متفرق مضامین

عمرہ کا طریق ، فضیلت وبرکات اورمسنون دعائیں(قسط دوم۔ آخری)

(ظہیر احمد طاہر۔ جرمنی)

’’میں نے جب حج کیا تو حج کے موقع پر بعض احادیث اور بزرگوں کے اقوال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب پہلی دفعہ خانہ کعبہ نظر آئے تو اس وقت انسان جو دعا کرے وہ قبول ہوجاتی ہے۔ میں جب حج کے لیے روانہ ہوا تو حضرت خلیفہ اوّلؓ نے مجھے یہ بات بتائی اور فرمایا اس کا خیال رکھنا۔ جب میں وہاں پہنچا اور میں نے خانہ کعبہ کو دیکھا تو میں نے یہی دعا کی کہ الٰہی ! میری دعا تو یہ ہے کہ مجھے تُو مل جائے اور جب بھی میں تجھ سے دعا کروں تو تُو اسے قبول فرمالیا کر۔ مجھے جہاں تک خیال پڑتا ہے حضرت خلیفہ اوّلؓ نے بھی ایسی ہی دعا کی تھی۔ تو اہم موقعوں کو معمولی دعاؤں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اعلیٰ سے اعلیٰ مقاصد اپنے دل میں رکھ کر دعائیں کرنی چاہئیں تاکہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل ہم پر نازل ہوں۔ اور نہ صرف ہم پر بلکہ ہماری اولادوں پر بھی نازل ہوں۔‘‘(حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ)

مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے کچھ آداب ہیں جن میں سے بعض واجب ہیں اور بعض مسنون ومستحب۔ مکہ مکرمہ کا پہلا ادب غسل ہے۔ مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا دراصل غسلِ طواف ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم سے قریب ترین مقام پر پہنچتے تو لبیک کہنے سے رُک جاتے۔ پھر وہ وادیٔ ذی طویٰ میں رات بسر کرتے اور صبح کی نماز بھی وہیں پڑھتے اور نہاتے اور بیان کرتے کہ نبیﷺ بھی یہی کیا کرتے تھے۔(صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلۡاِغۡتِسَالُ عِنۡدِ دُخُوۡلِ مَکَّۃَ حدیث:۱۵۷۳) آج کل چونکہ تیز ترین سفری سہولتیں میسر ہیں اس لیے اگرکوئی شخص مدینہ میں نہالیتا ہے تو وہ چند گھنٹوںبعد مکہ پہنچ جاتا ہے اس لیے اس کا احرام باندھنے سے قبل کیا گیا غسل کفایت کرے گا۔ اس کے باوجود اگر محرم کسی وقت نہانا چاہے تو نہا سکتا ہے اس کی ممانعت نہیں۔

طواف سے پہلے وضو: جمہور کا مذہب ہے کہ طواف کے لیے وضو کرنا ایسا ہی ضروری ہے جیسا نماز کے لیے۔ وہ مندرجہ ذیل روایت سے استدلال کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آپؐ (مکہ میں ) آئے تو سب سے پہلی بات جس سے آپؐ نے حج شروع کیا وہ یہ تھی کہ آپؐ نے وضو کیا۔ پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ (صحیح البخاری کتاب الحج باب اَلطَّوَافُ عَلَی وُضُوۡءٍ حدیث:۱۶۴۱)

کعبہ کو دیکھ کر دعا کرنا: کعبہ کو دیکھ کر دعا کرنا مستحب ہے۔ بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ کعبہ پر پہلی نظر پڑنے پر جو دعا مانگی جاتی ہے اُس کی قبولیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ حضرت امّ عبدالرحمان بن طارق رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب دار یعلی کے مکان میں آتے (یعنی حرم کے قریب جہاں سے بیت اللہ دکھائی دینے لگتا ) تو قبلے کی طرف منہ کرتے اور دعا کرتے۔ (سنن نسائی کتاب الحج بَاب الدُّعَاءِ عِنۡدَ رَؤیَۃِ الۡبَیۡتِ حدیث:۲۹۰۱)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’میں نے جب حج کیا تو حج کے موقع پر بعض احادیث اور بزرگوں کے اقوال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب پہلی دفعہ خانہ کعبہ نظر آئے تو اس وقت انسان جو دعا کرے وہ قبول ہوجاتی ہے۔ میں جب حج کے لیے روانہ ہوا تو حضرت خلیفہ اوّلؓ نے مجھے یہ بات بتائی اور فرمایا اس کا خیال رکھنا۔ جب میں وہاں پہنچا اور میں نے خانہ کعبہ کو دیکھا تو میں نے یہی دعا کی کہ الٰہی ! میری دعا تو یہ ہے کہ مجھے تُو مل جائے اور جب بھی میں تجھ سے دعا کروں تو تُو اسے قبول فرمالیا کر۔ مجھے جہاں تک خیال پڑتا ہے حضرت خلیفہ اوّلؓ نے بھی ایسی ہی دعا کی تھی۔ تو اہم موقعوں کو معمولی دعاؤں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اعلیٰ سے اعلیٰ مقاصد اپنے دل میں رکھ کر دعائیں کرنی چاہئیں تاکہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل ہم پر نازل ہوں۔ اور نہ صرف ہم پر بلکہ ہماری اولادوں پر بھی نازل ہوں۔ ‘‘ (خطبات محمود جلد ۱۵صفحہ ۵۳۳)

طواف کعبہ:بیت اللہ کے گرد سات چکر لگانا طواف کہلاتا ہے جو سات پھیروں پر مشتمل ہے اور حج اور عمرہ کے لیے واجب عمل ہے۔ طواف حجر اسود کے سامنے سے شروع ہوکر حجر اسود پر ہی ختم ہوتا ہے۔ طواف کا طریق یہ ہے کہ حجر اَسود کے سامنے کسی مناسب جگہ،کھڑے ہوکر دائیں ہاتھ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اَللّٰہُ اَکۡبَرُ کہا جائے۔ طواف کے پہلے تین چکروں میں رَمَلۡ یعنی کسی قدر فخریہ انداز اختیار کرتے ہوئے کندھوں کو ہلاتے ہوئے تیز قدم چلنا مسنون ہے۔اس لیے مناسب یہی ہے کہ پہلے تین چکروں میں ایسی جگہ چلا جائے جہاں نسبتاًکم رش ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا۔ جب آپ مکہ میں آتے تو طواف شروع کرنے سے پہلے حجر اسود کو چھوتے۔ سات پھیروں میں سے تین پھیرے فوجی چال سے چل کر طے کرتے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اِسۡتِلَامُ الۡحَجَرِ الۡأَسۡوَدِ حدیث:۱۶۰۳) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ حج اور عمرہ میں تین پھیرے دوڑ کر چلے اور چار پھیرے معمولی چال سے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَابُ اسۡتِلَامِ الۡحَجَرِ الۡأَسۡوَدِ حدیث:۱۶۰۴) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ (مکہ میں) آئے۔ آپؐ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا۔ پھر آپؐ نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا ومروہ کے درمیان طواف کیا۔ پھر انہوں نے کہا : تمہارے لیے رسول اللہﷺ میں عمدہ نمونہ ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج باب صَلَّی النَّبِیُّؐ لِسُبُوۡعِہِ رَکۡعَتَیۡنِ حدیث:۱۶۲۳)ہرچکر مکمل ہونے پر حجرِ اسود کی طرف دائیں ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے اَللّٰہُ اَکۡبَرُ کہنا چاہیے۔ ساتواں چکر حجر اسود کے سامنے پہنچ کر ختم ہوگا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اونٹ پر سوا ر ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب آپؐ حجر اسود کے پاس آتے تو آپؐ اس کی طرف کسی چیز سے جو آپ کے پاس تھی، اشارہ کرکے اَللّٰہُ اَکۡبَر کہتے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلتَّکۡبِیۡرُ عِنۡدَ الرُّکۡنِ حدیث:۱۶۱۳) یعنی سنت سے ثابت ہے کہ نبی کریمﷺ نے اشارے سے بھی حجر اسود کا استلام یعنی بوسہ لیا ہے اس لیے اس موقع پر کسی قسم کی دھکم پیل جائز نہ ہوگی اگر بآسانی حجر اسود کو بوسہ دینے کا موقع میسر آجائے تو ٹھیک ورنہ خواہ مخواہ دوسروں کوتنگی میں مبتلا نہ کیا جائے بلکہ ہاتھ کے اشارے سے حجر اسود کا استلام کر لیا جائے۔

نوٹ: طواف کے دوران اگر نماز کا وقت آجائے تو نماز کے بعد وہیں سے طواف دوبارہ شروع کرے جہاں سے چھوڑا تھا اور بقیہ پھیرے مکمل کرے۔

اِضۡطِبَاع : طواف شروع کرتے ہوئے اپنی اوپر کی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لینا ’’ اضطباع ‘‘ کہلاتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہ نے مقام جعرانہ سے (احرام باندھ کر) عمرہ کیاتو بیت اللہ میں انہوں نے رمل کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے بائیں کندھوں پر ڈال لیا۔(سنن ابی داؤد کتاب المناسک باب الۡاِضۡطِبَاعِ فِی الطَّوَافِ حدیث:۱۸۸۴) اضطباع صرف طواف میں ہی کیا جاتا ہے۔ طواف کے بعد نماز اور دیگر اعمال میں اضطباع نہیں کیا جاتا۔

طواف کی برکت: حج یا عمرہ کے طواف کے علاوہ بھی کعبہ کا طواف کیا جاسکتا ہے اور یہ باعثِ خیروبرکت ہے۔جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے : وَعَہِدۡنَآ اِلٰٓی اِبۡرٰھٖمَ وَاِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَھِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَالۡعٰکِفِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ (البقرۃ:۱۲۶) اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک وصاف بنائے رکھو۔ قرآن کریم کے ایک اور مقام پر فرمایا : وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰھِیۡمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِکۡ بِیۡ شَیۡئًا وَّ طَھِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَالۡقَآئِمِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ (الحج:۲۷) اور جب ہم نے ابرہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ بنائی (یہ کہتے ہوئے کہ ) میرا کسی کو شریک نہ ٹھہرا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک وصاف رکھ۔ اللہ تعالیٰ کا ایک اور ارشادِ مبارک ہے : ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفۡثَھُمۡ وَلۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَھُمۡ وَلۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ (الحج:۳۰)پھر چاہیے کہ وہ اپنی (بدیوں کی ) میل کو دور کریں اور اپنی منتوں کو پورا کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ پس کعبہ کے طواف کی اپنی اہمیت اور خاص برکت ہے۔ ہر طواف یعنی سات چکروں کے بعد دو نفل پڑھے جائیں۔اگر کوئی چاہے تو عمرے کے طواف اور نوافل کی ادائیگی کے بعد اُسی وقت دوبارہ طواف بھی کیا جا سکتا ہے اس کے بعد صفا ومرویٰ کا طواف کرلے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ تحریر کرتے ہیں کہ طواف کے بعد مناسک حج میں دو رکعت نماز سنت ہے جو آنحضرتﷺ نے مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھیں۔ اس پر تمام اَئمہ کا اتفاق ہے۔طواف سات پھیروں پر مشتمل ہے۔ہر طواف پر دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص دو طواف کرتا ہے یعنی چودہ چکر کاٹتا ہے تو وہ چار رکعتیں نماز پڑھے گا۔ جمہور کے نزدیک ہر طواف یعنی سات پھیرے مکمل کرنے پر دو دو رکعتیں الگ الگ پڑھے۔ گوبعض متأخرین نے دو طواف کرنے کے بعد چار رکعتیں پڑھنا بھی جائز قرار دیا ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ ؒنے اسے مکروہ گردانا ہے کہ سنت نبویہ کے خلاف ہے۔(صحیح البخاری کتاب الحج جلد سوم صفحہ۳۰۲۔شائع کردہ نظارت اشاعت)

طواف: حج اور عمرہ کے علاوہ جب بھی موقع ملے کعبہ کا طواف بذاتِ خود بابرکت عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَلۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ (الحج:۳۰)اور اس قدیم گھر کاطواف کریں۔ طواف عمرہ: یہ طواف عمرہ کا اہم رکن اور فرض ہے۔ طواف تحیہ:یہ طواف مسجد حرام میں داخل ہونے والوں کے لیے مستحب ہے یعنی جب بھی مسجد حرام میں داخل ہونے کا موقع ملے طواف کرلینا چاہیے۔طواف نفل :اگر کسی شخص کو زیادہ دیر مسجد بیت الحرام میں ٹھہرنے کا موقع ملے تو وہ جب چاہے ایک بار یا متعدد بار طواف کرسکتاہے۔ طواف نذر:یہ طواف نذر ماننے والے پر واجب ہوتا ہے۔ نوٹ: والدین یا دیگر لوگوں کی طرف سے بھی طواف کیا جاسکتا ہے۔

طواف کی دعا: حضرت عبداللہ بن سائبؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا آپ رکنوں (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود)کے درمیان یہ دعا پڑھ رہے تھے: رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(ابوداؤد کتاب المناسک بَاب الدُّعاءِ الطَّوَافِ حدیث:۱۸۹۲) یہی دعا مستدرک حاکم میں بھی درج ہے۔(المستدرک علی الصحیحین، کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۷۳) اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھی حَسَنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حَسَنہ عطا کراور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔مستدرک حاکم میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ یہ دعا دونوں رکنوں کے درمیان پڑھا کرتے تھے: رَبِّ قَنِّعۡنِیۡ بِمَا رَزَقۡنَنِیۡ، وَبَارِکۡ لِیۡ فِیۡہِ، وَاخۡلُفۡ عَلٰی کُلِّ غَائِبَۃٍ لِیۡ بِخَیۡرٍ (المستدرک علی الصحیحین الجزء الأول کتاب المناسک حدیث:۱۶۸۴) اے اللہ ! تُو مجھے جو رزق عطا کرے اُس پر مجھے قناعت عطا فرما اور میرے لیے اُس میں برکت عطا فرما اور میری غیر موجودگی میں مجھے بہتر نائب عطا فرما۔ طواف میں رسول اللہﷺ سے یہی دعائیں ثابت ہیں۔ہر چکر کے لیے کوئی علیحدہ دعا کسی حدیث میں مذکور نہیں۔ طواف کرنے والے کوچاہیے کہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا ئیںپڑھے۔ دیگر مقامات پر تسبیح وتحمید، تکبیر اور تہلیل یعنی لَآاِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ کا ورد کرتا رہے یاجو دعائیں یاد ہوں وہ پڑھ لے یااپنی زبان میں دعا کرتا رہے۔

طواف کے دوران باتیں کرنا: طواف بھی نماز ہی کی طرح ہے لیکن عندالضرورت طواف کے دوران بات کی جاسکتی ہے لیکن مناسب یہی ہے کہ اپنی توجہ ذکرالٰہی اور دعاؤں کی طرف مرکوز رکھی جائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ جبکہ آپ کعبہ کا طواف کررہے تھے، ایک آدمی کے پاس سے گزرے کہ جس نے اپنا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمہ یا دھاگہ یا کسی اور چیز کے ذریعے باندھ رکھا تھا۔آپؐ نے اس کو اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا۔ پھر فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے چلو۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلۡکَلَامُ فِی الطَّوافِ حدیث:۱۶۲۰) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف، نماز کی طرح ہے۔ سوائے اس کے کہ تم اس میں گفتگو کرسکتے ہو، اس لیے جو گفتگو کرے، وہ اچھی کرے۔ (المستدرک، کِتَابُ مَنَاسِکِ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۸۷) ایک روایت میں ہے کہ اَلطَّوَافُ بِالۡبَیۡتِ صَلَاۃٌ فَأَقِلُّوۡا مِنَ الۡکَلَامِ (سنن نسائی، کتاب مناسک الحج، باب اِبَاحَۃِ الۡکَلَامِ فِی الطَّوَافِ حدیث:۲۹۲۷) یعنی طوافِ بیت اللہ بھی نماز ہی ہے۔ اس میں گفتگو کم کریں۔

حجر اسود کا استلام: حجر اسود بیضوی شکل کا ایک پتھر ہے جو بیت اللہ کے جنوب مشرقی کونے میں مسجد کے صحن سے ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر نصب ہے۔مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد اپنی جائے قیام پر سامان رکھنے کے بعد وضو یا غسل کرکے مسجد حرام میں جاکر خانہ ٔکعبہ کی دیوار کے ساتھ سجدہ کی طرز پر ہاتھ رکھ کر حجر اسود کو بوسہ دینا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کرسکیں تو اپنے ہاتھ سے اُسے چھوئیں اور اگر یہ بھی ناممکن ہوتو ہاتھ کے اشارے سے استلام( چوما) کیاجائے۔ دوسروں کو تکلیف میں ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا:عمر! تم طاقتور آدمی ہو، حجر اسود کو بوسہ دینے میں مزاحمت نہ کرنا، کہیں کمزور آدمی کو تکلیف نہ پہنچے، اگر خالی جگہ مل جائے استلام کرلینا، ورنہ محض استقبال کرکے تہلیل وتکبیر پر ہی اکتفا کرلینا۔ (مُسنَدامام احمد بن حنبل مُسنَد الۡخلفاء الراشدین حدیث نمبر۱۹۰) جمہور کا مذہب یہ ہے کہ حجر اسود کو ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو بوسہ دیا جائے اور اگر ہاتھ سے نہ چھو سکے تو چھڑی سے چھو کر چھڑی کو بوسہ دیاجائے اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو اشارہ ہی کافی ہے۔ (فتح الباری جزء ۳صفحہ ۵۹۷)

رکنِ یمانی کا استلام: حجر اسود سے پہلا کونہ رکن یمانی کہلاتا ہے۔ رکنِ یمانی کا اِستلام بھی مستحسن ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔رسول اللہﷺ نے رکن یمانی کا بوسہ لیااور اپنا رخسار اس پر رکھا۔(المستدرک، کِتَابُ مَنَاسِکِ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۷۵) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب بیت اللہ کا طواف کرتے تو ہر طواف میں رکن اور حجر اسود کو ہاتھ لگاتے یا استلام کرتے تھے۔(المستدرک، کِتَابُ مَنَاسِکِ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۷۶)رش زیادہ ہونے کی وجہ سے حجراسود یا رکن یمانی کو بوسہ دینے کا موقع نہ ملے تو ہاتھ سے چھونا کافی ہے اگر چھو نہ سکے توہاتھ کے اشارے سے استلام کرلے ۔دراصل جو شئے محبوبِ حقیقی سے منسوب ہوتی ہے محبانِ صادق کی نظر میں اُس کی قدروقیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے عاشق اپنے محبوب سے محبت کے اظہار میں اُس سے وابستہ چیزوں کو چھوتا یا چومتا ہے تاکہ اپنی محبت کا عملی اظہار کرسکے۔ پس حجر اسود کو چومنا یا بوسہ دینا اُسی محبت کی بنا پر ہے ورنہ اصل مقصود ذاتِ باری کی خوشنودی اور رضا کا حصول ہے۔یہی وجہ ہے کہ حج وعمرہ کرنے والا اپنی تمام توجہ حمدوتعریف، فروتنی، امیدوبیم اور دعاؤں کی طرف رکھتا ہے تاکہ اپنے محبوب ومقصود کو پالے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت عائشہ ؓ سے کہا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جب کعبہ بنایا تو اس نے حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں سے چھوٹا رکھا۔ میں نے کہا : یارسول اللہؐ ! آپؐ حضرت ابراہیم ؑکی بنیادوں پر اس کو کیوں نہیں لوٹادیتے ؟ آپؐ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کفر سے نئی نئی نہ نکلی ہوتی تو میں ضرور ایسا کرتا۔ حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺ سے یہ سنا تھا تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ نے ان دونوں رکنوں کا چومنا جو کہ حطیم کے قریب ہیں اسی لیے ترک کردیا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر پورے طور پر نہیں بنایا گیا تھا۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب فَضۡلُ مَکَّۃَ وَ بُنۡیَانُھَا حدیث :۱۵۸۳)

مقام ابراہیم پر نماز : بیت اللہ کے دروازہ اور ملتزم کے سامنے ایک قبہ (گنبد نما چھوٹی سی عمارت ) ہے۔ اس میں وہ پتھر رکھا ہوا ہے جس پر کھڑے ہوکر معبدِ توحید کے معمار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی دیواریں چنی تھیں۔اس پتھر پر آپؑ کے پائوں کے نشان ثبت ہوگئے جن کی گہرائی تقریباً ۱۰ سینٹی میٹر ہے۔ یہ پتھر اسی قبہ نما چھوٹی عمارت میں رکھا ہوا ہے۔ اس جگہ کو جہاں پتھر رکھا ہے ’مقام ابراہیم ‘کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰھٖمَ مُصَلًّی (البقرہ:۱۲۶) اور ابرہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو۔اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ قبلہ رُخ ہوکر نماز پڑھوگویا مقام ابراہیم سے یہ مراد ہے کہ جس طرح اس جگہ کھڑے ہوکر میرا بندہ قبلہ رُخ ہوکر نماز پڑھتا تھا تم بھی میرے بندے ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہوکرقیام اور رکوع وسجود کرو اور اُسی کی طرح فرمانبرداری اختیار کرو تاکہ تمہارا ظاہر وباطن اللہ تعالیٰ کی طرف مرکوز رہے۔ طواف مکمل ہونے پر قبلہ رُخ ہوکر دو نفل پڑھے جائیں جو طواف کے نفل کہلاتے ہیں۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے کعبہ کے سامنے دورکعت نماز پڑھی اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ بَاب قَوۡلُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰھٖمَ مُصَلًّی حدیث:۳۹۸) حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے دورکعتیں پڑھیں۔(صحیح البخاری کتاب الحج بَاب مَنۡ لَّمۡ یَدۡخُلِ الۡکَعۡبَۃَ حدیث:۱۶۰۰) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب حج اور عمرہ کے لیے (مکہ میں ) آتے تو پہلے طواف کرتے۔ تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے حسب معمول چلتے۔ پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ اس کے بعد صفاومروہ کے درمیان طواف کرتے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب مَنۡ طَافَ بِالۡبَیۡتِ اِذَا قَدِمَ مَکَّۃَ قَبۡلَ أَنۡ یَّرجِعَ اِلَی بَیۡتِہِ …حدیث:۱۶۱۶)

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ جب ہم آپؐ کے ساتھ بیت اللہ پہنچے۔ آپؐ نے رکن (حجرِ اسود ) کو بوسہ دیا اور تین دفعہ دوڑے اور چار مرتبہ چلے (اور طواف مکمل کیا)۔ پھر مقام ابراہیم علیہ السلام کی طرف تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرَاھٖمَ مُصَلًّی (البقرہ:۱۲۶) ابراہیم کے مقام کو نماز کی جگہ بناؤ۔آپؐ نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا (اور نماز پڑھی)۔ آپؐ ان دو رکعتوں میں قُلۡ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اور قُلۡ یٰاَیُّھَا الۡکَافِرُوۡنَ پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم کتاب الحج بَاب حَجَّۃِ النَّبِیِّﷺ حدیث:۲۱۲۳) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے طواف کی نماز کی پہلی رکعت میں قُلۡ یٰاَیُّھَا الۡکَافِرُوۡنَ اور دوسری رکعت میں قُلۡ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ پڑھی۔ (الجامع الکبیر للترمذی ابواب الحج بَابُ مَا جَآءَ مَا یُقۡرَأُ فِیۡ رَکۡعَتَی الطَّوافِ حدیث:۸۶۹۔ناشردارالغرب الاسلامی بیروت،الطبعۃ الاولی۱۹۹۶ء)حضرت ام ّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریمﷺ سے شکایت کی کہ میں مریض ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر لوگوں کے پیچھے سوار ہوکر تم طواف کرنا۔ چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریمﷺ بیت اللہ کے نزدیک نماز ادا کررہے تھے اور آپؐ اس میں سورۂ طور کی تلاوت فرمارہے تھے۔(سنن نسانی کتاب الحج بَاب کَیۡفَ طَوَافُ الۡمَرِیۡضِ حدیث:۲۹۳۰)پس طواف کے بعد دو رکعت نماز سنت ہے۔ اس پر تمام اَئمہ کا اتفاق ہے۔ طواف سات پھیروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ہر طواف پر دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص دو طواف کرتا ہے یعنی چودہ چکر کاٹتاہے تو وہ چار رکعتیں نماز پڑھے گا۔ جمہور کے نزدیک ہر طواف یعنی سات پھیرے مکمل کرنے پر دو دو رکعتیں الگ الگ پڑھے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج تشریح باب:۶۹جلد نمبر۳صفحہ ۳۰۲) اگر کسی کو ظاہری رنگ میں مقام ِ ابراہیم کے قریب یا اُس کے پیچھے کسی جگہ نماز کا موقع ملتا ہے تو اس پر عمل کرلے۔

بیت اللہ میں نوافل کی ادائیگی: خانہ کعبہ کا طواف دن اور رات کے کسی بھی حصے میں کیا جاسکتا ہے نیز طواف کے نفل ممنوعہ اوقات میںبھی ادا کیے جاسکتے ہیں۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے کعبہ کے متولیان بنی عبدِ مناف کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:یَا بَنِیۡ عَبۡدِ مُنَافٍ لَا تَمۡنَعُوا أحَداً طَافَ بِھٰذَا الۡبَیۡتِ وَصَلّٰی أَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَاَءَ مِنۡ لَیۡلٍ اَوۡ نَھَارٍ(الجماع الکبیر للترمذی أبواب الحج باب ماجاء فی الصَّلَاۃِ بَعۡدَ الۡعَصۡرِ وَبَعۡدَ الصُّبۡحِ لِمَنۡ یَطُوفُ حدیث:۸۶۸۔ ناشر دارالغرب الاسلامی بیروت۱۹۹۶ء) اے بنوعبدمناف! کسی ایسے شخص کو نہ روکو جو بیت اللہ کا طواف کرے یا دن اور رات کے کسی حصے میں نماز پڑھے۔ صحیح احادیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد حتّٰی کہ سورج اچھی طرح واضح ہوجائے اور عصر کے بعد حتّٰی کہ سورج غروب ہوجائے نماز نہیں ہوتی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے :میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ صبح کے بعد سورج چڑھنے تک کوئی نماز نہیں ہوتی اور نہ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ بَاب ۳۱:لَا یَتَحَرَّی الصَّلَاۃَ قَبۡلَ غُرُوۡبِ الشَّمۡسِ حدیث:۵۸۶) چونکہ آنحضرتﷺ کا مندرج بالافرمان خاص بیت اللہ کے لیے مخصوص ہے جہاںآپ ؐنے ہر وقت طواف کی اجازت مرحمت فرمائی ہے تو اس کے بعد ممنوعہ اوقات میں طواف کی دو رکعتیں بھی جائز ہوں گی۔

آبِ زم زم : زمزم کے لغوی معنی کثرت کے ہیں۔ (لسان العرب باب الزاء، تحت لفظ زمّ) مَاءِ زَمۡزَمَ کے معنی ہیں بہت پانی۔ آبِ زمزم تبرک کے طور پر پیا جاتا ہے۔ زمزم کا کنواں اور اس کا پانی یقیناًقیمتی یادگار ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو زمزم سے پلایا اور آپؐ نے پانی پیا اور آپ کھڑے ہی تھے۔(صحیح البخاری کتاب الحج مَا جَائَ فِی زَمۡزَمَ حدیث:۱۶۳۷) حضرت عثمان بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا میں آبِ زم زم پی کر آیا ہوں۔ ابن عباس ؓنے اس سے کہا : کیا تم نے اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے پیا ہے ؟ اس نے کہا کہ اس کے آداب کیا ہیں ؟ آپؓ نے فرمایا: جب آبِ زم زم پینے لگو تو قبلہ رُو ہوجاؤ، بسم اللہ پڑھو، تین سانسوں میں پیو اور سیر ہوکر پیو، جب فارغ ہوجاؤ تو الحمدللہ پڑھوکیونکہ رسول اللہﷺ نے اس کو ہمارے اور منافقوں کے مابین فرق قرار دیا ہے کیونکہ منافقین زم زم کا پانی سیر ہوکر نہیں پیتے۔ (المُسۡتَدۡرَکۡ عَلٰی الصَّحِیۡحِیۡن، کِتَابُ مَنَاسِکِ الۡحَجِّ حدیث:۱۷۳۸)

آبِ زم زم کی برکت: زم زم کا پانی پیتے وقت دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے کوئی بھی دعا مانگی جاسکتی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے : مَاءُ زَمۡزَمَ، لِمَا شُرِبَ لَہُ (سنن ابن ماجہ کِتَابُ الۡمَنَاسِکِ بَابُ الشُّرۡبِ مِنۡ زَمۡزَمَ حدیث:۳۰۶۲) زمزم کا پانی اس (مقصد) کے لیے ہے جس کے لیے وہ پیاجائے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: آبِ زم زم پینے سے مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ اگر تم اس کو حصولِ شفا کی نیت سے پیئو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ تمہیں شفا دے گااور اگر تم اسے حصول پناہ کی نیت سے پیئو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہیں پناہ دے گا اور اگر تم اسے صرف پیاس بجھانے کی غرض سے پیئو گے تو یہ تمہاری پیاس بجھائے گا۔ (المُسۡتَدۡرَکۡ عَلٰی الصَّحِیۡحِیۡن، کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۷۳۹)

زم زم پینے کے بعد کی دعا : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آبِ زم زم پینے کے بعد یوں دعا مانگا کرتے تھے: اللّٰھُمَّ اَسۡاَلُکَ عِلۡمًا نَافِعًا وَرِزۡقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنۡ کُلِّ دَاءٍ (المُسۡتَدۡرَکۡ عَلٰی الصَّحِیۡحِیۡن، کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۷۳۹) اے اللہ !میں تجھ سے نافع علم، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں۔

صفا ومروہ کی سعی : صفا اور مروہ بیت اللہ کے قریب جنوب مشرق اور شمال مشرق میں دو پہاڑیاں ہیں۔ ان پہاڑیوں پر حضرت ہاجرہ علیہاالسلام نے پانی کی تلاش میں انتہائی بیقراری اور بیتابی کے عالم میں سات چکر لگائے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے حج اور عمرے کالازمی جزو بنادیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپؐ لوگوں کو صفا ومروہ کی سعی کرتے دیکھتے تو فرماتے : یہ وہ عمل ہے جو تمہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سے ملا ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب التفسیر حدیث:۳۰۷۲)بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ ابتدا میں یہ دونوں پہاڑیاںکافی بلند تھیں لیکن حرم کعبہ کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کے بعض حصوں کو کافی بلند کردیا گیا جس کی وجہ سے ان پہاڑیوں کی بلندی کم ہوگئی جوکہ اس وقت ایک چھوٹے سے ٹیلے کے برابر دکھائی دیتی ہیں۔ان کے اوپر چڑھنے کے لیے ڈھلوان بنادی گئی تھی۔ عمرہ کرنے والا طوافِ کعبہ کے بعد صفا و مروہ کی سعی کرے۔ صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانا طواف یا سعی کہلاتا ہے۔ پہلے صفا کے پاس آنا چاہیے اور بیت اللہ کی طرف منہ کرکے اور ہاتھ اٹھا کر اپنے ربّ کے حضور دعا مانگے۔ درودشریف پڑھے اور تکبیر کہے۔یہاں سے مروہ پر جائے اور مروہ پر بھی اسی طرح دعائیں مانگے۔ یوں ایک چکر مکمل ہوجائے گا۔ اس کے بعد صفا کی طرف جانے سے دوسرا چکر مکمل ہو گا۔صرف پہلے چکر میں کعبہ کی طرف منہ کرکے اور ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگی جاتی ہیں اس کے بعد سات چکر مکمل کیے جائیں۔ صفا ومروہ کے چکر لگاتے وقت اگر انسان تھک جائے تو کچھ دیر سستانے کے لیے کسی مناسب جگہ بیٹھا جاسکتا ہے۔سعی کے لیے دو راستے بنائے گئے ہیں ایک رستہ صفا سے مروہ تک جانے کے لیے اور دوسرا مروہ سے صفا تک آنے کے لیے۔سعی کرنے والوں کے لیے مختلف جگہوں پر آبِ زمزم کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔اس جگہ بھی فرش پر سنگ مرمرکی ٹائلیں قبلہ رخ لگائی گئی ہیں تاکہ نماز کے وقت قبلہ کی سمت آسانی سے معلوم ہوسکے اور صفیں درست بنیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ روایت سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہﷺ جب صفا کے قریب آئے تو یہ آیت پڑھی۔ اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِاللّٰہِ (البقرہ:۱۵۹) یقیناً صفا اور مَروَہ شعائراللہ میں سے ہیں۔پھر آپؐ صفا پر چڑھے اور جب بیت اللہ نظرآگیا تو آپؐ نے قبلہ رُخ ہو کر تین بار یہ کلمات پڑھے: لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحۡدَہُ لَا شَرِیۡکَ لَہُ، لَہُ الۡمُلۡکُ وَلَہُ الۡحَمۡدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیۡئٍ قَدِیۡرٌ لَااِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحۡدَہُ أَنۡجَزَ وَعۡدَہُ وَنَصَرَ عَبۡدَہُ وَھَزَمَ الۡأَحۡزَابَ وَحۡدَہُ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، اسی کی سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندہ کی مدد کی اور لشکروں کو اکیلے پسپا کردیا۔پھر آپؐ نے دعا کی۔ پھر مروہ پر اس طرح کیا جیسے صفا پر کیا تھا۔ (صحیح مسلم کتاب الحج بَاب حَجَّۃِ النَّبِیِّؐ حدیث:۲۱۲۳) صفا اور مروہ کے درمیان کسی مسنون دعا کا ذکر نہیں ملتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :اِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالبَیۡتِ وَبَیۡنَ الصَّفَا وَالمَرۡوَۃِ وَرَمِیُ الۡجِمَارِ لاِقَامَۃِ ذِکۡرِ اللّٰہِ (سنن ابو داؤد کتاب المناسک بَابٌ فِی الرَّمۡلِ حدیث:۱۸۸۸) بےشک طوافِ بیت اللہ، صفا ومروہ کی سعی اورجمرات کو کنکریاں مارنا ذکر الہٰی قائم کرنے کے لیے ہیں۔ نوٹ: سعی کے دوران اگر نماز کا وقت آجائے تو نماز کے بعد وہیں سے دوبارہ شروع کرے جہاں سے چھوڑا تھا اور بقیہ پھیرے مکمل کرے۔

حلق یا تقصیر کروانا: عمرہ یا حج کے موقع پر احرام کھولنے سے پہلے بالوں کا منڈوانا حلق کرنا جبکہ بالوں کو کٹوانا تقصیر کہلاتا ہے۔عمرہ کا احرام کھولنے کا وہی طریق ہے جو حج کا احرام کھولنے کا ہے یعنی عمرہ کرنے کے بعد اپنے سر کے بال کٹوادے یا منڈوا دے اور عورت ایک دو لٹیں کاٹ کر احرام کھولے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے:لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَمُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَاتَخَافُوۡنَ(الفتح:۲۸)یقیناً اللہ نے اپنے رسول کو (اس کی) رؤیا حق کے ساتھ پوری کر دکھائی کہ اگر اللہ چاہے گا تو تم ضرور بالضرور مسجدِ حرام میں امن کی حالت میں داخل ہوگے، اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بال کترواتے ہوئے، ایسی حالت میں کہ تم خوف نہیں کروگے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے حج میں سر منڈوایا۔ (صحیح البخاری کتاب الحج باب اَلۡحَلۡقُ وَالتَّقۡصِیۡرُ عِنۡدَ الۡاِحۡلَالِ حدیث:۱۷۲۶) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم کر۔ انہوں نے کہا : بال کتروانے والوں پر، یا رسول اللہؐ! فرمایا: اے اللہ ! سرمنڈوانے والوں پر رحم کر۔ انہوں نے کہا: اور بال کتروانے والوں پر بھی یار سول اللہؐ! فرمایا: اور بال کتروانے والوں پر بھی۔ (صحیح البخاری کتاب الحج باب اَلۡحَلۡقُ وَالتَّقۡصِیۡرُ عِنۡدَ الۡاِحۡلَالِ حدیث:۱۷۲۷) فقہاء نے اس ضمن میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ بال کس قدر منڈوائے جائیں یا کتروائے جائیں۔ امام مالک ؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک سارے اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک چوتھائی کافی ہیں۔ (فتح الباری جزء ۳صفحہ ۷۱۳) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :لَیۡسَ عَلَی النِّسَاءِ الۡحَلۡقُ اِنَّمَا عَلَی النِّسَاءِ التَّقۡصِیۡرُ (سنن ابوداؤد کتاب المناسک بَاب الۡحَلۡقِ وَالتَّقۡصِیرِحدیث:۱۹۸۴) عورتوں پر سر منڈوانا نہیں ہے ان پر صرف بالوں کا کاٹنا ہے۔

کعبہ کے اندر نماز: ہر طواف کرنے والا چاہتا ہے کہ اے کاش!میں کعبہ کے اندر جاؤں اور وہاں نوافل ادا کروں۔ آپ اپنی یہ خواہش حطیم میں پوری کرسکتے ہیںکیونکہ حطیم کعبہ ہی کا حصہ ہے۔کعبہ کی شمالی جانب ایک قوس نما دیوار بنی ہوئی ہے، اس احاطہ کو حطیم،حجر اسماعیل اور حطیرۂ اسماعیل بھی کہا جاتا ہے۔حطیم دراصل بیت اللہ کاہی حصہ ہے لیکن قریش کی تعمیر کے وقت اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس حصہ کو بیت اللہ میں شامل نہیں کیا جاسکا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ سے (حطیم کی ) دیوار کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ بیت اللہ کا (حصہ) ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! میں نے کہا :پھر ان کو کیا ہوا کہ انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری قوم کے پاس اخراجات کم ہوگئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ پھر اس کا یہ دروازہ کیوں اونچا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا : تمہاری قوم نے یہ اس لیے کیا کہ وہ جسے چاہیں اندر لے جائیں اور جس کو چاہیں روک دیں اور اگر تمہاری قوم جاہلیت سے قریب زمانہ کی نہ ہوتی جس سے مجھے اندیشہ ہے کہ ان کے دل بُرا مانیں گے کہ میں حطیم کو بیت اللہ میں شامل کروں اور بیت اللہ کے دروازہ کو زمین سے ملا دوں (تو ایسا کردیتا )۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب فَضۡلُ مَکَّۃَ وَبُنۡیَانُھَا حدیث:۱۵۸۴) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میں بیت اللہ کے اندر جاکر نماز پڑھنا چاہتی تھی تو رسول اللہﷺنے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں لے گئے۔پھر فرمایا: جب تو بیت اللہ کے اندر جانا چاہے تو یہاں کھڑے ہوکر نماز پڑھ لے یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے لیکن تیری قوم نے بناتے وقت کمی کی۔ (سنن نسائی کتاب الحج بَاب الصَّلَاۃِ فِی الۡحِجۡرِ حدیث:۲۹۱۷)

ملتزم کے ساتھ چمٹنا: حجر اسود والے کونے اور خانہ کعبہ کے دروازہ کی درمیانی جگہ کو ملتزم کہتے ہیں، یہ حصہ تقریباً تین میٹر ہے۔یہ قبولیت دعا کی جگہ ہے اس مقام پر سنت یہ ہے کہ بیت اللہ کی دیوار سے اس طرح چمٹ کر دعائیں کی جائیں کہ رخسار، سینہ اور ہاتھ چمٹے ہوئے ہوں۔ روایات سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہ اس جگہ ہاتھ پھیلا کر کعبہ کی دیوار کے ساتھ چمٹ کراور اپنے رخسار اس کے ساتھ لگا کر دعائیں کیا کرتے تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ کو دیکھا کہ آپؐ اور آپ کے صحابہ کعبہ کے اندر سے نکل چکے تھے اور دروازے سے حطیم تک بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے رخسار کعبے کے ساتھ لگائے ہوئے تھے اور رسول اللہﷺ اُن کے درمیان تھے۔ (سنن ابی داؤد کتاب المناسک بَاب الۡمُلۡتَزَمِ حدیث:۱۸۹۸) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا اور حجر اسود اور دروازے کے درمیان رُک گئے پھر اپنا سینہ اور چہرہ اس پر رکھا، اپنی کلائیوں اور ہاتھوں کوخوب پھیلایا۔پھر کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد کتاب المناسک بَاب الۡمُلۡتَزَمِ حدیث:۱۸۹۹)

شعیب کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دادا) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا۔ جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے تو ہم نے کعبہ کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا کہ کیا آپ آگ سے اللہ کی پناہ نہیں مانگتے؟ انہوں نے کہا کہ میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، پھروہ (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما )چلے اور حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر حجر اسود اور بابِ کعبہ کے درمیان کھڑے ہوکر اپناسینہ، اپنے ہاتھ اور اپنا رخسار کعبہ سے لگا دیا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔(سنن ابن ماجہ کتاب المناسک بَاب ُ الۡمُلۡتَزَمِ حدیث ۲۹۶۲) یہ تو نصیبوں اور سعادتوں کی بات ہے۔ اگر کسی وقت بیت اللہ کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان کعبہ کے ساتھ چمٹنے اور دعا کا خاص موقعہ ملے تو اس موقعے سے ضرور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

طواف وسعی کا مقصد کیا ہے؟سعی نام ہے تلاش کا،جستجو کا، بقا ئے حیات کے لیے کوشش کا۔ ایک ایسی حرکت کا،جس میں وصلِ یار کی تڑپ اور دیدار ِمحبوب کی بےقرار ی ہویعنی کسی خاص مقصد اور کسی عہد وپیمان کے بغیر یہ سعی،فضول اور یہ تگ ودَو بے محل ہے۔پس اس سعی کے دوران ایک دیوانے کی مانند اپنے جسم وروح کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا دینا چاہیے۔بیت اللہ کے طواف اور صفاو مروہ کی سعی کے دوران کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: شیطانوں کو کنکریاں مارنا اور طواف کرنا اور صفاومروہ کے درمیان سعی کرنا، ذکراللہ قائم کرنے کے لیے ہے۔ (المستدرک، کِتَابُ مَنَاسِکِ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۶۹)

صفا ومروہ کا مختصر تعارف: صفا ومروہ اس سلسلہ کوہِ صفا کی دو چوٹیاں ہیں جو مکہ مکرمہ کی شمال مشرقی جہت میں واقع ہیں۔ جن کی نسبت مشہور ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہاالسلام پانی کی تلاش میں کبھی اس چوٹی پر آئیں کبھی اس چوٹی پر اور چاروں طرف نظر دوڑاتیں کہ کہیں پانی کا نشان ملے۔ صفا جمع ہے صفاۃ کی، جس کے معنی ہیں صاف چٹان۔ (لسان العرب، صفا) صفا بیت اللہ کے جنوب مشرق کی جانب واقع ہے۔ مروہ شمال مشرقی جانب۔ یہ دونوں پہاڑیاں شعائراللہ قرار دی گئی ہیں۔ شعائر جمع ہے شعیرہ یا شعارہ کی، جس کے لغوی معنی علامت کے ہیں۔ (لسان العرب، شعر) شَعَائِرُ اللّٰہ: اصطلاحِ شریعت میں شعیرہ ہر وہ شئے ہے جو شانِ الوہیت کے لیے بطور نشان سمجھی جائے اور صفاتِ باری تعالیٰ کی نشان دہی کرے۔ اسے دیکھ کر یہ معلوم ہو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی عبودیت پر اپنی شانِ الوہیت کی خارق عادت تجلی فرماتا ہے حج کے مناسک یعنی ایسی عبادتیں جن کا تعلق حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی عظیم الشان قربانیوں سے ہے وہ سب مذکورہ بالا معنے میں شعائراللہ ہیں۔ (صحیح البخاری کتاب الحج تشریح زیر حدیث۱۶۴۳)

حج و عمرہ سے واپسی کی دعا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب کبھی کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے لوٹتے تو زمین کی ہر بلندی پر چڑھتے وقت اللہ اکبر تین بار کہتے۔ پھر فرماتے : لَا اِلَہَ اِلَّااللّٰہُ وَحۡدَہُ لَا شَرِیۡکَ لَہُ لَہُ الۡمُلۡکُ وَلَہُ الۡحَمۡدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیۡئٍ قَدِیۡرٌ، آیِبُوۡنَ تَائِبُوۡنَ عَابِدُوۡنَ سَاجِدُوۡنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوۡنَ صَدَقَ اللّٰہُ وَعۡدَہُ وَنَصَرَ عَبۡدَہُ وَھَزَمَ الۡاَحۡزَابَ وَحۡدَہُ۔(صحیح البخاری کتاب العمرۃ بَاب مَا یَقُوۡلُ اِذَا رَجَعَ مِنَ الۡحَجِّ أَوِ الۡعُمۡرَۃِ أَوِالۡغَزۡوِ حدیث:۱۷۹۷) ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اس کی ستائش ہے اور وہ ہر شئے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لوٹ رہے ہیں۔ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہیں۔ اسی کے عبادت گزار، اسی کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اپنے ربّ کے شکر گزار ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کردیا اور اپنے بندے کی نصرت فرمائی۔ اس نے جتھوں کو تنہا شکست دے دی۔

عمرہ ایک نظر میں : غسل کرنا (سنت)۔ احرام باندھنا۔دو نفل ادا کرنا(سنت) کسی میقات پرقبلہ رُخ ہوکر لَبَّیۡکَ بِعُمۡرَۃکے الفاظ کے ساتھ اونچی آواز میں اَللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ کہہ کرعمرے کی نیت کرنا۔ دوران سفر وقفے وقفے سے قدرے اونچی آواز میں تلبیہ یعنی لَبَّیۡکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ دہراتے رہنا۔طواف سے پہلے وضو کرنا۔(اگر پہلے سے وضو قائم ہو تو اس کی ضرورت نہیں )حجر اسود کا بوسہ لینا یا سامنے کھڑے ہوکر اس کا بوسہ لے کر یا دور سے ہاتھ کے اشارے سے استلام کرکے طواف کا آغا ز کرنا۔ طواف کے سات چکر لگانا۔آب زم زم پینا(سنت) دو نفل ادا کرنا (سنت) صفا اور مروہ کے سات چکر لگانا۔سرکے بال منڈوانا یا کتروانا۔ احرام کھول دینا۔

خلاصہ کلام یہ کہ اس جان کاہی، محنت ومشقت اوروالہانہ محبت وشوق سے لگائے گئے پھیروں کے بعد بھی اگر دلوں کی صفائی نہ ہو۔ اعمالِ صالحہ کی بجاآوری میں مستعد نہ ہواورنیتوں کی درستی کا پختہ عہد نہ باندھا جائے تو ایک نئی زندگی اور ایک نئی پیدائش کی اُمید فضول ہے کیونکہ ان تمام اعمال اور متعدد افعا ل کے بجالانے سے اللہ تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ اس ذریعہ سے ہم ایک ایسے سفر کا آغاز کریں جس سے ہماری بدیوں کی میل دُور ہو اور لقائے الٰہی کا حصول ممکن ہوسکے۔ ربِّ کریم نے فرمایا ہے : ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَھُمۡ وَلۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَھُمۡ وَلۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ( الحج: ۳۰) پھر چاہیے کہ وہ اپنی (بدیوں کی ) میل کو دور کریں اور اپنی منتوں کو پورا کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: عمرہ کا طریق ، فضیلت وبرکات اورمسنون دعائیں(قسط اوّل)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button