اُس کی ذات کا ہر اک پہلو کتنا لامتناہی ہے

ذات کے پردے کھلے تو بھائی ایک ہی صورت شاہی ہے
جس جس آئینے میں دیکھا، اُسی کی جلوہ گاہی ہے
دل میں وہی آباد رہے جو سب سے بڑا اور سب سے جدا
سجدہ اسی کے در پہ سجے ہے، باقی سب گمراہی ہے
ذکر کی لَے میں ڈوب کے دیکھو، کیسے ہیں سُر تال حسیں
سانس کی مالا گنِتے گنِتے قرب کی ساعت، چاہی ہے
درد جُڑے گر نام سے اُس کے، نعمت ہے یہ سب سے بڑی
اس کے ہجر میں اپنی حالت آب بِنا جوں ماہی ہے
عقل کے سب پیمانے ٹوٹے، دل کو اُس سے عشق ہوا
ایک ہی نقطہ، ایک ہی مرکز، باقی صرف تباہی ہے
خود کو سمجھنے نکلا تو بس اُس تک جا کر بات رکی
اپنی کہانی اُس کی عطا ہے، بس اتنی آگاہی ہے
خوف کے سب بت ٹوٹ گئے جب اُس کو دل سے مان لیا
رات سیاہی اوڑھ کے آئی، کیسے مہ کی مناہی ہے
رنگ، خوشی، غم، سود و زیاں، سب خواب ہیں، دنیا فانی شے
اس کی ذات کا ہر اک پہلو کتنا لامتناہی ہے
راہِ طلب میں مٹ جانا ہی، طارقؔ اصل میں جینا ہے
قطرہ اگر دریا ہو جائے، وصل یہی ہمراہی ہے
(ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ۔لندن)
مزید پڑھیں: تو ہی نیکیوں میں دوام بخش




