چونکہ مسیح موعود نبی کریم کے وجود کا آئینہ اور برکات کی اشاعت اور تمام دینوں پر اسلام کے غلبہ سے آنجناب کے امر کا تمام کرنے والا تھا…
چونکہ مسیح موعود نبی کریم کے وجود کا آئینہ اور برکات کی اشاعت اور تمام دینوں پر اسلام کے غلبہ سے آنجناب کے امر کا تمام کرنے والا تھا لہٰذا نبی کریمؐ نے اس کی کوشش کو پسند کیا جیسا کہ باپ بیٹوں کی کوشش کا شکر ادا کرتے ہیں اور وصیت فرمائی کہ آنجناب کاسلام اس کو پہنچایا جائے۔ اوراس سلام سے یہ اشارہ ہے کہ سلامتی اور بلندی مسیح کے شامل حال ہوگی۔
’’ اور خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ جب کہ آخر زمانہ میں بڑا بھاری فتنہ اور بلا قیامت سے پہلے ظاہر ہوگی اُن دنوں میں اپنی طرف سے اپنے دین کی مدد اور تائید فرمائے گا اور اُس زمانہ میں اسلام بدرِ کامل کی طرح ہو جائے گا۔ اور اِسی کی طرف اشارہ ہے اس قول میں وَّنُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا۔ اور اس آیت سے ایک بڑے تفرقہ کی خبر دی جہاں کہ فرمایا ہے وَتَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ …الخ پھر نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ …الخ کے قول سے بشارت دی کہ اس پراگندگی کے بعد جمعیت حاصل ہوگی۔پس یہ جمعیت حاصل نہ ہوگی مگر بدرکی صدی میں تاکہ صورت اپنے معنے پر دلالت کرے جیسا کہ پہلی نصرت بدر میں وقوع میں آئی۔پس یہ دو خوشخبریاں مومنوں کے لئے ہیںاور موتی کی طرح کتابِ مبین میں چمکتی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے۔ اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو۔ اور اسی کی طرف خداتعالیٰ کے ا س قول میں اشارہ ہے سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی …الخ پس اس آیت میں فکر کر اور غافلوں کی طرح اس کے آگے سے مت گزر۔ اور مسجد حرام کے لفظ میں اور مسجد اقصیٰ کے لفظ میں جس کے وصف میں بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ مذکور ہوا ہے لطیف اشارہ ہے اُن کے لئے جو فکر کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ لفظ حرام ظاہر کرتا ہے کہ کافروں پر یہ بات حرام کی گئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دین کو فریب اور حیلوں سے ضرر پہنچائیں یا شکاریوں کی طرح اس پر برس پڑیں اور خدا نے اپنے نبی کو اور اپنے دین اور اپنے گھر کو حملہ آوروں کے حملہ سے اور بے دادگروں کے بیداد سے بچائے رکھا اور اس زمانہ میں دین کے دشمنوں کو جیسا کہ چاہیے تھا جڑ سے نہیں اکھاڑا لیکن دین کو ان کے حملہ سے محفوظ رکھا اور حرام کر دیا کہ وہ لڑائی میں غالب رہیں۔پس دین کی تائید کا امر مسجد حرام سے یعنی لئیموں کے دفع کرنے سے شروع ہوا پھر یہ امر مسجد اقصیٰ پر تمام ہوگا۔ یہ وہ مسجد ہے جس میں دین کا نور اقصیٰ کے مقام تک پورے چاند کی طرح پہنچے گا۔ اور ہر ایک برکت جو ایسے کمال کے وقت میں جس کے اوپر کوئی کمال نہ ہو تصور میں آوے اس کے لازم حال ہوتی ہے اور یہ خدائے علیم کا وعدہ ہے۔ پس مسجد حرام شر کے دور ہونے اور مکروہات سے محفوظ رہنے کا مُژدہ دیتی ہے۔ لیکن مسجد اقصیٰ کا مفہوم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رنگ برنگ کے برکات اور خیرات اور ترقیات عالیہ حاصل ہوں۔ پس ہمارے دین کا امر دفع ضرر سے شروع ہوا اور خیر کی تکمیل پر تمام ہوگا اور اس بیان میں غور کرنے والوں کے لئے نشان ہیں۔پھراَسْریٰ کی آیت ایک عجیب نکتہ رکھتی ہے کہ اس کا ذکر دوستوں کے لئے ضروری ہے تا علم اور یقین زیادہ ہو۔ اور خوب ظاہر ہے کہ سب سے بہتر مال اور دولت علم اور یقین ہے اور وہ یہ کہ اِسْرَاء زمان اور مکان کی حیثیت سے دونوں طرح واجب اور لازم تھا۔ اس جہت سے کہ ہمارے نبی کا سیر زمان اور مکان کے رُو سے تمام ہو اور معراج کاامر کامل ہو اور اس میں شک نہیںکہ نبی کریم کے زمانی معراج کے لئے انتہائی زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے۔ اور وہ برکات کے کمال کا زمانہ ہے اور اس کوہر ایک مومن بغیر انکار کے قبول کر سکتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ مسیح موعود کی مسجد، مسجد حرام کی نسبت سے زمانہ کی حیثیت سے اقصیٰ مساجد ہے۔ اور یقیناً اس مسجد کا ہر ایک پہلو برکت اور نور سے پورے چاند کی طرح بھر گیا ہے تا کہ اس کے وسیلہ سے دین کا دائرہ کامل ہو جائے۔ کیونکہ اسلام ہلال کی مانند مسجد حرام سے ظاہر ہوا پھر جب مسجد اقصیٰ تک پہنچا بدر کامل ہوگیا۔ اسی لئے مسیح موعود بدر کے شمار میں ظاہر ہوا۔ پھر دوسری دلیل اسراء زمانی کے وجوب پر یہ ہے کہ حق تعالیٰ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ (اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔ (الجمعۃ4:))کے قول میں اشارہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود کی جماعت خدا کے نزدیک صحابہ میں کی ایک جماعت ہے۔ اور اس نام رکھنے میں کچھ فرق نہیں اور یہ مرتبہ مسیح کی جماعت کو ہرگز حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان قدسی قوت اور اپنے روحانی افاضہ کے ساتھ موجود نہ ہوں جیسا کہ صحابہ کے اندر موجود تھے۔ یعنی مسیح موعود کے واسطہ سے ،کیونکہ وہ نبی کریم کا مظہر یا آنجناب کے لئے حلّہ کی مانند ہے۔ پس اس نَصِّ صَریح سے ظاہر ہوا کہ ہمارے نبی کا معراج مکانی اور زمانی دونوں طرح سے تھا اور اس نکتہ کا سوائے اندھے کے اور کوئی انکار نہیں کرتا اور شک نہیں کہ اس آیت کا مفہوم واجباً معراج زمانی کو چاہتا تھا۔ اور اگر وہ متحقق نہ ہوتا تو اس آیت کا مفہوم باطل ہو جاتا۔ چنانچہ اس نکتہ کو اہل فکر اور غور سمجھتے ہیں۔ پس یہاں سے ثابت ہوا کہ مسیح موعود محمدی حقیقت کا مظہر ہے اور جلالی حُلّوں میں نازل ہوا ہے۔ اسی لئے خدا کے نزدیک اس کا ظہور نبی مصطفی کا ظہور مانا گیا ہے اور اُس کا زمانہ رسول کریم کے زمانی معراج کا منتہا اور خیرالوریٰ کی روحانی تجلّی کا آخری سرا شمار کیا گیا ہے اور جہان کے پروردگار کا یہ پختہ وعدہ تھا۔ اور چونکہ مسیح موعود نبی کریم کے وجود کا آئینہ اور برکات کی اشاعت اور تمام دینوں پر اسلام کے غلبہ سے آنجناب کے امر کا تمام کرنے والا تھا لہٰذا نبی کریم نے اس کی کوشش کو پسند کیا جیسا کہ باپ بیٹوں کی کوشش کا شکر ادا کرتے ہیں اور وصیت فرمائی کہ آنجناب کاسلام اس کو پہنچایا جائے۔ اوراس سلام سے یہ اشارہ ہے کہ سلامتی اور بلندی مسیح کے شامل حال ہوگی۔ اور اگر مسیح موعود سے انجیل والا عیسیٰ ابن مریم مراد ہو تو سلام پہنچانے کی وصیت فاسد ہو جاتی ہے۔ اور اس تک کوئی رستہ نہیں رہتا۔ کیونکہ جب تمہارے کہنے کے بموجب عیسیٰ آسمان سے نازل ہوا تو اس میں شک نہیں کہ رسول کریم اور وہ دونوں آپس میں دوستوں کی طرح جان پہچان رکھتے ہوں گے اور ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو سلام کرتے ہوں گے۔ پس اس صورت میں سلام کو امانت کی طرح رکھنا ایک بیہودہ فعل ہوگا کیونکہ سلام بارہا آسمان میں واقع ہوا اور خبردار کرنے سے پہلے معلوم تھا۔ اس کے علاوہ ظاہر ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معراج کی رات حضرت عیسیٰ کو دیکھا۔ اور اس پر سلام کہا۔پس کوئی شک نہیں کہ آنجناب نے سلام کی وصیت کو ایسے شخص کے لئے فرمایا ہے کہ اس کو نہیں دیکھا ہے اور اس کے مشتاق رہے۔ اور اُس شخص کے لئے سلام کی وصیت کے کیا معنی ہیںجس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا وفات سے پہلے اور وفات کے بعد دیکھا۔ اور معراج کی رات اس پر سلام کہا اور مرنے کے بعد کسی وقت اس سے جدا نہ ہوئے ۔کیا یہ امر بغیر کسی اُمّت کے آدمی کے واسطہ کے ممکن نہ تھا۔پس سوچ اگر دیوانہ نہیں۔ کیا تو غور نہیں کرتا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان سے چلے گئے تو آنجناب کو حضرت عیسیٰ کی ملاقات کا موقعہ ہر وقت ملتا تھا۔اور اس سے پہلے اسراء کی رات میں آپس میں ملاقات ہوئی تھی اور اس سبب سے سلام کا دروازہ بغیر اس زمانہ کے لوگوں کے واسطہ کے مفتوح ہو گیا تھا۔ پس رسول اللہ کے سلام کو بیہودہ اور لغو مت سمجھ اور اس کے معنوں میں پوری غور سے سوچ۔ اے ہمارے پروردگار ہمارا سلام اس پر بھیج۔تمّت۔‘‘
(خطبہ الہامیہ مع اردو ترجمہ صفحہ 173تا180۔شائع کردہ نظارت اشاعت صدر انجمن احمدیہ پاکستان۔ربوہ(
