متفرق شعراء
دل پہ اک بوجھ ہے یارب اسے ہلکا کردے

دل پہ اک بوجھ ہے یا رب اسے ہلکا کر دے
نفسِ امارہ ہے غالب اسے پسپا کر دے
وہ جو انعمتَ علیھم کے ہوئے ہیں مصداق
میرے مالک میرے خالق مجھے ویسا کر دے
مجھ کو مغضوب علیھم سے بچانا ہر دم
غیر سے دور مجھے اپنا ہی شیدا کر دے
تیرا وعدہ ہے کہ شہ رگ سے بھی نزدیک ہے تُو
دے مجھے قلبِ سکوں عہد کو ایفا کر دے
بحر عصیاں میں ہوں غرقاب بچا لے پیارے
ڈوب نہ جاؤں کرم مجھ پہ اے مولا کر دے
ناتواں خاک بشر ناقص و ناکارہ وجود
تُو ہے ستار مرے عیب یہ اخفا کر دے
پاس میرے نہیں کچھ بھی تو سوائے تیرے
ایک قطرہ بھی ہے گر نیکی تُو دریا کر دے
میل اس من کے سبھی دھو دے خدایا میرے
نورِ حق ڈال اسے چار سو بیضا کر دے
(منصورہ فضل منؔ)
مزید پڑھیں: اب خلافت عالمِ کُل کے لیے ہے سائباں




