متفرق مضامین

طلاق یا خلع

عورت کے جذبات کااحساس

مردوں کو عورتوں کے جذبات کا خیال رکھنے کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے حضور انورایّدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اسی طرح ماں کی حیثیت سے عورت کا یہ مقام بتایا کہ جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے۔ یعنی عورت کی تربیت ہی ایسی ہے جو بچوں کو جنتوں کا وارث بنا سکتی ہے۔ پھر مردوں کو یہ بھی فرمایا کہ عورت کے جذبات کا بھی خیال رکھا کرو جیسے فرمایا: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا(النحل:۷۳)

یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تم میں سے ہی تمہارے جیسے جذبات رکھنے والی بیویاں بنائی ہیں۔ یعنی مردوں کو یہ تلقین فرما دی کہ بلاوجہ ذرا ذرا سی بات پر عورتوں سے بدکلامی یا تلخی کا سلوک نہ کرو۔ وہ بھی انسان ہیں، ان کے بھی تمہارے جیسے جذبات ہیں۔ ان سے ہی تمہاری نسل چل رہی ہے۔ اگر ان کو بلاوجہ کے صدمات پہنچاؤ گے تو ہو سکتا ہے کہ تمہاری نسل ہی تمہارے خلاف ہوجائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورت پر مرد کے ظلم کی وجہ سے، سختی کی وجہ سے جبکہ عورت فرمانبرداری دکھانے والی بھی ہو اور اطاعت گزار بھی ہو، مرد کا کہنا ماننے والی بھی ہو، اس کے گھر کی حفاظت بھی کرنے والی ہو، اس کے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والی بھی ہو اگر پھر بھی مرد اس پر زیادتی کرتا ہے تو یہ ظلم اور زیادتی ہو گی۔ پھر چونکہ یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو عورت کے تقویٰ پر قائم رہنے کی دلیل ہیں تو مرد کے بے جا ظلم کی وجہ سے بعض دفعہ اولاد اپنے باپ کے خلاف ہو جاتی ہےتودیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق و جذبات کا خیال رکھا ہے۔ فرمایا اس لئے اپنے اوپر کنٹرول رکھو اور اس طرح تم نہ صرف عورت کے جذبات کا خیال رکھ رہے ہو گے بلکہ اپنے اور اپنی اولاد کا بھی بھلا کر رہے ہو گے۔

جیسے کہ میں نے کہا، بعض دفعہ اولاد صرف اس لئے بگڑ جاتی ہے، باپ کی نافرمان ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے حسن سلوک نہیں کرتے۔‘‘(جلسہ سالانہ جرمنی خطاب ازمستورات فرمودہ۱۲؍ اگست ۲۰۰۴ء۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل یکم مئی ۲۰۱۵ء)

اسی حوالے سے ایک اَور موقع پر حضور فرماتے ہیں :’’پس دیکھیں کس کس طرح مردوں کو نصیحت کر کے آپ نے عورت کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا اب عورت کا، ایک احمدی عورت کا فرض بنتا ہے کہ ان حقوق کے قائم ہونے کی شکر گزاری کے طور پراپنےفرائض پورے کرے ۔‘‘(جلسہ سالانہ یوکے خطاب ازمستورات فرمودہ ۲۶؍جولائی ۲۰۰۸ء۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۵؍اپریل۲۰۱۱ء)

(ماخوذ از عائلی مسائل اور ان کا حل صفحہ ۱۹۵-۱۹۷)

مزید پڑھیں: جذبۂ ایثار اور جماعت احمدیہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button