متفرق

ربوہ کا موسم( ۱۹؍ تا۲۵؍دسمبر ۲۰۲۵ء)

۱۹؍ دسمبر جمعۃ المبارک کو نماز فجر کے وقت بہت سردی تھی۔ دُھند ہلکی اور ہوا بند تھی۔ دن کے وقت بادلوں کی غیر موجودگی میں کسی قدر دھوپ نکلی رہی۔ ہفتہ کو صبح ہی سے بادلو ں کی دبیز تہ ا ٓسمان پر چھائی رہی اور ساتھ ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے سردی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا، بعد دوپہر بادلوں کے کچھ کم ہونے کی وجہ سے ہلکی دھوپ نکل آئی۔ ہفتہ او ر اتوار کی درمیانی رات کو ہلکی بارش بھی ہوئی۔ کب بادل آئے او رکب بارش لائے پتا ہی نہ چلا۔ اتوار کو نمازِ فجر کے وقت ہلکی بارش کا یہ سلسلہ جاری تھا۔ ہوا بند تھی اور آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، جس سے دن بھر دھوپ نہ نکل سکی، اس پر مستزاد یہ کہ ٹھنڈی ہوا نے اپنا رنگ جمائے رکھا اور ٹھنڈ اپنے جوبن پر پہنچ گئی، جس کی وجہ سے شہری اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے۔

دوسری طرف سموگ کی وجہ سے پنجاب میں ماحول خراب ہونے کی طرف مائل ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں یہ مسئلہ سرِ فہرست ہے اس میں لاہور اور کئی شہر شامل ہیں۔ لاہور میں پیدا ہونے والے موسمی حالات پورے پنجاب کو متاثر کررہے ہیں جہاں آلودگی کا یہ حال ہے کہ تعطیل کے روز بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر رہا۔ ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق لاہور شہر میں سموگ کی اوسط شرح ۴۲۹؍ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں گوجرانوالہ بھی آلودہ ترین شہر رہا۔ چاول کی کٹائی کا سیزن شروع ہونے کے ساتھ ہی فصلوں کی باقیات جلائے جانے کا مسئلہ سر اٹھا چکا ہےجو فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔ حکومت ہر سال فصلوں کی باقیات جلانے کے سدِّباب کےليے اقدامات کرتی ہے مگر اس کے باوجود یہ عمل کسی نہ کسی طرح جاری رہتا ہے جو فضائی آلودگی میں کمی آنے نہیں دے رہا۔ اس فضائی آلودگی سے لاہور سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے جہاں شہری مختلف عوارض کا شکار ہیں ،سانس اور گلے کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

ربوہ کے موسم کی طرف واپس آتے ہیں، سوموار کو دن بارہ بجے تک بادلوں کی ہلکی تہ آسمان پر چھائی رہی پھر آہستہ آہستہ بکھر کر ٹولیوں کی شکل میں تقسیم ہوگئی، سورج کبھی دھوپ پھینکتا اور کبھی کسی بادل کے ٹکڑے کے پیچھے چھُپ جاتا رہا، ہوا بند تھی اور سرِ شام ہی سردی بھی ہوگئی۔ منگل سے جمعرات تک تقریباً ایک جیسا موسم تھا۔ خشک، قدرے کم ٹھنڈا ور ہلکی ہوا چلتی رہی۔ البتہ ہلکے بادلوں کی تہ یا کہیںکہیں بادل آسمان پر آنے سے دھوپ کم ہوجاتی تھی۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۲۱؍ اور کم سے کم ۸؍ درجہ سینٹی گریڈ رہا۔

(ابو سدید)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button