متفرق شعراء
ہو دعاؤں سے داخل نئے سال میں

ہو دعاؤں سے داخل نئے سال میں
رب سے ہونا نہ غافل نئے سال میں
جو گھرے ہیں تلاطم میں طوفان میں
سب کو مل جائے ساحل نئے سال میں
کارواں سے جو بچھڑے ہیں بکھرے ہیں جو
کاش ہو جائیں شامل نئے سال میں
قتل کرتے رہے ہیں جو جذبوں کا ہی
ہوں اناؤں کے قاتل نئے سال میں
پاک گفتار بھی صاف کردار بھی
ہم کو ہو جائے حاصل نئے سال میں
میری تقصیر کے اور مرے بیچ میں
رحم ہو جائے حائل نئے سال میں
(طارق محمود طاہر۔ جامعہ احمدیہ نائیجیریا)
مزید پڑھیں: اُس کی ذات کا ہر اک پہلو کتنا لامتناہی ہے



