خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۶؍ستمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: آج میں غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب کا ذکرکروں گا جو پانچ ہجری بمطابق فروری اور مارچ ۶۲۷ء میں ہوئی تھی۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احزاب کی وجہ تسمیہ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: اس جنگ کی وجہ تسمیہ کہ جنگ کا یہ نام کس طرح رکھا گیا۔ اس جنگ کو جنگِ خندق بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب کے دستورکے، رواج کے خلاف پہلی مرتبہ مسلمانوں نے خندق کھود کر دفاعی جنگ لڑی تھی اور اس کو جنگِ احزاب بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کو یہ نام دیا ہے۔احزاب حِزب کی جمع ہے جس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں۔ چونکہ اس جنگ میں عرب کی مختلف جماعتیں اور گروہ اکٹھے مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے اس لیے اس جنگ کو جنگِ احزاب کہا گیا ہے۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احزاب کےپس منظر کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: ربیع الاوّل چار ہجری میں یہود کا قبیلہ بنو نضیر اپنی عہد شکنی، بغاوت اور نبی ﷺ کو قتل کرنے جیسی سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا۔ اس عہد شکن باغی قبیلہ کی سزا تو اس سے کہیں سخت تھی لیکن ان کی درخواست پر آنحضرت ﷺ نے عفو و درگزر اور رحم فرماتے ہوئے ان کو جلاوطن کر دیا جس پر یہ قبیلہ اپنا سارا سازو سامان لے کر مدینہ سے کچھ دور خیبر جا کر آباد ہو گیا لیکن ابھی چار مہینے ہی گزرے تھے کہ احسان فراموش اور سازشی کردار کے حامل یہود نے آنحضرت ﷺ اور اسلام کے خلاف ایک ایسا خوفناک منصوبہ بنایا کہ جس کے مطابق مسلمان مکمل طور پر تباہ ہو جائیں۔ منصوبے کے مطابق بنو نضیر کا سردار حُیی بِنِ اَخْطَبْ جو اپنے غرور اور تکبر اور اسلام کے خلاف کینہ اور جوش کی وجہ سے یہود کا ابوجہل کہلائے جانے کا مستحق ہے اپنے سرکردہ ساتھیوں کے ساتھ مکہ گیا اور ابوسفیان اور دیگر قریشی عمائدین سے ملاقات کی اور قریش کو کہا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کا نام و نشان مٹانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم تمہارے پاس آئے ہیں تا کہ ہم سب مل کر محمد (ﷺ ) اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ایک معاہدہ کریں۔مشرکینِ قریش کو اَور کیا چاہیے تھا وہ تو پہلے ہی یہ خونی عزائم رکھتے تھے اور بدر اور احد جیسی جنگی کارروائیاں کر چکے تھے لیکن اپنی دلی مراد پوری نہیں کر سکے تھے۔ بدر کے انتقام اور احد کی ندامت کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔ ابوسفیان نے بنو نضیر کے ان سرداروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تم اپنے گھر آئے ہو اور تمام لوگوں میں سے ہمیں وہ زیادہ محبوب ہے جو محمد (ﷺ ) کی دشمنی پر ہماری مدد کرے۔ باہم گفت و شنید کے بعد قریش کے پچاس لوگوں اور ان یہود نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑتے ہوئے پختہ عہد کرتے ہوئے قسمیں کھائیں کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور محمد(ﷺ ) کے خلاف ان سب کی بات ایک ہو گی اور ہم سب مل کر محمد (ﷺ ) اور ان کے ساتھیوں کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بہرحال ابوسفیان کے ساتھ مدینہ پر ایک زبردست حملہ کرنے کی سکیم اور تاریخ طے کرنے کے بعد بنو نضیر کا یہ وفد عرب کے ان دوسرے قبائل کی طرف گیا جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور کئی ایک ناکام حملے بھی کر چکے تھے۔ چنانچہ سب سے پہلے وہ بنوغطفان کے پاس گیا۔ یہ ملک عرب میں ایک بہادر قبیلہ شمار ہوتا تھا اور مسلمانوں کے خلاف بغض اور کینے میں نمایاں تھا۔ یہود نے ان کو رسول اللہ ﷺ سے لڑائی کرنے کی دعوت دی اور ساتھ خیبر کی ایک سال کی کھجوریں دینے کا لالچ بھی دیا اور یہ بھی بتایا کہ قریش مکہ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ اس پر بنو غطفان نے بھی حمایت کا وعدہ کر لیا اور اپنی طرف سے چھ ہزار فوج کی ضمانت دی۔ اس کے بعد یہود کا یہ گروہ بنو سلیم کے پاس گیا۔ یہ ایک دوسرا قبیلہ تھا جو مسلمانوں پر پہلے سے حملہ کرنے کے عزائم رکھتا تھا لیکن ناکام ہو چکا تھا۔ جب اتنے بڑے اتحادی فوجی حملہ کا اس قبیلے کو علم ہوا تو بخوشی اس نے بھی حامی بھر لی۔
سوال نمبر۴:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے قبائل عرب کےاسلام کےخلاف اکٹھےہونےکی بابت حضرت مصلح موعودؓ کاکیاموقف بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: حضرت مصلح موعود ؓ اس بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ’’یہود کے دو‘‘قبیلے ’’…جولڑائی، فساد،قتل اور قتل کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مدینہ سے جلاوطن کر دیئے گئے تھے۔ ان میں سے بنو نضیر کا کچھ حصہ تو شام کی طرف ہجرت کر گیا تھا اور کچھ حصہ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔ خیبر عرب میں یہود کا ایک بہت بڑا مرکز تھا اورایک قلعہ بند شہر تھا۔ یہاں جا کر بنو نضیر نے مسلمانوں کے خلاف عربوں میں جوش پھیلانا شروع کیا۔ مکہ والے تو پہلے ہی مخالف تھے، کسی مزید انگیخت کے محتاج نہ تھے۔ اسی طرح غَطَفَان نامی نجد کا قبیلہ جو عرب کے قبیلوں میں بہت بڑی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی مکہ والوں کی دوستی میں اِسلام کی دشمنی پر آمادہ رہتا تھا۔ اب یہود نے قریش اور غطفان کو جوش دلانے کے علاوہ بنو سُلَیم اور بنواسد دو اَور زبردست قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسانا شروع کیا اور اسی طرح بنوسعد نامی قبیلہ جو یہود کا حلیف تھا اس کو بھی کفارِ مکہ کاساتھ دینے کے لیے تیا رکیا۔ ایک لمبی تیاری کے بعد عرب کے تمام زبردست قبائل کے ایک اتحادِ عام کی بنیاد رکھ دی گئی جس میں مکہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ مکہ کے اِردگرد کے قبائل بھی تھے اور نجد اور مدینہ سے شمال کی طرف کے علاقوں کے قبائل بھی شامل تھے اور یہود بھی شامل تھے۔ اِن سب قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لیے ایک زبردست لشکر تیار کیا۔‘‘
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ احزاب کےلیےقبائل عرب کی روانگی اوران کی تعداد کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: لکھا ہے کہ قریش مکہ چار ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ ان کی قیادت ابوسفیان کر رہا تھا۔ سواروں کی کمان خالد بن ولید کر رہا تھا۔انہوں نے دارالندوہ میں جھنڈا باندھا جو قریش کی مجلس شوریٰ کی جگہ تھی اور اس کو عثمان بن طلحہ نے اٹھایا۔ انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور اپنے ساتھ تین سو گھوڑے لیے اور ان کے ساتھ پندرہ سو اونٹ تھے۔ بنوسلیم کے سات سو افراد قریش کے ساتھ آملے۔ ان کی قیادت اب سفیان بن عبد شمس کر رہا تھا۔ بنو اسد طلیحہ بن خویلد کی قیادت میں روانہ ہوئے اور بنو فزارہ کے ایک ہزار افراد نکلے جن کی قیادت عیینہ بن حِصن کر رہا تھا۔ بنواشجع کے چار سو افراد نکلے اور ان کا قائد مسعود بن رُخَیلہ تھا۔ بنو مُرَّہ کے چار سو آدمی روانہ ہوئے اور ان کی قیادت حارث بن عوف مُرِّی کر رہا تھا۔ بنو غطفان کی طرف سے چھ ہزار فوجیوں کا وعدہ تھا اور یہود کی طرف سے دو ہزار سے زائد کی ریزرو فوج تھی جو اس بڑے لشکر کے پیچھے ایک آخری ضرب لگانے کے لیے تیار کھڑی ہو گی اور یوں مختلف قبائل کے لوگ جو اس جنگ میں شریک ہوئے ان کی تعداد کم سے کم دس ہزار اور بعض روایات کے مطابق چوبیس ہزار کے قریب تھی۔ ان سب کی قیادت ابوسفیان بن حرب کے ہاتھ میں تھی جو اس وقت تک کی تاریخِ عرب کی سب سے بڑی فوجی مہم تھی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’کفار کے اس عظیم الشان لشکر کا اندازہ دس ہزار نفوس سے لے کر پندرہ ہزار بلکہ بعض روایات کی رُو سے چوبیس ہزار تک لگایا گیا ہے۔ اگر دس ہزار کے اندازے کوہی صحیح تسلیم کیا جاوے توپھر بھی اس زمانہ کے لحاظ سے یہ تعداد اتنی بڑی تھی کہ غالباً اس سے پہلے عرب کی قبائلی جنگوں میں اتنی بڑی تعداد کبھی کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئی ہو گی …سارے لشکر کا قائداعظم یعنی سپہ سالار ابوسفیان بن حَرْب تھا…سامان خورونوش اورسامانِ جنگ بھی ہرطرح کافی وشافی تھا۔ اس طرح یہ لشکر شوال پانچ ہجری مطابق فروری ومارچ 627ءمیں مدینہ کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔‘‘حضرت مصلح موعود ؓ اس بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ’’مختلف مؤرخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہو سکتا۔ یقیناً چوبیس ہزار والا اندازہ زیادہ صحیح ہے اور اگر اَور کچھ نہیں تو یہ لشکر اٹھارہ بیس ہزار کا تو ضرور ہوگا۔ مدینہ ایک معمولی قصبہ تھا۔ اِس قصبہ کے خلاف سارے عرب کی چڑھائی کوئی معمولی چڑھائی نہیں تھی۔ مدینہ کے مرد جمع کر کے (جن میں بوڑھے، جوان اور بچے بھی شامل ہوں) صرف تین ہزار آدمی نکل سکتے تھے۔ اس کے برخلاف دشمن کی فوج بیس اور چوبیس ہزار کے درمیان تھی اور پھر وہ سب کے سب فوجی آدمی تھے۔ جوان اور لڑنے کے قابل تھے کیونکہ جب شہر میں رہ کر حفاظت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ مگر جب دور دراز مقام پر لشکر چڑھائی کر کے جاتا ہے تو اس میں صرف جوان اور مضبوط آدمی ہوتے ہیں۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ کفار کے لشکر میں بیس ہزار یا پچیس ہزار، جتنے بھی آدمی تھے وہ سب کے سب مضبوط، جوان اور تجربہ کار سپاہی تھے۔ لیکن مدینہ کے کُل مردوں کی تعداد بچوں اور اپاہجوں کو ملا کر بمشکل تین ہزار ہوتی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مدینہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سمجھی جائے تو دشمن کی تعداد چالیس ہزار سمجھنی چاہیے‘‘کیونکہ مقابلہ کوئی نہیں ’’اور اگر دشمن کے لشکر کی تعداد بیس ہزار سمجھی جائے تو مدینہ کے سپاہیوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار فرض کرنی چاہیے۔‘‘
سوال نمبر۶:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آنحضرتﷺکےجنگ احزاب کےلیےخندق کھودنے کے فیصلہ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا شعبہ جاسوسی یعنی انٹیلی جنس بھی اس ساری صورتحال سے بے خبر نہ تھا اور چاروں طرف سے خبریں آپ ﷺ تک پہنچ رہی تھیں۔ قریش اور یہود کے اس خوفناک منصوبے کی اطلاعات مدینہ میں پہنچیں تو آپ ﷺ نے صحابہ کو جمع کیا اور ان کو دشمن کے بدارادوں کی خبر دی اور مشورہ کیا کہ مدینہ سے نکل کر مقابلہ کریں یا اس میں رہ کر ان سے جنگ کریں۔ ایک بہت بڑے فوجی لشکر اور اس کے مقابلے میں بہت بڑی تعداد کے پیش نظر زیادہ تر رائے یہ سامنے آئی کہ مدینہ کے اندر رہتے ہوئے دفاع کیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ روایات کے مطابق حضرت سلمانؓ کے مشورہ کا ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے خندق کا مشورہ دیا اور کہا یا رسول اللہ! ہم فارس کی زمین میں جب گھوڑوں کی جماعت سے ڈرتے تو ان کے آگے خندق کھود دیتے تھے یعنی اگر گھوڑوں والی فوج آتی تھی تو خندق کھود دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ اس کو عبور کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ تو یہ رائے سب کو اچھی لگی اور آنحضرت ﷺ نے مدینہ کے اندر رہتے ہوئے دفاع کرنے کا فیصلہ فرمایا اور خندق کھودنے کا ارشاد فرمایا۔ بعض کتب سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کھودنے کا فیصلہ صرف حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورہ کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے الہاماً نبی کریم ﷺ کو یہ طریق بتایا تھا کیونکہ عرب کے لیے یہ طریق بالکل نیا تھا۔ وہ دفاعی خندقیں کھودنے کے طریق سے ناواقف تھے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب ابوسفیان طاقت کے نشے سے چُور ایک لشکر جرار لے کر مدینہ کی طرف حملہ آور ہوا اور جب اسے اہلِ مدینہ کی طرف سے کہیں بھی کوئی روک نظر نہ آئی اور اس کو کوئی اسلامی فوج دکھائی نہ دی تو اول تو اس کو اپنے ایک بہت بڑے لشکر کی وجہ سے ہی یہ گھمنڈ تھا کہ آج اہلِ مدینہ کو ان کے ہاتھوں سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اس نے کہا اب تو میں مدینہ کوختم کر کے ہی جاؤں گا اور جب مدینہ تک کے راستے میں کہیں بھی کوئی مزاحمتی روک نظر نہ آئی تو غرور اور تکبر میں اَور بھی بڑھ گیا لیکن جب اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے وہ عین مدینہ کے قریب پہنچا تو اچانک اپنے سامنے پانچ کلو میٹر لمبی آٹھ نو فٹ گہری اور چوڑی خندق دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ یہ خندق اتنی گہری اور چوڑی تھی کہ گھوڑوں سے بھی اس کو عبور کرنا ممکن نہ تھا۔
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍ دسمبر2025ء




