اللہ بس ، باقی هوَس

اللہ بس ، باقی هوَس
حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کی آخری نظم منقول از ماہنامہ انصار الله، اپریل ۱۹۹۵ء شیخ محمد احمد مظہر نمبر
یاری گرِ فریاد رس، اللّٰه بس باقی هوس
بخشنده هر دسترس، اللّٰه بس باقی هوس
همارا مددگارفریادیں قبول کرنےوالا ہے۔ اسی پر همارا تکیه هونا چاهیے۔ هماری سب طاقت و قوت اُسی کی عطا ہے۔ پس اُسی کو هر لحاظ سے کفایت کرنیوالا سمجھنا چاہیے۔
خلاق تو، جانی دهد، رزاق تو خوانی نهد
رزقی مجو از هیچکس، اللّٰه بس باقی هوس
تیرا خالق ہے تجھے زندگی بخشتا ہے۔ تیرا رزاق ہے تجھے قسما قسم کی نعمتیں اور خوراک مہیا فرماتا ہے۔ پس تو کسی اور سے کسی بھی قسم کے رزق کی جستجو نہ کر۔ الله ہی ہے
ای مرغ جانت ہر زمان، از بهرِ رفتن پرفشان
ناگاه بگذارد قفس، اللّٰه بس باقی هوس
اے بندے! تیری جان کا پرنده اڑجانے کےلیے هر وقت پر پھیلائے ہوئے ہے اور کسی بھی وقت پنجرے سے نکل جائے گا پس صرف الله هی حقیقت ہے باقی سب ہیچ
کوتاه کن آمال را، کم کم بجو، اموال را
تا چند چیدن خار و خس، اللّٰه بس باقی هوس
اپنی آرزووں کو مختصر کر، دنیا کے اموال کی اتنی جستجو نہ کر، تو کب تک کانٹے اور گھاس پھوس جمع کرتا رہے گا۔پس الله ہی ہے اور باقی سب کچھ نہیں
با دولت کون و مکان، هنگام رفتن از جهان
نتوان خریدن یک نفس ، اللّٰه بس باقی هوس
جس وقت دنیا سے رخصت ہونیکا وقت آتا ہے تو ساری دنیا کی دولت خرچ کرنے سے بھی ایک سانس تک نہیں خریدا جاسکتا۔ تو پھر کیوں اللہ تعالیٰ پر ہی سب دارومدار نہ رکھا جائے ۔پس اللہ ہی ہے باقی کچھ نہیں
در حضرت سلطان روی، بنگر چه سوغاتی بری
این جا ،نیائی باز پس اللّٰه بس باقی هوس1
٭ تو بادشاہوں کے بادشاه کے دربار میں پیش ہونےوالا ہے دیکھ لے کہ کیا سوغات ’’اعمال حسنہ‘‘ ساتھ لے جارہا ہے۔تو پھر اس جگہ واپس نہیں آئے گا۔ پس الله هی هے اور باقی سب هوس
افتادہ مظهر در بلا، دریاب، یا مشکل کشا
در نیم ره مانده فَرَس، اللّٰه بس باقی هوس
مظهر مصیبت میں مبتلا ہے۔ اے مشکل کشا ’’خدا تعالیٰ‘‘ تُو مدد کو پهنچ۔ سواری کا گھوڑا آدھا رستہ چل کر ہی تھک گیا ہے۔پس الله ہی کافی اے باقی سب ہوس ہے
٭جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار با ر دیکھ لو ایسا نه هو که کچھ ره جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو یا سب گندی اور کھوٹی متاع ہو جو شاهی دربار میں پیش کرنے کے لائق نه هو ’’کشتی نوح‘‘
(مرسلہ و اردو ترجمہ:ابن الفارس)
مزید پڑھیں: اُس کی ذات کا ہر اک پہلو کتنا لامتناہی ہے




