حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کرنے کےلیے ہیلی کاپٹر پر لے جایا گیا۔ اس موقع پر وہ بھورے رنگ کا لباس اور چمکدار نارنجی جوتے پہنے ہوئے تھے۔ لینڈنگ کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی میں ایک وین کے ذریعے منتقل کیا گیا۔سی این این کے مطابق نکولس مادورو کو لے جانے والا ایک موٹرکیڈ بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر سے روانہ ہوتے دیکھا گیا ہے، جہاں وہ گذشتہ دو روز سے منشیات اور اسلحہ سے متعلق الزامات کے تحت حراست میں ہیں۔

٭… چینی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وینزویلا کے حالات میں تبدیلی کے باوجود تعاون کے فروغ کی خواہش میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ وینزویلا میں چینی مفادات کا قانون کے ذریعے تحفظ کیا جائے گا۔ایک بیان میں ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے طاقت کے استعمال سے لاطینی امریکہ کے امن کو خطرہ ہے، تمام فریقین کو استحکام کی بحالی کو فروغ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔ دوسرے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے غنڈہ گردی کے اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں پر یواین سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی حمایت کرتے ہیں، عالمی صورتِ حال میں تبدیلی کے باوجود چین لاطینی امریکہ کا اچھا دوست رہے گا۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ لاطینی امریکہ کے لیے چین کی پالیسی مستقل اور مستحکم ہے، چین مداخلت کی کوئی پالیسی نہیں رکھتا، خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت سے متعلق مسائل پر لاطینی امریکہ کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو بھی وجہ ہو، لاطینی امریکہ کے داخلی معاملات میں دوسرے ممالک کی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں۔

٭… امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ کو قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کی ضرورت ہے تاہم ڈنمارک کی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ ضم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے راہنماؤں نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں۔یہ اپیلیں ایسے وقت کی گئی ہیں جب ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر اصرار کیا ہے کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے لیے وسائل سے مالا مال آرکٹک علاقے کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ اس بیان سے ایک روز قبل ہی امریکی افواج نے وینزویلا پر حملہ کیا تھا اور صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر لیا۔اتوار کے روز دی اٹلانٹک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ ہمیں دفاع کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرین لینڈ جزیرہ روسی اور چینی جہازوں سے گھرا ہوا ہے۔اتوار کی شام کو ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات چیت میں بھی ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے۔

٭… ایران میں حکومت مخالف احتجاج بڑھنے اور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرہ کے باعث سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پلان بی تیار کرلیا۔اس تناظر میں برطانوی میڈیا نے انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بدترین صورت حال میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماسکو چلے جانے کا پلان بی تیار کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر سیکیورٹی فورسز احتجاج پر قابو پانے میں ناکام ہوئیں یا وفاداری چھوڑ دی تو خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہل خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایران چھوڑ سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے اُنہوں نے تہران سے نکلنے کے ممکنہ راستوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور محفوظ انخلا کے لیے بیرونِ ملک جائیدادیں، اثاثے اور نقد رقم بھی جمع کی جارہی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خراب معیشت، مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی، امریکی پابندیاں، بدعنوانی اور بدانتظامی نے عوامی غصے کو ہوا دی ہے، ان حالات میں سیکیورٹی فورسز بھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

٭… چینی وزیر خارجہ یانگ ژی نے بیجنگ میں اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان ’دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری‘ کا اعادہ کیا گیا۔ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ چین اور پاکستان اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے، ایک دوسرے کے فائدے کے لیے تعاون مضبوط کریں گے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی سطح پر مل کر کام کرتے رہیں گے۔پاکستان چین کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے اور خطے میں تائیوان کی حیثیت، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سمیت متعدد حساس معاملات پر بیجنگ کی سفارتی حمایت کرتا رہا ہے۔اس کے بدلے میں بیجنگ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پراجیکٹ میں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ پراجیکٹ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ تجارتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے۔تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان میں سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر شدت پسند عناصر کے حملے اسلام آباد اور بیجنگ کے تعلقات میں کشیدگی کا ایک بڑا سبب بنے ہیں۔چین اور پاکستان کے تعلقات مزید پیچیدہ تب ہوئے جب ایک سال قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی۔تاہم اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ سی پیک کا ایک اپ گریڈڈ ورژن متعارف کرائیں گے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button