یورپ (رپورٹس)

ہالینڈ میں مجلس انصاراللہ کے تحت دسویں امن کانفرنس کا انعقاد

مکرم محمود احمد شاہد صاحب قائد عمومی مجلس انصار اللہ ہالینڈ تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ۱۴؍نومبر ۲۰۲۵ء بروز جمعہ مسجد مبارک ڈین ہاگ، ہالینڈ میں مجلس انصاراللہ ہالینڈ کو ’’امن و مذہب کے درمیان تعلق‘‘ کے موضوع پر دسویں امن کانفرنس منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ اس تقریب میں ارکانِ پارلیمنٹ، وکلاء، مذہبی راہنماؤں اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانان سمیت ۷۰؍ غیراز جماعت شخصیات نے شرکت کی جبکہ مجموعی حاضری ۱۶۰؍رہی۔ علاوہ ازیں سینکڑوں افراد نے آن لائن شمولیت اختیار کی۔

چیف آرگنائزر ڈاکٹر زبیر اکمل صاحب نے ابتدائی تعارفی کلمات میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور امن کانفرنس کے بنیادی مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ دی ہیگ کو امن اور انصاف کا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں جماعت احمدیہ عالمی سطح پر انصاف، ہمدردی اور پُرامن بقائے باہمی کے پیغام کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پیغام کی بنیاد رکھی جو آج ۲۰۰؍سے زائد ممالک میں انسانیت کی خدمت، اخلاقی اصلاح اور عالمی مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہے۔

صدر مجلس انصاراللہ ہالینڈ مکرم داؤد اکمل صاحب نے استقبالیہ تقریر میں بیان کیا کہ حقیقی مذہب کا مقصد مصالحت، انصاف، احترام اور ہمدردی کا فروغ ہے، نہ کہ تنازعہ۔ آپ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی عالمی امن کے قیام کے لیے خدمات کا ذکر کیا اور بتایا کہ تنازعات کا سبب مذہب نہیں بلکہ اقتدار کی کشمکش اور عدم مساوات ہے۔ اسلام تمام مذاہب اور عقائد کے احترام اور مذہبی آزادی کا درس دیتا ہے۔

مقررین کی آراء

  • Herry Knott (یہودی کمیونٹی) نے مشترکہ ابراہیمی اقدار، ہمدردی اور باہمی مفاہمت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
  • Ed van Nieuwpoort (عیسائی ماہرالہٰیات) نے معاشرے میں مذہبی اداروں کے کردار، انصاف، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے قیامِ امن پر اظہار خیال کیا۔
  • Jos Douma (سفارت کار) نے مذہب اور بین الاقوامی سفارت کاری میں مذہبی آزادی اور اخلاقی تعاون کی اہمیت بیان کی۔
  • Novyera van Goens Uiskine نے نور عنایت خان کی ایمان پر مبنی روحانی استقامت کی کہانی بیان کرتے ہوئے مذہب کو امن کا ذریعہ قرار دیا۔
  • Wethouder Hilbert Bredemeijer نے بین المذاہب مکالمے، تعاون اور احمدیہ جماعت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی ویڈیو پیغام دکھایا گیا جسے حاضرین نے نہایت دلچسپی سے سنا۔

مکرم ہبۃالنور فرحاخن صاحب امیر جماعت احمدیہ ہالینڈنے مہمانوں، مقررین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے کے فروغ میں احمدیہ مسلم کمیونٹی کے کردار پر روشنی ڈالی۔

تقریب کے آخر میں مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی جس میں حاضرین نے مقررین سے مختلف سوال کیے۔ بعد ازاں مکرم حامد کریم صاحب مبلغ سلسلہ نے دعا کروائی۔

تمام مہمانانِ خصوصی کو سوونیئرز، پھولوں کے گلدستے اور کتب کا سیٹ پیش کیا گیا۔ بعدازاں عشائیہ میں خوشگوار ماحول میں تبادلۂ خیالات کا موقع فراہم کیا گیا۔

الحمدللہ، بذریعہ ای میلز اور سوشل میڈیا اس کانفرنس کے پیغام سے ۴۳؍ہزار ۱۲۱؍افراد تک رسائی ہوئی۔

اللہ تعالیٰ اس بابرکت کانفرنس کے مثبت نتائج پیدا فرمائے اور حقیقی امن کی راہیں ہموار فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: عدیل باسم۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: انٹر نیشنل تعلیم القرآن اکیڈمی (ITQA) کی پانچویں سالانہ تقریب تقسیم اسناد و انعامات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button