احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
(گذشتہ سے پیوستہ)نامور عالم دین صحافی محقق اور صاحب طرز ادیب جناب مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر اخبار ’’وکیل‘‘امرتسر نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر ’’موت عالم‘‘ کے عنوان سے ایک مبسوط اور طویل اداریہ لکھا اس میں وہ لکھتے ہیں : ’’… وہ شخص جو مذہبی دنیا کیلئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شور قیامت ہو کے خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا… دنیا سے اٹھ گیا… ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جنرل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا آیندہ بھی جاری رہے۔ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہےہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے اس لئےکہ وہ وقت ہرگز لوح قلب سے نسیاً منسیا نہیں ہو سکتا… اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا…غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔ اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجام دی ہے… اخیر عمر تک برابر مرزا صاحب آریہ سماج کے چہرہ سے انیسویں صدی کے ہندو ریفارمر کا چڑھایا ہوا ملمع اتارنے میں مصروف رہے ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہےکہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظرانداز کی جاسکیں۔‘‘ (اخبار ’’وکیل‘‘ امرتسر ۳۰ مئی ۱۹۰۸ءبحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۲صفحہ ۵۶۰، ۵۶۱)
’’مولوی ارشاد علی صاحب ناگپوری نے جو عیسائیت سے توبہ کر کے دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے انہوں نے پادری صفدر علی صاحب کو جواب میں ایک خط لکھا کہ ‘‘پادری صفدر علی صاحب نے مجھے چیلنج دیا ہے کہ میں ان کے ساتھ اسلام اور عیسائیت کی صداقت پر بحث کروں۔ اس میں شک نہیں کہ میں عیسائیت کی تعلیم سے زیادہ واقف نہیں ہوں۔ میں تو پادریوں کے ان الفاظ اور اقوال سے متاثر ہو کر عیسائی ہو گیا تھا جس میں وہ مسیح کو مظلوم اور دنیا کا نجات دہندہ پیش کر کے دعوت دیتے ہیں۔ لیکن جب میں نے عیسائی کتب تورات اور انجیل کا گہرا مطالعہ کیا تو مجھے معلوم ہو گیا کہ عیسائیت کی حقیقت کیا ہے اور پھر میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اسلام میں داخل ہو گیا لیکن میں پادری صفدر علی صاحب سے پوچھ سکتا ہوں کہ اگر ان کو اپنے دلائل اور عیسائیت کی صداقت پر پورا اعتماد ہے تو پھر وہ اس وقت کہاں تھے جب کہ مولوی غلام احمد صاحب قادیانی نے میدان مناظرہ میں کھڑے ہو کر بہادر شیر کی طرح ان کو للکارا۔ اس چیلنج کا آپ لوگوں پر اس قدر اثر تھا کہ کسی پادری کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ آپ کے مقابل پر آتا۔‘‘ (رسالہ ’’دستکاری‘‘ امرتسر ۱۸ جون ۱۸۹۹ء بحوالہ احمدیت غیروں کی نظر میں از عبدالمنان شاہدبحوالہ ماہنامہ انصاراللہ فروری ۱۹۹۸ء صفحہ۱۲۳)
جناب مرزا حیرت دہلوی صاحب ایڈیٹر اخبار ’’کرزن گزٹ‘‘ دہلی لکھتے ہیں: ’’مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔ اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا… اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں… اس کا پرزور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالہ ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے…اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں، مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔‘‘ (اخبار ’’کرزن گزٹ‘‘ دہلی یکم جون ۱۹۰۸ءبحوالہ تاریخ احمدیت جلد۲ صفحہ۵۶۵، ۵۶۶)
بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ نے لکھا:مرحوم ایک مانے ہوئے مصنف اور مرزائی فرقہ کے بانی تھے… اپنی زندگی کے آخری دن تک کتابوں کے عاشق رہے۔ اور دنیوی پیشوں سے پرہیز کرتے رہے۔ ۱۸۷۴ء تا ۱۸۷۶ء عیسائیوں، آریوں، برہموؤں کے خلاف شمشیر قلم خوب چلایا۔ آپ نے ۱۸۸۰ء میں تصنیف کا کام شروع کیا آپ کی پہلی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ اسلام کے ڈیفنس میں تھی جس کے جواب کے لئے آپ نے دس ہزار روپیہ کا انعام رکھا … بےشک مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا۔(تاریخ احمدیت جلد ۲صفحہ ۵۶۵)
ایک مشہور سکھ لیڈر سردار ارجن سنگھ صاحب ایڈیٹر ’’رنگین‘‘ امرتسر رقمطراز ہیں: ’’اس وقت کے مسلمان عالم یہ سمجھتے تھے کہ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ لکھ کر اسلام کی کوئی بڑی خدمت کی ہے۔ چنانچہ گھر گھر براہین احمدیہ کا چرچا تھا اور تمام پڑھے لکھے مسلمان اس کتاب کے مطالعہ کو ضروری سمجھتے تھے کیونکہ مسلمان عالموں کا خیال تھا کہ اس کتاب میں آریہ اور عیسائیوں کے تمام اعتراضوں کا جواب آ چکا ہے۔ ہر ایک مسلمان مناظر اس کتاب کو ایک نظر دیکھ لینا ضروری خیال کرتا تھا۔ الغرض اس کتاب کی تصنیف کی وجہ سے جہاں مرزا صاحب ایک طرف ہندوستان کے مسلمانوں کی آنکھ کا تارا بن گئے وہاں آپ کو عیسائیوں اور آریوں میں بھی کافی شہرت حاصل ہو گئی۔‘‘ (خلیفہ قادیان صفحہ ۴ ،۵بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۱۷۹)
مولانا ابو الکلام آزاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر شذرہ لکھتے ہیں اور آپؑ کی تصنیف براہین احمدیہ کی اہمیت اور افادیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’غیر مذاہب کی تردید میں اور اسلام کی حمایت میں جو نادر کتابیں انہوں نے تصنیف کی تھیں ان کے مطالعہ سے جو وجد پیدا ہوا وہ اب تک نہیں اترا ہے۔ ان کی کتاب براہین احمدیہ نے غیر مسلموں کو مرعوب کر دیا اور اسلامیوں کے دل بڑھا دیئے اور مذہب کی پیاری تصویر کو ان آلائشوں اور گرد و غبار سے صاف کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا جو مجاہیل کی توہم پرستیوں اور فطری کمزوریوں نے چڑھا دیئے تھے غرضیکہ اس تصنیف نے کم ازکم ہندوستان کی حد میں دنیا میں ایک گونج پیدا کر دی جس کی صدائے بازگشت ہمارے کانوں میں اب تک آ رہی ہے گو بعض بزرگان اسلام اب براہین احمدیہ کے برا ہونے کا فیصلہ دے دیں محض اس وجہ سے کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنی نسبت بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں اور بطور حفظ ماتقدم اپنے آئندہ دعاوی کے متعلق بہت کچھ مصالحہ فراہم کر لیا تھا۔ لیکن اس کے بہترین فیصلہ کا وقت ۱۸۸۰ء تھا جب کہ وہ کتاب شائع ہوئی۔ مگر اس وقت مسلمان بالاتفاق مرزا صاحب کے حق میں فیصلہ دے چکے تھے۔‘‘ (اخبار ’’وکیل‘‘ ۳۰ مئی ۱۹۰۸ءبحوالہ ماہنامہ انصار اللہ فروری ۱۹۹۸ء صفحہ ۱۲۶، ۱۲۷)
براہین احمدیہ کی تصنیف کی بابت کچھ اخبارات ورسائل کے تذکرہ کے بعد خاکسارایک اور رائے اور تبصرہ پیش کرناچاہتاہے کہ جوہرچندکہ ایک مداح اور احمدی کاتبصرہ ہے لیکن ’’قدرِجوہرجوہری راشناس‘‘ اور ’’ولی راولی می شناسد‘‘ کے تحت ضروری ہے کہ وہ درج کیاجائے کیونکہ کسی اور میں اتناعلم تھا نہ عرفان کہ وہ براہین احمدیہ کی ان رفعتوں کو پاسکےاورنہ کوئی ایساغواص تھا کہ بحرمعارف کی گہرائیوں میں اترسکے۔ اب اگریہ مقام اور یہ رتبہ ایک احمدی کوملا ایک خداکے اس پیارے کوملا کہ جوعلوم ظاہری وباطنی سے علیم وحکیم خداکی طرف سے پُرکیاگیاتھا تواس کی رائے ہی ایک ایسی رائے مستحق ہے کہ اس پرآراء کے اس باب کوختم کیاجائے۔آپؓ براہین احمدیہ کی بابت تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’مجھے بھی خداتعالیٰ نے خاص طور پر قرآن کریم کا علم بخشا ہے مگر جب میں حضرت مسیح موعودؑ کی کتابیں پڑھتا ہوں تو ان سے نئے نئے معارف اور نکات ہی حاصل ہوتے ہیں اور اگر ایک ہی عبارت کو دس دفعہ پڑھوں تو دس ہی نئے معارف حاصل ہوتے ہیں۔ براہین احمدیہ کو میں کئی مہینوں میں ختم کرسکا تھا۔ میں بڑا پڑھنے والا ہوں کئی کئی سو صفحے لگاتار پڑھ جاتا ہوں مگر براہین کو پڑھتے ہوئے اس وجہ سے اتنی دیر لگی کہ کچھ سطریں پڑھتا تو اس قدر مطالب اور نکتے ذہن میں آنے شروع ہو جاتے کہ آگے نہ پڑھ سکتا اور وہیں کتاب رکھ کر لطف اُٹھانے لگ جاتا۔‘‘(علم حاصل کرو ،انوار العلوم جلد ۴صفحہ ۱۴۰)
حضرت مصلح موعودؓ کا مشہور سلسلۂ تقاریر ’’فضائل القرآن‘‘ ہے جس میں براہین احمدیہ کے مضامین کو ہی پیش کیا گیا ہے۔ آپؓ ایک جگہ اس کتاب کو تفسیرالقرآن کادیباچہ قراردیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’براہین احمدیہ میرے نزدیک تفسیرالقرآن کا دیباچہ ہے۔ تفسیرالقرآن لکھتے وقت پہلے جن مضامین پر سیرکن بحث کرنی چاہئے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں شروع کیا تھا۔‘‘(فضائل القرآن نمبر ۴،انوار العلوم جلد ۱۲ صفحہ ۴۱۶)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: صحابہؓ کرام کا رسول کریمؐ اور خلفائے وقت کی بے مثال اطاعت اور ادب و احترام کا نمونہ




