ہنسنا منع ہے

ہنسنامنع ہے!

گولیوں کا شوق

ڈاکٹر(مریض سے): یہ گولیاں، ایک صبح کھاؤ، ایک دوپہر کو اور ایک رات کو پھر دوسرے دن بھی، اس طرح پانچ دن یہ گولیاں کھانا ۔

مریض: ڈاکٹر صاحب اگر مجھے گولیاں کھانے کا شوق ہوتا تو میں فوج میں بھرتی ہو جاتا اور اپنے وطن کی خاطر گولیاں کھاتا۔

اتفاق میں برکت ہے

استاد(شاگردوں سے): تم لوگ آپس میں اتفاق اور میل جول سے رہا کرو ہر کام مل جل کر کرنے میں بہت فائدہ ہے۔

اسد: جی اِسی لیے تو ہم امتحان کے پرچے مل کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

فیل کون ہوا؟

ریاض فیاض سے : میں پاس ہو گیا ۔

فیاض : میں بھی پاس ہو گیا، مگر ماسٹر صاحب فیل ہو گئے۔

ریاض : وہ کیسے ؟

وہ ایسے کہ ہم دوسری کلاس میں چلے گئے مگر ماسٹر صاحب اُسی کلاس میں رہے۔

مؤنث مذکر

سلیم : مکھی کا مذکر بتاؤ۔

کلیم : جناب مکھن!

نقل اتارنا

ماں اپنے دو جڑواں بچوں کو روتا دیکھ کر بڑے بیٹے سے کہتی ہے کہ بچوں کو چُپ کراؤ بلک بلک کر رو رہے ہیں۔

بیٹا: امی جان وہ رو نہیں رہے بلکہ ایک دوسرےکی نقل اتار رہے ہیں۔

دس بجے

غیر حاضر دماغ پروفیسر اپنے نوکر سے: جب دس بج جائیں تو مجھے جگا دینا۔

نوکر: جناب دس تو بج گئے ہیں۔

پروفیسر گرج کر: تو پھر جگاتے کیوں نہیں ہو؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button