متفرق مضامین

تو نیا ہے تو دِکھا، صبح نئی، شام نئی ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی

(محمد انیس دیال گڑھی۔جرمنی)

ابھی تو ہم نئے سال کی آمد کی خوشیاں منا رہے تھے
اور اب اس کی سرحد پر کھڑے اس سے اگلے سال کو بلا رہے ہیں

بچپن سے یہ شعر سنتے آئے تھے کہ

غافل تجھے گھڑیال، یہ دیتا ہے منادی

گردوں نے گھڑی عمر کی اک اَورگھٹا دی

یہ شعر سنتے تھے مگر غور کی توفیق نہ ملی۔اب جوانی گزار کر بڑھاپے کی سرحد پر کھڑے ہو کر ایسا لگتا ہے کہ گردوں نے اِک گھڑی نہیں پوری عمر گھٹا دی ہے۔گھڑی کی سوئیوں کی رفتار سے بھی کہیں تیزی سے وقت گزرتا رہا اور ہم خواب غفلت میں پڑے سوتے رہے۔اب تو نہ جنم دن کی خوشی ہوتی ہے نہ نئے سال کی کہ ہر جنم دن اور ہر سال ایک دھوکا ہی تو تھا۔

اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو

پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو

عمر کا ایک اور سال گیا

وقت پھر ہم پر خاک ڈال گیا

ابھی تو ہم نئے سال کی آمد کی خوشیاں منا رہے تھےاور اب اس کی سرحد پر کھڑے اس سے اگلے سال کو بلا رہے ہیں

پھر نئے سال کی سرحد پر کھڑے ہیں ہم لوگ

راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی، حیرت کیسی

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا

جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

صرف ایک دن کے فرق سے سال بدل جاتا ہے۔دسمبر کی ۳۱؍اور جنوری کی یکم تاریخ، ایک دن بھی نہیں صرف چند لمحوں کا فرق ہے۔پچھلا سال ماضی کے دُھندلکوں میں دُور کہیں گم ہو جاتا ہے اور لوگ اُس کو بُھلا کر صرف نئے سال کو گلے لگاتے،ہار پہناتے اور جشن مناتے ہیں۔

ستارو آسماں کو جگمگا دو روشنی سے

دسمبر آج ملنے جا رہا ہے جنوری سے

اور یار لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس جنوری کے آخر میں پھر دسمبر آنا ہے۔

یکم جنوری ہے، نیا سال ہے

دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے

پُرانے سال کے جانے اور نئے سال کے آنے پر کیلنڈر بھی بدلے جاتے ہیں ۔

نیا سال دیوار پر ٹانگ دے

پرانے برس کا کیلنڈر گرا

وہی نیا سال جس کا دھوم دھام سے استقبال کیا جاتا ہےاور جشن منایا جاتا ہے۔ایک لمحے میں اس کا کیلنڈر کچرے کے ڈھیر میں گم ہو جاتا ہےاور دل ودماغ سے بھی۔مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو دیوار سے تو کیلنڈر اتار دیتے ہیں مگر وہ ان کے دل و دماغ کی دیوار پرنقش ہو جاتا ہے اور وہ اسےبُھلا نہیں پاتے۔

سالِ نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں

کچھ پُرانے سے کیلنڈر ذہن کی دیوار پر

ایک اور شاعر ایک اور حقیقت بیان کرتا ہے۔

کسی کو سالِ نو کی کیا مبارکباد ،دی جائے

کیلنڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے

لیکن مقدر تو تب بدلتا ہے جب انسان خود کو بدلنے کی کوشش کرے۔پُرانےجھگڑے،دشمنیاں،پرانی نفرتیں اور کدورتیں بھی پُرانے کیلنڈر کی طرح اتار پھینکے۔

چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں

دیوار سے پُرانا کیلنڈر اتار دے

پچھلے کئی برسوں سے انسان آلام و مصائب کا شکار ہے۔کچھ آسمانی ہیں تو کچھ زمینی۔ زلزلوں، طوفانوں، سیلابوں، لڑائی جھگڑوں اور جنگوں کا زور ہے۔۲۰۲۵ء میں بھی ظلم و تعدّی اور تباہی و بربادی کا بازار گرم رہا بلکہ انتہا کو جاپہنچا۔ مسلمانوں پر تو اس سال قیامت گزر گئی ۷۰؍ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا۔پورا علاقہ تباہ و برباد کر دیا گیا۔آسمان سے بھی آگ برستی رہی اور زمین بھی شعلے اگلتی رہی۔ عمارتوں ، گھروں اور درودیوار کے ساتھ ہزاروں انسان بھی پیوندِ خاک ہو گئے۔گھر بار رہا نہ بیوی بچے،نہ رشتہ دار نہ دوست یار،ایسے معصوم بچے بھی ہیں جو خود تو زندہ بچ گئے مگر ماں باپ،بہن بھائی اور سارے رشتہ دار لقمۂ اجل بن گئے۔نہ سر پر چھت رہی نہ زمین پر سایہ۔

چھت اُڑ گئی ،سایہ نہ رہا کتنے سروں پر

ارمانوں کے دن جاتے رہے پیٹھ دِکھا کے

پچھلے سال کی دردناک اور خوفناک تباہی و بربادی اور ظلم و بربریت کا سوچ کر یہ دھڑکا بھی لگا رہتا ہے کہ

پچھلا برس تو خون رُلا کر گزر گیا

کیا گل کِھلائے گا یہ نیا سال دوستو

ایک اور شاعر زبان حال سے نوحہ کر رہا ہے کہ

ہم کو ستم گروں سے بچاتا نہیں کوئی

اور اب تو آسماں سے بھی آتا نہیں کوئی

اور دوسرا اس دور کے مسیحا کو پکار رہا ہے

اس گئے سال بڑے ظلم ہوئے ہیں مجھ پر

اے نئے سال مسیحا کی طرح مل مجھ سے

ان تمام آلام و مصائب اور فتنوں کی خبر اصدق الصادقینﷺ نے پہلے سے دے دی تھی اور اس کا ایک ہی حل بتایا تھا کہ میری امت کا مسیحا آ کر اس ظلم وستم سے نجات دے گااور اسلام کو زندہ کرے گا۔وہ مسیحا آیا اور اُس کی زبان سے خدا نے انتباہ بھی کیا کہ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۱۹۹۔۲۰۰)

وہ مسیحا آیا اور اس نے دنیا کو نجات کی طرف بلایا ۔ایک طرف تو وہ دنیا کو بڑے درد سے سمجھاتا رہا کہ خدا کی طرف لَوٹو اور اس کی پناہ میں آئو۔دوسری طرف وہ خدا کے آگے جھک کر گریہ و زاری کرتا رہا اور اپنے آنسوؤ ں سے اسلام کے سوکھے پودے کی آبیاری کرتا رہا اور انتہائی دکھ درد اور الحاح سے خدا سے یہ عرض کرتا رہا کہ

دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے

اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بے قرار

فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مدد

کشتیٔ اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار

دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعفِ دینِ مصطفٰے

مجھ کو کر اے میرے سلطاں کامیاب و کامگار

یا الہٰی فضل کر اسلام پر اور خود بچا

اس شکستہ نائو کے بندوں کی اب سن لے پکار

ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناخدا

آگیا اس قوم پر وقتِ خزاں اندر بہار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۱۲۹۔۱۳۰)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تزکیہ نفس کی ضرورت و اہمیت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button