقرر نصرت جہاں اکیڈمی ربوہ میں ہوا اور بطور استاد یہ فزکس پڑھاتے رہے۔ وہیں ان کی ریٹائرمنٹ ہوئی۔ اسی طرح صدر عمومی کے دفتر میں بھی بطور والنٹیئر صدر عمومی کی اصلاحی کمیٹی میں کام کرتے رہے۔
ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ میرے شوہر صوم و صلوٰة کے پابند تھے۔ بہت نرم مزاج تھے اور کبھی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی تھی۔ پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ علم دوست انسان تھے۔ اگر کوئی ڈیمانڈ ہوتی اور کوئی آرہا ہو، تحفہ کا پوچھ رہا ہو تو یہی کہتے میرے لیے کتابیں لے آؤ اور علمی کتابیں پڑھا کرتے تھے ۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا مطالعہ بھی بہت کرتے تھے۔ کبھی کوئی غلط بیانی نہیں کرتے تھے۔ اگر بات بتانی نہیں ہوتی تھی تو خاموش رہتے تھے لیکن یہ نہیں کہ غلط بات کر جائیں ۔ ان کی بیٹی نے بھی انہی اوصاف کا ذکر کیا ہے۔
مَیں نے بھی انہیں دیکھا ہے۔ بڑے شریف النفس انسان تھے اور اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے اور وقف کو وفا کے ساتھ نبھانے والے تھے
اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔
میر اسحٰق صاحبؓ کی نواسی سیّدہ لبنیٰ کے ساتھ ان کی شادی ہوئی تھی جو میجر سعید احمد صاحب کی بیٹی تھیں۔ اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کے بیٹے تھے۔ وہ تو ہم جانتے ہی ہیں جماعت میں مشہور ہیں ۔ ان کا قرآن کریم کا ترجمہ بھی جماعت میں رائج ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔
٭…٭…٭




