حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

پہاڑوں کے چلنے سے مراد بڑی حکومتوں کی تباہی ہے

وَ تَرَی الۡجِبَالَ تَحۡسَبُہَا جَامِدَۃً وَّ ہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ؕ صُنۡعَ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اَتۡقَنَ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہٗ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ۔(سورۃ النمل:۸۹)۔اور تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اس حال میں کہ انہیں ساکن و جامد گمان کرتا ہے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں ۔ (یہ) اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ یقینا ًوہ اُس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی ا للہ تعالیٰ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَاب سے یہ مراد نہیں کہ پہاڑ الگ چلتے ہیں اور زمین الگ چلتی ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ زمین چلتی ہے تو وہ بھی اس کے ساتھ چلتے ہیں اور جس طرح زمین بادلوں کو اپنے ساتھ کھینچے چلی جاتی ہے اسی طرح وہ پہاڑوں کو بھی اپنے ساتھ اٹھائے چلی جاتی ہے۔

اس آیت میں ظاہری طورپر تو پہاڑوں کے چلنے کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور بادلوں کے ساتھ ان کی مشابہت بیان کی گئی ہے لیکن باطنی طورپر اس میں بڑی بڑی حکومتوں کی تباہی کی خبر دی گئی ہے۔ اور بتایا گیاہے کہ تمہیں تو اپنے زمانہ کی حکومتیں ایسی مضبوط دکھائی دیتی ہیں کہ تم سمجھتے ہو وہ صدیوں تک بھی تباہ نہیں ہو سکتیں مگر خدا تعالیٰ اسلام کی شوکت ظاہر کرنے کے لئے ان کو اس طرح اڑادے گاکہ ان کا نشان تک بھی نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جس طرح ہوائیں بادلوں کو اڑا کر لے جاتی ہیں اسی طرح جب اسلام کی تائید میں خداتعالیٰ کی طرف سے ہوائیں چلنی شروع ہوئیں توکفروشرک کے بڑے بڑے دیوقامت پیکر اس طرح اڑیں گے کہ ان کا نشان بھی دکھائی نہیں دے گا۔ مگر یہ سب کچھ انسانی تدابیر سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ہاتھ سے ہوگا اور اس کی قدرت اور صنعت کا اس سے ظہور ہوگا۔ آخر میں فرمایا کہ اِنَّہٗ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ یہ عظیم الشان انقلاب اس صورت میں آ سکتاہے جبکہ مسلمان بھی اپنے اندر انقلاب پیدا کریں ۔اگر تم اپنے اندر تبدیلی پیدانہیں کروگے اور خداتعالیٰ کی نگاہ میں ظالم بنو گے تو خداتعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ایک ظالم کومٹا کر دوسرا ظالم اس کی جگہ بٹھا دے۔ خداتعالیٰ اسی صورت میں ان پہاڑوں کواڑائے گا جب تم اپنے آپ کو اسلامی احکام کا نمونہ بناؤگے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کا مقام حاصل کرلو گے۔(تفسیرکبیر جلد ۷ صفحہ ۴۵۳)

(خطبہ جمعہ ۱۶؍مئی ۲۰۰۳، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۴؍جولائی ۲۰۰۳ء)

مزید پڑھیں: قرآن کریم کے مطالب پر غور کرنے کی تلقین

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button