مکتوب

مکتوبِ ایشیا (نومبر ۲۰۲۵ء)

(ابو سدید)

بَرّ اعظم ایشیا کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

چین کی تازہ بتازہ صورتحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ دونوں راہنماؤں نے باہمی تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ چینی صدر نے ٹرمپ سے تائیوان کا مسئلہ اٹھایا۔ چینی صدر نے کہا ہے کہ چین امریکہ تعلقات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک کو تعاون میں توسیع کرنی چاہیے۔ چینی صدر نے تائیوان کے مسئلے پر چین کا مؤقف واضح کیا۔ چینی صدر نے کہا کہ تائیوان کی چین کے پاس واپسی پوسٹ وار انٹرنیشنل آرڈر کا اہم حصہ ہے۔ امریکی اور چینی صدور نے یوکرائن تنازعہ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یوکرائن تنازعہ کے فریقین اختلافات کم کریں۔ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ٹیلی فون گفتگو پر بیان میں کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بہت اچھی گفتگو ہوئی۔ چینی صدر اس سال کے آخر میں سرکاری دورے پر امریکہ آئیں گے۔ شی جن پنگ کی جانب سے اپریل میں دورہ چین کی دعوت قبول کر لی۔ ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ ہمارا بار بار رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ صدر شی جن پنگ سے یوکرائن اور سویا بین سے متعلق بات کی ہے، ہم نے اپنے عظیم کسانوں کے لیے ایک اچھا معاہدہ کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک سالہ تجارتی جنگ بندی (Trade Truce) کا معاہدہ ہوا، جس کی اہم تفصیلات یہ ہیں:امریکہ نے ۱۰؍نومبر ۲۰۲۵ء سے چینی درآمدات پر ٹیرف میں ۱۰؍فیصد پوائنٹس کی کمی کی۔ یہ رعایت ان چینی مصنوعات پر دی گئی جو فینٹانیل (fentanyl) نامی منشیات کی روک تھام سے متعلق کیمیکلز کی برآمدات کو روکنے کے وعدے سے منسلک تھیں۔

زرعی مصنوعات کی خریداری: چین نے امریکہ سے کم از کم ۱۲؍ملین میٹرک ٹن سویا بین خریدنے کا وعدہ کیا اور امریکی مرغی، مکئی، اور گوشت پر عائد جوابی ٹیرف ختم کر دیے۔ چین نے اہم معدنیات (Rare Earth Minerals) کی برآمد پر عائد پابندیاں ایک سال کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا۔

چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی، تفصیلات کے مطابق شینزو۲۱ نامی مشن کو ۳۱؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کی رات دیر گئے لانچ کیا گیا، جو نومبر کے آغاز میں تیانگونگ (Tiangong) خلائی اسٹیشن پہنچا۔اس خلائی جہاز نے لانچنگ کے صرف ساڑھے تین گھنٹے بعد خلائی اسٹیشن سے جڑ کر تیز ترین ڈاکنگ کا قومی ریکارڈ قائم کیا۔مشن کے عملے میں چین کا کم عمر ترین خلاباز (۳۲ سالہ وو فی) شامل ہے۔ یہ عملہ اپنے ساتھ چار چھوٹے چوہے بھی لے گیا ہے تاکہ زمین کے مدار میں ممالیہ جانوروں کی افزائشِ نسل پر تحقیق کی جا سکے۔

چین کی معیشت کے ملے جلے نتائج سامنے آئے:عوامی سطح پر خریداری کے رجحان میں کمی دیکھی گئی اور ریٹیل سیلز کی ترقی کی شرح صرف ۱.۳؍فیصد رہی، جو کہ دسمبر۲۰۲۲ء کے بعد سب سے کم شرح ہے۔صنعتی شعبے میں ۴.۸؍فیصد اضافہ ہوا، جو کہ ماہرین کی توقعات (پانچ فیصد) سے تھوڑا کم رہا۔ غیرملکی سرمایہ کاری میں ۲۶.۱؍فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خاص طور پر سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کی طرف سے سرمایہ کاری بڑھی۔یکم نومبر ۲۰۲۵ء سے چین میں ’’سائبر سیکیورٹی انسیڈنٹ رپورٹنگ‘‘ کے نئے قواعد نافذ ہو گئے۔ اب نیٹ ورک آپریٹرز کے لیے لازمی ہے کہ وہ کسی بھی سائبرحملے یا ڈیٹا کی چوری کی اطلاع ایک مخصوص ٹائم فریم کے اندر حکام کو دیں۔

نومبر کے آغاز میں شنگھائی میں منعقد ہونے والی ۵ویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (CIIE): میں ۶۷؍ممالک کی ۴ہزار سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی اور ۴۶۰؍سے زائد نئی مصنوعات متعارف کرائیں۔

افغانستان کے شدت پسند عناصر دنیا کے لیے خطرہ

وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ اور تاجکستان میں چینی کمپنی پر ڈرون حملے جیسے واقعات نے ایک بار پھر یہ حقیقت پوری شدت سے سامنے رکھ دی ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق حملہ آور افغان شہری رحمٰن اللہ لکنوال ۲۰۲۱ء میں ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکہ منتقل ہوا تھا، جہاں ۲۶؍نومبر کی سہ پہر اس نے گشت پر مامور اہلکاروں پر حملہ کیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی انتظامیہ نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی ہے، جو دراصل ایک واضح اشارہ ہے کہ دنیا اب افغانستان سے در آنے والے خطرات کو نئی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔اسی دوران تاجکستان میں افغانستان کی سمت سے کیے گئے ڈرون حملے میں چینی کمپنی کے تین ملازمین ہلاک ہوئے جس نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حملے کے مقام، طریقہ کار اور ہدف سے یہ بات واضح ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد گروہوں کو نہ صرف پناہ مل رہی ہے بلکہ انہیں کارروائی کے بعد واپس لوٹنے کے محفوظ راستے بھی میسر ہیں۔ تاجکستان نے شدید احتجاج کیا ہے، چین نے سخت مذمت کی ہے اور پاکستان جو خود برسوں سے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار ہے اس نے بھی اس سانحے پر افسوس کا اظہار اور مذمت کی ہے۔ ملک میں موجود شدت پسند گروہ اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر چکے ہیں اور جب تک انہیں محفوظ مقامات اور سہولت کاری میسر رہے گی، خطے میں امن کا قیام ایک ادھورا خواب ہی رہے گا۔دنیا کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ افغانستان میں موجود یہ خطرہ صرف سرحدی تنازعہ یا ہمسایہ ملک کا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب یہ عالمی سطح پر عدم استحکام کا پیش خیمہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس ابھرتے ہوئے بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سٹریٹجک مکالمہ

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سٹریٹجک مکالمے کے ساتویں دور کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں افغانستان سے مطالبہ کیا گیا کہ افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ اس سلسلہ میں وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، ۲۰۱۹ء کے سٹریٹجک پلان کے تحت تعاون اور مستقبل کے مشترکہ اہداف پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ یورپی یونین نے پاکستان کے لیے جی ایس پلس سٹیٹس کی مسلسل اہمیت کا اعتراف کیا جو پاکستان اور یورپی یونین کے معاشی تعلقات کا بڑا ستون سمجھا جاتا ہے۔ فریقین نے اقوام متحدہ کے اصولوں، عالمی امن، کثیرالجہتی نظام اور قانون کی حکمرانی کے تحت بین الاقوامی تنازعات کے حل پر زور دیا۔ اجلاس میں پاک افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی امن اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔ اعلامیہ میں افغانستان کی بگڑتی معاشی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ افغانستان میں امن و استحکام اور ایک جامع سیاسی عمل ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان اور یورپی یونین کے سٹریٹجک مکالمے کا آخری دَور اسلام آباد میں ہو گا۔

اقوام متحدہ کا مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی پر اظہار تشویش

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں خاص طورپررواں سال اپریل میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی فورسزکی جانب سے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین نے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کی شدت اور دائرہ کارکو اجاگر کرتے ہوئے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا مکمل احترام کرے اور قوانین اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے انسانی وقار کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ نومبر کے آخری ہفتہ میں ماہرین کو موصول ہونے والی رپورٹس میں بتایاگیاہے کہ کشمیریوں کو ظلم و تشدد اور جبری گرفتاریوں کا نشانہ بنانے کے علاوہ نظربندوں کووکلاء اور اہلخانہ سے ملاقات سے محروم رکھا جاتاہے ۔ماہرین نے کہاکہ پہلگام واقعے کے بعدبھارتی حکام نے سرینگر، بڈگام، کپواڑہ، پلوامہ ، شوپیاں اوردیگراضلاع میں کارروائیوں کے دوران صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت ۲؍ہزار ۸۰۰؍سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے جبری گرفتاریوں، دوران حراست مشتبہ ہلاکتوں ،وحشیانہ تشدد اور کشمیریوں اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی مذمت کی۔ انہوں نے مکانات مسمار کرنے، جبری بے دخلی اور نقل مکانی پر مجبور کیے جانے کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ اور الٰہی تقدیریں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button