آؤ محمود ذرا حال پریشاں کر دیں

(منظوم کلام حضرت مصلح موعودؓ)
آؤ محمود ذرا حال پریشاں کر دیں
اور اس پردے میں دشمن کو پشیماں کر دیں
خنجرِ ناز پہ ہم جان کو قرباں کر دیں
اور لوگوں کے لئے راستہ آساں کر دیں
کھینچ کر پردہ رخِ یار کو عریاں کر دیں
وہ ہمیں کرتے ہیں ہم ان کو پریشاں کر دیں
وہ کہیں ہم کہ گداگر کو سلیماں کر دیں
وہ کریں کام کہ شیطاں کو مسلماں کر دیں
پہلے ان آرزوؤں کا کوئی ساماں کر دیں
دل میں پھر اس شہ خوباں کو مہماں کر دیں
ایک ہی وقت میں چھپتے نہیں سورج اور چاند
یا تو رخسار کو یا اَبرو کو عریاں کر دیں
آج بے طرح چڑھی آتی ہے لعلِ لب پر
ان کو کہدو کہ وہ زلفوں کو پریشاں کر دیں
آدمی ہو کے تڑپتا ہوں چکوروں کی طرح
کبھی بے پردہ اگر وہ رخِ تاباں کر دیں
اک دفعہ دیکھ چکے موسیٰؑ تو پردہ کیسا
ان سے کہدو کہ وہ اب چہرہ کو عریاں کر دیں
دل میں آتا ہے کہ دل بیچ دیں دلدار کے ہاتھ
اور پھر جان کو ہم ہدیۂ جاناں کر دیں
وہ کریں دم کہ مسیحا ؑ کو بھی حیرت ہوجائے
شیرِ قالیں کو بھی ہم شیرِ نیستاں کر دیں
(اخبار بدر جلد ۸۔ ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء بحوالہ کلام محمود صفحہ۵۳)
مزید پڑھیں: تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں



