مکرم چودھری نذیر احمد صاحب، مکرمہ مسعودہ بیگم صاحبہ نیز بعض بزرگان کا ذکرِ خیر
ہمارے پیارے آقا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اپنے فوت شدگان کے محاسن کا ذکر کیا کرو۔ چنانچہ اسی ارشاد کی تعمیل میں حصول ثواب اور برکت کی خاطر اس مختصر سے مضمون میں خاکسار اپنے والدین اور بزرگان کا ذکرِ خیر کرنا چاہتا ہے تاکہ قارئین جہاں ان کے لیے دعائے خیر کریں وہاں ان کے پسماندگان اور لواحقین کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اُن کی خوبیوں اور نیکیوں کا حقیقی وارث بنائے، ان کے نقش قدم پر چلنے اور ایسے کام کرنے کی توفیق بخشے جو ان کے درجات کی بلندی اور ہمارے نیک انجام کا موجب ہوں۔
یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت احسان ہے کہ ہمارے والدین نے احمدیت میں آنکھ کھولی اور ہمارے بزرگان کو حضرت اقدس مسیح موعود ؑکی بابرکت صحبت سے فیضیاب ہونے اور خاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بزرگ شخصیات سے محبت اور اخلاص ووفا کا تعلق رکھنے اور ان کی دعاؤں سے حصہ پانے کی سعادت حاصل ہوئی۔
خاکسار کے والد کا نام چودھری نذیر احمد تھا اور آپ مکرم چودھری محمد اسماعیل صاحب کے بیٹے تھے۔ آپ نے قریباً ۸۷؍سال کی عمر میں ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو وفات پائی۔
ذیل میں آپ کے خود نوشت حالات میں سے بعض حصے اختصار کے ساتھ پیش ہیں۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:میرا نام نذیر احمد،قادیان محلہ مسجد مبارک کا رہائشی ہوں۔ والدہ عائشہ، حضرت امّاں جان سیدہ نصرت جہاں حرم حضرت اقدس مسیح موعود ؑکے زیر ِسایہ تھیں۔ اسی وجہ سے امّاں جان کی عائشہ، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سے مشہور تھیں اور مجھے بھی حضرت امّاں جانؓ نذیر کے نام سے پکارتی تھیں۔ جماعت چہارم کے زمانے میں حضرت امّاں جانؓ نے مجھے خط لکھنا سکھایا اور دہلی میں پوسٹ کارڈ کا پتہ یہ تھا: احاطہ نواب لوہارو، کوچہ بلیّ مارا، پاس ضمیر حیدر کو ملے، دہلی۔
میں جماعت ششم میں تھا جب حضرت امّاں جانؓ بذریعہ موٹر کار لاہور تشریف لے گئیں اور میں ان کے ساتھ تھا۔ موٹرکار مرزا گل محمد صاحب نے دی تھی۔ نیلا گنبد میں مستری محمد موسی ٰکے مکان پر چوبارہ تھا۔ وہاں رہائش تین چار دن رہی۔ سردیوں کا موسم تھا۔ جماعت ہفتم کے زمانے میں گورداس پور کا سفر ہمراہ حضرت امّاں جانؓ کے ہوا۔ وہاں ایک ہفتہ قیام چودھری عبداللہ خان کی رہائش گاہ میں ہوا۔ تیسرا سفر حضرت امّاں جانؓ کے ہمراہ لاہور کا ہوا۔ وہاں قیام صوفی عبدالرحیم صاحب میو گارڈن کی رہائش گاہ پر تھا۔ قادیان میں حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کی کوٹھی پر اکثر حضرت امّاں جانؓ کے ساتھ جاتا رہا۔ اس زمانے میں چار گھوڑے والی ایک گاڑی تھی۔ اس کے بعد پیدل بھی کئی مرتبہ کوٹھی حضرت نواب صاحب پر گیا جہاں حضرت امّاں جانؓ کے ہمراہ قیام ہوا۔
گھر میں سودا سلف بازار سے میں لاتا تھا۔ شیخ محمد اکرام کی دکان سے چینی لاتا اور مٹی کا تیل لاتا اور احمد دین ڈنگری کی سوڈا واٹر کی دکان تھی، اس سے کھاری بوتل اور جِنجر کی بوتل بھر وا کر لاتا رہا ہوں۔ ایک دکان گھر کے نزدیک تھی جس کا مالک موضع کھارا سےتھا۔ اُس سے لٹھے کے کپڑے کا تھان کئی مرتبہ لایا۔ اس لٹھے کا نام اس وقت ڈی ون اور چابی مار کہ ہوتا تھا۔ غالبا ًچار آنے گز کا بھاؤ تھا۔
بچپن کی پڑھائی کے ساتھی میاں منور احمد اور میاں منیر احمد تھے۔ آٹھویں جماعت تک ہم سب غلیل کے ساتھ شکار کے لیے باہر جاتے تھے۔ میاں منور احمد اور میں مٹی سے غلیلے بناتے تھے۔ فاختہ ،کبوتر وغیرہ کا شکار مل جاتا تھا قادیان میں۔ ہر مہینے کے آخری جمعرات تتلے نہر میں سیر کے لیے جاتے تھے اور کئی مرتبہ حضرت مصلح موعود ؓبھی تشریف لے جاتے تھے۔ نہر میں سوڈا واٹر کی بوتلیں پھینک دیتے، جس کو ملتی غوطہ لگا کر نکال کر پی لیتا۔ جماعت نہم کی کلاس جاری تھی، ایک شخص آیا اور مجھے چٹھی دے گیا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بلایا ہے۔ انہوں نے فورا ًمجھے امرتسر جانے کے لیے رقم دی۔ حضرت امّاں جانؓ کے لیے دوائی لانی تھی۔ دوائی لکھ کر حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ نے دی اور زبانی سفر کے متعلق ہدایات دیں۔ چنانچہ میں فوراً بذریعہ ٹرین امرتسر روانہ ہو گیا۔ موسم شدید گرم تھا۔ سرِ شام ہی دکانیں بند ہو رہی تھیں۔ یونیورسل میڈیکل ہال سے دوائی لی اور رات عشاء کے بعد دوائی لے کر گھر واپس آگیا۔
حضرت امّاں جانؓ صبح کے وقت سیر کے لیے تشریف لے جاتیں، والدہ کو آواز دیتیں ‘‘عائشہ ’’۔ امّاں فورًا شامل ہو جاتیں۔ میں بھی کئی مرتبہ ہمراہ ہوتا، کبھی موضع ننگل تک اور کبھی بسراواں تک۔ پہلے بہشتی مقبرے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر دعا فرماتیں۔ ایک روز مجھے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کے مکان واقع اندرون کسی کام کے لیے روانہ کیا۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو ڈاکٹر صاحبؓ کی صاحبزادیاں بھاگ کر اندر کمرے میں چلی گئیں۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؓ سب کو باہر لائے اور ان سے کہا کہ نذیر تمہاری بہن مریم صدیقہ بیگم کا بھائی ہے، اس طرح وہ تمہارا سب کا بھائی ہے، اس سے پردہ نہیں کرنا۔ حضرت مریم صدیقہ بیگم نے میری والدہ کا دودھ پیا تھا اس لیے وہ میری رضاعی بہن بن گئیں اور اسی وجہ سے پردہ نہ تھا۔
۱۹۱۸ء کے ماہ اکتوبر کی سات تاریخ بروز سوموار دوشنبہ کو حضرت سید میر محمد اسماعیل صاحبؓ کی اہلیہ ثانی مکرمہ امۃاللطیف صاحبہ نے دو جڑواں بچیوں کو جنم دیا۔ آپ نے ایک بیٹی کا نام مریم اور دوسری کا صدیقہ رکھا۔ دونوں بچیاں ہی کمزور تھیں لیکن مریم تو بہت ہی کمزور تھی اور وزن بھی بہت کم تھا اور زندہ رہنے کی امید بھی کم ہی تھی۔ مزید برا ٓں بچیوں کی پیدائش کے بعد مکرمہ امۃ اللطیف صاحبہ اتنا بیمار ہو گئیں کہ بچیوں کی روزمرہ دیکھ بھال کے قابل نہ رہیں۔ اس کے بعد خدا کی تقدیر غالب آئی اور صدیقہ اڑھائی ماہ کی عمر میں فوت ہوگئی۔ بچیوں کے والد نے صدیقہ کا نام بھی مریم کو ہی دے دیا اور اب مریم کا پورا نام مریم صدیقہ ہو گیا۔
چونکہ آپ کی والدہ آپ کی پیدائش کے وقت بیمار ہو گئی تھیں اس لیے آپ کی نانی نے آپ کو اپنے بیٹے مکرم مرزا منور احمد صاحب کے ساتھ دودھ بھی پلایا تھا۔ اس طرح آپ اپنی نانی کی رضاعی بیٹی بھی بن گئی تھیں۔ آپ کو حضرت امّاں جانؓ کی خادمۂ خاص مکرمہ امّاں عائشہ صاحبہ نے بھی دودھ پلایا تھا۔
حضرت امّاں جانؓ سردیوں کے موسم میں خاص قسم کا حلوہ بنواتی تھیں جسے میری والدہ عائشہ بناتی تھیں، جس کا نام حلوہ سوہن تھا۔ حلوہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ، حضرت میاں شریف احمد صاحبؓ اور حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ کو بھیجتی تھیں۔ اکثر حلوہ پہنچانے کی ڈیوٹی میری ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ شام کا وقت تھا حضرت امّاں جان نے مجھے کسی کام کے لیے نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کے پاس بھیجا۔میں ان کی کوٹھی پر گیا اندر داخل ہونے کے لیے جو باہر سڑک جاتی تھی اس پر نواب محمدعلی خان صاحبؓ موجود تھے۔ انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تم کون ہو؟ میں نے جواب میں اپنا نام بتایا اور کہا مجھے حضرت امّاں جانؓ نے بھجوایا ہے۔ اس پر فورا ًان کا غصہ ختم ہو گیا اور میں اندر کوٹھی میں چلا گیا۔ یہ واقعہ بچپن کا ہے۔ جب قادیان میں ریل گاڑی کی آمد ہوئی تو اس کا افتتاح امرتسر سے ہوا۔ بہت لوگ امر تسر گئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ بعد دوپہر امرتسر روانہ ہونے کے لیے مسجد مبارک کے نیچے احمدیہ چوک میں کھلی سی گاڑی میں بیٹھے تھے۔ میں رونے لگا۔حضورؓ نے پوچھا کہ کیوں رو رہے ہو۔ میں نے کہا مجھے کوئی ساتھ لے کر نہیں گیا۔ حضورؓ نے مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور روانہ ہوئے، چھ میل بعد وڈالہ گرامیا کے نزدیک گاڑی کا ٹائر خراب ہو گیا، گاڑی علی احمد صاحب ٹال والے کی تھی۔ انہوں نے مرمت کی اور اگلا سفر بٹالہ تک اسی گاڑی میں کیا۔ وہاں سے گاڑی تبدیل ہوئی لیکن مجھے بٹالہ سے آگے روانگی کا حال یاد نہیں۔ گاڑی شام کو امرتسر سے روانہ ہوئی اور بہت سے لوگ جو پہلے گئے تھے سوار ہوئے۔ انجن کو سجایا گیا تھا رات دیر سے قادیان واپس آئے۔
میں سکول میں فٹبال کھیلتا تھا۔ ایک روز شام سے پہلے میں کھیل کر واپس آیا تو بہت بھوک لگی ہوئی تھی۔ حضرت امّاں جانؓ کی ایک خادمہ جسے سب آپا سردار کہتے تھے اور وہی کچن کی انچارج تھیں، اسے میں نے کہا کہ روٹی پکا دو تو جواب ملا کہ ابھی وقت نہیں ہے۔ حضرت امّاں جانؓ نزدیک ہی تھیں اور یہ بات سن رہی تھیں۔ وہ باورچی خانہ تشریف میں لے گئیں، سالن پکا ہوا تھا، آٹا بھی گوندھا ہوا تھا۔ حضرت امّاں جانؓ نے چولہے کے نزدیک ایک پیڑھی بچھائی اور توا رکھ کر روٹی بنانے لگیں اور اپنے ہاتھ سے روٹی پکائی۔ مجھے فرمایا کہ کھاؤ۔وہ عورت سردار بیگم بہت شرمندہ ہوئی۔ حضرت امّاں جانؓ نے فرمایا کہ بچے کو بھوک لگی ہوئی ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ ابھی وقت نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے امّاں جانؓ سالن کبھی کبھی خود بناتیں لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے اپنی ہوش میں حضرت امّاں جانؓ کو روٹی پکاتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میں میٹرک کے امتحان میں فیل ہو گیا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا کہ پڑھائی جاری رکھو۔ میں نے جو اب میں عرض کیا کہ پڑھائی کی طرف میرا دھیان نہیں۔ حضورؓ نے فرمایا کہ آگے جانے کے لیے انٹرنس ضروری ہے۔ (میٹرک کو اسی نام سے منسوب کیا جاتا تھا۔) میں نے دعا کے لیے عرض کی۔ اگلے سال میٹرک کا امتحان ہوا اور میں پاس ہو گیا۔ رول نمبر ۱۰۵۴۵؍اور نمبر ۴۴۵؍آئے جو ابھی تک زبانی یاد ہیں۔ اسی دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓسندھ کے دورے پر تشریف لے گئے۔ میں ساتھ گیا۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ میرے جانے کا انتظام کس طرح ہوا تھا۔ یہ واقعہ میٹرک میں پہلی مرتبہ فیل ہونے کے درمیان میں ہے۔ سفر کے لیے روانہ ہوئے۔ پہلے دن لاہور شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ کی کوٹھی واقع ٹیمپل روڈ قیام ہوا۔ اگلے روز صبح لاہور سے کراچی روانگی ہوئی۔ کراچی کچھ دن قیام تھا۔ وہاں علوی ٹریڈرز کے نام سے ایک کمپنی تھی جس کا دفتر بند روڈ پر تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓنے مجھے بلایا اور فرمایا کہ جاؤ ان سے سٹیمر لانچ پر سمندر میں سیر پر جانے کا انتظام اور کرایہ وغیرہ طے کرو۔ غالباً صدر سے بندر روڈ کے لیے ٹرام چلتی تھی، میں اس پر سوار ہو گیا، دفتر ڈھونڈا اور مالک سے حال بیان کیا۔ اس نے وقت طے کر کے مجھے لانچ کے بارے میں بتایا اور کرایہ کے بارے میں اس نے کہا میں حضورؓ سے کرایہ نہیں لوں گا۔ واپس ا ٓکر حضور ؓکو تفصیل بتائی اور روانگی کا وقت جو اس نے بتایا تھا اس سے اطلاع دی، کرائے کی بابت میں نے حضورؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ کہتا ہے کہ میں کرایہ نہیں لوں گا۔ اگلے روز صبح وقت ِمقررپر سارا قافلہ بندرگاہ پر گیا، سارا دن سمندر میں رہے، میں بھی ساتھ تھا۔ شام کے قریب واپسی ہوئی۔ کراچی قیام کچھ دن تھا۔ اس کے بعد ناصر آباد اسٹیٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ غالباً دس یوم قیام کے بعد حضورؓ کے ہمراہ قادیان آئے۔ حضرت اُم ّناصر، جو اُمّی جان کے نام سے پکاری جاتی تھیں، اس سفر میں حضورؓ کے ساتھ تھیں۔ میٹرک میں پاس ہونے پر حضورؓ نے بلوایا اور ملک صلاح الدین صاحب پرائیویٹ سیکرٹری کو میرا پاسپورٹ بنوانے کا ارشاد فرمایا اور ساتھ ہی مجھےہدایت دی کہ شارٹ ہینڈ اور ٹائپ سیکھو۔ چنانچہ میں روزانہ صبح قادیان سے بٹالہ جاتا۔ وہاں ایک ہندو نے سکول بنایا ہوا تھا جہاں وہ یہ کام سکھاتا تھا۔ غالبا ًچار ماہ تک میں روزانہ بٹالہ جاتا رہا اور شارٹ ہینڈ اور ٹائپ کا کورس کیا۔ اس دوران جنگ شروع ہو گئی، حضورؓ نے فرمایا کہ اب باہر نہیں جانا۔ چودھری عبدالرحیم کاٹھ گڑھی صاحب جو دفتر محاسب میں کام کرتے تھے انہیں حضور ؓنے دفتر بلا کر مجھے دفتر محاسب بیت المال میں کام سکھانے کا ارشاد فرمایا اور میں نے دفتر میں کام کرنا شروع کر دیا۔
ان باتوں سے پہلے کے کچھ واقعات ہیں جو بیان کرتا ہوں۔ جب میں جماعت ہفتم کا طالب علم تھا اس زمانے میں گرمیوں کے موسم میں حضرت امّاں جانؓ کے صحن میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓاور صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحبؓ رات کا کھانا حضرت امّاں جانؓ کے پاس کھاتے تھے۔ صحن میں تخت پوش بچھے ہوتے تھے اور اوپر سفید چادر بچھی ہوتی تھی۔ اس زمانے میں حضورؓ کے پرائیویٹ سیکرٹری مکرم شیخ یوسف علی صاحب تھے۔ کھانے کے دوران کئی مرتبہ کچھ ضروری کاغذات لے کر پرائیویٹ سیکرٹری مسجد مبارک کے اُس دروازے پر جو حضرت امّاں جانؓ کے مکان میں داخل ہونے کا راستہ تھا وہاں سے کاغذات مجھے دیتے، میں حضور ؓکی خدمت میں کاغذات لے کر دیتا اور ان کو جواب دیتا رہا۔ یہ کارروائی تقریباً موسم گرما میں اکثر ہوتی تھی۔ کچھ عرصہ گھر میں روشنی کرنے کا انتظام میرے سپرد تھا۔ بجلی نہ تھی۔ گلوب والے لیمپ جن کی دوہری بتیاں تھی جو زیادہ روشنی کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ حضرت امّاں جانؓ خود کھانے میں شامل ہوتیں، کھانا حضورؓ کے گھر سے بھی آتا تھا۔ میں دفتر محاسب میں کام کرتا تھا اور جوبلی فنڈ کا حساب میرے پاس تھا۔ ایک روز حضورؓ نے مجھے بلوایا اور فرمایا کہ تمہیں سندھ کی زمینوں پر بھیجنا ہے، تیار ہو جاؤ۔ یہ دسمبر۱۹۳۹ء تھا۔
حضرت صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب اور حضرت میاں منور احمد صاحب جب شکار کو جاتے تو مجھے حضورؓ کے پاس سے بندوقیں لانے کا کہتے۔ حضور ؓفرماتے وہ خود کیوں نہیں آتے؟ بہرحال بندو قیں اور کارتوس لے کر میں اُن کے ہمراہ شکار پر نزدیکی علاقہ میں جاتا تھا۔ خان میر افغان جو حضور ؓکا باڈی گارڈ تھا، اس کے ذمہ بندوقوں کی صفائی اور تیل وغیرہ دینے کا کام تھا اور میں گھر سے لا کر اسے صاف کروانے کے لیے دیتا۔ ایک مرتبہ ہم سب جن کا اوپر ذکر ہے بغیر اجازت نہر پر چلے گئے اور واپسی میں دیر ہو گئی۔ راستہ بھی خطرناک تھا۔ قادیان سے بہت سے لوگ ہمیں تلاش کرنے نکلے۔ ہم نے واپسی کا راستہ رجاواں گاؤں کی بجائے صلاحپور گاؤں والا اختیار کیا۔ رات دیر تک واپسی ہوئی تو حضور ؓکو سخت تشویش تھی اور واپسی پر ہم سب کی سخت سرزنش ہوئی۔
جلسہ سالانہ ۱۹۳۹ء کے ختم ہوتے ہی حضورؓ نے دفتر بلوایا اور سفر سندھ کے لیے ضروری ہدایات دیں۔ ہدایات لینے کے بعد تیاری شروع کی اورحضرت امّاں جانؓ سے دعا کی درخواست کی۔
مجھے سفر کے لیے دو روپے چاندی کے سکے اور ایک عدد کھیس عنایت فرمایا۔ دو چاندی کے سکے اور کھیس بطور تبرک موجود ہیں۔ صاحبزادی بیگم امۃ الرشید صاحبہ کے ساتھ بھی دودھ کا رشتہ ہے۔ انہوں نے میرے لیے گرم سویٹر خود بنایا، ایک بستر اور ایک سوٹ کیس سامان تیار کیا گیا۔ یکم جنوری ۱۹۴۰ء کو صبح بذریعہ ریل قادیان سے روانہ ہوا، نو بجے لاہور سے کراچی والی گاڑی پر سوار ہوا اور دوسری صبح دو جنوری ۱۹۴۰ء کو حیدرآباد سندھ سے گاڑی بدلی اور چھوٹی لائن پر سوار ہوا۔ ٹنڈو اللہ یار سٹیشن سے اترا اور اونٹ کرائے پر لے کر سنجر چانگ موری بشیر آباد سٹیشن کے لیے روانہ ہوا۔ راستے کا علم نہ مجھے اور نہ ہی ساربان کو تھا۔ بڑی نہر کے کنارے سارا دن سفر کے بعد شام کے قریب بشیر آباد سٹیٹ پہنچ گیا۔ بطور اکاؤنٹنٹ کام کرتا تھا۔
۱۹۴۰ء سے پہلے تک کے واقعات بطور یادداشت لکھے ہیں۔ آم کے موسم میں حضرت امّاں جانؓ کے باغ سے پھل لاتا رہا، حضرت امّاں جانؓ کے دالان میں دیوار کے ساتھ بہت بڑی انگیٹھی بنی ہوئی تھی۔ سردیوں میں اس میں لکڑی جلا کر کمرہ گرم ہوتا۔ اکثر لکڑی باغ میں خشک ہوجانے والے درختوں سے آتی تھی۔ کئی مرتبہ حضرت امّاں جانؓ کے رہائشی دالان (بڑا کمرہ) میں رات گزاری، اکثر برآمدہ میں آپا سردار اور میری چارپائی ہوتی تھی۔ رمضان کے مہینے میں کئی لوگ اعتکاف بیٹھتے۔ ان کو سحری کے وقت کھانا دینے جاتا رہا۔ گرمیوں کے موسم میں حضرت امّاں جانؓ دیگوں میں شکر کا شربت بنوا کر لوگوں کا روزہ کھلواتی تھیں۔ برف بٹالہ سے آتی تھی۔ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ ملازمت کے سلسلے میں باہر تھے۔ جب واپسی ہوتی تو ان کا قیام حضرت امّاں جانؓ کے پاس ہی ہوتا تھا۔ کئی عورتیں حضرت امّاں جانؓ کے مکان میں نچلے حصے میں قیام پذیر تھیں۔ حضرت امّاں جانؓ نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ کو بچپن سے ہی اپنے پاس رکھ لیا تھا اور حضرت امّاں جانؓ کے کمرے میں مقیم تھے۔ جب میں نے ہوش سنبھالی تو میرے ساتھ ورزش کیا کرتے تھے۔ دارالانوار میں حضرت امّاں جانؓ نے ان کے لیے کوٹھی تعمیر کروائی جہاں وہ شادی کے بعد رہائش پذیر ہو گئے۔ میں صبح کے وقت حضرت امّاں جانؓ کے گھر سے دودھ لے کر وہاں پہنچاتا۔ حضرت امّاں جانؓ اپنے گھر میں دودھ دینے والے جانور رکھتی تھیں۔ میں نے بچپن میں ہی بھینس کا دودھ نکالنا سیکھ لیا تھا۔ اس کے علاوہ جانوروں کے چارے کا انتظام بھی کرتا رہا۔ [محترم والد صاحب مکرم چودھری نذیر احمد صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر ۱۹۴۰ء سے ۱۹۴۶ء تک کا عرصہ سندھ کے علاقے میں گزارا۔ ۱۹۴۶ء سے اکتوبر ۱۹۴۷ء تک کا عرصہ قادیان میں گزارا۔]
آپ مزید لکھتے ہیں کہ ۱۹۴۲ء میں شادی ہوئی۔ یہ شادی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کے ذریعے ہوئی اور وہی لڑکی کے ولی مقرر ہوئے۔ دسمبر کا مہینہ تھا۔ نکاح حضرت سید سرور شاہ صاحبؓ نے پڑھایا تھا۔ بارات چند افراد پر مشتمل دُلمیال ضلع جہلم گئی۔ بارشوں کا موسم تھا سخت سردی تھی واپسی پر بیوی کو لے کر سب سے پہلے حضرت امّاں جانؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تقریباً دوپہر کا وقت تھا کچھ دوستوں کے ساتھ ولیمے کی دعوت نئے مکان میں، جو باب الانوار میں تھا، دی گئی۔ اصل ولیمے کی دعوت حضرت امّاں جانؓ کے گھر پر ہوئی جس میں پلاؤ، زردہ، روغنی نان، قورما اور فرنی بنائی گئی۔ یہ سب کام حضرت امّاں جانؓ کی نگرانی میں ہوا۔ دعوت میں حضرت امّاں جانؓ نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب حاضرین، جو اس وقت قادیان میں تھے، کو مدعو فرمایا۔ کھانا پک کر حضرت امّاں جانؓ کے باورچی خانے میں رکھا گیا۔ حضرت امّاں جانؓ کے کمرے (بڑا دالان) میں فرش پر سب دسترخوان پر جمع ہوئے۔ کھانے کی تقسیم پر حضرت اُم طاہر اور حضرت اُم مظفر احمد کی ڈیوٹی تھی۔ یہ سب انتظام حضرت امّاں جانؓ کا ہی تھا۔ کھانے کی بہت تعریف کی گئی۔ سب نے زمین پر فرش لگا کر خوب مزے سے کھایا۔ اس طرح دعوتِ ولیمہ کا انتظام ہوا۔ فروری ۱۹۴۳ میں واپس احمد آباد نبی سر روڈ گیا۔ میرا تبادلہ وہاں ہو گیا۔ وہاں پر سید عباس علی شاہ صاحب بھی تھے۔ حکیم میاں محمد اشرف صاحب آف لاہور وہاں طبی خدمات پر مقرر تھے۔ نئی جگہ پر پھر دوبارہ کام سنبھالا۔ ۱۰؍دسمبر ۱۹۴۳ء کو ایک تار ملی جس میں میرے گھر بیٹے کی ولادت کی اطلاع دی گئی۔ چھوٹے بھائی عزیز محمد یوسف نے قادیان سے یہ تار بھجوائی۔
۲۲؍دسمبر کو قادیان جلسے میں شمولیت کے لیے گیا، جنوری ۱۹۴۴ء کے شروع میں واپس احمد آباد سٹیٹ آگیا۔ بچے کا نام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے منیر احمد تجویز فرمایا۔
سال ۱۹۴۴ء میں اپنے بچوں کو لینے قادیان گیا اور اس طرح واپسی نبی سر روڈ احمد آباد سٹیٹ میں ہوئی۔ ۱۹۴۶ء تک وہیں ڈیوٹی دی۔ بوجہ بیماری ملیریا ۱۹۴۶ء کےوسط میں واپس قادیان آگیا۔
مارچ ۱۹۴۶ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓاور حضرت امّاں جانؓ احمد آباد تشریف لائے اورتین روز قیام فرمایا، جہاں خاکسار کو خدمت کا موقع ملا۔ میرے رہائشی حصہ میں حضرت امّاں جانؓ تشریف لائیں اور کچھ وقت آرام فرمایا۔ جب حضورؓ نے احمد آباد کا دورہ کیا تو اسٹیشن پر حضورؓ کے استقبال کے لیے گھوڑے لے کر گیا۔ میں بھی اسٹیشن پر موجود تھا۔ حضرت امّاں جانؓ کے لیے بیل گاڑی میں گدّے لگا کر انتظام تھا۔ ایک شخص امیر بخش نامی جو ببر قوم کا سردار تھا اپنی گھوڑی بہت سجا کر لایا۔ حضورؓ نے فرمایا کہ کیا میں کسی شادی پر جا رہا ہوں جو اس قدر سجاوٹ والی گھوڑی ہے اور حضورؓ نے دوسری سواری پر سفر فرمایا۔ حضرت امّاں جانؓ بیل گاڑی میں نہ بیٹھیں۔ مجھ سے پوچھا کہ کتنی دور جانا ہے؟ میں نے بتایا کہ سڑک سے زیادہ دور نہیں، پیدل بھی جا سکتے ہیں۔ حضرت امّاں جانؓ نے فرمایا: چلو میں تمہارے ساتھ پیدل جاؤں گی۔ اس طرح حضرت امّاں جانؓ کو لے کر مختصر راستے سے،جس کو پگڈنڈی بھی کہا جاتا ہے، احمد آباد سٹیٹ آیا۔ باقی قافلہ بھی جلدی پہنچ گیا۔ یہ مختصر راستہ ایک میل کے قریب تھا۔
ا ٓٹا پیسنے کے لیےیہاں ایک خراس تھا جس پر سب لوگ آٹا پیستے تھے۔ بیل گاڑی میں جوڑی لگا کر آٹا پیسا جاتا تھا جو بہت عمدہ ہوتا تھا۔ گندم اس زمانے میں ۵۹؍کاشت ہوتی تھی جس کی روٹی سفید اور ملائم پکتی تھی۔ عام گھروں میں چھوٹے چھوٹے تنور لگے ہوتے تھے، مرغیاں سب گھروں میں تھیں، گوشت اور انڈے وافر تعداد میں استعمال ہوتے تھے۔ اوپر ذکر کرنا بھول گیا کہ اسٹیشن کا نام نبی سر روڈ ہے۔
۱۹۴۶ء کے وسط میں قادیان میں چودھری علی محمد صاحب، جو کہ رشتے میں میرے بہنوئی تھے، آڑھت کا کام کرتے تھے۔ یہ کام وہ ایک لمبے عرصے سے کرتے آ رہے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میرے ساتھ کام کرو اور رقم لگاؤ۔ میں نے کہا رقم میرے پاس نہیں ہے مگر بطور اکاؤنٹنٹ آپ کے ساتھ کام کر سکتا ہوں۔ کئی لوگوں نے ان کے پاس تجارت میں روپیہ لگا رکھا تھا۔
۱۹۴۷ء کا زمانہ شروع ہوا ایک دن امّاں، حضرت امّاں جان ؓکے پاس سے ہو کر آئیں، کہنے لگیں کہ حضورؓ نے بتایا ہے کہ لاہور مسلمانوں کو مل جائے گا اور امرتسر ہندوؤں کو۔ تقسیم ملک کے متعلق باتیں ہورہی تھیں، مجھے اس وقت تک سیاست کے متعلق کچھ علم نہ تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے حضرت قاضی ظہور الدین اکملؓ کا گھر تھا۔ ان کے پاس ریڈیو تھا۔ کئی لوگ ریڈیو سننے کے لیے ان کے پاس آتے اور دفتر الفضل بھی سامنے تھا۔ تقسیمِ ملک کے متعلق حالات ریڈیو پر سنتے تھے۔ آخر اگست ۱۹۴۷سے پہلے پاکستان کے قیام کا اعلان ہو چکا تھا۔ حضرت میاں ناصر احمد صاحبؒ بہت سے نقشے وغیرہ لے کر لاہور جاتے تھے۔ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے متعلق اعلان ہو گیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ خاندان کے ہمراہ لاہور تشریف لے گئے۔ حضرت امّاں جانؓ بھی ساتھ روانہ ہو گئیں۔ دو ماہ کے عرصے میں حضرت امّاں جانؓ نے امّاں کو جلد لاہور بلوانے کے لیے کہا۔ فوجی قافلےآنے شروع ہو گئے۔ امّاں، باجی امۃالرحمٰن، مسعودہ بیگم، گلزار اہلیہ محمد یامین، خدیجہ اہلیہ محمد یوسف مع منیر احمد، صادقہ، قانتہ ایک قافلہ میں لاہور روانہ ہوگئے۔ میں، چھوٹا بھائی محمد یوسف اور محمد یامین نیز بہنوئی محمد دیوان گھر پر رہ گئے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک قافلے کے ساتھ لاہور روانہ ہو گیا۔قادیان کی آبادی محصور ہو گئی۔ میں نے باہر ریتی چھلہ کے قریب کچھ فوجی دیکھے جو گولیاں چلا رہے تھے۔ میں تنگ گلی، جو مہر دین آتش باز کے نام سے پکاری جاتی تھی، کے راستے الحکم سٹریٹ سے ہوتا ہوا گھر آگیا۔ نومبر ۱۹۴۷ء کے شروع میں چودھری محمد دیوان اور محمد یوسف اور میں ایک فوجی قافلے کے ہمراہ صبح قادیان سے چل کر شام کو لاہور رتن باغ آگئے۔ یہاں ایک کمرہ امّاں جانؓ نے والدہ کو دلوایا ہوا تھا، ان کے پاس چلے گئے۔ قادیان سے قافلہ نہر کے کنارے سے ہو کر امرتسر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں کئی جگہ لاشیں پڑی ہوتی تھیں، کہیں کہیں آگ بھی لگی ہوئی تھی۔ ہمارے فوجی قافلے کو بھی کئی جگہ رکنا پڑا تھا۔ حضورؓ سے ملاقات کی۔ مجھے فرمایا کہ سرگودھا کے نواح میں مرکز بنانے کا ارادہ ہے، اسی جانب کوئی جگہ تلاش کرو۔ ملاقات کے بعد کمرے سے باہر آیا تو نواب عبداللہ خان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے حضورؓ کے ارشاد کا ان سے ذکر کیا۔ سامنے نواب احمد دین صاحب کھڑے تھے۔ مجھے لے کر ان سے کہا کہ یہ امّاں جانؓ سے متعلق ہیں۔ ان کی آباد کاری کے لیے کوشش کرنی ہے۔ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے ایک رقعہ بنام سیشن جج لکھ دیا۔ میں سرگودھا گیا، وہ لاہور گئے ہوئے تھے، ملاقات نہ ہو سکی۔ اسی دوران چھوٹا بھائی محمد یامین ریڈیو کے پروگرام سن کر چکوال چلا گیا۔ وہاں بندوقوں کی دکانوں میں سامان نیلام ہو رہا تھا۔ اس نے ایک دکان مع سامان کی بولی ۲۶۷۵؍روپے کی دے دی۔ یہ سکول کی کتابوں اور سٹیشنری کی دکان تھی جس کا پہلے کوئی تجربہ نہ تھا۔ بہرحال کوشش کر کے کام کو چلایا۔ چکوال کی جماعت کا سیکرٹری مال اور صدر بھی رہا ہوں۔
یہ خاکسار کے والد محترم کے خود نوشت حالات میں ایک انتخاب قارئین کے لیے پیش خدمت تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ میرے بڑے بھائی چودھری منیر احمد صاحب کو ابوظبی کے امیر جماعت کے عہدے پر لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔ میری ایک ہمشیرہ مکرم مولانا بشیر احمد اختر صاحب مرحوم سابق مبلغ و مشنری انچارج کینیا کے ساتھ بیاہی گئیں۔ خاکسار کو اِن دنوں مسجد بیت الفتوح میں خدمت کی توفیق حاصل ہے۔
ابا جی کی وفات۱۳، ۱۴؍جولائی ۱۹۸۵ء کی رات کو ہوئی۔ اگلے روز بعد نمازِ عصر جنازہ گول بازار ربوہ میں ہوا اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔ امّاں عائشہ ۱۹۸۶ء کی گرمیوں میں گھر میں گر گئیں، یکم جنوری ۱۹۸۷ء کو صبح دس بجے وفات ہوئی اور اگلے روز شام جنازہ گول بازار میں پڑھا گیا۔ تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔
حضرت صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ بنت حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ وحضرت مصلح موعودؓ اپنے ایک مضمون میں حضرت مصلح موعود ؓکی پیاری یادوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں: امی نے امّاں عائشہ، جن کی تقریباً ساری زندگی امّاں جان کے گھر گزری، کا دودھ ان کے بڑے بیٹے نذیر کے ساتھ پیا تھا۔ پارٹیشن کے بعد ماموں نذیر سندھ محمود آباد جماعت کی زمینوں پر چلے گئے تھے اور امّاں عائشہ ربوہ میں تھیں۔ جب ہم سندھ جاتے اور محمود آباد جاتے تو مجھے کہتے: جاؤ! تم اپنے ماموں کے گھر جا کر ان سے ملو۔ تمہاری ماں تو میرا کام کررہی ہیں، وہ فارغ ہوں گی تو جائیں گی۔ (روزنامہ الفضل ۱۳مئی ۲۰۱۵ء)
خاکسار کی والدہ مکرمہ مسعودہ بیگم صاحبہ نے ۱۵؍دسمبر ۲۰۱۴ء کو ۹۲؍سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت عبدالعزیز صاحبؓ کی بیٹی اور حضرت مولوی فتح علی صاحبؓ کی پوتی تھیں۔ حضرت مولوی فتح علی صاحبؓ کا ذکرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔ خطبہ کا وہ حصہ درج ذیل ہے۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:حضرت مولوی فتح علی صاحب احمدی منشی فاضل دوالمیال ضلع جہلم کہتے ہیں کہ میں نے ۱۹۰۴ء میں بمعہ بال بچہ آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضور کی حیات مقدس میں ہر سال بمع بال بچہ ہی حضور کی خدمت اقدس میں یہاں پہنچتا رہا اور جب کبھی حضور باہر نماز کے لیے تشریف لاتے اور مسجد میں بیٹھتے تو ہم دُلمیال کی جماعت، جو پانچ سات کس تھے، پاس بیٹھتے اورحضور کی زبان مقدس کے الفاظ سے فیض اٹھاتے اور چند دفعہ دعا کے لیے بھی عرض کی گئی تھی۔ اس وقت وہ چھوٹی سی مسجد جس میں پانچ چھ آدمی بعد مشکل کھڑے ہو سکتے تھے۔ پھر مسجد مبارک وسیع کی گئی۔ ایک دفعہ ہماری جماعت کے امام مسجد مولوی کرم داد صاحب نے عرض کی کہ حضور! ہماری مسجد میں قدیم سے ایک امام سید جعفر شاہ صاحب ہیں۔ وہ حضور کے معتقد ہیں۔ وہ آپ کو مانتے ہیں لیکن غیروں کی بھی گاہ بگاہ جنازوں میں یا نمازوں میں اقتدا کرتے ہیں (مانتے تو ہیں لیکن غیروں کے پیچھے، مولویوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔) تو میں نے عرض کی کہ وہ شخص یہاں تک معتقد ہے کہ ایک دفعہ مجھ سے اس نے خط لکھوایا اور یہ الفاظ لکھوائے کہ میں حضور کے کتوں کا بھی غلام ہوں۔ اگر کسی وقت جہالت یا نادانی سے کمی بیشی ہو گئی ہو تو حضور فی سبیل اللہ معاف فرما دیں۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جب وہ اب تک دنیا کی لالچ یا خوف سے غیروں کے پیچھے نماز یا جنازہ پڑھتا ہے (جو تکفیر کرتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُن کے پیچھے نماز پڑھتا ہے ) تو کب اس نے ہم کو مانا۔ آپ اس کے پیچھے نمازیں مت پڑھیں۔ (درزی تھے) کہتے ہیں: میں نے اسی وقت حضرت ام المومنین کے حکم سے اندر سے سلائی مشین منگوائی اور حضرت صاحبزادہ شریف احمدؓ کا، جو اس وقت آٹھ دس سال کے ہوں گے،گرم کوٹ تیار کر رہا تھا اور اس طرح انہوں نے تیار کیا اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کھیوڑہ سے آیا کرتے تھے تو ہماری عورتوں نے کہا کہ دس گیارہ میل ہمیں پیدل پہاڑی سفر کرنا پڑتا ہے، اس لیے ہم بستر نہیں لاسکتے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حامد علی (حامد علی صاحب جو آپ کے خدمت گار تھے) دُلمیال والوں کو رضائیاں اور بستر دے دیا کرو۔
حضور کی برداشت کا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ کسی کو کوئی تکلیف ہوتی تھی تو ہم حضور سے دوائیاں وغیرہ بھی منگوالیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میر الڑ کا عبد العزیز مرحوم جو سات آٹھ سال کا تھا جو میرے ساتھ بھی آتارہا اور حضور کی درثمین کے اشعار نہایت خوش الحانی، خوش آوازی سے پڑھتا تھا (خوش الحانی سے پڑھا کرتا تھا)۔ جلسوں میں بھی اور حضور کے اندر بھی آکر سناتا تھا۔ حضور اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ دُلمیال والوں کی درخواستیں بھی یہی اندر میں حضور کو پہنچاتا تھا۔ ایک دفعہ محمد علی ولد نعمت نے ایک عرضی کسی خاص دعا کے لیے لکھ کر عبد العزیز کو دی کہ حضور کو دے آؤ اور گھر جانے کی اجازت لے آؤ۔ چونکہ ابھی سویرا ہی تھا اور حضور نماز فجر کے بعد رضائی اوڑھ کر بمعہ بچوں کے لیٹے ہوئے تھے۔ یہ بھی بچہ تھا۔ اس قدر ادب اور احترام کو نہیں سمجھتا تھا کہ حضور آرام کر رہے ہیں۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض دفعہ، بلکہ اکثر نماز فجر کے بعد آرام کیا کرتے تھے۔) یہ بچہ اندر گیا اور فورًا حضور کے چہرہ مبارک سے رضائی اٹھا لی اور وہ رقعہ دیا اور ساتھ اجازت جانے کی بھی مانگی۔ لکھتے ہیں قربان ہوں میرے ماں باپ کہ ذرا بھی حضور کے چہرہ مبارک پر ملال نہ آیا کہ ارے بیوقوف ! ہم کو بےآرام کر دیا بلکہ پیار سے کہا کہ اچھا اجازت ہے۔ یہ تھے حضور کے اخلاق فاضلہ جس نے تمام مخلوقات کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ، نمبر۳ صفحہ۷۲-۷۳، روایت حضرت مولوی فتح علی صاحب غیر مطبوعہ۔بحوالہ خطبہ جمعہ۱۷؍دسمبر۲۰۱۰ء)
میری والدہ مکرمہ مسعودہ بیگم صاحبہ کو لمبا عرصہ چکوال میں صدر لجنہ کی حیثیت سے خدمت کا موقع ملا۔ دارالرحمت وسطی ربوہ میں بھی بطور نائب صدر لجنہ خدمت کی توفیق پائی۔ بہت سے احمدی اور غیراحمدی بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی سعادت بھی پائی۔ صوم وصلوٰۃ کی پابند، چندوں میں باقاعدہ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ عشق و وفا کا تعلق تھا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ بھائی جان منیر کی اہلیہ ہماری بھابی صادقہ، جو ہمارے چچا کی بیٹی ہیں، لکھتی ہیں: میرا نام صادقہ ہے، میں ۱۹۴۶ء میں قادیان میں پیدا ہوئی۔ میری پرورش میری دادی امّاں، جو امّاں عائشہ کے نام سے موسوم تھیں، امّاں کی زبانی مجھے کافی واقعات کا علم ہوا۔ امّاں کا کہنا تھا کہ جب وہ ڈھائی تین سال کی تھی ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کی والدہ آپ کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر آگئی جہاں آپ کو پوری توجہ ملی اور حضرت امّاں جانؓ کی وفات تک آپ ان کے ساتھ ہی رہیں۔ امّاں کی والدہ مہر بی بی بیان کرتی ہیں کہ تم یعنی ہماری دادی امّاں تین چار سال کی تھیں جب تمہیں چیچک کی بیماری ہو گئی۔ ان دنوں یہ بہت خطرناک بیماری تصوّر ہوتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اپنے گھر کے نیچے والے حصے میں کمرے میں راکھ ڈال کر اس کے اوپر لٹا دیا۔ راکھ جراثیم کش ہوتی ہے۔ جبکہ آپ علیہ السلام دوسرے مریضوں کو شہر کے باہر اپنے دوسرے گھر میں شفٹ فرما دیا کرتے تھے۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے، جو اس وقت چھوٹی عمر کی ہی تھیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ ابا! آپ نے اس کو گھر میں رکھا ہوا ہے جبکہ آپ ہر مریض کو دوسری جگہ شفٹ کر دیتے ہیں۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کمال شفقت سے فرمایا کہ یہ اپنی ماں کی اکیلی بچی ہے، اس کی ماں کو تکلیف ہوگی۔ ہم دعا کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اسے شفا دے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور آپ کو معجزانہ رنگ میں شفا عطا فرمائی اور کوئی نشان اس چیچک کا آپ کے جسم کے کسی حصے پر نہ رہنے دیا۔ یہ صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا اور شفقت کا نتیجہ تھا ورنہ اس بیماری کے داغ جسم پر اورچہرے پر جا بجا دکھائی دیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جسم پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے امّاں اپنے بچپن سے امّاں جانؓ کی وفات تک آپ کے پاس رہیں۔ قادیان میں حضرت امّاں جانؓ نے آپ کو مکان بنا کر دیا ہوا تھا اور بھینس بھی دی ہوئی تھی۔ امّاں تو زیادہ وقت حضرت امّاں جانؓ کے پاس رہتی تھیں جبکہ آپ کی اولاد اور ہمارے دادا ابا اس گھر میں رہتے تھے۔ امّاں بیان کرتی ہیں کہ حضرت امّاں جانؓ کی عادت تھی کہ صبح کے وقت دو تین ملازماؤں کے ساتھ سیر کے لیے نکلتی تھیں۔ امّاں کا کہنا ہے کہ میرے گھر کے دروازے پر آ کر مجھے آواز دیتی تھیں عائشہ! اور میں جی امّاں جانؓ کہتے ہوئے آپ کے ساتھ شامل ہو جاتی تھی۔ امّاں جانؓ کبھی قادیان کے جماعت کے لوگوں کے گھروں میں اور کبھی قادیان کے ملحقہ گاؤں کے لوگوں کے گھروں میں پیدل جایا کرتی تھیں اور خواتین کو صفائی ستھرائی اور اچھی رہائش کے طریقے بتایا کرتی تھیں۔ مستورات کی خوشی دیدنی ہوتی تھی کہ حضرت امّاں جان ان کے گھر تشریف لائی ہیں۔ ہماری دادی امّاں کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی اور تین بیٹوں سے نوازا تھا۔ حضرت امّاں جانؓ نے ان کی پوری ذمہ داری اٹھا رکھی تھی، تعلیم دلائی ملازمت دلائی اور شادی کرائی۔ ہر بچے کو اپنی سگی اولاد کی طرح سمجھا۔ اسی وجہ سے ہمارے بڑوں کے ساتھ ساتھ اگلی نسل کے بھی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رضاعی رشتے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ بیگم صاحبہ کا میرے تایا کو رضاعی بھائی بنایا اور ان کے چھوٹے بھائی سید محمد احمد صاحب کو چھوٹے چچا کا رضاعی بھائی بنایا۔ سب نے رضا عت کا رشتہ خوب نبھایا۔ صاحبزادی امۃ الرشید بھی میرے تایا کی رضاعی بہن تھیں۔ امّاں کی اگلی نسل یعنی بیٹوں کی اولاد میں میرے میاں چودھری منیر احمد صاحب (جو کہ میرے تایازاد بھی ہیں) اور میں حضرت امّاں جان ؓکی زندگی میں قادیان میں پیدا ہوئے۔ امّاں بتاتی ہیں کہ تمہاری پیدائش پر حضرت امّاں جانؓ نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا میری پوت بہو آگئی۔ گویا بچپن میں ہی آپ نے مجھے اپنے تایازاد سے منسوب کر دیا اور مجھے چاندی کے کڑے پہنائے اور فرمایا اگر میں زندہ رہی تو سونے کے کڑے پہناؤں گی۔ لیکن ۱۹۵۲ء میں آپ کی وفات ہو گئی جبکہ میری عمر چھ سال تھی۔ بہرحال آپ کی بات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے ذریعے پوری ہوئی اور آپ نے مجھے سونے کے کڑے شادی کے موقع پر عطا فرمائے جو حضرت منصورہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے مجھے پہنا ئے۔ الحمدللہ امّاں جان والے اور حضورؒ والے دونوں تحائف میرے پاس محفوظ ہیں۔ بقول امّاں، حضرت امّاں جانؓ کی ہمیشہ یہ دعا ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد کے دکھ نہ دکھانا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کی وفات کے ایک سال بعد جب ۱۹۵۳ء کے فسادات ہوئے اس میں بہت شہادتیں اور جماعت کا مالی نقصان ہوا۔ اسی میں خود ساختہ کیس کے اندر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی رہائی کے سامان پیدا ہوئےاور امّاں جان کی زندگی میں آپ کو یہ دکھ نہیں دیکھنا پڑا۔ چچا جان اور میرے ابا جان کی تعلیم مکمل ہونے پر ان کے لیے ملازمتوں کا انتظام فرمایا اور ان کی شادیاں کروائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا ایک اور واقعہ امّاں کی والدہ صاحبہ کے متعلق ہے۔ کیسے سادہ لوگ اور سادہ زمانہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھانا کھانے کے بعد امّاں کی والدہ سے فرمایا: مجھے خلال لادو۔ چنانچہ انہوں نے سٹور میں جا کر بڑی مشکل سے کسی جگہ سے کھرل (جس میں دوائیاں پیسی جاتی تھیں) لا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کر دیا۔ آپؑ نے مسکرا کر فرمایا کہ یہ تو میرے دانت میں نہیں آئے گا۔ اس پر بھی ان کو سمجھ نہیں آئی تو حضرت امّاں جان نے فرمایا: یہ پانوں والی ٹوکری پڑی ہے اس میں سے تنکا توڑ کر دے دو۔ چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا۔ اللہ اللہ !کیا سادہ لوگ تھے اور کیا مہربان آقا تھے۔ مندرجہ بالا واقعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓنے اپنی کتاب سیرت المہدی میں بھی تحریر فرمایا ہے۔ امّاں کی والدہ محترمہ مہرا ں بی بی قادیان میں بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
(چودھری نصیر احمد۔ مارڈن۔ یوکے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: تزکیہ نفس کی ضرورت و اہمیت




