ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۷)(قسط ۱۳۲)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
آرسینک البم
Arsenicum album
(Arsenious Acid)
آرسینک جو علامات پیدا کرتا ہے ان میں بے چینی سب سے نمایاں ہے۔ایسی بے چینی اگر جسمانی ہو تو رسٹاکس اور اگر ذہنی ہو تو آرسینک دوا ہے۔(صفحہ۹۳)
آرسینک کے مریض کے اخراجات سخت بدبودار اور متعفن ہوتے ہیں۔ پیچش اور اسہال کی رنگت سیاہی مائل ہوتی ہے اور تھوڑی تھوڑی اجابت بار بار ہوتی ہے بے چینی کی وجہ سے انتڑیوں کی طبعی حرکت متاثر ہوتی ہے اور بہت سے زہریلے مادے جو قدرتی طور پر نکل جانے چاہئیں وہ جسم میں جذب ہونے لگتے ہیں جن کی وجہ سے بے چینی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وقفہ وقفہ سے بعض مریضوں کو تشنج کا دورہ بھی پڑتا ہے۔ اگر وقت پر آرسینک دے دی جائے تو انتڑیوں کی حرکت معمول پر آ جاتی ہے اور مریض کی طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔(صفحہ۹۳۔۹۴)
آرسینک کے مریض کی پیاس بھی بے چینی کا مظہر ہوتی ہے۔گھونٹ گھونٹ پانی پیتا ہےلیکن پیاس بجھتی نہیں۔اصل میں پیاس ہے ہی نہیں ، محض بے چینی ہے جس سے بار بار منہ خشک ہوتا ہے۔جسے ترکرنے کے لیےمریض گھونٹ گھونٹ پانی پیتا ہے۔اگر بیماری لمبی ہوجائے توپیاس کلیتاً غائب ہوجاتی ہے۔لیکن بے چینی قائم رہتی ہے۔اس صورت میں سارا جسم بے قراری سے حرکت کرتا ہے۔اگر جسم میں طاقت نہ ہو تو مریض دائیں بائیں سر پٹکتا ہے۔منہ خشک ہونے کے باوجود پانی پینے کو دل نہیں چاہتا۔ مریض جلسیمیم کے مریض کے مشابہ ہو جاتا ہے لیکن ایک فرق نمایاں ہے کہ جلسیمیم کا مریض بے چین نہیں ہو تا۔ آرسینک کا مریض مسلسل کروٹیں بدلتا ہے۔ تھوڑا تھوڑا پیشاب بار بار آتا ہے۔ اگر گلے اور مثانے کی تکلیفوں میں آرسینک کی طرح بے چینی پائی جائے تو ہو سکتا ہے یہ بیماری کینسر ہو۔ اسے آرسینک پوری طرح شفا نہ دے تو اس کا استعمال پھر بھی جاری رکھنا چاہیے کیونکہ یہ مرض میں کمی ضرور پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ متعلقہ کینسر کی بالمثل دوا فوری تلاش کرنی چاہیے۔ اگر کینسر یا کسی اور بیماری کا مریض اپنے انجام کے قریب پہنچ چکا ہو اور اسے انتہائی تکلیف اور بے چینی ہو تو ایسی صورت میں اونچی طاقت یعنی ایک لاکھ میں آرسینک دینے سے مریض کو فوری سکون ملتا ہے لیکن اس عرصے میں اگر کوئی اور مؤثر دوا جس کا براہ راست اس کینسر سے تعلق ہو معلوم نہ ہو سکے تو آرسینک کے بعد مریض آرام تو پا تا ہے مگر اس کا بچنا محال ہو تا ہے۔ پس اگر وقت آ چکا ہے تو وہ تکلیف کی بجائے آسانی سے جان دے گا۔ خدا تعالیٰ نے بے چینی اور تکلیف کا احساس بھی جسم کے دفاعی نظام کو متحرک کرنے کے لیےپیدا فرمایا ہے۔ یہ اپنی ذات میں بیماری بھی ہے اور شفا کا محرک بھی۔ اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو جسم کی توجہ مقابلہ کے لیےبیدار ہی نہیں ہوتی۔ میں نے ایک مریضہ کو آرسینک ایک لاکھ اس حالت میں دی کہ ڈاکٹر بالکل مایوس ہو چکے تھے اور درد کم کرنے والی دوائیں بھی بند کر دی تھیں کیونکہ ان سے بے چینی میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد وہ جتنی دیر بھی زندہ رہیں بہت اطمینان اور سکون سے وقت کاٹا۔ گویا آرسینک موت کا موجب نہیں بنتی۔ البتہ اگر موت آگئی ہو تو آخری لمحوں کو آسان کر دیتی ہے۔ (صفحہ۹۴۔۹۵)
آرسینک کے مریض کا سارا جسم ٹھنڈا ہوتا ہےاور گرمی پہنچانے سے آرام محسوس ہوتا ہے لیکن معدے اورسر کی تکلیفوں میں سردی آرام دیتی ہے۔بیماری ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلتی رہتی ہے۔ سر میں درد ہوتو دباؤ سے آرام محسوس ہوتا ہے۔شدید متلی اور قے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔(صفحہ۹۵)
معین وقت سے بیماری کا لوٹ آنا بھی آرسینک کی ایک خصوصیت ہے۔ اگر کوئی درد شقیقہ میں مبتلا ہو، تکلیف میں سردی سے آرام آئے سات یا چودہ دن کے معین وقفہ سے درد کا دورہ ہو تو غالب امکان ہے کہ وہ آرسینک کا مریض ہے۔ اگر ایسے درد کو کسی اور دوا سے دبا دیا جائے اور بروقت صحیح تشخیص نہ ہو سکے تو بسا اوقات یہ درد یا مستقل ٹھہر جا تا ہے یا جو ڑوں کے درد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اگر جو ڑوں کا صحیح علاج کیا جائے تو درد از سرنو سر کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ اس صورت میں آرسینک سے وہ درد ٹھیک ہو جائے گا اور دوبارہ جوڑوں کی طرف منتقل نہیں ہو گا۔(صفحہ۹۵)
آرسینک دل کے لیےبھی اچھی دوا ہے۔اس کے مریض کی نبض باریک ہوتی ہےمگر باوجود کمزوری محسوس کرنے کےنبض میں تیزی اور تناؤ پائے جاتے ہیں۔ایکونائٹ اور بیلا ڈونا کے مریض کی نبض بھر پور اور کاربوویج کے مریض کی نبض بالکل کمزور اور نرم ہوتی ہے۔ ذرا سا زور سے دبانے سے غائب ہوجاتی ہے۔ یہ بنیادی فرق یاد رکھیں تو نبض کے ذریعہ مریض کی شناخت آسان ہوجائے گی اور آپ صحیح دوا تک بآسانی پہنچ جائیں گے۔(صفحہ۹۶)
آرسینک کی بیماریاں دن یا رات کو بارہ بجے کے بعد شدید ہوجاتی ہیں۔ رات کو مرض میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مریض خوف محسوس کرتا ہے اور اکیلا رہنا پسند نہیں کرتا۔ تکلیف بہت بڑھ جائے تو کسی کی موجودگی بھی فائدہ نہیں دیتی۔ آرسینک کے مریض کے جسم میں جگہ جگہ سوزش کی علامات ملتی ہیں خواہ وہ بیرونی ہوں یا اندرونی۔ (صفحہ۹۷)
اگر مروّجہ طب کے ذریعہ ایسی مریضہ کی ماہواری کا علاج کیا جائے جسے زیادہ خون آتا ہو تو اس کی بیما ری بظاہر دب جاتی ہے مگر رحم کے اندر سٹراند کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اور مستقل بد بو دار لیس دار مادہ یا خون کے لوتھڑے نکلنے لگتے ہیں۔ اسی طرح دیگر اخراجات کو بھی علاج کے ذریعہ بند کیا جائے تو بہت خطرناک اثرات ظاہر ہوتے ہیں جو بعض اوقات ذہنی بیماریوں پر منتج ہو سکتے ہیں۔ سارے جسم میں دردیں اور بے چینی ہوتی ہے اور جسم میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں جن کے اخراج کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور گردوں پر بہت برا اثر پڑنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اخراجات کو دوبارہ جاری کیا جائے۔ اس میں آرسینک ایک اہم دوا ہے۔ کالی آیوڈائیڈ اور آرسینک آیوڈائیڈ کو باری باری یا اکٹھے ملا کر دینا بھی مفید ہے۔ علاوہ ازیں سلفر اور پائر و جینم 200 کو ملا کر دینا رحم کے اکثر تعفّنات اور ان کے نتیجے میں بخار یا ذہنی انتشار کو دور کرنے میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ آرسینک اور سیکیل کار (Secale car) (ارگٹ) بہت سی علامتوں میں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ سیکیل کار خون کے گہرے امراض میں استعمال ہوتا ہے۔ جس بیماری میں بھی کالے رنگ کا متعفن خون خارج ہونے لگے اور سیکیل کی نمایاں علامت یعنی شدید گرمی کا احساس موجود ہو تو یہ دوا بسا اوقات تیر بہدف ثابت ہوتی ہے۔ آرسینک سے جو علامات ملتی ہیں ان میں بے چینی اور خون کے تعفنات شامل ہیں۔ لیکن ایک امتیازی فرق یہ ہے کہ سیکیل کار کا مریض شدید گرمی محسوس کرتا ہے اور آرسینک کا مریض سخت سردی کے احساس سے اپنے جسم کو ہر وقت ڈھانپتا رہتا ہے اور آگ کے پاس بیٹھنا پسند کرتا ہے۔ سیکیل کا مریض گرمی محسوس تو کرتا ہے مگر اس کی اندرونی گرمی کو افاقہ بھی بیرونی گرمی پہنچانے سے ہوتا ہے۔ اگر دباؤ محسوس ہو تو دباؤ ہی سے آرام آتا ہے۔ سخت بدبودار اخراجات، موت کا خوف اور گھونٹ گھونٹ پانی پینا۔ یہ تصویر ذہن کو فوری طور پر آرسینک کی طرف منتقل کرتی ہے۔ آرسینک کی بیماریوں میں تکرار پائی جاتی ہے۔ خاص معین مدت کے بعد مرض عود کر آتا ہے۔ چار، سات یا چودہ دن کے بعد خاص وقفوں میں مرض دہرایا جا تا ہے لیکن ان کے علاوہ بعض ایسے امراض جو بار بار پلٹ آئیں مثلاً ملیریا وغیرہ ان میں بھی آرسینک بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ (صفحہ۹۸۔۹۹)
آرسینک کی علامتوں میں مرطوب موسم میں، آدھی رات کے بعد، سرد غذا کے استعمال اور سمندر کے کنارے جانے سے اضافہ ہوجاتا ہے۔گرمی اور گرم مشروبات سے تکلیف میں کمی ہوتی ہے۔(صفحہ۱۰۰)
آرسینک آئیوڈائیڈ یا (آرسینیکم آئیوڈیٹم)
Arsenicum iodatum
(Iodide of Arsenic)
آرسینک کا مریض بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔لیکن آئیوڈیٹم کا مریض بہت گرمی محسوس کرتا ہے اور تیز چلنے اور تیزی سے حرکت کرنےسےاس کی بے چینی کا اظہار ہوتا ہے۔ایسا بچہ جو بہت شرارتی اور پھرتیلا ہو،قابو میں نہ آئے،خوب کھائے پیئے لیکن دبلا پتلا ہو،آئیوڈین کا مزاج رکھتا ہے۔یہی مزاج آرسینک آئیوڈائیڈ میں بھی کسی حد تک دکھائی دیتا ہے۔اس دوا کے مریضوں میں تضادات ملتے ہیں۔کبھی مریض کی علامات آرسینک سے ملتی ہیں اور کبھی آئیوڈین سے جو دو متضاد علامتوں والی دوائیں ہیں۔بہت سی دیگر علامتوں کو پیش نظر رکھ کراس دوا کی نشاندہی کرنی پڑتی ہے۔(صفحہ۱۰۱)
آرسینک آئیوڈائیڈ بہت وسیع الاثر دوا ہے۔اس کے تمام اخراجات کاٹنے اور چھیلنے والے ہوتے ہیں۔جس مخرج سے بھی گزریں وہاں سرخی،جلن اور سوزش پیدا کردیتے ہیں۔(صفحہ۱۰۱۔۱۰۲)
یہ لیوپس (Lupus) اور جلد کے کینسر میں بھی بہت مؤثر دوا ہے۔ اس طرح رحم اور خصیة الرحم یعنی اووری (Ovary) جس میں افزائش نسل کے لیے انڈے بنتے ہیں اس کے کینسر کو اگر ٹھیک نہ بھی کر سکے تو فوری طور پر بڑھنے سے روکتی ہے۔ ڈاکٹر کینٹ کے نزدیک تو ہر کینسر کی بڑھوتی کی رفتار فوری طور پر روکنے کے لیے آرسینک آئیوڈائیڈ بہت مفید ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ ایسی صورت میں آرسینک آئیوڈائیڈ کے ساتھ سچی بوٹی کو استعمال کروانا زیادہ مفید ثابت ہو تا ہے۔(صفحہ۱۰۲)
آرسینک آئیوڈائیڈ چنبل (Psorisis) کے علاج میں بھی کام آتی ہے۔ اس مرض میں دوائیں عموماً وقتی آرام پہنچاتی ہیں ، مکمل شفا نہیں ہوتی۔ اگر غدودوں سے بیماری باہر نکالنے کے لیے دوا دیں تو بہت سخت رد عمل ہوتا ہے اور سارا جسم چنبل سے بھر جاتا ہے۔ جلد کو ٹھیک کرنے کے لیے دوائی کے استعمال سے بیماری دب کر کسی اور رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ ابھی تک کوئی ایسی دوا سامنے نہیں آئی جو دونوں قسم کے اثرات کو سنبھال لے۔ ہاں سلفر اور سورائینم ایک ہزار طاقت میں باری باری دینے سے کسی حد تک فائدہ ہوتا ہے۔ ہائیڈرو کوٹائل (Hydrocotyle) بھی اثر کرتی ہے۔ یہ بہت طاقتور دوا ہے جو کوڑھ میں بھی مفید ہے۔ آرسینک بھی سورک (Psoric) دواؤں میں شمار ہوتی ہے جو اندرونی جھلیوں اور جلد کے درمیان اثر دکھاتی ہے۔ بعض دواؤں کا انتڑیوں اور جلد سے تعلق ہے اور بعض کا رحم اور جلد سے ہے۔ غدودوں اور جلد سے تعلق رکھنے والی دواؤں میں سلفر اور مرکری بہت نمایاں ہیں۔ آرسینک آئیوڈائیڈ کی سفلس کے مختلف مراحل میں بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔(صفحہ۱۰۲۔۱۰۳)
آرسینک آئیوڈائیڈ کا مریض سردی محسوس کرتا ہے اس کے باوجود اسے پسینہ بہت آتا ہے۔اس کی تکالیف بڑھ جائیں تو متلی بھی شروع ہوجاتی ہے۔(صفحہ۱۰۳)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ۲۰۲۶ء میں ہونے والے چند اہم عالمی پروگرام




