جرمنی کے شہر Nordhorn میں مسجد صادق کا بابرکت افتتاح
جرمنی کے شمال مغرب میں ہالینڈ کی سرحد سے قریب ۵۴؍ہزار آبادی پر مشتمل شہر Nordhorn ہے جو اپنی طرز تعمیر کے اعتبار سے ہالینڈ کا ہی ایک شہر لگتا ہے۔ ۱۹۸۵ء میں سب سے پہلے احمدی مکرم اشتیاق احمد ناصر صاحب یہاں آکر آباد ہوئے اور پانچ افراد پر مشتمل جماعت کا آغاز ہوا۔

شہر کی انتظامیہ سے اچھے روابط اور سماجی بہبود کے کاموں میں دلچسپی کے باعث شہر کے ميئر Mr. Friedel Witte نے ۱۹؍جولائی ۱۹۹۷ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کو خط لکھ کر Nordhorn آنے کی دعوت دی جس کے جواب میں حضورؒ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ دیگر مصروفیات کے سبب امسال Nordhorn نہ آ سکنے کی اطلاع دی۔
Nordhorn کی جماعت اگرچہ چھوٹی تھی لیکن شروع ہی سے مسجد تعمیر کرنے کا جذبہ رکھتی تھی اور اپنی اس خواہش کو گاہے بگاہے شہر کی انتظامیہ کے نوٹس میں لایا جاتا رہا۔ چنانچہ ۲۰۱۵ء میں شہر کی انتظامیہ نے ۱۶۰۰؍مربع میٹرکا موجودہ پلاٹ جماعت احمدیہ کو مسجد کے ليے پیش کیا جس کو فوری طور پر ادائیگی کر کے خرید لیا گیا۔ ستمبر ۲۰۱۵ء میں مسجد کے ليے خریدا جانے والا پلاٹ جماعت کے نام منتقل ہو گیا۔
مسجد صادق کا سنگ بنیاد حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۵ء بروز بدھ ہالینڈ سے فرینکفرٹ جاتے ہوئے ۱۰۰؍مہمانوں کی موجودگی میں رکھا اور تقریب سے خطاب فرمایا جس کی تفصیلی رپورٹ ۴؍دسمبر ۲۰۱۵ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔

مسجد کافی عرصہ قبل تعمیر کے مراحل سے گزر کر مکمل ہو چکی تھی۔ دوران تعمیر جب بیرونی فنشنگ کا کام جاری تھا یہاں سب سے پہلی باجماعت نماز ظہر و عصر ۲۸؍ستمبر ۲۰۲۱ء کو مکرم عطاءالحلیم صاحب نے پڑھائی اور پہلا جمعہ یکم اکتوبر ۲۰۲۱ء کو مکرم اشتیاق احمد ناصر صاحب صدر جماعت نے پڑھانے کی توفیق پائی۔ اس کے ساتھ ہی نمازوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ البتہ باقاعدہ افتتاح کے ليے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی جرمنی میں آمد کا انتظار تھا۔ لیکن اب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے ارشاد موصول ہونے پر کہ جو مساجد مکمل ہو چکی ہیں ان کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے مسجد صادق کے افتتاح کے لیے ۶؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز ہفتہ کی تاریخ مقرر کی گئی۔ چنانچہ اس روز دوپہر بارہ بجکر چالیس منٹ پر مکرم عبداللہ واگس ہاوزر صاحب امیر جماعت احمدیہ جرمنی نے ممبران جماعت کی موجودگی میں افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی اور اجتماعی دعا کروائی۔ بعد ازاں مکرم صالح احمد صاحب نے اذان دی اور ایک بجے مکرم مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ انچارج جرمنی نے نماز ظہر وعصر پڑھائیں۔
افتتاحی تقریب:نمازوں کی ادائیگی کے بعد دوپہر سوا ایک بجے افتتاحی تقریب کا آغاز مکرم نیشنل امیر صاحب کی صدارت میں ہوا۔ تلاوت قرآن کریم و اردو و جرمن ترجمہ مکرم جاذب عزیز صاحب نے اور نظم و جرمن ترجمہ مکرم سلیم احمد صاحب نے پیش کیا۔ مکرم حماد احمد صاحب سیکرٹری جائداد نے بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر کے منصوبہ کے انچارج مکرم مبارز احمدجاوید صاحب کو بنایا گیا تھا۔ مسجد صادق بھی سو مساجد سکیم کے تحت بنی ہے لیکن اس کا تمام خرچ دو احمدی دوستوں مکرم عطاءالحلیم احمد صاحب افسر جلسہ سالانہ اور مکرم منصور احمد صاحب ایڈیشنل سیکرٹری مال نے ادا کیا ہے جو تقریباً ۸؍لاکھ یوروز ہے۔ مکرم مبارز احمدجاوید صاحب نے سلائیڈز کی مدد سے مسجد کی تعمیر کے مختلف مراحل اور کارکنان کے محنت سے کام کرنے کے مناظر کے ساتھ پراجیکٹ کی تفاصیل بیان کیں۔ اس مسجد کی پہلی پلاننگ ۲۰۱۷ء میں کی گئی پھر ۲۰۱۸ء میں اس میں کچھ تبدیلی کی گئی۔ پلاٹ کو جھاڑیوں وغیرہ سے صاف کرنے اور پھر ہموار کرنے کے بعد بنیادیں کھودنے کا کام، مینار کا کام، دیواریں پلستر کرنا غرض ہر قسم کا تعمیراتی کام احباب جماعت نے خود کیا ہے۔ چھت ڈالنے، دیواریں کھڑی کرنے، مینار کو کھڑا کرنے کے کام میں تعمیراتی کمپنی سے مدد لی گئی۔ انہوں نے ایک غیر از جماعت ترکی کے مسلمان دوستÖzdemi Hassan کا بطور خاص ذکر کیا جنہوں نے چار سو کلو میٹر دُور Stuttgart سے آکر بلامعاوضہ تمام دروازے کھڑکیاں لگائیں۔ پراجیکٹ انچارج نے لجنہ اماء اللہ کے بھرپور تعاون کا بھی ذکر کیا۔ اس تاریخی موقع پر احمدی بچیوں نے کلام محمود سے دعائیہ اشعار بھی پڑھے جس کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ دو سال کے وقفہ کے بعد مسجد کا افتتاح عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ہمیں دعا اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم سو مساجد سکیم جلد از جلد پوری کرنے والے ہوں۔ حضور کی تو خواہش ہے کہ جرمنی کے ہر شہر میں مسجد بنائی جائے۔ ہم جرمنی کے چاروں کونوں پر آباد شہروں میں مسجد بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن ہمارا ٹارگٹ جرمنی کے ہر شہر میں مسجد بنانا ہے۔ ان شاء اللہ

مکرم امیر صاحب کی تقریر کے بعد صدر جماعت نے وقارعمل میں نمایاں حصہ لینے والوں کے نام لے کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سنگ بنیاد کے موقع پر حضور کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ کہ ’’شہر بھی خوبصورت ہے اور یہاں کے لوگ بھی خوبصورت ہیں ‘‘دہراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسجد کی تعمیر کے بعد اسلام کی تعلیم کو زیادہ بہتر انداز میں مقامی لوگوں کے دلوں میں اتارنے کی ذمہ داری پوری کریں گے۔ ہم پہلے سے زیادہ عبادت کرنے والے اور اس مسجد کو آباد کرنے والے ہوں۔ دو بج کر تیس منٹ پر مکرم امیر صاحب نے اجتماعی دعا کروائی۔ خوشی کی اس تقریب کے اختتام پر بعض گروپ تصاویر بھی اتاری گئیں جن کے بعد تمام مہمانوں نے ایک ساتھ دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ مہمانوں میں قریبی جماعتوں کے ممبران کے علاوہ فرینکفرٹ سے بھی ایک خاصی تعداد شامل تھی۔
مسجد کا رقبہ ۱۶۰۰؍مربع میٹر ہے جس میں تعمیراتی حصہ ۵۳۰؍مربع میٹر پر مسجد، مربی ہاؤس لائبریری اور دفاتر بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے دونوں حصوں میں ۱۵۰؍نمازیوں کے عبادت کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ مسجد کی تعمیر کے دوران پوری جماعت کے دوستوں نے مل کر وقار عمل میں حصہ لیا ۔تاہم درج ذیل دوستوں نے اپنے وقت اور خدمت کو مسجد کے لیے وقف رکھا: حسن نعیم، صالح احمد، مصطفے Ljaic (البانیہ)، Öziemic Hassan (ترکی)، طیب احمد، نور گوندل، محمد حفیظ، عمر عزیز، جہانزیب شاکر، رانا ندیم احمد اور رضوان احمد۔ اسی طرح مکرم نوید اقبال صاحب جماعت ماربرگ نے مسجد کے اندر اور کھڑکیوں کی بیرونی طرف قرآنی آیات کی خطاطی کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ ان ممبران جماعت کی محنت، قربانی اور جانفشانی کو شرف قبولیت بخشے اور بہترین اجر سے نوازے۔ آمین
اللہ تعالیٰ ہمیں کما حقہٗ عبادات کے ذریعہ اس مسجد کو حقیقی طور پر آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:عرفان احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: بینن میں فری میڈیکل اینڈ سرجیکل کیمپس کا انعقاد




