حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام کی محبت الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲؍جنوری ۲۰۲۶ء
٭… اس زمانہ میں آپﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود ؑنے اپنے آقا و مطاع کی پیروی میں محبت الٰہی کے اعلیٰ معیار قائم کیے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل آپؑ پر ہوئے اور جو خدا سے آپ کی محبت تھی اس کو لوگ بھی محسوس کرتے تھے
٭… ذات باری تعالیٰ کا عشق بھی جو آپؑ کی روح باطن کے ذرّے ذرّے میں موجزن تھا۔آپؑ کے ہر قول و فعل سے ہر وقت نمایاں نظر آتا تھا ۔میں نے بغیر اوقات نماز کے بھی آپ کو اپنے ربّ کریم کوتڑپ تڑپ کر دعا میں پکارتے سنا ہے (روایت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ )
٭… حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ جب مجھےڈلہوزی جانے کا اتفاق ہوتا توپہاڑوں کے سبزہ زار حصوں اور بہتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر طبیعت سے بےاختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہوتا اور عبادت میں ایک مزہ آتا
٭…دعا کریں یہ سال ہمارے لیے بے شمار برکتوں کا سال ہو
٭…حضرت مسیح موعودؑ کی پڑپوتی مکرمہ ریحانہ باسمہ صاحبہ اہلیہ مکرم سید احمد صاحب ناصر، مکرمہ عفّت حلیم صاحبہ( صدر لجنہ اماء اللہ لائبیریا ) اور مکرم عبد العلیم بروبری آف مصرکی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲؍جنوری ۲۰۲۶ء بمطابق ۲؍صلح ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲؍جنوری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
گذشتہ خطبہ میں آنحضرت ﷺ کے اسوہ ، محبت الٰہی کے متعلق بیان ہوا تھا۔
اس زمانہ میں آپﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود ؑنے اپنے آقا و مطاع کی پیروی میں محبت الٰہی کے اعلیٰ معیار قائم کیے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل آپؑ پر ہوئے اور جو خدا سے آپ کی محبت تھی اس کو لوگ بھی محسوس کرتے تھے۔
اس سلسلہ میں کچھ واقعات بیان کروں گا ۔اس سے پہلے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں اس محبت کا ذکر کرتا ہوں۔ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:مَیں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کون سا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الٰہی شامل حال ہوئی۔ صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتاً میرے دل کو خداتعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رُک نہیں سکتی ، سو یہ اسی کی عنایت ہے۔یعنی جو اللہ تعالیٰ کے مجھ پر احسانات ہیں، یہ سب کچھ اس لیے ملا کہ میں اللہ تعالیٰ کے محبوب اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے والا اور آپ سے محبت کرنے والا ہوںاور اس کے نتیجے میں پھر اللہ تعالیٰ کی محبت کے دروازے بھی مجھ پر کھلتے چلے گئے ۔
ایک جگہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :میرا مکان مساجد ہیں، صالحین میرے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر میرا مال و دولت ہے اس کی مخلوق میرا کنبہ ہے
ایک اور جگہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : ہم ہر ایک شے سے محض اللہ تعالیٰ کے لیے پیار کرتے ہیں ۔بیوی ہو، بچے ہوں دوست ہو سب سے ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔
آپؑ فرماتے ہیں :صادق تو ابتلاؤں کے وقت بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آخر خدا ہمارا ہی حامی ہوگا ۔اور یہ عاجز اگرچہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خداتعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگرچہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں ۔ میں جانتا ہوں کہ خداتعالیٰ میرے ساتھ ہے اگر میں پیسا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرّے سے بھی حقیر تر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذا اور گالی اور لعنت دیکھوں تب بھی میں آخر فتح یاب ہوں گا۔
پھر فرمایا: خدا کے ساتھ کوئی چیز ہمارا پیوند توڑ نہیں سکتی اور مجھے اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو، اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو ۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا، تو مجھ سے الگ ہو جائے، مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پرخار بادیہ درپیش ہیں، جن کو مَیں نے طے کرنا ہے۔ پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں، وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اُٹھاتے ہیں۔ جو میرے ہیں، وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے، نہ مصیبت سے، نہ لوگوں کے سب و شتم سے، نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے اور جو میرے نہیں، وہ عبث دوستی کا دم مارتے ہیں، کیونکہ وہ عنقریب الگ کیے جائیں گے اور ان کا پچھلا حال، ان کے پہلے سے بدّتر ہو گا۔ کیا ہم زلزلوں سے ڈر سکتے ہیں، کیا ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں ابتلاؤں سے خوفناک ہو جائیں گے، کیا ہم اپنے پیارے خدا کی کسی آزمائش سے جدا ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ہو سکتے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ روایت کرتے ہیں کہ مجھے مولوی سرور شاہ صاحبؓ نے یہ بتایا کہ جن دنوں گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا ۔مجسٹریٹ کی تاریخ ڈالی تھی ۔حضرت صاحبؑ قادیان آئے ہوئے تھے ۔حضورؑ نے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا تاکہ وہاں جا کر بعض حوالے نکال کر تیار رکھوں کیونکہ اگلی پیشی میں حوالے پیش ہونے تھے۔گرداسپور میں ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم سے ملے ۔ انہوں نے بتایا کہ میرے پاس محمد حسین منشی آیا تھا جو کہ عدالت میں منشی تھا اور سلسلہ کا سخت مخالف تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ آج کل یہاں آریوں کا جلسہ ہوا ہے۔ بعض آریہ دوست مجھے بھی ساتھ لے گئے۔جلسے کی کارروائی کے بعد انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اب جلسے کی کارروائی ہو چکی ہے اب لوگ چلے جائیں۔ہم نے کچھ پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں ۔عام لوگوں کے جانے کے بعد آریوں میں سے ایک شخص اٹھا اور مجسٹریٹ کو مرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے ۔ اب ساری قوم کی نظرآپ کی طرف ہے ۔اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے۔ اس پر مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے ہی خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمے میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں سب کو جہنم واصل کیا جائے ۔ میں عہد کرتا ہوں کہ خواہ کچھ بھی ہو پہلی پیشی پر ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں گا یعنی حضرت صاحب ؑکو گرفتار کروا دوں گا۔منشی محمد حسین نے کہا کہ میں گو سلسلہ کا مخالف ہوں لیکن میں کسی معزز خاندان کا ہندوؤں کے ہاتھوں ذلیل ہونا نہیں دیکھ سکتا۔پس آپ یہ خبر مرزا صاحب تک پہنچا دیں ۔یا تو مقدمہ چیف کورٹ میں تبدیل کروا لیں یا مرزا صاحب پیش ہی نہ ہوں اور ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کریں۔
مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے اسی وقت چند لوگوں کو قادیان بھیجا تاکہ حضور ؑکو خبر کریں۔ حضرت صاحبؑ سے مختصرا ًعرض کیامگر حضورؑ نے بے پروائی سے فرمایا خیر ہے۔ ہم بٹالہ چلتے ہیں۔ اسی دوران ہمارے وکلاء نے مجسٹریٹ کی نیت بھانپ کر پہلے ہی مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔
چنانچہ اسی روز حضرت صاحبؑ بٹالہ گئے ۔وہاں آپؑ ایک کمرے میں لیٹے تھے کہ آپؑ نے مجھے بلوا کر ساری بات تفصیل سے سنانے کا کہا ۔ پہلے حضورؑ خاموشی سےسنتے رہے جب میں شکار کے لفظ تک پہنچا تو یکلخت حضرت صاحبؑ اٹھ کر بیٹھ گئے ۔آپؑ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا۔آپؑ نے فرمایا:
مَیں اس کا شکار نہیں ہوں ۔مَیں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر کیسے ہاتھ ڈال سکتا ہے ۔ یہ الفاظ کہتے ہوئے آپؑ کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اٹھے ۔
پھر فرمایا کہ مَیں نے تو خدا کو کہا ہے کہ مَیں اس کی راہ میں زنجیریں(ہتھکڑیاں) پہننے کے لیے تیار ہوں ۔ مگر وہ کہتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا ۔پھر آپؑ نے محبت الٰہی پر تقریر فرمائی اور قریباً آدھے گھنٹے تک بولتے رہے۔
اسی طرح کا ایک اَور واقعہ ہے جب سپرنٹنڈنٹ پولیس لیکھرام کے قتل کے شبہ میں سپاہیوں کے ساتھ اچانک قادیان آیا ۔ حضرت میرناصر نواب صاحب ؓکو خبر ہوئی تو وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس گئے اورعرض کیا کہ سپر نٹنڈنٹ ہتھکڑیوں کے ساتھ آ رہا ہے۔ حضرت اقدس ؑاس وقت اپنی تصنیف نور القرآن تحریر فرما رہے تھے۔ آپؑ نے سر اٹھا کر اطمینان سے فرمایا :
میر صاحب لوگ خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا کرتے ہیں ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لیے۔ پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا مگر ایسا نہیں ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں وہ اپنے خلفاء و مامورین کی ایسی رسوائی نہیں کرتا ۔
حضرت منشی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ؓروایت کرتے ہیںکہ ایک دفعہ آپؑ نے فرمایا:ابتلا کے وقت ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بعض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے۔ یعنی ابتلا تو آتے ہیں۔ مقدمات بھی ہوتے ہیں اور مخالفتیں بھی ہوتی تھیں۔ایسے وقت میں آپؑ نےفرمایا کہ ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بعض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے بعض کمزور ایمان والوں کا ہوتا ہے ۔فرمایا :
میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز بھی آوے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہیں کریں گے تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس عشق و محبت الٰہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓفرماتی ہیں :
ذات باری تعالیٰ کا عشق بھی جو آپؑ کی روح باطن کے ذرّے ذرّے میں موجزن تھا۔آپؑ کے ہر قول و فعل سے ہر وقت نمایاں نظر آتا تھا ۔میں نے بغیر اوقات نماز کے بھی آپ کو اپنے ربّ کریم کوتڑپ تڑپ کر دعا میں پکارتے سنا ہے ۔
پھر ایک واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ آپ حجرے میں تھے اور باہر جانے کی تیاری کر رہے تھےہماری تائی صاحبہ کی ایک خادمہ آئی اور ہمارے چچا مرزا امام الدین کی وفات پر اظہار افسوس کرنے لگی۔ اس وقت اس کے منہ سے پنجابی میں نکلابڑا ہی چنگا بندہ سی ۔آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام باہر نکلے ،آپ کا چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو رہا تھا ۔فرمایا :تُو میرے گھر میں میرے خدا کے دشمن کی تعریف کرتی ہے !یعنی مرزاامام دین صاحب جو اسلام سے برگشتہ تھے آپؑ کی غیرت نے برداشت نہیں کیا کہ ان کا ذکر بھی آپ کے گھر میں ہو۔ آپؑ کی آواز میں ایسا جلال تھا کہ وہ عورت وہاں سے سرپٹ بھاگی ۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ایک سکھ زمیندار کا بیان ہے اس نے ہمارے دادا سے کہا کہ آپ کا ایک اَور لڑکا (حضرت صاحبؑ) بھی ہے جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ۔دادا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا :ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا تو ہے مگر وہ تازہ شادی شدہ دلہنوں کی طرح کم ہی نظر آتا ہے۔ اگر اسے دیکھنا ہو تو مسجد کے کسی گوشے میں جا کر دیکھ لو وہ تو مسیتٹر (مسجد میں رہنے والا)ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یہاں ایک شخص تھے بعد میں جماعت میں شامل بھی ہو گئے اور حضرت صاحبؑ سے ان کا بڑا تعلق تھا۔ مگر احمدی ہونے سے قبل حضرت صاحب ان سے ۲۰؍سال تک ناراض رہے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کا ایک لڑکا مر گیا ۔ حضرت صاحبؑ اپنے بھائی کے ساتھ افسوس کرنے گئے تو اس کے منہ سے نکل گیا خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے ۔یہ سن کر حضرت صاحبؑ کواس سے ایسی نفرت ہو گئی کہ ان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔پھر اللہ نے ان کو بیعت کی توفیق دی اور وہ جہالتوں سے نکل آئے ۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایک اَور روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوران سر کا عارضہ تھا ۔چکروں کی تکلیف تھی۔ ایک طبیب کے بارے میں سنا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے ، اسے کہیں دور سے بلوایا گیا۔ اس نے حضور ؑکو دیکھ کر کہا کہ میں دو دن میں آپ کو آرام کر دوں گا۔آپؑ یہ سن کر چلے گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کو رقعہ لکھا کہ مَیں اس سے علاج نہیں کروانا چاہتا ۔کیا یہ خدائی کا دعویٰ کرتاہے۔اسے روپے دےکر رخصت کر دیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کے علاوہ کون ہے جو ٹھیک کرنے والا ہے ۔اصل شافی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کی روایت ہے کہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ جب مجھےڈلہوزی جانے کا اتفاق ہوتا توپہاڑوں کے سبزہ زار حصوں اور بہتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر طبیعت سے بےاختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہوتا اور عبادت میں ایک مزہ آتا۔
مکرم مولا بخش صاحب کی روایت ہے کہ جب مبارک صاحب مرحوم بیمار تھے تو ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تشویش اور فکر رہتا تھا جب صاحبزادہ صاحب فوت ہو گئے تو چند صحابہؓ افسوس کرنے آئے۔ حضور ؑمسجد میں تشریف لائے ۔حضور ؑحسب سابق بلکہ زیادہ خوش تھے نظر آ رہے تھے ۔ فرمایا :مبارک احمد فوت ہو گیا ۔میرے مولا کی بات پوری ہوئی ۔اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ لڑکا یا تو جلد فوت ہو جائے گا یا بہت باخدا ہوگا پس اللہ نے اس کو بلا لیا ۔ایک مبارک احمد کیا اگر ایک ہزار بیٹا ہو اور ہزار ہی فوت ہو جائے مگر میرا مولا خوش ہو یعنی اس کی بات پوری ہوتو میری خوشی اسی میں ہے ۔
لدھیانہ کے منشی احمد جان صاحب حج پہ جانے لگے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں خط لکھاکہ اس عاجز کی ایک عاجزانہ التماس یاد رکھیں کہ جب آپ کو بیت اللہ کی زیارت بفضلہ تعالیٰ میسر ہو تو اس مقام مبارک میں اس احقر عباداللہ کی طرف سے ان لفظوں میں گزارش کریں:اےارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجز و ناکارہ پر خطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے۔اس کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین! تُو مجھ سے راضی ہو اور میرے خطیئات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفور اور رحیم ہے اور مجھ سے وہ کرا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے۔مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور موت اور میری ہر ایک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل محبین میں اٹھا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
میں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلادیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جائے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو ایک لذت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے ۔
آپؑ فرماتے ہیں :
کیاہی بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے ۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دِلوں میں بٹھا دوں۔ کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تالوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔
بعد ازاں حضورِ انور نے نئے سال کی مناسبت سے دعاؤں کی تحریک فرمائی جس کی تفصیل صفحہ اوّل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضورِ انور نے فرمایا کہ
نماز کے بعد میں تین نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔
پہلا جنازہ ریحانہ باسمہ صاحبہ کا ہے جو ۹۰؍سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔ آپ حضرت مسیح موعودؑکی پڑپوتی ،حضرت مرزا سلطان احمد صا حب کی پوتی تھیں۔ حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ کی نواسی تھیں۔ موصیہ تھیں۔ ان کے دو بیٹے واقف زندگی ہیں۔شادی کے بعد اپنے خاوند کے ساتھ کینیا بھی رہیں۔
اگلا ذکر ہے مکرمہ عفت حلیم صاحبہ جو کہ سابق صدر لجنہ اماء اللہ لائبیریا تھیں۔ ڈاکٹر عبد الحلیم صاحب کی اہلیہ تھیں۔ ۵۹؍سال کی عمر میں وفات ہوئی۔۳؍۱حصہ کی موصیہ تھیں۔۲۰۰۴ء میں اپنے خاوند کے ساتھ لائبیریا چلی گئیں۔ان کی اولاد نہیں تھی ۔دو بچوں کو پالا تھا۔
تیسرا ذکر ہے مصر کے عبد العلیم بروبری صاحب کا۔ یہ بھی گذشتہ دنوں ۶۴؍سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
حضورِ انورنے تینوں مرحومین کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی اور ان کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا۔
٭…٭…٭




