نئے سال سے فائدہ اٹھاؤ
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ۲؍جنوری ۱۹۳۱ء)
۱۹۳۱ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے نئے سال میں نئے عہد کے ساتھ نیکیوں میں بڑھنے کے فلسفہ کو بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
ہر سال خدا تعالیٰ کا سلوک بندوں سے جدا گانہ ہوتا ہے۔ اور اس کی بعض نئی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔ گو وہ اپنی شان میں ایسی اعلیٰ و ارفع نہ ہوں جتنی انبیاء کے دور میں ہوتی ہیں۔ مگر بہرحال تجدید اور زیادتی ضرور ہوتی ہے
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
…آج میں اختصار کے ساتھ احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک نیا سال عطا کیا ہے اور موقع دیا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔
نئی جماعت کے قائم کرنے کا منشاء ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلی سے بڑھ جائے
جب کسی طالب علم کو آٹھویں جماعت میں ترقی دی جاتی ہے تو غرض اس سے یہی ہوتی ہے کہ وہ ساتویں سے بڑھ جائے اور دسویں والا نویں سے بڑھ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اپنے سامان اور مخفی سامانوں کے مطابق ۱۹۳۰ء سے ۱۹۳۱ء بڑھا ہوا ہونا چاہیے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض طالب علم ساتویں جماعت میں ہو کر بھی چھٹی والوں سے کمزور ہوتے ہیں مگر یہ ان کی اپنی سستی اور غفلت ہوتی ہے سکول بنانے والے اور اس کے منتظمین یہی انتظام کرتے ہیں کہ اگلی جماعت والا پچھلی جماعت کے لڑکے سے بڑھ کر ہو۔ پس
یہ نیا سال پچھلے سال سے اپنی استعدادوں کے لحاظ سے بڑھ کر ہے ہم خواہ فائدہ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں۔ ہاں ہم چاہیں تو اس سال میں وہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کرسکتے ہیں جو پچھلے سال نہیں کرسکے اور چاہیں تو پچھلی بھی ضائع کردیں
کیونکہ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ وہ پچھلا لکھا پڑھا سب بھلا دیتے ہیں۔ پھر بعض عمریں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں سب کچھ بھول جاتا ہے۔ پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ ان فیوض سے پوری طرح نفع حاصل کرے جو اس نئے سال سے وابستہ ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلَّ یَومٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ۔ (الرّحمٰن: ۳۰)اس یوم سے مراد دَور ِنبوت ہی نہیں کیونکہ نبوت کا دَور تکمیل کا دَور ہوتا ہے۔ اس سے چھوٹے ایام بھی ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک سال بھی ہے۔
ہر سال خدا تعالیٰ کا سلوک بندوں سے جدا گانہ ہوتا ہے اور اس کی بعض نئی صفات ظاہر ہوتی ہیں گو وہ اپنی شان میں ایسی اعلیٰ و ارفع نہ ہوں جتنی انبیاء کے دَور میں ہوتی ہیں مگر بہرحال تجدید اور زیادتی ضرور ہوتی ہے
اور زیادتی چاہے ایک پیسہ کی ہو وہ زیادتی ہی ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا مل کر بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ کسی نے کہا ہے
قطرہ قطرہ مے شود دریا
معمولی معمولی منافع لینے والے تاجر بڑی دولت پیدا کرلیتے ہیں بلکہ جتنی زیادہ کسی کی تجارت وسیع ہو اتنا ہی وہ کم منافع لیتا ہے اس کے ہاتھ سے اربوں روپیہ کا مال نکلتا ہے اس لیے وہ نہایت معمولی منافع سے ہی کروڑوں روپیہ کما لیتا ہے۔
پس اگر تھوڑی سی زیادتی بھی کسی سال میں پیدا ہو تو وہ بھی مفید ہوتی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اللہ تعالیٰ کی ہر صفت بلکہ ہر صفت کا ہر ظہور انسان کے لیے مفید اور ضروری ہے۔
پس
اس نئے سال میں اللہ تعالیٰ کی جس قسم کی صفات بھی ظاہر ہوں اور ان کا جو بھی ظہور ہو اور جتنی بھی اس کی مقدار ہو وہ پہلے ہمارے پاس نہیں اور ضرورت ہے بلکہ فرض ہے کہ کوشش کر کے ہم اسے حاصل کریں۔
شاید اسی سال کی زیادتی ہمارے وزن کو زیادہ کر دے اور ہم فَھُوَفِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃ۔ (القا رعة : ۸) کے مصداق گروہ میں داخل ہوجائیں۔ اور شاید اسی کمی کی وجہ سے ہم وَاَمَّا مَن خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃ۔ (القا رعة : ۹، ۱۰)کے مصداق لوگوں میں شامل ہو جائیں۔ تھوڑی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی کوشش کی ضرورت ہے خواہ وہ تھوڑی ہی ہو اور عین ممکن ہے کہ اس خیال سے کہ یہ سال کیا نئی چیز لایا ہوگا ہم وہ خفیف سی کوشش نہ کرسکیں اور نجات سے محروم رہ جائیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو تھوڑے اوزان اس سال حاصل کر لیں ان سے نہ صرف پچھلی غلطیوں کی تلافی ہو جائے بلکہ نئے سال کے ظہور کا بھی فائدہ حاصل کیا جا سکے اور صرف نجات ہی نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو جائیں۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک شخص تمام عمر ایسے اعمال کرتا رہتا ہے کہ دوزخ کے قریب پہنچ جاتا ہے مگر عین دروازہ پر جا کر اسے ایسا جھٹکا لگتا ہے کہ وہ جنت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص ساری عمر ایسے اعمال کرتا ہے کہ جنت کے دروازہ پر پہنچ جاتا ہے مگر وہاں اسے یک لخت ایسا جھٹکا لگتا ہے کہ دوزخ میں جا پہنچتا ہے۔(ترمذی ابواب القدر باب ما جاء ان الاعمال بالخواتیم) پس کیا معلوم ہے کہ یہ سال ہم میں سے بعض کے لیے جنت میں پہنچا دینے والے جھٹکے کا سال ہو۔ اس لیے اپنی معمولی غفلت سے ایسے ابدی فائدہ سے محروم نہ رہو جس کی مثال ہی نہیں مل سکتی اور جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ لَا عَیْنٌ رَاٴَ تْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ۔(بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ السجدة باب قولہ ‘‘فلا تعلم نفس ما اخفی لھم) پس آؤ کوشش کر کے پچھلے سال کی جو کوتاہیاں ہیں انہیں دور کریں اور نئے سال کے ظہور اور اس میں خدا تعالیٰ کی تجلیوں سے فائدہ اٹھانے والے بنیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ نیا سال ہماری ذاتی اور قومی ترقیوں کا موجب ہو بلکہ دوسری دنیا کی روحانی ہدایت کا بھی موجب ہو اور وہ ہدایت حاصل کرکے ہمارے ساتھ آ شامل ہو۔
( الفضل ۸؍جنوری ۱۹۳۱ء )
مزید پڑھیں: کیاسالِ نوصرف ہندسوں میں تبدیلی لانےکانام ہے؟




