بینگن کے خاندان کا ایک دلفریب پھل: گولڈن بیری
قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں پھل خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ پھل نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ وٹامنز، منرلز اور فائبر کے حصول کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ انہی قیمتی پھلوں میں ایک نام گولڈن بیری (Golden Berry) یا فائی سائی لس پیرووی آنا (Physalis peruviana) کا ہے، جسے بعض اوقات کیپ گوز بیری یا انکا بیری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پھل جنوبی امریکہ کے ملک پیرو سے تعلق رکھتا ہے، اسی نسبت سے اسے Peruviana کہا جاتا ہے۔ اپنی غذائیت، ذائقے اور طبّی خصوصیات کی بنا پر یہ آج دنیا بھر میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

گولڈن بیری کا تعلق بینگن خاندان (Solanaceae) سے ہے، جس میں بینگن، ٹماٹر، مرچ اور آلو جیسے پودے بھی شامل ہیں۔ اس خاندان کے تمام پودے اپنی متنوّع خصوصیات کے باعث زراعت اور غذائیت دونوں میدانوں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ گولڈن بیری کا آبائی وطن پیرو، چلی، اور کولمبیا کے پہاڑی علاقے ہیں، جہاں یہ قدرتی طور پر جنگلی حالت میں بھی اگتا تھا۔ مقامی لوگ اسے ’’انکا بیری‘‘ کے نام سے جانتے تھے اور صدیوں سے اسے بطور دوا اور خوراک استعمال کرتے آئے ہیں۔ بعدازاں یورپی مہم جوؤں کے ذریعے یہ افریقہ، ایشیا اور یورپ کے کئی حصوں تک پہنچا، جہاں اس کی کاشت تجرباتی طور پر شروع ہوئی۔ آج یہ پھل کئی ممالک جیسے جنوبی افریقہ، بھارت، چین اور پاکستان سمیت درجنوں ممالک میں کامیابی سے کاشت کیا جا رہا ہے۔
گولڈن بیری ایک جھاڑی نما پودا ہے جو عموماً ۶۰ تا ۹۰ سینٹی میٹر تک اونچا ہوتا ہے۔ اس کے پتے نرم، دل کی شکل کے اور ہلکے روئیں دار ہوتے ہیں۔ اس کے پھول چھوٹے، زرد رنگ کے اور بیچ میں جامنی دھبوں والے ہوتے ہیں۔ ان پھولوں سے بعد میں ایک چھوٹا سا پھل بنتا ہے جو کاغذی خول (husk) کے اندر بند ہوتا ہے۔ یہ خول دراصل پھول کی بیرونی تہ سے بنتا ہے اور پھل کو محفوظ رکھتا ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے تو خول سنہری اور خشک ہو جاتا ہے، جبکہ اندر کا پھل چمکدار نارنجی زرد رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ یہی خول اس پھل کو ایک دلکش اور منفرد شکل دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے سجاوٹی مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پھل چھوٹا، گول اور ہلکا سا ترش و میٹھا ذائقہ رکھتا ہے۔ اس کا ذائقہ پائن ایپل، اسٹرابیری اور ٹماٹر کے امتزاج جیسا محسوس ہوتا ہے۔ گولڈن بیری کا پھل عموماً خول اتار کر تازہ کھایا جاتا ہے، لیکن اسے جیم، جیلی، جوس، خشک میوہ جات اور میٹھے پکوانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اسے چاکلیٹ کورڈ فروٹ یا ڈرائیڈ سنیکس کے طور پر بھی بیچا جاتا ہے۔ اس کی دلکش شکل اور چمکدار رنگ کسی بھی ڈش کی خوبصورتی کو بڑھا دیتے ہیں۔
گولڈن بیری کو قدرتی ملٹی وٹامن کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں وٹامنز، منرلز اور فائبر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔
اس کے نمایاں غذائی اجزاء درج ذیل ہیں:وٹامن سی جو قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے، زکام اور انفیکشن سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ وٹامن اے جو بینائی کو بہتر بناتا ہے اور جلد و بالوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔وٹامن بی۱،بی۲، بی۳ جو اعصابی نظام، دل کی صحت اور توانائی کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔اسی طرح آئرن، فاسفورس اور کیلشیم، اینٹی آکسیڈنٹس اور ڈائیٹری فائبر موجود ہوتے ہیں۔
قدیم جنوبی امریکی طب میں گولڈن بیری کو جگر صاف کرنے، یورک ایسڈ کم کرنے، وزن گھٹانے اور بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان اور بالخصوص پنجاب کے موسمی حالات میں گولڈن بیری کی کاشت ممکن ہے۔ اسے مرچ یا بینگن کی طرح گرمیوں میں کاشت کیا جا سکتا ہے۔ یہ پودا عموماً بیج کے ذریعے اگایا جاتا ہے۔ بیجوں کے اگاؤ کے لیے درجہ حرارت ۲۰ تا ۲۵ ڈگری سینٹی گریڈ موزوں ہے۔ بیج بونے کے تقریباً ۹۰ تا ۱۰۰ دن بعد پھل حاصل ہونے لگتا ہے۔زرخیز، نرم اور پانی کی نکاسی والی مٹی زیادہ بہتر نتائج دیتی ہے۔ بھاری یا پانی روکنے والی مٹیوں میں جڑیں سڑ سکتی ہیں۔ پانی کی معتدل مقدار درکار ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ پانی پھول جھڑنے کا باعث بنتا ہے۔یہ پودا مکمل دھوپ پسند کرتا ہے، اس لیے کھلے میدان میں کاشت کرنا بہتر ہوتا ہے۔
جب پھل کا خول خشک اور سنہری ہو جائے تو وہ توڑنے کے لیے تیار سمجھا جاتا ہے۔ ایک پودا عموماً ۱۵۰سے ۳۰۰کی تعداد میں پھل دیتا ہے۔
گولڈن بیری کی جنس Physalis میں کئی اور اقسام شامل ہیں، جن میں مشہور اقسام یہ ہیں:Physalis alkekengi (چائنیز لالٹین) — جس کا ذائقہ چیری ٹماٹر جیسا ہوتا ہے۔ Physalis pruinosa (ہَسک ٹماٹو) — چھوٹے مگر خوش ذائقہ پھل دینے والی قسم۔یہ تمام اقسام اپنی دلکش شکل اور غذائیت کی بنا پر باغبانی کے شوقین افراد میں مقبول ہیں۔
گولڈن بیری دراصل قدرت کا ایک سنہری تحفہ ہے جو صحت، ذائقہ اور خوبصورتی تینوں کو ایک ساتھ سمیٹے ہوئے ہے۔
(ابو الفارس محمود)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: نزلہ زکام اور کھانسی سے بچنے کے لیےقہوہ



