جلسہ سالانہ اوردو طرفہ زیارت کے ایمان افروز نظارے
زیارت کی انمول یاد
دسمبر کی نرم و ملائم مہربان دھوپ میں پرالی پر بیٹھے چلغوزے کھاتے تین چار سالہ بچے پر والد محترم نے ایک ایسا احسان کیا جس کا بدلہ چکانے کا یا را نہیں۔ ’’ نعیم پُتر !حضور نوں ویکھ لے۔ فیر پتا نہیں زندگی چے اے موقع ملے کہ نا‘‘ نعیم بیٹا! حضور کو دیکھ لو۔ پھر پتا نہیں زندگی میں دوبارہ یہ موقع ملے یا نہ ملے۔ والد محترم چودھری بشیر احمد باجوہ صاحب (اللہ تعالیٰ ان کی صحت اور عمر میں برکت دے) نے پتا نہیں محبت کی کس شدت او رعقیدت کی گہرائیوں سے یہ الفاظ کہے کہ دل و دماغ میں گڑھ گئے۔ اُسی ایک لمحہ میں مسجد اقصیٰ ربوہ کےصحن میں بنے اسٹیج پر کھڑے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ پر نظر پڑی اور ہمیشہ کے لیے وہ تصویر دل و دماغ کی دیواروں سے پیوست ہو کر رہ گئی۔ یہ بات ہےجلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۸۰ء۔۱۹۸۱ء کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی زیارت کرنے کا وہ ایک ہی خوش بختی کا لمحہ تھا، اُس کے بعد موقع نہ ملا۔ یادداشت میں محفوظ، امام وقت پر پڑنے والی اس پہلی نظر سے پیدا ہونے والی محبت آئندہ ہر لمحہ بڑھتی ہی رہی اور زیارت کے نظاروں میں جدت آتی گئی۔
زیارت میں حائل ہونے کی مذموم کوشش
ایک اَور منظر جمعۃ المبارک ۲۷؍اپریل۱۹۸۴ءکا ہے۔ قریب گیارہ بجے دن ہمارے گھر تک اطلاع پہنچی کہ آمر وقت نے احمدیوں کی اذان بندکردی ہے۔ میرا اور چھوٹے بھائی مقصود احمد کا آپس میں مقابلہ ہوا کرتا تھا کہ کون مسجد میں پہلےپہنچ کر اذان دے گا؟ جو پہلے تیار ہو کرمسجد پہنچ جاتا وہی اذان دیتا۔ کبھی باری مقرر کر لیتے۔ اُس دن میری باری تھی اور میں جمعہ کی پہلی اذان دینے کے لیے گھر سے نکلنے ہی والا تھا کہ یہ روح فرسا خبر آگئی کہ اذان بند کر دی گئی ہے۔ اُس وقت بچپن کی وجہ سے اس فیصلہ کے پس منظر اور اس سے ظاہر ہونے والے نتائج سے تو آگاہی نہیں تھی لیکن اس فوری بندش کی وجہ سے دکھ اور تکلیف کی وہ ہوک اٹھی کہ جس کا بیان ممکن نہیں۔ آنسوؤں کی ایک جھڑی تھی جو تھمنے کو نہ آتی تھی۔ شاید اسی ایک لمحہ میں شدت غم سے معصوم دل سے نکلنے والی دعا عرش کی بلندیوں کو چھو گئی کہ پھر سالوں بعد وقف کرکے مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں خلافت کے ادنیٰ خادم کی حیثیت سے افریقہ کے ایسے ایسے دُور دراز علاقوں میں دعوت حق کی منادی کرنے اور ’’اذان‘‘ دینے اور قدم رکھنے کی توفیق عطا ہوئی کہ جہاں اس سے پہلے کوئی نہیں پہنچا تھا۔
ایک آمر نے تو اپنی دانست میں جماعت احمدیہ کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا تھا۔ لیکن اُسے کیا معلوم تھا کہ انہی کانٹوں بھری راہوں سے گل گلزار ہوتی ایسی شاہراہیں نکلیں گی جو دنیا بھر میں انقلاب کا پیش خیمہ ہو کر لاکھوں کروڑوں سعید روحوں کو اپنی پُرلطف آغوش میں لینے والی ہیں۔
پہلے سے بڑھ کر قرب کے سامان
جس شدت سے امام وقت کی آواز کو دبانے اور جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلق توڑنے کی مذموم کوشش کی گئی قدرتوں کے مالک خدا نے اس سے ہزاروں گنا بڑھ کر اس تعلق کو مضبوط تر کرنے کے سامان کرنے شروع کردیے۔ جہاں پہلے صرف ربوہ جا کر جلسہ، جمعہ یا ملاقات پر خلیفہ وقت کی زیارت ہوتی اور آپ کے انفاس روحانی و مسیحائی روحوں تک اتر کر تطہیر کا کام کرتے۔ اب مخالفت کی مہیب رات سے روشنی کی ایک ایسی کرن پھوٹی کہ ہرکونے میں خلافت کی آوازفدائیوں اور دیوانوں تک پہنچنے لگی۔ ہر بلندی کو پھلانگتے ہوئے، ہر رکاوٹ کو دُور کرتے ہوئے، ہر مشکل سے گزرتے ہوئے منظم طورپر امام وقت کی آواز سب تک پہنچنے کے سامان ہونے لگے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہجرت کے غم میں نڈھال و مغموم پروانوں کی تسلی کے سامان ہونے لگے۔ آپ کے لندن پہنچنے کے جلد بعد ہی خطبات کی آڈیو کیسٹس آنا شروع ہو گئیں۔ یہ کوئی عام کیسٹس نہیں تھیں یہ تو غلام کے امام سے تعلق کی لائف لائن تھی۔ یہ حبل اللہ کو تھامے رکھنے کا ایک ذریعہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔ یہ کیسٹس دکھی دلوں کامرہم تھیں۔ یہ جماعت کو امام وقت کے ساتھ پہلے سے بڑھ کر جوڑنے والا ایک خط مستقیم تھا۔ ایک کیسٹ کو کئی بار سنا جاتا۔ اگلی آڈیو کیسٹ آنے تک وہ روحانی مائدہ زندگی بخش دوا کا کام کرتا۔ نئی کیسٹ آنے کا بشدّت انتظار اور پرانی کیسٹس کوجاں سے عزیز تر رکھنے کا عجیب سماں تھا۔ اس دور کے توجہ سے سنے ہوئے خطبات آج بھی مستحضر ہیں۔ ہم بچے حضور رحمہ اللہ کی آواز کی نقل کرتے اور فقرات کےفقرات دہراتے رہتے۔ہمارے گھر میں ٹیپ ریکارڈر کا آنا اسی روحانی مائدے سے فائدہ اٹھانے کی خاطر تھا۔ بجلی نہ ہونے کے باعث بیٹریز خرید کر لانا، اور ان کےکمزور پڑنے پر دھوپ میں رکھ کر بزعم خود چارج کرنے کی کوشش کرکے پھر خطبہ چلانے کی کوشش کرنا کتنا معصومانہ تھا۔
قربت اور زیارت کے نئے سامان
وقت نے ایک اور کروٹ لی اور آواز کے ساتھ ساتھ ویڈیو کےذریعہ خلیفہ وقت کی زیارت بھی ہونے لگی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ویڈیو کیسٹس آنے لگے۔ خاص مواقع جیسا کہ جلسہ یا کوئی اور تقریب کے ویڈیو کیسٹس۔ یہ کیسٹس کمیاب تھےاور ہر گھر میں ان کو چلانے (play) کا انتظام بھی نہ تھا۔ باری باری یہ ویڈیو کیسٹس مختلف جماعتوں میں بھجوائے جاتے۔ان ویڈیو کیسٹس کے آنے کا انتظار بشدت ہوتا۔
گاؤں میں لڑکے بھالے کبھی کبھار رقم اکٹھی کرکے فلم دیکھنے کے لیے شہر سے وی سی آر (VCR)کرائے پر لاتے تو پورے گاؤں میں دھوم مچی ہوتی کہ آج فلاں دکان یا محلہ میں فلم دکھائی یا دیکھی جا ئے گی۔ہمیں تو ایسی محافل میں جانے کی مجال تھی نہ کبھی سوچا کہ جانے کی کوشش کریں۔ لیکن ایک دن ہم بھی شہر سے کرائے پر وی سی آر لانے چل پڑے تاہم مقصد کوئی دنیاوی فلم دیکھنا نہیں بلکہ اپنے پیارے امام کا دیداراور زیارت کرنا تھا۔ جلسہ اور دیگر مواقع کی جو ویڈیو کیسٹس آئی ہوتیں ان کو دیکھنے کے لیے انتظام کرنا ہوتا تھا۔ گاؤں میں موجود ایک ایک احمدی کو اطلاع کی جاتی کہ فلاں وقت حضور کی تازہ ویڈیو کیسٹ دیکھنے کا انتظام ہوگا۔ سردیوں میں بڑے کمرے کے اندر رضائیوں میں بیٹھ کر اور گرمیوں میں کھلے صحن میں شام کو پانی کا چھڑکاؤ کرکے کرسیاں، چارپائیاں یا بیٹھنے کے لیے جو کچھ میسر ہوتا لگا کر اہتمام سے یہ ویڈیو دیکھتے۔ شریف النفس غیر احمدیوں کو بھی ایسی مجالس میں مدعو کیا جاتا۔ کچھ آ جاتے اور کچھ مخالفت کے ڈر سے گھبرا کر اس سے محروم رہتے۔
ہمارے ہم عمر لڑکوں کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ صرف ’’مولانا‘‘ کی تقریر سننے کے لیے کرائے پر ٹی وی اور وی سی آر بھی لایا جا سکتا ہے۔ ان بےچاروں کو کیا معلوم تھا کہ یہی ’’مولانا‘‘ تو ہماری زندگیوں کا روح و رواں ہیں۔ اور ان پر سب کچھ قربان۔
لاکھوں گھروں میں ورود مسعود
پھر وقت کے ساتھ زندگی کی ایک اَورپرت کھلی تو ۱۹۹۳ء میں جامعہ میں آگئے۔ اگلے ہی سال ۱۹۹۴ء میں ایم ٹی اے کی باقاعدہ نشریات شروع ہوئیں۔اور پھر ایک جہان کھلتا چلا گیا۔ سات سالہ دور جامعہ میں خلافت رابعہ کے خوبصورت لمحات ایم ٹی اےکے ذریعہ براہ راست دیکھنے کا ایک الگ ہی مزا تھا۔ اردو کلاسز، ہومیو پیتھک کلاسز، ملاقات، دُروس القرآن، ترجمۃ القرآن، خطبات، جلسے۔ کبھی حضور کسی ملک کے دورے پر ہوتے تو خطبہ کا وقت بدل جاتا۔ آدھی رات کو بھی جامعہ کے ہال میں جمع ہو کر لائیو خطبہ سننے کا نظارہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ الٰہی نوشتوں کوپوراہوتے ہم نے دیکھا۔ مسیح محمدی کے نمائندہ خلیفۃ المسیح کی آواز اور تصویر بیک وقت در و دیوار کو پھلانگتی ہوئی ہر گھر تک پہنچنے لگی۔
ہوا کے دوش پہ لاکھوں گھروں میں در آیا
نکل گیا تھا جو گھر سے کبھی خدا کے لیے
ابتدائی ایم ٹی اے کے یاد گار واقعات
لیکن ساتھ ہی اس دور میں موجود وسائل کے اپنے مسائل تھے۔ بڑے بڑے ڈش انٹینا، جو مضبوط چھتوں پر نصب کیے جاتے، یا کھلے صحن میں لگائے جاتے۔ تھوڑی سی بےاحتیاطی کی وجہ سے ہل جانے کی صورت میں سگنل نہ ملنا اور سارا سارا دن اور بعض اوقات رات بھی ڈش سیٹ کرنے میں گزرجاتی۔ خاص طو رپر دیہات میں جہاں ایسے انٹینے نصب کرنے والے کاریگر نہ ہونے کے برابر تھے۔
ہمارے گاؤں میں ابھی ڈش نہیں لگی تھی۔ قریبی بڑی جماعت چونڈہ تھی جہاں مرکزی مسجد سے ملحق ایک گھر کی چھت پر ڈش نصب تھی۔ ایک دن ہم گاؤں سے سات کلومیٹر کا سفر سائیکل پر طے کر کے اور اپنے ساتھ گاؤں کے ایک چچا کو بھی حضور کا خطبہ سنانے کے لیے لے گئے۔ اُن دنوں شام چھ بجے خطبہ نشر ہوتا تھا۔ وقت سے پہلے پہنچ گئے۔دیکھا کہ کچھ خدام ایم ٹی اے آن کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ ڈش انٹینا چھت پر تھا۔ ہم بھی وہاں چلے گئے ہوئے۔ ہر طرح کی کوشش کر لی لیکن سگنل نہیں ملا۔ پورا گھنٹہ جہازی سائز ڈش کو گھما گھما کر تھک گئے لیکن ناکام رہے۔ خطبہ کا وقت ختم ہو گیا۔ بڑی تکلیف ہوئی کہ اس قدر سفر کرکے بھی آئے لیکن پیارے آقا کا دیدار نہ ہو سکا۔ خطبہ سننے سے محروم رہنے کا بہت دکھ تھا۔ بادل نخواستہ واپسی کے لیے اٹھے۔ چھت سے اترنے سے پہلے ٹی وی وغیرہ سمیٹنے لگے تو معلوم ہوا کہ ڈش کی تار ریسیور میں لگی ہی نہیں تھی تو وہ سگنل کیسے پکڑتا۔
یادوں کے دریچے کھلتے ہیں تو وہ خوبصورت مناظر بھی سامنے ہیں۔ جب جلسہ سالانہ برطانیہ اور جرمنی کے مواقع پر بڑی جماعتوں میں اجتماع ہوتے اور اردگرد کی جماعتوں سے احباب وہاں جمع ہو کر اجتماعی طو رپر جلسہ کی برکات سے مستفید ہوتے اور امام وقت کی زیارت کرتے۔ ان مراکز میں اک چھوٹے جلسہ کا عجیب روح پرور منظر بن جاتا۔ خاص طور پر اختتامی خطاب رات کی خاموشی میں سننے کا الگ ہی لطف تھا۔ مسجد کے صحن میں ٹی وی لگایا جاتا تو ارد گرد کے غیراحمدی جو وہاں نہ آنا چاہتے اپنے گھروں کی چھتوں سے شامل جلسہ ہوتے۔
ایسی ہی یادوں میں جلسہ سالانہ جرمنی ۱۹۹۳ء بھی ہے۔ جب اختتامی اجلاس میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنا نعتیہ کلام ’’اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی‘‘ جو پہلے جلسہ سالانہ برطانیہ میں پڑھا گیا تھا،دوبارہ پڑھوایا۔ آپؒ نےاس سے پہلے خود نعرے لگوائے اور پھر نظم کے دوران نعرے لگانے سے منع فرمایا اور ڈوب کراس نعت کو سننے کا ارشاد فرمایا۔ ہم نے یہ اجلاس ضلع سیالکوٹ کی ایک بڑی جماعت ٹھروہ میں سنا۔ جہاں مسجد کے صحن میں انتظام تھا اور رات کی خاموشی میں آواز دُور دُور تک جا رہی تھی۔ عجیب پُرکیف سماں تھا۔
یادداشت کے پردے پر ایک ورق گاؤں میں ہماری چھوٹی سی جماعت میں ڈش انٹینا لگانے کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑی تھی،کا بھی ہے۔ جامعہ کے دوران وہ لمحہ بھی آیا جب بمشکل رقم جمع کرنے کے بعد ڈش انٹینا لے کر گھر پہنچا۔ اپنے گھر میں ایم ٹی اے کے لیے ڈش لگانے کی توفیق ملی تو عجیب خوشی کا ماحول تھا کہ اب ہر وقت اپنے پیارے امام کی زیارت کے سامان میسر ہوں گے۔ اب کسی دوسرے گاؤں نہیں جانا پڑے گا۔
شرق و غرب کے مومنین یکجا ہونے لگے
تقدیرِ الٰہی کے مطابق امام الزمان کی تبلیغ کی منادی کے لیے نئے نئے طریق سامنے آتے گئے۔ اور ہم نصیب والے ہیں کہ لمحہ لمحہ بدلتے حالات اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے کو دیکھنے والے بنے۔ بے شمار الٰہی اشاروں اور پیشگوئیوں میں سے امام باقر رحمہ اللہ کی طرف سے کی جانے والی پیشگوئیاں بھی عجیب رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔ فرماتے ہیں: إِنَّ الْمُؤْمِنَ فِي زَمَانِ الْقَائِمِ وَهُوَ بِالْمَشْرِقِ، لَيَرَى أَخَاهُ الَّذِي فِي الْمَغْرِبِ، وَكَذَا الَّذِي فِي الْمَغْرِبِ، يَرَى أَخَاهُ الَّذِي فِي الْمَشْرِقِ۔(بحارالانوار جلد ۵۳ صفحہ ۳۹۱) امام قائم کے زمانہ میں مشرق میں رہنے والا مومن مغرب میں رہنے والے اپنے مومن بھائی کو دیکھ لے گا اور مغرب میں رہنے والا مشرق میں رہنے والے اپنے مومن بھائی کو دیکھ لے گا۔
امام وقت سے ملاقات کی تڑپ
جب ایم ٹی اے شروع ہوا تو اس وقت یک طرفہ رابطہ تھا۔ امام قائم کے نمائندہ خلیفۃ المسیح کو دیکھ کر جماعت مومنین خوش تھی اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود بھی۔ یہ واقعی انقلابی دور تھا۔ دشمن تلملا رہا تھا اور مومنین خوشی سے نہال۔ تاہم اس پیشگوئی کا دوسرا حصہ ابھی پورا ہونے والا تھا۔ یک طرفہ رابطہ دو طرفہ رابطوں میں بدلنے والا تھا۔ جہاں مومنین امام وقت کو دیکھ کر اپنی روحوں کی پیاس تو بجھا رہے تھے لیکن اپنے تڑپتے دیوانوں کو دیکھنے کے لیے امام وقت کی ترستی آنکھوں کے سامان ہونا ابھی باقی تھے۔ وہ امام وقت جو کبھی کبھی اپنی تڑپ کا اظہار بھی اس طرح کر دیتے:
الگ نہیں کوئی ذات میری، تمہی تو ہو کائنات میری
تمہاری یادوں سے ہی مُعَنوَن ہے زیست کا انصرام کہنا
اے میرے سانسوں میں بسنے والو! بھلا جدا کب ہوئے تھے مجھ سے
خدا نے باندھا ہے جو تعلق رہے گا قائم مدام کہنا
تمہاری خاطر ہیں میرے نغمے، مری دعائیں تمہاری دولت
تمہارے درد و اَلم سے تر ہیں مرے سجود و قیام کہنا
(کلام طاہر صفحہ۲۶۔۲۷۔ایڈیشن ۲۰۰۴ء)
امام قائم کا مفہوم
یہاں یہ امربھی قابل توجہ ہے کہ آنے والے مہدی کو امام قائم کہا گیا ہے۔ یقیناً قیوم خدا کا نمائندہ امام مہدی قائم ہوگا تو اوروں کو قائم کرنے اور قائم رکھنے والا ہوگا۔ اسی کے ذریعہ سے دلوں کو استقامت عطا ہونی تھی۔ اسی نے دین حق کو قائم کرنا تھا۔ قیام شریعت، تکمیل اشاعت ہدایت، قیام توحید، قیام خلافت، قیام عبادات۔ الغرض آخری زمانہ میں ہر لحاظ سے دین کا قیام اسی کے ساتھ منسلک کر دیا گیا تھا۔اسی کے ساتھ جڑے رہنے والے قائم رہ سکتے ہیں۔ امام قائم کے نمائندہ خلفاء آج قیام شریعت کے اسی مشن کو آگے سے آگے بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔
خلافت رابعہ میں نمائندہ امام قائم نے ایم ٹی اے کا اجرا کر کے دلوں کو باندھ کر رکھ دیا۔ دشمن جماعتِ مومنین کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے تھا تو امام وقت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی ایسی شیرازہ بندی فرمائی کہ خود مخالفین اپنے دانتوں میں انگلیاں دینے پر مجبور ہیں۔
متفرق بولیاں بو لتے حواری
ایم ٹی اے پر تراجم کا سلسلہ شروع ہوا تو گویا روح پرور مائدہ متفرق خوبصورت ڈشوں میں رکھ کر پیش (serve)کیا جانے لگا۔ روحانی دسترخوان وسیع ہو گیا۔گویا ایک ہی میز پر بیٹھے اپنے اپنے ذائقہ کے مطابق لطف اندوز ہونے لگے۔‘‘یُنَادِی مُنَادٍ مِّنَ السَّمَاءِ أَوَّلَ النَّهَارِ یَسْمَعُهُ كُلُّ قَوْمٍۢ بِاَلسِنَتِھم۔(بحار الانوار جلد ۵۲ صفحہ ۲۸۹) دن کے اول حصہ میں ایک منادی پکارے گا جسے ہر قوم اپنی اپنی زبان میں سنے گی۔
ایم ٹی اے کے قیام نے بائبل کی پیشگوئی سمجھنے میں بھی مدد دی:’’جب عِید نزول روح القدس ( Pentecost) کا دِن آیا تو وہ سب ایک جگہ جمع تھے۔کہ یکایک آسمان سے ایسی آواز آئی جیسے زور کی آندھی کا سنّاٹا ہوتا ہے اور اُس سے سارا گھر جہاں وہ بیٹھے تھے گونج گیا۔اور انہیں آگ کے شعلہ کی سی پھٹتی ہوئی زبانیں دکھائی دیں اور اُن میں سے ہر ایک پر آٹھہریں۔ اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور غیرزبانیں بولنے لگےجس طرح رُوح نے اُنہیں بولنے کی طاقت بخشی۔‘‘( اعمال باب ۲ آیت ۱ تا ۴)
عیسائی آج تک اس کلام کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اس پیشگوئی کی تاویلات کرکے اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن دراصل امام قائم کے حواری ہر روز ایم ٹی اے کے ذریعہ امام وقت کے ارشادات اپنی اپنی زبان میں سن کر اور ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر بیعت کے وقت اپنی اپنی بولی بول اور سمجھ کر اجتماعی طو رپر اس عظیم الشان پیشگوئی پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔
صدائے فقیرانہ حق آشنا
ایم ٹی اے کے ذریعہ اس منادی کی آواز شش جہت میں گونجنے لگی۔ عجیب بات ہے کہ امام قائم کے جس نمائندہ کے ذریعہ یہ پیشگوئی پوری ہونی تھی۔ عالم الغیب خدا نے اسی کی زبان سے ا س کی تجدید ایک اور انداز میں ایک دہائی قبل کراکے گویا یہ اشارہ دے دیا کہ اب وہ دن قریب ہیں۔ فرماتے ہیں :
یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا، پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا
تیری آواز اے دشمن بد نوا ! دو قدم دور دو تین پل جائے گی
ہر لمحہ’’ صدائے فقیرانہ حق آشنا ‘‘نئے نئے زاویوں سے پیاسی روحوں کو سیراب کرنے کے سامان کرتی جاتی ہے اور ’’دشمن بد نوا ‘‘کی آواز کی بدصورتی بھی مزید کھل کر سامنے آتی جا رہی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ فرمایا کہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ دیکھو کس شان سے پورا فرمایا ہے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی۔ کل پرسوں کی بات ہے ہم ریڈیو کی باتیں کرتے تھے تو اپنےاندر یہ قدرت نہیں پاتے تھے کہ ہم کوئی انٹرنیشنل ریڈیو ہی قائم کرسکیں کجا وہ دن اور کجا وہ تین سال کے عرصے میں یہ احمدیت کے قافلے کا پھلانگتا ہوا سفر جو پہلے زمین پر چھلانگیں مار رہا تھا اب آسمانوں پر اڑنے لگا ہے اور آسمان سے پھر زمین پر اترتا ہے اور پیغام لے کر پھر ا پنے سفر پر رواں دواں ہوتا ہے۔ یہ نظام خدا نے ہمیں عطا فرمایا ہے اور اس الہام کی برکت ہے۔ (ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل ۲۷؍ جون ۱۹۹۷ء)
حضورؒ کا یہ ارشاد پڑھنے کے علاوہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم نے یہ ارشاد براہ راست سنا اور آج تک اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔ توفیق ہو تو پرانے ریکارڈ میں سے نکال کر ضرور سننا چاہیے۔ روح وجد میں آ جاتی ہے۔
شنوائی او ربینائی کے تیز تر ہونے کی پیشگوئی
حضرت امام باقرؒ کا ایک اَور ارشاد عجیب رنگ اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ فرمایا ان قائمنا اذا قام مد اللّٰہ لشیعتنا فی اسماعہم وابصارھم حتی یکون بینھم و بین القائم برید یکلمھم فیسمعون وینظرون الیہ وھو فی مکانہ۔(بحار الانوار جلد ۵۲ صفحہ ۳۳۶ از شیخ محمد باقر مجلسی داراحیاء التراث العربی بیروت) ہمارے امام قائم جب مبعوث ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے گروہ کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کو بڑھادے گا یہاں تک کہ یوں محسوس ہوگا کہ امام قائم اور ان کے درمیان فاصلہ محض ایک برید یعنی ایک مسافت یا اسٹیشن کے برابر رہ گیا ہے۔ پھر جب وہ امام ان سے بات کریں گے تو وہ انہیں سنیں گے اور ساتھ دیکھیں گے جب کہ امام اپنی جگہ پر ہی ٹھہرا رہے گا۔
آج دو طرفہ روابط کے ذریعہ شنوائی او ربینائی کس قدر تیز ہو چکی ہےکہ بغیرکسی لمحہ کی تاخیر کے براہ راست محب اورمحبوب آمنے سامنے ہیں۔ محبین کی جماعت ہمہ تن گوش ہوتی ہے جیسے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں جو ذرا سی حرکت سے اڑ جائیں گے۔ کیسے دیوانے ہیں کہ دن دیکھتے ہیں نہ رات۔اپنے پیارے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسے سننے کے لیے،اس کی زیارت کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے سامان کرتے ہیں۔
خلافت احمدیت۔بہترین قیادت
خدا تعالیٰ نے قلب مومنین میں خلافت کی محبت کی ایسی جوت جگا رکھی ہے کہ جس کی مثال آج روئے زمین پر کہیں اور نہیں ملتی۔ قربانی، عشق، وفا، اخلاص، اطاعت، دعا، محبت، کسی بھی پیمانے پر افراد جماعت کی محبت کو ناپ لیا جائے آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جماعت کا دو ر دور تک کوئی ثانی نہیں۔ دوسری طرف جس قدر محبت افراد جماعت اپنے پیارے امام سے کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ تعلق محبت، پیار کی نگاہیں، الفت، ہمدردی، دعائیں، راہنمائی ہمیں اپنے پیارے امام سے میسر آتا ہے۔
حدیث مبارکہ خِیَارُ أَئِمَّتِکُمُ الَّذِینَ تُحِبُّونَهُمْ وَیُحِبُّونَکُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَیْهِمْ وَیُصَلُّونَ عَلَیْکُمْ۔ ( صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر: ۱۸۵۵) ’’تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، تم ان کے لیے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں۔ ‘‘کس قدر سچائی کے ساتھ آج جماعت احمدیہ پر صادق آتی ہے۔
محبتِ خلافت کے عجیب مناظر
افریقہ میں تقرری ہوئی تو امام وقت سے محبت کے عجیب نظارے دیکھنے کو ملے۔ ۲۰۰۳ء میں عوامی جمہوریہ کونگو کے ایک سنٹرل ریجن کسائی اوکسی ڈینٹل کے صوبائی دارالحکومت کانانگا میں رابطہ بحال ہوا تو وہاں سے ایک بزرگ مکرم ابراہیم Batubiyabiya صاحب جماعتی ہیڈ کواٹرز کنشاسا تشریف لائے۔ وہ ذاتی طور پر بمشکل ایئر ٹکٹ کا انتظام کرکے آئے تھے۔ سفر کا کوئی اور ذریعہ میسر نہیں تھا۔ کنشاسا میں اپنے قیام کے دوران وہ سارا سارا دن ایم ٹی اے کے آگے بیٹھے رہتے۔ حالانکہ وہ اردو یا انگلش سے بالکل نابلد تھے بلکہ فرنچ بھی تھوڑی ہی سمجھتے تھے۔ لیکن امام وقت کی محبت میں وہ نہ کوئی اردو پروگرام چھوڑتے نہ کسی دوسری زبان کا۔ انہیں یہ غرض نہیں تھی کہ پروگرام براہ راست آرہا ہے یا پہلے سے ریکارڈ شدہ ہے۔ انہیں تو صرف ایک ہی دھن تھی کہ امام وقت کی زیارت ہو رہی ہے۔ وہ اردو کلاس میں بچوں کے ساتھ حضور کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر خود بھی مسکراتے۔ ان کی خوشی دیدنی تھی۔
یہی محبت جلسہ سالانہ برطانیہ۲۰۲۵ء سے کچھ دن پہلے دیکھنے کو ملی۔ برکینا فاسو کے ریجن فادامیں ملکی حالات کی وجہ سے ارد گرد کے دیہات سے بہت سارے احمدی ہجرت کرکے فادا شہرمیں جماعت کی زمین پر رہائش پذیر ہیں۔ جلسہ سے چند دن قبل یہاںمرکزی مسجد میں ایم ٹی اے کی ڈش نصب کی جب ٹی وی آن کیا تو سب سے پہلا پروگرام حضور انورکا لگا ہوا تھا۔حضور انورکو دیکھ کر بچوں اور بڑوں کے چہروں پر آنے والی مسرت اور خوشی دیدنی تھی۔ اُن لوگوں کو فرنچ زبان بھی نہیں آتی اور صرف اپنی مقامی زبان ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن خلافت کے ساتھ محبت کی زبان سمجھنے کی وہ خوب طاقت رکھتے ہیں۔
ہم نے الفضل کے ذریعہ خلافت کی آواز فدایان تک پہنچتے دیکھی پھر آڈیو اور ویڈیو کیسٹس کا دور آیا۔ پھر خدا تعالیٰ کی تقدیر نے ایم ٹی اے کے ذریعہ امام قائم کی زیارت کے نظارے ساری دنیا کو کرائے۔ اور پھر ایم ٹی اے کو نئی جہات عطا فرمائیں۔ آج معلوم ہوتا ہے کہ دور جدید کی ہر ایجاد اور میڈیا کا ہر ذریعہ صرف امام وقت کی آواز و پیغام کو یکساں دنیا میں پھیلانے کے لیے ہی وجود میں آیا ہے۔ ایم ٹی اے ہر روز نئی شان کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اب تک دنیا میں پائی جانے والی کوئی بھی میڈیائی شکل ایسی نہیں جس پر ایم ٹی اے موجود نہ ہو۔اس مائدہ کو دلوں میں اتارنا باقی ہے باقی سارے سامان تو ہو چکے۔
لگاؤ سیڑھی اُتارو دِلوں کے آنگن میں
نِثار جاؤ، نظر وار وار کر دیکھو
جو اُس کے ساتھ، اُسی کی دُعا سے اُترا ہے
یہ مائدہ ہے، ڈِشوں میں اُتار کر دیکھو
ہم بھی وہیں موجود تھے
اس سال(۲۰۲۵ء) جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر دنیا بھر میں ایک سو کے قریب مراکز میں بیٹھے ہوئے احمدی دو طرفہ نظاروں سے لطف اندوز ہوئے۔ ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سامنے لگی بڑی سکرین پر باری باری ان دیوانوں کو دکھا یا جاتا رہا۔
حضرت امام باقر رحمہ اللہ کی پیشگوئی ’’قائم کے زمانہ میں مشرق میں رہنے والا مومن مغرب میں رہنے والے اپنے مومن بھائی کو دیکھ لے گا اور مغرب میں رہنے والا مشرق میں رہنے والے اپنے مومن بھائی کو دیکھ لے گا۔‘‘کی کیسی خوبصورت عملی تفسیر ہے۔ اور ہم خوش قسمت کےاس عظیم الشان پیشگوئی کے پورا ہونے کے نہ صرف گواہ بلکہ اس میں شامل ہیں۔ ذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء۔
اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے بہت بڑا فضل۔ امّتِ واحدہ بننے کا جدید نظارہ
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ایم ٹی اے نےاس دفعہ دنیا کے تقریباً چھپن ممالک میں ایک سو انیس مراکز کے ساتھ جلسہ کو جوڑا۔ اس رابطہ کے ذریعہ دونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ ہم یہاں سے انہیں دیکھ سکتے تھے اور وہ وہاں سے براہ راست ہمیں دیکھ رہے تھے، بس ٹی وی کی نشریات نہیں تھیں جو وہ سن رہے تھے۔ بلکہ براہ راست رابطہ بھی تھا جس کا بہت گہرا او ر اچھا اثر ہوا۔ اس اثر کو صرف یہاں موجود لوگوں نے محسوس نہیں کیا،یہاں لوگوں نے بھی بڑا پسند کیا اس کو، بلکہ مختلف ممالک میں بیٹھے جلسہ سننے والوں کے جذبات اور احساسات بھی یہی تھے کہ گویا جلسہ گاہ کی مارکی میں ہی بیٹھے جلسہ سن رہے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے اس ذریعہ سے انہیں یوں جلسہ سننے کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ خود کو وہیں حاضر محسوس کر رہے تھے۔
پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے جو اُس نے جماعت احمدیہ پر فرمایا ہے کہ ان نئی ایجادات کے ذریعہ تمام دنیا کے احمدیوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔ امت واحدہ بننے کا یہ نظارہ دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتا۔(خطبہ جمعہ یکم اگست ۲۰۲۵ء بمقام اسلام آباد یو کے)
یہ فقط ٹی وی کا اک چینل نہیں
پیار کی اِک داستاں ہے ایم ٹی اے
اِک تمنا کی حسیں تعبیر ہے
آج مثلِ خانداں ہے ایم ٹی اے
اپنی پیاری جماعت کو دیکھنے کی شدید خواہش
جہاں ہر احمدی اپنے آقاکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتا ہے وہاں ہمارے پیارے امام اپنے پیاروں کو دیکھنے اور ان کے لیے دعائیں کرنے کی کس قدر تڑپ رکھتے ہیں اس کی ایک چھوٹی سی جھلک آپ کے ارشاد سے ہی واضح ہے۔ فرمایا: دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصوّر میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لیے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ ۶؍جون ۲۰۱۴ء بمقام فرانکفرٹ۔ جرمنی)
سبحان اللہ۔ زہے نصیب کہ ہر روز ہمارے اوپر سے امام وقت کی طائرانہ نگاہ گزرتی ہے۔ خاکسار علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہے اور میرایہی یقین ہے کہ جب آپ کی چشم تصور ایک ملک سے گزرتی ہے تو اس ملک کے باشندوں میں اپنی اپنی استعداد کے مطابق امام وقت سے تعلق رکھنے والے، آپ کے لیے دعائیں کرنے والے، آپ سے تعلق اطاعت و وفاداری نبھانے والے اس نگاہ لطف و کرم سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنا حصہ رسدی ملتا جاتا ہے۔ چشم تصوّر سے اس خیال پر جتنا سوچتے جائیں نئے جہان کھلتے جاتے ہیں۔ یقیناًجتنا ہم خدمت دین، اطاعت، محبت، وفاداری اور اخلاص میں آگے قدم رکھیں گے اسی قدر اس نگاہ لطف و کرم کے فیض سے فیض یاب ہونے والے بنتے چلیں جائیں گے۔
قوموں کے آن ملنے کی پیشگوئی
ہم خوش قسمت ہیں کہ ان سب افضال سے متمتع ہو رہے ہیں اور ان عظیم الشان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے گواہ بن رہے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔(مجموعہ اشتہارات جلدنمبر۱ صفحہ۳۴۱ ایڈیشن۱۹۸۹ء)
آج مسیح پاکؑ کی جماعت میں کیسی کیسی قوموں کے آن ملنے کے نظارے ہم کر چکے ہیں۔ اور آ ملنے کے نئے نئے مفہوم ہم پر کھولے جا رہے ہیں۔ یقیناً شامل ہونا، بیعت کر لینا بھی آن ملنا ہوتا ہے لیکن ایم ٹی اے کے ذریعہ امام قائم کی زیارت میں ایک ہی وقت میں مختلف النوع انسانوں کا آ ملنا اور شرق و غرب، شمال و جنوب کی اقوام کا ایک ہی سکرین پر جمع ہو جانا کیسا ایمان افروز ہے۔ اور’’ آ ملنے‘‘کی کیسی خوبصورت منظرکشی ہے۔
اسی ایک جہاں میں رہتے ہوئے نئی زمین اور نئے آسمان تلے طیور روحانی امام قائم کے نمائندہ پنجم کی قیادت میں نئی وسعتوں میں محو پرواز ہیں۔ کیا خدا کے مسیح کی زبان مبارک سے نکلنے والے حرف حرف پر مہر تصدیق ثبت نہیں ہو چکی۔ یقیناً ایسا ہم دیکھ چکے ہیں کہ ’’نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہوگا۔ اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد۲ صفحہ۳۰۴ ایڈیشن۱۹۸۹ء)
اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اس نئی زمین اور نئے آسمان کی وسعتوں میں اضافہ فرماتا چلا جائے اور ہمیں امام وقت کے سلطان نصیر بناتے ہوئے اس عظیم تر مقصد کو قریب تر کرنے میں ممدومعاون بنائے۔آمین۔
(چودھری نعیم احمد باجوہ۔ مربی سلسلہ برکینا فاسو)
مزید پڑھیں: تزکیہ نفس کی ضرورت و اہمیت




