جماعت احمدیہ کا پروگرام عبادتیں کرنا اورقربانیوں میں ترقی کرنا
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ۱۴؍جنوری ۱۹۴۴ء)
۱۹۴۴ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے سورت کوثر کی تفسیر کی روشنی میں جماعت احمدیہ پر عائد ذکر الٰہی اور قربانی میں بڑھنے کے فلسفہ کو بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اس پروگرام کو اپنے سامنے رکھے جو خدا نے تجویز کیا ہے۔ و ہ ایک طرف تسبیح، تحمید، تکبیر، درود اور ذکر الٰہی میں حصہ لے اور دوسری طرف نہ صرف مالی قربانیوں میں حصہ لے بلکہ اپنے اوقات اور جذبات کی قربانی بھی کرے۔ اس کے بغیر وہ شکریہ ادا نہیں ہوسکتا جس کا ادا کرنا مسیح موعودؑ کی بعثت کے بعد ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
قرآن کریم میں ایک سورۃ ہے مختصر چھوٹی سی، صرف تین آیتوں کی جس کے متعلق اس سال میں نے جلسہ سالانہ پر عورتوں میں ایک تقریر کی تھی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس کا مضمون اس قابل ہے کہ اُسے بار بار اور مختلف پیرایوں میں ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں میں دُہرایا جائے کیونکہ اس کا ایک مفہوم ہماری جماعت کے پروگرام کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۔ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۔ (الکوثر: ۱ تا ۴) اَور بھی اس کے مفہوم اور مطالب ہیں جن کا بیان کرنا اس موقع پر ضروری نہیں۔ جس مفہوم کی طرف مَیں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کوثر کے ایک معنے ایسے آدمی کے بھی ہیں جو کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والا ہو۔(المنجد)پس جہاں اس سورۃ میں اَور مطالب کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلائی گئی ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی آپ کو توجہ دلائی ہے کہ ہم تجھے ایک ایسا بیٹا عطا فرمانے والے ہیں جو بہت ہی صدقہ و خیرات کرنے والا ہوگا۔ دوسری طرف ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فرمائی ہوئی پاتے ہیں اس میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ مال تقسیم کرے گا اور لوگ اس کو لیں گے نہیں۔یُفِیْضُ الْمَالَ۔(بخاری، کتاب الانبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم) وہ مال دنیا میں بہادے گا۔لوگوں نے اس کے معنے یہ سمجھے ہیں کہ شاید وہ سونے اور چاندی کے سکّے لوگوں کو دے گا۔ حالانکہ سونے اور چاندی کے جو سکّے ہیں ان کو قبول کرنے والے کچھ نہ کچھ لوگ ہمیشہ ہی دنیا میں موجود رہتے ہیں۔کروڑوں کروڑ روپیہ رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں مگر پھر بھی ان کے دلوں میں لوگوں سے مال لینے کی حرص اور خواہش ہوتی ہے۔کئی دفعہ بڑے بڑے افسروں کے خلاف ریل میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے کے الزام میں مقدمات چل جاتے ہیں۔حالانکہ غریب آدمی بالعموم پیسے ادا کرکے ٹکٹ لیتے ہیں۔ تم کبھی کسی دکاندار کے سامنے ایک غریب سے غریب شخص کو بھی یہ کہتے نہیں سنو گے کہ میری غربت کی وجہ سے تم فلاں چیز کی قیمت کم کردو۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دکاندار میرے کہنے پر قیمت کم نہیں کرے گا۔لیکن کئی مالداروں کو میں نے دیکھا ہے وہ دکانداروں سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری خاطر تم اِس میں سے کتنا چھوڑو گے؟ حالانکہ وہ روپے والے ہوتے ہیں۔ مگر باوجود اپنے تموّل اور اپنی دولت کے اور باوجود اپنے پاس زیادہ روپیہ رکھنے کے اُن کی حرص کم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ اور وہ دکاندار سے بار بار یہی کہتے سنے جاتے ہیں کہ ہم جو تمہاری دکان پر چل کر آئے ہیں تو اب ہماری خاطر تمہیں قیمتیں ضرور کم کرنی پڑیں گی۔
چند سال ہوئے مَیں بمبئی گیا۔ وہاں ایک دن میں کپڑا خریدنے کے لیے ایک دکان پر چلا گیا اور مَیں نے دکاندار سے کہا کہ کئی دکاندار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی چیزوں کی قیمتیں آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔ پنجاب میں بھی ایسے دکاندار پائے جاتے ہیں اور بمبئی میں بھی ہیں۔ تم یہ بتاؤ کہ تمہارا کیا اصول ہے؟وہ کہنے لگا ہماری چیزوں کی تو ایک ہی قیمت ہوا کرتی ہے۔میں نے کہا اب اس پر قائم رہنا۔ ہم بھی تمہارے ساتھ قیمتوں کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں کریں گے۔ اُس وقت اس دکان میں دو اَور آدمی بھی بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے اُس سے کوئی سودا خریدا تھا جس کا بِل ایک سو تین یا ایک سو چار روپیہ تک جا پہنچا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ دونوں اس دکاندار سے بحث کر رہے تھے کہ یہ تو ہوئی چیزوں کی قیمت، تم یہ بتاؤ کہ اب تم نے اِس میں سے چھوڑنا کیا ہے؟ اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارا تو ایک ہی بھاؤ مقرر ہے ہم قیمتوں میں کمی بیشی نہیں کیا کرتے۔ تھوڑی دیر کےبعد مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک بمبئی کے کوئی مشہور سیٹھ صاحب ہیں اور دوسرا ان کا سیکرٹری ہے کیونکہ دوسرا شخص بار بار کہتا تھا کہ سیٹھ صاحب تمہارے پاس آئے ہیں تمہیں ان کی خاطر تو قیمتوں میں ضرور کمی کرنی چاہیے اور دکاندار یہ کہتا تھا کہ میری دکان پر ایک ہی قیمت ہوتی ہے کمی بیشی نہیں ہوتی۔ غرض اِسی طرح آدھ گھنٹہ ضائع ہو گیا۔ آخر وہ ایک سو روپیہ کا نوٹ اسے دے کر چلے گئے اور اوپر کی رقم انہوں نے نہ دی۔ان کے چلے جانے کے بعد مَیں نے دکاندار سے کہا کہ آپ تو کہتے تھے ہمارا ایک ہی بھاؤ مقرر ہے اور ان لوگوں سے آپ نے اتنے روپے کم وصول کیے ہیں۔ وہ کہنے لگا یہ کوئی انصاف ہے؟ یہ تو صریح جبر ہے کہ سَودا لے لیا اور قیمت نہ دی۔پھر کہنے لگا یہ جو سیٹھ میری دکان پر آیا ہے یہ بمبئی کے تمام ہندوستانی تاجروں میں سے دوسرے نمبر پر ہے اور یہ روزانہ جتنی کمائی کرتا ہے اُس کا آپ اِس سےاندازہ لگا سکتے ہیں کہ آدھ گھنٹہ جو اُس نے میری دکان پر ضائع کیا ہے اس آدھ گھنٹے میں یہ دس پندرہ ہزار روپیہ کما لیتا ہے۔ مگر باوجود اِس قدر دولت و ثروت کے صرف تین چار روپے چُھڑانے کے لیے اس نے اپنا وقت بھی ضائع کیا اور میرا وقت بھی ضائع کیا۔ تو مال کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا آدمی جس کی سالانہ آمدنی چالیس پچاس بلکہ ساٹھ لاکھ روپیہ کی تھی وہ بھی آدھ گھنٹہ تک ایک دکاندار سے لڑتا جھگڑتا رہا۔ محض اس لیے کہ اس کے بل میں سے تین چار روپے کم ہو جائیں اور وہ بار بار اپنی امارت کا واسطہ دیتا تھا۔ وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ مَیں غریب ہوں اس لیے تم اتنی قیمت کم کر دو بلکہ وہ کہتا تھا مَیں امیر ہوں اور میری امارت کا تقاضا یہ ہے کہ چونکہ میں خود چل کر تمہارے پاس آیا ہوں اس لیے تم مجھ سے کم قیمت وصول کرو۔جب دنیا کی یہ حالت ہے تو کون عقلمند یہ خیال کرسکتا ہے کہ کسی زمانہ میں مسیح موعود لوگوں کو لاکھوں روپیہ دے گا اور وہ اس کے لینے سے انکار کردیں گے۔ وہ شخص جس نے دوچار روپوں کے لیے اپنا آدھ گھنٹہ ضائع کردیا، وہ شخص جس نے دو چار روپوں کے لیے دکاندار کے ایک اصول کو توڑ دیا، وہ شخص جس نے دو چار روپوں کے لیے نہ صرف اپنا وقت ضائع کیا بلکہ ہمارا وقت بھی ضائع کیا وہ اور اِسی قسم کے اَور لوگ بجائے مال لینے سے انکار کرنے کے میرے نزدیک تو اس بات کے لیے بھی تیار ہو جائیں گے کہ اگر انہیں روپوں کے لیے ناک بھی رگڑنی پڑے توانہیں اس میں کوئی عذر نہ ہوگا۔
ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ نوحؑ کے زمانے سے لے کر تمام انبیاء یہ خبر دیتے چلے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اتنے گناہ ہوں گے، اتنی خرابیاں ہوں گی کہ اتنی خرابیاں اور کسی نبی کے وقت میں نہیں ہوں گی۔
گویا ادھر تو آپؐ یہ فرماتے ہیں کہ وہ زمانہ ایسا خراب ہوگا کہ اس کی مثال اور کسی زمانہ میں نہیں ملے گی اور دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ
آپؐ یہ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے لوگ اتنے وسیع الحوصلہ ہوں گے، اس قدر ان کے نفس دنیوی اموال کی محبت سے بیزار ہو چکے ہوں گے اور ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اِس طرح جاتی رہے گی کہ مسیح موعود اُنہیں مال دے گا مگر وہ لینے سے انکار کردیں گے۔
ان دونوں باتوں کا ایک زمانہ میں اجتماع عقل کے بالکل خلاف ہے۔ یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ فرماتے کہ مسیح موعود کا زمانہ ایسا اعلیٰ ہوگا کہ لوگ سیرچشم ہوں گے، ان کی طبیعتوں میں غناء کا مادہ کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوگا، ان کے دل دنیاوی اموال کی محبت سے بالکل خالی ہوں گے، حرص اور لالچ اور طمع ان کے اندر نہیں ہوگا اور وہ اس قدر دنیا سے دور ہوں گے کہ مسیح موعود ان کو مال دے گا تو وہ کہیں گے حضرت! ہم نے اس جیفۂ دنیا کو کیا کرنا ہے ہمیں خدا کی رضا کافی ہے۔مگر ایک طرف یہ کہنا کہ اس زمانہ کے لوگ سخت خراب اور گندے ہوں گے، ان کی طبیعتوں میں لالچ پایا جاتا ہوگا، وہ شیطان کی اتباع کرنے والے ہوں گے، بات بات پر لڑائی جھگڑا کریں گے،خدا اور رسول کی محبت ان کے دلوں سے اٹھ جائے گی اور اس قدر خرابیاں ان میں پیدا ہو چکی ہوں گی کہ نوحؑ کے زمانہ سے لے کر آج تک کسی نبی کے زمانہ کے لوگ اتنے خراب نہیں ہوئے۔ اور دوسری طرف یہ کہنا کہ وہ اتنے سیرچشم، اتنے نیک اور متقی اور اس قدر غناء کا مادہ اپنے اندر رکھنے والے ہوں گے کہ مسیح موعود ان کو مال دے گا تو وہ اس کو لینے سے انکار کردیں گے۔
یہ دو باتیں ایسی ہیں جن کا اجتماع کوئی عقلمند مان ہی نہیں سکتا۔ اور اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس مال سے مراد ظاہری مال و دولت نہیں، ظاہری سونا اور چاندی مراد نہیں ہے بلکہ مال سے مراد وہ معارف ہیں جو مسیح موعود کی زبان پر جاری ہوں گے، علم و عرفان کے وہ چشمے ہیں جو اس کے لبوں سے پُھوٹیں گے، تعلق باللہ کے وہ اسرار ہیں جو اس کے ذریعہ عالَم پر منکشف ہوں گے۔
اور
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خبر یہ دی ہے کہ جب مسیح موعود آئے گا تو وہ قرآن و حدیث کے ایسے ایسے نکات بیان کرے گا، خدا اور بندوں کے تعلق کے متعلق ایسی پُرمعرفت باتیں پیش کرے گا اور اسلام کو غالب کرنے کے لیےایسے ایسے علوم دنیا میں ظاہر کرے گا کہ جن سے لوگ بالکل واقف نہیں ہوں گے۔ گویا اموالِ روحانی کا ایک خزانہ ان کے سامنے رکھا جائے گا مگر لوگ اپنی بیماری کی وجہ سے اور اپنی طبیعت کے گند اور نفس پرستی کی وجہ سے اُس خیر کا انکار کردیں گے جو مسیح موعود اُن کو دے گا۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں جن کے دلوں میں اس قسم کی روحانی باتوں کی قدروقیمت ہوتی ہے وہ جب دیکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ معارف کا ایک دریا بہایا جا رہا ہے تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ یہ جماعت کر کیا رہی ہے اور کیوں ایسے انمول موتی لوگوں کے سامنے بکھیرتی چلی جا رہی ہے۔ مَیں نے جب ایک دفعہ ذکر الٰہی پر جلسہ سالانہ میں تقریر کی تو غالباً ایک غیر احمدی صاحب نے مجھے ایک رقعہ لکھا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں کہ وہ باتیں جو صوفیاء دس دس سال کی محنتِ شاقہ کے بعد لوگوں کو بتایا کرتے تھے آپ نے وہ ساری باتیں اپنی ایک ہی تقریر میں بیان کردی ہیں۔ گویا ایک طرف مسیح موعود کی بعثت سے پہلے دنیا کے لوگ ایسے خراب ہو چکے تھے کہ دین کی اچھی سے اچھی باتیں ان کے سامنے پیش کی جاتیں تو وہ ان کا انکار کر دیتے اور دوسری طرف وہ لوگ جنہیں تھوڑا بہت دین آتا تھا، انہوں نے دین کی ان باتوں کو اپنی تجارت کا ایک ذریعہ بنا لیا تھا۔ چنانچہ وہ پہلے لوگوں سے اچھی طرح خدمت لیتے اور پھر سالہا سال کے بعد کوئی ایک بات ان کو بتاتے۔
منشی احمد جان صاحب لدھیانہ والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے دعویٰ سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ مگر ان کی روحانی بینائی اتنی تیز تھی کہ انہوں نے دعویٰ سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو لکھا کہ
ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر
تم مسیحا بنو خدا کے لیے
انہوں نے اپنی اولاد کو مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میں تو اب مر رہا ہوں مگر اس بات کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ مرزا صاحب نے ضرور ایک دعویٰ کرنا ہے اور میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ مرزا صاحب کو قبول کر لینا۔ غرض اس پایہ کے وہ روحانی آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی میں ۱۲ سال تک وہ چکّی جس میں بیل جوتا جاتا ہے اپنے پیر کی خدمت کرنے کے لیے چلائی اور ۱۲ سال تک اس کے لیے آٹا پیستے رہے تب انہوں نے روحانیت کے سبق اِن کو سکھائے۔ تو وہ لوگ جو روحانی کہلاتے تھے وہ بھی لوگوں کو روحانی باتیں بتانے میں سخت بخل سے کام لیا کرتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے نہ صرف وہ ساری باتیں دنیا کو بتا دیں بلکہ ان سے ہزاروں گُنا زیادہ اَور باتیں بھی ایسی بتائیں جو پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھیں اور اس طرح علوم کو آپ نے ساری دنیا میں بکھیر دیا۔ مگر جیسا کہ حدیثوں میں خبر دی گئی تھی دنیا نے اس کی قدر نہ کی۔
پسرسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس تشریح نے بھی بتا دیا کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ کوثر کے معنے اُس سخی انسان کے ہوتے ہیں جو کثرت سے صدقہ وخیرات کرنے والا ہو۔
اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو خزانے لُٹائے گا مگر لوگ ان خزانوں کو قبول نہیں کریں گے۔ اس تشریح سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔اے محمد رسول اللہؐ!ہم تجھے ایک ایسا روحانی بیٹا عطا کرنے والے ہیں جو خیرِکثیر رکھتا ہوگا جو علومِ روحانیہ کا ایک خزانہ ہوگا۔ ایسے آدمی کی بعثت پر ہر مومن کا فرض ہوگا کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عبادتیں کرے اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں بجا لائے۔
یہ صاف بات ہے کہ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جن کے زمانہ میں اس عظیم الشان انسان نے نہیں آنا تھا ان کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم اس شکریہ میں میری عبادت کرو اور قربانیوں میں پہلے سے بھی زیادہ جوش سے حصہ لو تو وہ لوگ جن کے زمانہ میں اس انسان نے آنا تھا ان پر یہ کیوں فرض نہیں ہو گا کہ وہ اس شکریہ میں اللہ تعالیٰ کی زیادہ عبادتیں کریں اور اس کے دین کی اشاعت کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں۔ آخر فائدہ تو انہوں نے ہی اٹھانا تھا جن کے زمانہ میں اس انسان نے مبعوث ہونا تھا اور اس لحاظ سے اس نعمت کا زیادہ شکریہ ادا کرنا انہی کا فرض ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فائدہ نہیں پہنچا جس رنگ میں لوگوں کو آپ کی بعثت کا فائدہ ہؤا ہے۔ اور اگر دین کی اشاعت کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فائدہ ہؤا ہے تو پھر بھی استاد استاد ہی ہے اور شاگرد شاگرد ہی ہے۔ مگر جب ایک اچھے شاگرد کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ عبادتیں کریں اور قربانیوں میں حصہ لیں تاکہ اس فضل کا شکریہ ادا ہوسکے تو وہ لوگ جو اس مسیح موعود کے شاگرد ہیں ان پر یہ کس قدر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عبادتوں اور قربانیوں میں پہلے سے بہت زیادہ حصہ لیں۔ جس شاگرد کے متعلق استاد کو یہ کہا گیا ہے کہ تم نمازیں پڑھو اور قربانیاں کرو، اس کے اپنے شاگردوں کو تو یقیناً لاکھوں گنا زیادہ عبادتیں کرنی چاہییں اور لاکھوں گنا زیادہ قربانیوں میں حصہ لینا چاہیے۔ پس
مسیح موعود کی بعثت کے بعد اس حکم کی تعمیل سب سے زیادہ جماعت احمدیہ پر فرض ہے۔
فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی کی خاطر عبادتیں بجا لاؤ اور تم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانیاں کرو۔ اس شکریہ میں کہ اس نے تمہیں کوثر سے حصہ عطا فرمایا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مخاطب کرکے احمدی جماعت کو یہ بتایا ہے کہ مسیح موعود کی بعثت کے وقت ان کو کیا کام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عبادت کریں اور اس کے دین کے لیے قربانیوں پر قربانیاں کرتے چلے جائیں۔ یہی ہمارا پروگرام ہے جو اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔
عربی زبان میں نحراُس جانور کی قربانی کو کہتے ہیں جو ہمارے اپنے قبضہ میں ہوتا ہے۔ پس اِس لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں سب سے بڑی قربانی اپنے نفس کا جہاد ہوگا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں سب سے بڑا کام دشمن سے جہاد کرنا تھا مگر اس زمانہ میں سب سے بڑا کام نحرکرنا ہوگا۔ اور نحراُس جانور کی قربانی کو کہتے ہیں جو انسان کے اپنے قبضہ میں ہوتا ہے۔ پس
اس لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد نہیں ہوگا یعنی دشمن کو تلوار سے مارنا ان کا کام نہیں ہوگا۔ بلکہ ان کا سب سے بڑا کام اپنے نفس کو مارنا اور اس سے جہاد کرنا ہوگا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بڑی بھاری قربانی یہ تھی کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کر دشمن کو کیفرِکردار تک پہنچایا جائے مگر فرمایا مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد نہیں ہوگا بلکہ نحر ہوگا ۔یعنی اُس زمانہ میں سب سے بڑی جنگ انسان کو اپنے نفس سے کرنی پڑے گی۔ صحابہؓ کے زمانہ میں بڑی قربانی یہ تھی کہ عتبہ اور شیبہ اور ابوجہل کو قتل کرنے کی کوشش کی جائے خواہ اس کوشش اور جدوجہد میں انسان خود ہی کیوں نہ مارا جائے۔
لیکن مسیح موعود کے زمانہ میں دشمن کو مارنے کا کام نہیں ہوگا۔ بلکہ بڑی قربانی یہ ہو گی کہ ہر انسان براہ راست اپنے نفس کو مارنے اور اسے ہلاک کرنے کی کوشش کرے۔
یہ ایک ایسا واضح پروگرام ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور پروگرام کی طرف جانا قطعاً دانائی نہیں ہوسکتی۔ خدا سے بہتر کون پروگرام بنا سکتا ہے۔
یقیناً خدا سے بڑھ کر اور کوئی صحیح پروگرام نہیں بناسکتا اور خدا نے جماعت احمدیہ کا یہ پروگرام بتا دیا ہے کہ وہ عبادتیں کرے اور قربانیوں میں ترقی کرے۔
عبادتوں میں سے سب سے اہم عبادت نماز باجماعت ہے۔اس کے بعد ذکر الٰہی، نوافل پڑھنا، درود پڑھنا، تسبیح، تحمید اور تکبیر کرنا۔یہ سب چیزیں عبادت میں شامل ہیں مگر مَیں دیکھتا ہوں ابھی تک ہماری جماعت میں اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔ وہ مسجدوں میں آتے ہیں تو بجائے ذکر الٰہی کرنے کے فضول اور لغو باتوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ صحابہؓ کا طریق یہ تھا کہ جب وہ اکٹھے ہوتے تو کہتے آؤ ہم اپنے ایمان تازہ کریں اور پھر وہ ایک دوسرے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں اور آپؐ کے حالات سنتے۔ آخر ہر شخص مجلس میں موجود نہیں ہوتا۔ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک شخص تو سنتا ہے مگر دوسرا نہیں سنتا۔ ایسی صورت میں صحابہؓ کا یہی طریق تھا کہ وہ بیٹھ کر ایک دوسرے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں سنایا کرتے تھے۔ مگر اِس زمانہ میں لغو اور فضول باتوں میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے لیے حکم یہی ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ تم اپنے اوقات اِس طرح صَرف کرو کہ وہ سب کے سب تمہاری عبادت کی گھڑیاں بن جائیں۔ پھر فرماتا ہے وَانْحَرْ۔ تمہارا دوسرا کام یہ ہے کہ تم قربانیوں میں حصہ لو۔
جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ ہماری جماعت ایک نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچتی جارہی ہے۔ مگر
صرف مالی قربانی ہی قربانی نہیں بلکہ اَور بھی کئی قسم کی قربانیاں کرنا جماعت کا فرض ہے۔ مثلاً وقت کی قربانی ہے یہ بھی ایک اہم قربانی ہے۔ جذبات کی قربانی ہے یہ بھی ایک اہم قربانی ہے، مگر ان قربانیوں میں ابھی بہت بڑی ترقی کی ضرورت ہے۔
مَیں دیکھتا ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پر لوگ ایک دوسرے سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ اپنے جذبات کی قربانی سے کام لیں تو اس قسم کے جھگڑوں کی نوبت ہی نہ آئے۔ اِسی طرح
وقت کی قربانی میں تبلیغ بھی شامل ہے مگر اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔
مَیں سمجھتا ہوں
اگر ہماری جماعت تبلیغ کا فرض پورے طور پر ادا کرتی تو اب تک موجودہ جماعت سے بیسیوں گُنا زیادہ جماعت ہوجاتی۔
مگر یہ قربانی پیش کرنے کے لیے ہماری جماعت کے بہت کم دوست تیار ہوتے ہیں۔ ہر شخص جو یہاں بیٹھا ہے وہ اپنے اپنے نفس میں سوچے اور غور کرے کہ اس نے پچھلے مہینے میں تبلیغ کے لیے کتنا وقت دیا ہے۔ اگر آپ لوگ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کئی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے سارے مہینے میں شاید ایک منٹ تبلیغ کے لیے دیا ہوگا۔ کئی ایسے ہوں گے جنہوں نے سارے مہینے میں شاید کسی کو دس منٹ تبلیغ کی ہو گی اور کئی ایسے ہوں گے جنہوں نے تبلیغ کی ہی نہیں ہو گی یا تبلیغ تو کی ہو گی مگر وہ حقیقی تبلیغ نہیں ہو گی۔ جب اس قسم کی مُردنی طبائع پر چھائی ہوئی ہو تو محض مالی قربانی سے جماعت کی ترقی کس طرح ہوسکتی ہے۔ مالی قربانی کے ساتھ اگر اوقات کی قربانی نہیں، اگر تبلیغ کے لیے دلوں میں ایک دیوانگی اور جوش نہیں تو یہ جماعت کی ترقی کی کوئی خوشکن علامت نہیں۔ بلکہ میرے نزدیک اگر روپیہ دینے والا تبلیغ نہیں کرتا اور وہ روپیہ دے کر ہی سمجھ لیتا ہے کہ اُس نے اپنے فرض کو ادا کردیا تو وہ اپنے آپ کو ایک شدید الزام کے نیچے لاتا ہے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے تبلیغ کا جو کام میرے سپرد کیا گیا ہے وہ میری شان سے بہت ادنیٰ ہے اس لیے مَیں روپیہ دے دیتا ہوں تاکہ اس روپیہ کے بدلے کوئی اَور شخص یہ کام کردے مجھے یہ کام نہ کرنا پڑے۔ یہ ایک ایسا خطرناک الزام ہے جو اسے کسی صورت میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور بری نہیں کرسکتا۔کیونکہ ایک طرف وہ روپیہ دے کر تبلیغ کی ضرورت کو تسلیم کر لیتا ہے مگر دوسری طرف کہتا ہے میرے اپنے لیے تبلیغ ضروری نہیں۔ پس جو شخص چندہ تو دیتا ہے مگر تبلیغ نہیں کرتا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مَیں تبلیغ کو ضروری نہیں سمجھتا۔کیونکہ وہ چندہ دے کر تبلیغ کی ضرورت کو تسلیم کر لیتا ہے۔ اُس سے جب خدا پوچھے گا کہ تُو نے کیوں تبلیغ میں حصہ نہیں لیا تو وہ اِس کا ایک ہی جواب دے سکتا ہے کہ مَیں تبلیغ کوایک ادنیٰ کام سمجھا کرتا تھا اس لیے میں نے چندہ دے دیا تھا تاکہ یہ کام کوئی اَور شخص کرتا رہے۔
پس
ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اس پروگرام کو اپنے سامنے رکھے جو خدا نے تجویز کیا ہے۔ و ہ ایک طرف تسبیح، تحمید، تکبیر، درود اور ذکر الٰہی میں حصہ لے اور دوسری طرف نہ صرف مالی قربانیوں میں حصہ لے بلکہ اپنے اوقات اور جذبات کی قربانی بھی کرے۔ اس کے بغیر وہ شکریہ ادا نہیں ہوسکتا جس کا ادا کرنا مسیح موعودؑ کی بعثت کے بعد ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے۔
جیسا کہ میری آواز سے ظاہر ہو رہا ہے گلے کی تکلیف کی وجہ سے بیٹھ گئی ہے اِس لیے مَیں اِس وقت کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا۔ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں کہ جس طرح اُس نے ہمیں مالی قربانیوں میں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اُسی طرح
اللہ کرے ہماری جماعت پر وہ دن بھی آجائے جب ہم میں سے ہر شخص اپنے جذبات کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوجائے، اپنے نفس کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوجائے، اپنے اوقات کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوجائے اور دنیا یہ ماننے پر مجبور ہوجائے کہ ان قربانیوں میں بھی کوئی قوم جماعت احمدیہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔
(الفضل۲۵؍مئی ۱۹۴۴ء)
مزید پڑھیں: اسلام کی ترقی اور اشاعت کے لیےوقفِ جدید کی تحریک خاص اہمیت رکھتی ہے



