کلام حضرت مصلح موعود ؓ

25؍مارچ 2018ء کو جامعہ احمدیہ یُوکے میں تقریب تقسیم اسناد کے موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے منظوم کلام میں سے حسب ذیل اشعار پڑھے گئے

وہ بھی ہیں کچھ جو کہ تیرے عشق سے مخمور ہیں

دنیوی آلائشوں سے پاک ہیں وہ دُور ہیں

دنیا والوں نے انہیں بےگھر کیا بے در کیا

پھر بھی ان کے قلب حُبِّ خلق سے معمور ہیں

تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

ڈھانپتے رہتے ہیں ہر دم دوسروں کے عیب کو

ہیں چھپاتے رہتے وہ دنیا جہاں کے عیب کو

ان کا شیوہ نیک ظنی نیک خواہی ہے سَدا

آنے دیتے ہی نہیں دل میں کبھی بھی ریب کو

تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

روز و شب قرآن میں فکر و تدبر مشغلہ

اُن پہ دروازہ کھلا ہے دین کے اَسرار کا

اک طرف تیری محبت اک طرف دنیا کا درد

دل پھٹا جاتا ہے سینے میں ہے چہرہ زرد زرد

ہیں لگے رہتے دعاؤں میں وہ دن بھی رات بھی

ہیں زمین و آسماں میں پھر رہے وہ رَہ نوَرد

تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

بادۂ عرفاں سے تیری ان کے سر مخمور ہیں

جذبۂ الفت سے تیرے ان کے دل معمور ہیں

ان کے سینوں میں اٹھا کرتے ہیں طوفاں رات دن

وہ زمانہ بھر میں دیوانے ترے مشہور ہیں

تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

بند کر کے آنکھ دنیا کی طرف سے آج وہ

رکھ رہے ہیں تیرے دیں کی سب جہاں میں لاج وہ

ساری دنیا سے ہے بڑھ کر حوصلہ ان کا بلند

پھینکتے ہیں عرش کے کنگوروں پر اپنی کمند

کیوں نہ ہو وہ صاحبِؐ معراج کے شاگرد ہیں

آسماں پر اُڑ رہا ہے اِس لئے ان کا سمند

تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

جن کو سمجھی تھی بُرادنیا وُہی تیرے ہوئے

شیر کی مانند اٹھے ہیں وہ اب بپھرے ہوئے

نام تیرا کر رہے ہیں ساری دنیا میں بلند

جاں ہتھیلی پر دھرے سر پر کفن باندھے ہوئے

تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button