احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
عیسائیوں اور آریوں کے مقابلہ میں مرزا صاحب کی خدمات کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں سر پر بٹھایا اور دلوں میں جگہ دی
صور اسرافیل
دوسرے مذاہب کے نمائندوں کے لیے یہ کتاب صور اسرافیل بنی اور مخالف کیمپ میں کھلبلی مچا دی۔ کیونکہ اس میں دوسرے علماء کی طرح معذرت خواہانہ انداز نہیں تھا۔ پسپائی کا کوئی رنگ نہیں تھا۔ باران رحمت کی ہوا تھی جس نے مخالفانہ ہواؤں کا رخ پھیر دیا۔

مولانا ابوالحسن علی ندوی اس کا اعتراف یوں کرتے ہیں: ’’اس کتاب کی کامیابی اور اس کی تاثیر کاایک سبب یہ بھی تھا کہ اس میں دوسرے مذاہب کو چیلنج کیا تھا اور کتاب جواب دہی کے بجائے حملہ آور انہ انداز میں لکھی گئی تھی۔‘‘(قادیانیت مطالعہ و جائزہ از سیدابوالحسن علی ندوی صفحہ۵۰مطبوعہ مجلس نشریات اسلام کراچی)
اس آواز میں اتنی شدت تھی کہ دشمنوں نے اس کا بھرپور نوٹس لیا اور کتاب کا اصل مضمون آشکار ہونے سے پیشتر ہی اس کا جواب لکھنے کے بلند وبانگ دعاوی منظر عام پر آنے لگے۔ یہیں سے لیکھرام اور دوسرے گندہ دہن لیڈروں کی کہانی کا آغاز ہوتا ہے جو بالآخر عبرت کا نشان بن گئے۔ وہ جو بڑھ بڑھ کر دین حق پر حملے کر رہے تھے ان کو منہ کی کھانی پڑی اور دین حق کی طرف سے اس کامیاب دفاع نے انہیں حواس باختہ کر دیا پھر اس ذریعہ سے اس جدید علم کلام کی بنیادپڑی جس نے مذہبی دنیا میں فوقیت حاصل کی۔
عقلی دلائل سے قطع نظر اس کتاب نے مذہب کی صداقت کا ایک ایسا معیار پیش کیا جو یقینی اور حتمی ہے۔ اس سے مراد مکالمات الٰہیہ کا نشان ہے جو سچے مذہب کو عطا ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو کثرت کے ساتھ دین حق کی صداقت کے طور پر پیش فرمایا ہے اور خاص طور پر وہ الہامات جن سے غیب کی خبریں دی گئی ہیں۔ چنانچہ اس کتاب نے ایک نئے علم کلام کی بنا ڈالی ہے جس نے اس زمانہ میں دین حق کے غلبہ کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے اور اسی پر احمدیت کی ترقی کا انحصار ہے۔ یہ وہ فیصلہ کن امر ہے جو ایک صاحب تجربہ عارف باللہ اور ایک عام مُلّا کے خیالات میں فرق بیّن کر کے دکھاتا ہے۔ چنانچہ اس کا اظہار مولوی محمد حسین بٹالوی نے جلسہ مذاہب عالم ۱۸۹۶ء میں کیا۔
’’انبیاء فوت ہوچکے۔ امت محمدیہ کے بزرگ ختم ہو چکے۔بیشک وارث انبیاء ولی تھے وہ کرامت رکھتے اور برکات رکھتے تھے لیکن وہ نظر نہیں آتے۔ زیرزمین ہو گئے آج اسلام ان کرامت والوں سے خالی ہے اورہم کو گزشتہ اخبار کی طرف حوالہ کرنا پڑتا ہے ہم نہیں دکھا سکتے۔‘‘ (رپورٹ جلسۂ اعظم مذاہب دھرم مہوتسو صفحہ ۱۴۶)
براہین احمدیہ کا پہلا ورق ہی منشائے الٰہی کے بیان سے شروع ہو رہا ہے اور الہام کی روشنی میں آگے بڑھتا ہے۔ تحریک احمدیت کے ناقد سید ابوالحسن علی ندوی نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے: ’’کتاب کا مرکزی مضمون اور جوہر یہ ہے کہ الہام کا سلسلہ نہ منقطع ہوا ہے نہ اس کو منقطع ہونا چاہئے۔ یہی الہام دعوے کی صحت اور مذہب و عقیدے کی صداقت کی سب سے زیادہ طاقتور دلیل ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کا اتباع کامل کرے گا اس کو علم ظاہر اور علم باطن سے سرفراز کیا جائے گا۔‘‘ (قادیانیت مطالعہ و جائزہ از ابو الحسن علی ندوی صفحہ۴۵مطبوعہ مجلس نشریات اسلام کراچی)
چنانچہ اس کتاب میں بیان کردہ الہامات میں سے بہت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں پورے ہوئے اور بعض مسلسل پورے ہو رہے ہیں اور آپؑ کی صداقت کو ثابت کرتے چلے جا رہےہیں۔
براہین احمدیہ کی علمی اور روحانی برتری کاجادواس وقت بھی سرچڑھ کربولا کہ جب ہندوستان کی اس وقت کی ابھرتی ہوئی تنظیم آریہ سماج کہ جو اس وقت ایک آتش فشاں کاروپ دھارے ہوئے اپنی تبلیغی اور علمی سرگرمیوں سے تمام مذاہب اور بالخصوص اسلام کوبھسم کردینے کی کوششوں میں مصروف اور ارادوں میں پرعزم نظرآرہی تھی۔ یہ براہین احمدیہ تھی کہ جس نے آگے بڑھ کراس کے عقائد پرگھڑوں پانی ڈال کراس کوراکھ کاایک ڈھیر ثابت کردیا اور اس کے بانی پنڈت دیانندسرسوتی صاحب کو اتنی بھی ہمت نہ ہوسکی کہ مؤلف براہین احمدیہ کاسامنا ہی کرپاتے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمدصاحبؓ ایم۔اےاپنی تصنیف’’سلسلہ احمدیہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ان ایام میں پنڈت دیانند سرسوتی کی تحریک سے بیدار ہو کر ہندوؤں میں ایک جماعت آریہ سماج کے نام سے قائم ہوئی جس نے نہ صرف ہندوؤں کے لئے ایک نیا مذہبی فلسفہ پیش کیا بلکہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ پر بھی ہندو قوم میں ایک جارحانہ روح پیدا کر دی۔ دوسری طرف ہندوستان کے مسیحی پادریوں نے بھی جو دہلی کے غدر کے بعد سے مسلمانوں کے مذہبی جوش و خروش سے کسی قدر مرعوب ہو کر سہمے ہوئے تھے اب پھر سر اٹھانا شروع کیا اور حکومت کے سایہ میں ایک نہایت پُرزور مشنری مہم شروع کر دی اور ویسے بھی اس زمانہ میں صلیبی مذہب ساری دنیا میں ایک طوفان عظیم کی طرح جوش مار رہا تھا۔ تیسری طرف یہ زمانہ ہندوستان کی مشہور مذہبی تحریک برہمو سماج کے زور کا زمانہ تھا جس کا جدید مذہبی فلسفہ امن اور آشتی اور صلح کل پالیسی کے لباس میں مذہب کی عمومی روح کیلئے گویا ایک کاٹنے والی تلوار کا حکم رکھتا تھا۔ اور چوتھی طرف اس زمانہ میں ساری دنیا کا یہ حال ہو رہا تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن کی بظاہر خوشگوار ہوائیں جہاں جہاں سے بھی گزرتی تھیں دہریت اور مادیت کا بیج بوتی جاتی تھیں اور یہ زہر بڑی سرعت کے ساتھ ہر قوم و ملت میں سرایت کرتا جا رہا تھا۔ اس چوکور خطرے کو حضرت مسیح موعودؑکی تیز اور دوربین آنکھ نے دیکھا اور آپ کی اکیلی مگر بہادر روح اس مہیب خطرے کے مقابلہ کے لئے بے قرار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ کی سب سے پہلی تصنیف جو براہین احمدیہ کے نام سے موسوم ہے اور چار جلدوں میں ہے اسی مرکب حملہ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب میں خصوصیت سے الہام کی ضرورت اور اس کی حقیقت اسلام کی صداقت اور قرآن کی فضیلت،خداتعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کی وسعت، خدا کی خالقیت اور اس کی مالکیت پر نہایت لطیف اور سیر کن بحثیں ہیں اور ساتھ ہی اپنا ملہم ہونا ظاہر کر کے اپنے بہت سے الہامات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بہت سے الہام آئندہ کے متعلق عظیم الشان پیشگوئیوں پر مشتمل ہیں۔‘‘ (سلسلہ احمدیہ صفحہ۱۷ ،۱۸ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، ایڈیشن اول دسمبر ۱۹۳۹ء مطبع نظارت تالیف و تصنیف)
جناب ایڈیٹر صاحب ’’پیسہ اخبار‘‘ لاہور نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کے بارے میں لکھا۔
’’مرزا صاحب کی تمام کوششیں آریہ اور عیسائیوں کی مخالفت میں اور مسلمانوں کی تائید میں صرف ہوئی ہیں جیسا کہ ان کی مشہور تصنیفات ’’براہین احمدیہ‘‘، ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ اور بعد کے رسائل سے واضح ہیں۔‘‘ (پیسہ اخبار لاہور دو شنبہ ۲۲ فروری ۱۸۹۲ءبحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۴۵۶)
نامور صحافی سید حبیب صاحب ایڈیٹر اخبار ’’سیاست‘‘ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کی اسلامی خدمات اور آریوں اور عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بارہ میں لکھتے ہیں۔
’’مسلمانوں کو بہکانے کیلئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلام اور اس کے بانی صلعم پر بے پناہ حملے شروع کر دیئے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ آخر زمانہ نے تین آدمی ان کے مقابلہ کے لئے پیدا کئے۔ ہندوؤں میں سے سوامی شری دیانند جی مہاراج نے جنم لے کر آریہ دھرم کی بنیاد ڈالی اور عیسائی حملہ آوروں کا مقابلہ شروع کیا۔ مسلمانوں میں سرسید علیہ الرحمۃ نے سپر سنبھالی اور ان کے بعد مرزا غلام احمد صاحب اس میدان میں اترے … مذہبی حملوں کا جواب دینے میں البتہ سرسید کامیاب نہیں ہوئے اس لئے کہ انہوں نے ہر معجزے سے انکار کیا اور ہر مسئلہ کو بزعم خود عقل انسانی کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں بچے کھچے جو علماء بھی موجود تھے ان میں اور سرسید میں ٹھن گئی۔ کفر کے فتویٰ شائع ہوئے اور بہت غلاظت اُچھلی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحی پروپیگنڈا زور پکڑ گیا اور علی گڑھ کالج مسلمانوں کی بجائے ایک قسم کے ملحد پیدا کرنے لگا۔ یہ لوگ محض پیدائش کی وجہ سے مسلمان ہوتے تھے ورنہ انہیں اسلام پر کوئی اعتقاد نہ ہوتا تھا … اس وقت کے آریہ اور مسیحی مبلّغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اکّے دُکّے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے۔ مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔ اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا…
مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اپنی کامیابی سے متاثر ہو کر نبوت کا دعویٰ نہ کرتے تو ہم انہیں زمانہ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم مانتے…مسلمان ایک ایسی قوم ہے جو اپنے خدام کی قدر کرتی ہے۔ عیسائیوں اور آریوں کے مقابلہ میں مرزا صاحب کی خدمات کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں سر پر بٹھایا اور دلوں میں جگہ دی۔ مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم اور مولانا ثناء اللہ امرتسری جیسے بزرگ ان کے حامی اور معترف تھے اور انہی ہی کے نام کا ڈنکہ بجاتے تھے۔غرض مرزا صاحب کی کامیابی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے جب کہ جہالت مسلمانوں پر قابض تھی اور اسلام مسیحی اور آریہ مبلغین کے طعن و تشنیع کا مورد بنا ہوا تھا۔ مرزا صاحب نے اس حالت سے فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کی طرف سے سینہ سپر ہو کر اغیار کا مقابلہ کیا۔‘‘(تحریک قادیان صفحہ ۲۰۷ تا ۲۱۰بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ فروری ۱۹۹۸ء صفحہ ۱۲۰، ۱۲۱)
معروف صحافی عبداللہ ملک نے اپنی کتاب ’’پنجاب کی سیاسی تحریکیں‘‘ میں سرسید احمد خان اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کے طریق کار کا فرق بیان کرنے کے بعد لکھا:۔
’’سچ یہ ہے کہ اس دور میں جن لوگوں کو سرسید نے متاثر کیا۔ ساتھ ہی ان کو اپنی تعلیمات سے ایک گونہ آزردہ بھی کیا۔ ان ہی آزردہ دلوں کو بہت حد تک مرزا غلام احمد نے اپنے طور طریقوں سے سمیٹا۔ سرسید نے عقل کی بنیاد پر قرآنی آیات اور مذہبی تعلیمات و عبادات کی جتنی توجیہات اور تاویلات کی تھیں مرزا غلام احمد نے ان کے پرخچے اڑا دیئے۔ سر سید نے رسول خدا کے معجزات کو رؤیا کا فعل بنا کر تاویل کرنے کی کوشش کی لیکن مرزا غلام احمد نے ان معجزات کو عقلی اور دلائل کی بنیاد پر درست ثابت کیا۔‘‘
اوراپنی اسی کتاب میں عبداللہ ملک جیسے انتہائی متعصب مصنف کویہ تسلیم کرناپڑا کہ ’’کیا یہ واقعہ نہیں کہ جس طرح ’’براہین احمدیہ‘‘ پر ایک زمانے نے سر دھنا تھا…‘‘ (پنجاب کی سیاسی تحریکیں از عبد اللہ ملک صفحہ۲۶۲، ۲۷۱)
(جاری ہے)
مزید پڑھیں: خلیفۂ وقت سے وابستگی کی ضرورت و اہمیت




