امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمديہ جرمنی کے ریجنSchleswig-Holstein اور مجلس Dietzenbachکےایک وفد کی ملاقات
دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کی سب سے بڑی اور ضروری چیز تو نماز ہے ، اللہ تعالیٰ نے پہلے تو نماز اور عبادت کا ہی حکم دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے پہلا سوال قیامت والے دن انسان سے پوچھا جائے گا، وہ یہی ہوگا کہ تم باقاعدہ نمازیں پڑھتے تھے یا نہیں؟ تم اللہ کے آگے جھوٹ تو بول نہیں سکتے کہ کہہ دو کہ ہاں جی! غلطی ہو گئی، غلطی ہو گئی تو پھر سزا ہے، تو اِس لیے اپنی نمازوں کی حفاظت کرو
مورخہ ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء ، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے ریجنSchleswig-Holsteinکے سینتیس اور مجلس Dietzenbach کے سات ممبران پر مشتمل چوالیس (۴۴) رکنی ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے جرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
سب سے پہلے ریجنل قائد صاحب Schleswig-Holstein نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں وفد کا مختصر تعارف پیش کیا، بعدازاں تمام شرکا مجلس کو فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا بھی موقع ملا۔
دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدت میں مختلف سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ امسال مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا ماٹو اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ یعنی “نماز دین کا ستون ہے” مقرر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے موصوف نے راہنمائی کی درخواست کی کہ خدام کس طرح اس ماٹو پر حقیقی طور پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں اور اپنے دلوں میں نماز اور اللہ تعالیٰ کی سچی محبّت پیدا کر سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے دین اور اللہ تعالیٰ کی پہچان کی اہمیت کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کرتے ہوئے سائل سے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ اللہ میاں پریقین ہے، الله تعالیٰ ہے،اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں ربّ العالمین ہوں، مَیں ساری چیزیں دیتا ہوں، اس بات کو مانتے ہو؟
ان سوالات کے جواب اثبات میں سماعت فرما کر حضورِ انور نے انسانی فطرت میں ودیعت کردہ صفتِ شکرگزاری اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے حوالے سے نہایت حکیمانہ رنگ میں سمجھایا کہ اگر کوئی انسان تمہیں تحفہ دے یا تمہاری favourمیں کوئی بات کرے یا تمہیں کوئی فائدہ پہنچائے، تو تم شکر گزار بنتے ہو ئےاس کا شکریہ ادا کرتے ہو ؟تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں نے ساری دنیا پیدا کی، تمہارے پیدا ہونے کے جو سامان تھے،اس میں جب کہ تم ابھی ماں کے پیٹ میں تھے ،تبھی تمہارے لیے ایسا انتظام کیا کہ تمہاری اچھی طرح nourishment ہو جائے۔ پھر اچھا صحت مند بچہ پیدا ہوا، پھر اس کو ماں باپ نے پالا، تمہارے لیے سامان مہیا کیا، پھر بڑے ہوئے، تمہیں کچھ سیکھنے کا موقع ملا، تمہارے کپڑے اور تمہاری پڑھائی وغیرہ کا انتظام کیا، ان سب کا جب شکریہ ادا کرتے ہو، تو اللہ کہتا ہے کہ یہ ساری چیزیں مَیں نے دی تھیں، مَیں نے ان کو سب کچھ سکھایا ، تو میرا شکریہ ادا کرو، تمہیں میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔
اسی تسلسل میں حضورِ انور نے نماز کے ذریعے شکرگزاری کے عملی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے توجہ دلائی کہ تمہیں تھوڑا سا تو اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیےکہ اللہ میاں نے اتنی چیزیں دیں۔ تو اللہ کہتا ہے کہ شکر گزاری کا طریقہ کیا ہے؟ تم نماز پڑھو، پانچ وقت نمازیں پڑھو، پانچ وقت اللہ تعالیٰ کے پاس جاؤ، اس کا شکر ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ شریف میں فرماتا ہے کہ تم شکر کرو گے، تو مَیں تمہیں اَور بھی زیادہ دوں گا، پہلے سے بڑھ کے دوں گا۔
آخر میں حضورِ انور نے نماز میں گہری توجہ پیدا کرنے اور عبدِ شکور بنتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مزید وارث بننے کی بابت نہایت پُر معارف انداز میں تلقین فرمائی کہ اس لیے یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر لیا ، تو اللہ خوش ہو گیا، الله کہتا ہے کہ مجھے تمہاری عبادتوں اور تمہارے شکریوں کی کوئی ضرورت نہیں ، لیکن اگر تم کرو گے، تو مَیں تمہیں انعام دوں گا، اَور دوں گا اور بڑھاؤں گا۔ اِس لیے یہ سوچ کے نماز پڑھو، تو نماز میں توجہ پیدا ہو گی اور اللہ کےشکر گزار بندے بنو گے، توپھر اللہ تعالیٰ کے اَور فضل ہوں گے۔
ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ شادی کے بعد اکثر بہن بھائیوں کے درمیان محبّت اور ہم آہنگی کم ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست ہے کہ انسان شادی کے بعد اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ محبّت اور اتحاد کس طرح برقرار رکھ سکتا ہے؟
اس پر حضورِ انور نےحقوق کی ادائیگی کو ہم آہنگی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہر ایک کے حقوق ادا کرو، ماں باپ کے حقوق ادا کرو، بہن بھائیوں کے حقوق ادا کرو۔ بیوی جو کسی کی لڑکی ہے ، جس کو تم اپنے گھر لائے ہو، اس کے حق ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہر ایک کے حق ادا کرنے کا حکم کیا ہے ۔
اسی طرح حضورِ انور نے جلسہ سالانہ کے مواقع پر ارشاد فرمودہ اپنی بصیرت افروز خطابات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ مَیں نے اپنی جلسے کی تقریروں میں حقوق کی ایک لسٹ بنائی تھی، دو تین سال اس پر تقریریں کرتا رہا، ابھی پورے نہیں ہوئے کہ کس طرح حق ادا کرنے ہیں۔
نیز اس کی روشنی میں راہنمائی فرمائی کہ اگر انسان یہ سوچے کہ مَیں نے ہر ایک کا حق ادا کرنا ہے تو اختلاف پیدا نہیں ہوتے۔ دعا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے یہ کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر محبّت اور پیار پیدا کرے، جو کبھی ختم نہ ہونے والا ہو، وہ ایسا پیار ہونا چاہیے تاکہ بہن بھائیوں کے حق ادا کرو۔
حضورِ انور نے باہمی حقوق کی ادائیگی کے ضمن میں توجہ دلائی کہ بہن بھائیوں کو بھی realise کرنا چاہیے کہ تم شادی شدہ ہو ، تمہاری بیوی آئی ہے، تو اس کو ایڈجسٹ کس طرح کرنا ہے۔ جو بیوی آنے والی ہے، اس کو بھی خیال ہونا چاہیے کہ مَیں نے اپنے سسرال میں جا کے اس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے۔ تمہیں بھی خیال ہونا چاہیےکہ تم نے بیوی کے حق کو کس طرح ادا کرنا ہے اور اپنے گھر والوں کے حق کو بھی ادا کرنا ہے۔
آخر میں حضورِ انور نے اس ضروری اور انتہائی اہم اَمر کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی کہ تم عقلمند ہو، خود تو نہیں لڑائی ہوگی، اگر بیوقوف ہو تو لڑائیاں ہوتی رہیں گی۔ نیز تاکید فرمائی کہ اپنی عقل کو بڑھاؤ، اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھو اور اچھے اخلاق دکھانے کی کوشش کرو اور نماز میں اس کے لیے دعا بھی کیا کرو، تو اللہ فضل کرتا ہے۔پڑھے لکھے لوگ تو عام طور پر نہیں لڑتے، جاہل لوگ ہی لڑتے ہیں، تو جاہل نہ بنو پڑھے لکھے بنو۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ سائنس کے مطابق ایک دن کائنات یا تو Big Crunch میں یا heat death کے ذریعے ختم ہو جائے گی ۔ اسلام قیامت کے دن کے حوالے سے اس کو کس طرح سمجھتا ہے؟
اس پر حضورِ انور نے کائنات کے انجام کے بارے میں سائنس اور قرآنِ کریم میں پائے جانے والی کامل ہم آہنگی کے حوالے سے بصیرت افروز اور مفصّل راہنمائی عطا فرمائی کہ قرآنِ شریف پڑھتے ہو، سورۃ الانبیاء میںBig Bangکا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں صفیں لپیٹ لوں گا، جس طرح تم کاغذ کے پلندے لپیٹتے ہو، اس طرح کائنات لپیٹ کے چلی جائے گی۔ جب قیامت آئے گی تووہ سب کچھ black hole میں چلا جائے گا ۔ Big Bangکا اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے ذکر فرمایا کہ اس طرح ہوا کہ سب کچھ سمٹا ہوا تھا، مَیں اس کو پھاڑا اور مختلف سیّارے اور planets بن گئے، جس کو ہم یونیورس میں دیکھتے ہیں۔ تو قرآنِ شریف تو کہتا ہے کہ Big Bangبھی ہوا اور اس کے بعد black hole میں تم قیامت والے دن جاؤ گے ۔ تو اسلام تو بڑی اچھی تعلیم دیتا ہے۔اس کی تفسیر قرآنِ شریف میں پڑھ لو، تم اگر پڑھو تو تمہیں ساری باتیں سمجھ آ جائیں گی ۔
حضورِ انور نے سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کو بھی اُجاگر فرمایا کہ اسلام تو کہتا ہے کہ سائنس اللہ تعالیٰ کا عمل ہے اور جو دینی تعلیم ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا کے سوا اَور معبود بھی ہیں، ان کو ہم جہنّم میں ڈال دیتے ہیں، ان کو سزا ملے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگے کافروں کو فرمایا کہ کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، ہم نے ان کو کھول دیا ، پھر پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا۔ کیا ایمان نہیں لاتے؟ ایک تو یہ ہے کہ روحانی طور پر وحی بھیجی اور اللہ تعالیٰ نے اپنےوجود کو ثابت کیا اور انبیاء نے تعلیم بتائی ۔ دوسرا یہ ہے سائنسی طور پر کہ یہ چیز بند تھی ، اس کو پھر اللہ تعالیٰ نے پھاڑا اور مختلف planets بن گئے اور پانی سے دنیاوجود میں آئی، انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ، اس پانی کی بھی پھر آگے تعریف کر دی ۔
حضورِ انور نے گذشتہ مضمون کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ اسی طرح black hole میں جانے کے بارے میں اسی سورت کے آخر میں لکھا ہے کہ ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے کہ جس طرح رجسٹر یا کاغذ لپیٹے جاتے ہیں اور جس طرح ہم نے تمہاری پہلی دفعہ پیدائش کی تھی، پہلی دفعہ ہم نے دنیا بنائی تھی، کائنات بنائی تھی، planets بنائے تھے، اس طرح پھر جب تم ایک black hole میں چلے جاؤ گے، تو پھر ایک اور Big Bangہوگا اور پھر دوبارہ ایک نئی دنیا بنے گی۔ تو اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ مَیں اس طرح پیدا کرتا رہتا ہوں، پیدائش بھی ہوگی اور پھر اس کا ارتقا بھی ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہ سب بتادیا ہے اور قرآن میں اس کا ذکر ہے ۔
حضورِ انور نے سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کو ایک واقعے کی روشنی میں بھی واضح فرمایا کہ آسٹریلیا میں ہم بیٹھے ہوئے تھے، وہاں میرے ساتھ ایک کیتھولک یا کوئی اور عیسائی تھا، بڑا اُن کا پادری تھا، وہ بھی بیٹھا ہوا تھا اور بائبل کی باتیں کررہا تھا کہ سائنس مذہب کے ساتھ نہیں ہوتی۔ مَیں نے کہا کہ سائنس اور مذہب ایک چیز ہیں۔سائنس جو ہے، وہ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو دماغ دیا اور انسان کو بتایا کہ یہ یہ سائنس ہے اَور اس کی جو دنیا میں پریکٹیکل صورتحال ہے، وہ مذہب ہے۔اور مذہب روحانیت میں ترقی کرنے کے لیے ہے اور اس پراللہ تعالیٰ نےیہ تعلیم بھی دی ہوئی ہے، تو مَیں نے کہا کہ قرآنِ شریف میں لکھا ہے، پھر مَیں نے اس کو یہ آیتیں بتائیں ، مَیں نے اسے قرآنِ شریف تحفہ بھی دے دیا اور کہا کہ جا کے پڑھو۔ تو کہنے لگا کہ اچھا !پھر قرآن نے یہ باتیں لکھی ہیں اَور کسی مذہب نے نہیں لکھیں۔
آخر میں حضورِ انور نے مذہب اور اسلام کی ضرورتِ حقّہ کی بابت غیروں کے اعتراض کا ردّ فرماتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کہتے ہیں کہ مذہب اور اسلام کی کیا ضرورت تھی کہ جب اَور بہت سارے مذہب تھے، تو یہی باتیں ہیں، جو دوسرے مذاہب کو پتا ہی نہیں تھیں کہ جو اسلام نے چودہ سو سال پہلےبتائی ہیں کہ Big Bangکیا ہوگا، پھر black hole کیا ہوگا اور کوئی کس طرح انسان پیدا کرے گا، پھر دوبارہ کس طرح ہوگا، جس طرح دنیا کے سائیکل چلتے ہیں، پھر اس میں ہوا اور پانی کی کیا اہمیت ہے، اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا، وہ انسان کو قرآنِ شریف میں اللہ نے بتایا کہ کیا اہمیت ہے، تو اس کو ذرا غور سے پڑھو، اس کی تفسیریں پڑھو، تو تمہیں پتا لگ جائے گا۔
[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ بلیک ہول(Black Hole) ایک فلکیاتی مظہر ہے، جو خلا میں اُس مقام کو ظاہر کرتا ہے، جہاں کششِ ثقل اس قدر شدید ہوتی ہے کہ کوئی شے، حتیٰ کہ روشنی بھی، اس سے فرار حاصل نہیں کرسکتی۔ بلیک ہول اپنے اطراف کی تمام شعاعوں اور مادے کو اس شدت سے جذب کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اس میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بِگ بینگ (Big Bang) کائنات کی تخلیق کا وہ سائنسی نظریہ ہے کہ جس کے مطابق یہ تقریباً ۱۳.۸؍ارب سال پہلے ایک نہایت گرم اور کثیف نقطے سے ایک زبردست دھماکے کے ذریعے وجود میں آئی اور اُس وقت سے مسلسل وسعت پذیر ہے یعنی پھیل رہی ہے۔بِگ کرنچ (Big Crunch) کائنات کے ممکنہ اختتام کے اس نظریے کے مطابق اگر کائنات کا پھیلاؤ کسی وقت رُک جائے اور کششِ ثقل غالب آ جائے، تو کائنات دوبارہ سکڑنا شروع کر دے گی۔ اس سکڑنے کے نتیجے میں ستارے، کہکشائیں اور تمام مادےایک نہایت کثیف اور گرم نقطے میں جمع ہو جائیں گے۔ یوں کائنات ایک اُلٹی بِگ بینگ کی مانند، یعنی بِگ بینگ کے برعکس مخالف سمت میں سمٹ کر ختم ہو جائے گی۔
ہیٹ ڈیتھ (Heat Death): یہ نظریہ بھی کائنات کے ممکنہ اختتام سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق کائنات مسلسل پھیلتی رہے گی اور وقت کے ساتھ توانائی بتدریج یکساں طور پر تقسیم ہو جائے گی۔ نتیجۃً تمام ستارے اور کہکشائیں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں گی، اور کائنات ایک انتہائی سرد، خاموش اور غیر فعّال حالت میں بدل جائے گی، جہاں نہ کوئی عمل ممکن ہو گا اور نہ ہی زندگی باقی رہے گی۔]
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ جماعت یا ذیلی تنظیم کی عاملہ میں بعض اوقات مختلف رائے رکھنے والے افراد ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں حضورِ انور کی ہدایت کے مطابق باہمی اختلاف کے باوجود حکمت اور اتحاد کے ساتھ کس طرح کام کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے باہمی مشاورت کی اہمیت کو اُجاگر فرماتے ہوئے واضح کیا کہ بات یہ ہے کہ اختلاف ہوتے ہیں ، اختلافِ رائے رکھنا تو بُری بات نہیں ہے، لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ آپس میں بیٹھ کے مشورہ کر کے discussکرو۔ اگر دوسرے کی رائے اچھی ہےتو اس کو قبول کر لو اور اگر نہیں ہے، اپنی دلیل زیادہ مضبوط ہے، تو اپنی دلیل دو۔ پھر دیکھو کہ majority رائے کیا ہے، جو majority رائے ہے، اس کو قبول کر لو، پھراس کے مطابق عمل کرلو۔ اور اگر پھر بھی سمجھو کہ majority رائے سے نقصان ہو رہا ہے، بعض دفعہ شروع میں فیصلے ہو جاتے ہیں، majority رائے میں ہوتی ہے اور ایک بندہ کہتا ہے کہ میرےحق میں یہ ہے، پھر وہ مرکز سے لکھ کے پوچھ لیتا ہے ، خلیفۂ وقت سے لکھ کے پوچھ لیتا ہے کہ کیا بات صحیح ہے۔تو بہرحال اختلافِ رائے ہونا کوئی بُری بات نہیں ہے، کوئی ہرج نہیں ہے ، لیکن اس کی وجہ سے اپنی اَنا اور ego کا سوال بنا لینا ، وہ غلط چیز ہے۔
حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ کوشش یہ کرنی چاہیے کہ آپس میں مل جل کے کام کریں اور اس کے اچھے حل نکالیں، جس سے جماعت کو فائدہ ہو، انسانیت کو فائدہ ہو اور ہمیں آپس میں ایک دوسرے سے معاشرتی تعلقات میں فائدہ ہو، یہ سارے فائدے دیکھنے چاہئیں ۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بارے میں حضورِ انور کا کیا خیال ہے اور مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے متعلق حضورِ انور کیا ارشاد فرماتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے اسرائیل اور حماس کے تنازعے کی موجودہ صورتحال کی بابت تبصرہ فرمایا کہ اسرائیل کی جارحیت کبھی حقیقتاً رُکی ہی نہیں تھی کہ اسے کسی نئے مرحلے کی شروعات کہا جا سکے۔ خود امریکی نائب صدر نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات دراصل صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اب خود بعض امریکیوں میں بھی یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، وہ مانے گا نہیں اور داؤ لگاتا ہی رہے گا۔
پھر حضورِ انور نے مسلم ممالک کے ذاتی مفاد پر مبنی خودغرضانہ رویوں کی نشاندہی کرتے ہوئےاظہارِ افسوس فرمایا کہ مسلمان ملک کون سا کوئی بڑے کام کی باتیں کر رہے ہیں۔ اگر ان میں ایمان ہو، ایک قوّت پیدا ہو، وہ ہے نہیں۔ ہر ایک کو اپنے اپنے vested interests چاہئیں۔ نیز مغرب کی تاریخی منافقت کی بھی نشاندہی فرمائی کہ یہودیوں پر تاریخی ظلم و ستم جرمنوں نے کیا، لیکن اس جرم کی قیمت آج فلسطینی عوام ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح حضورِ انور نےفلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سےعرب ممالک کے مبیّنہ مجرمانہ کردار کی بابت اقوامِ متحدہ سے وابستہ ایک ادارے کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ ان کا تو ٹارگٹ ہی یہی ہے کہ فلسطینیوں کو ختم کرنا ہے۔ ایک جرنلسٹ نے لکھا ہے کہ فلسطینیوں پر جو ظلم ہوا ہے، اس میں ساٹھ ملک شامل ہیں، یورپ اور امریکہ تو شامل ہیں ہی ہیں، عرب ملک بھی شامل ہیں۔ اگر عرب ملک ہوش کرتے اور اور کچھ نہیں تو کم از کم سڑکوں کو بلاک کرنے کا جو راستہ ہے، وہی کر دیتے، تو اس پر اسرائیل مجبور ہو کے کچھ نہ کچھagreement کر لیتا یا اپنا behaviour کچھ تھوڑا سا ٹھیک کرتا۔تو اس کا مطلب ہے کہ یہ عرب ملک بھی فلسطینیوں پر ظلم کرانے میں indirectly شامل ہیں۔ تو جب اپنے لوگ شامل ہو جائیں، گھر سے ہی آگ لگائی جائے، تو پھر اس کو باہر سے کون بجھائے گا۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص روحانیت میں ترقی کی کوشش کرتا ہے، کچھ عرصہ تک بہتری بھی آتی ہے، لیکن بعد میں پھر دوبارہ اپنی پرانی حالت میں گر جاتا ہے اور یہ تسلسل چلتا رہتا ہے تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ ایسے شخص کی جو روحانی استطاعت ہے یا طاقت ہے وہ ایک محدود حدّ تک کی ہے، وہ اس سے آگے بڑھ نہیں سکتا ؟
اس پر حضورِ انور نے قیامِ نماز کے حوالے سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ارشاد فرمودہ پُر معارف تشریح کی روشنی میں بیان کیا کہ نماز گرتی ہے، پھر تم اس کو کھڑا کرتے ہو، یہ بھی نماز کا قیام ہے۔
بایں ہمہ واضح فرمایا کہ ہم صرف اسی کو قیامِ نماز کہتے ہیں کہ نماز باجماعت پڑھنا، نماز قائم کرنا اور نمازوں کو پڑھنا، یہ ہی نہیں، بلکہ قیام کا مطلب یہ بھی ہے کہ نماز گرتی ہے، تمہاری توجہ ہٹتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری روحانی حالت کم ہوتی ہے ، اس کو تم نے پھر کھڑا کرنا ہے۔ قیام کرنا کیا ہوتا ہے، کھڑا کرنا، تم پھر اس کو کھڑا کرو اور یہ بار بار ہوتا ہے۔ اسی لیےاللہ تعالیٰ نے توجہ بھی دلائی ہے۔ سورۂ فاتحہ میں جو اتنی دعائیں سکھائی ہیں، اِیَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاكَ نَسۡتَعِیۡنُ اور پھر اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ، تو اسی لیے کہ اللہ سے پہلے مانگو کہ ہمیں سیدھے رستے پر چلائے اور جو ہم بار بار گرتے ہیں، نہ گریں، تو نفسِ مطمئنہ کی حالت جب طاری ہو جاتی ہے، تو ایسی حالت میں پھر انسان نہیں گرتا ، وہ حالت طاری کرنے کے لیے بار بار کوشش کرنی چاہیے۔
پھر نفسِ مطمئنہ کے حصول اور مسلسل کوشش کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ سو نفسِ لوّامہ سے نفسِ مطمئنہ کی طرف بھی پھر جانا چاہیے۔ جب تم لوگ گرتے ہو، تو دل ملامت کرتا ہے کہ وہ میری نماز صحیح ادا نہیں ہوئی یا میری روحانی حالت میں کمی ہوگئی، یہی لوّامہ ہے ، اب اس کو بہتر کرنے کے لیےدعا کرو اورنفل پڑھو۔ دنیا کی جو چکا چوند ہے، جو چمک ہے، اس سے پرے ہٹو۔ دنیا کی غلط قسم کی جو توجہ ہے یا ترجیحات ہیں، ان سے بچ کے رہو، تو پھر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو ، تو اللہ تعالیٰ قبول بھی کرتا ہے، تو یہ تو ایک مستقل کوشش ہے۔
حضور انور نے اِستغفار کی غیر معمولی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی کہ اِستغفار کے بارے میں بھی تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کبھی کچھ پڑھا ہوگا ، مَیں کئی خطبے بھی دے چکا ہوں کہ اِستغفار اسی لیےہے کہ آئندہ گناہوں سے بھی اللہ تعالیٰ بچائے اور جو روحانی حالت ہے، اس کو گرنے سے بھی بچائے، تو اِستغفار اس لیے بھی ضروری ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اِستغفار زیادہ کرو۔ تبھی مَیں نے جماعت کو پیچھے تحریک بھی کی تھی کہ اِستغفار زیادہ کرو، درود پڑھو ، اِستغفار پڑھو ، تو اسی سے حالت بہتر ہوگی ۔
حضورِ انور نے اس عمومی سوچ کی بھی نفی فرمائی کہ یہ کہنا کہ جی! اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی ہے کہ ہم یہیں رہیں، یہ غلط ہے، اللہ کی یہ مرضی نہیں۔ اللہ کی مرضی ہے کہ تمہارا بلند مقام ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کےلیے تمہیں حکم دیا ہے کہ وَالَّذِیۡنَ جَاھَدُوۡا فِیۡنَا لَنَھْدِیَنَّھُمۡ سُبُلَنَا کہ جو لوگ ہمارے راستے میں جہاد کرتے ہیں پھر وہی لوگ کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ جہاد کرنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ بہت زیادہ کوشش کرنی پڑتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو صحیح راستے پر چلاتا ہے ، تو یہ کوشش ہونی چاہیے۔
مسلسل کوشش جاری رکھنے کی بابت تاکید کا اعادہ فرماتےہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہی بتایا کرو، تھک کے بیٹھنا نہیں ہے، کہیں نہیں اللہ میاں نے کہا کہ تھک کے بیٹھ جاؤ۔ ہاں! باقی اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم ایک نیکی کرتے ہو، تو مَیں تمہیں دس گنا اس کا اجر دیتا ہوں اور جب گناہ کرتے ہو یا بُرائی کرتے ہو، تو اُس کا اس کے برابر گناہ ہے۔ تو دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب ہے کہ اگر ہر گناہ کے بعد اگر آدمی نیکی کر لے، تو گناہ تو ختم ہو گیا، تو اس لیے سمجھاؤ کہ اللہ سے تعلق رکھو گے ، مستقل کوشش کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ پھر گرنے نہیں دیتا اور ثواب بھی دیتا ہے، روحانی حالت میں اُوپر نیچے اُتار چڑھاؤ تو آتے ہی رہتے ہیں۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ نکاح کے لیےدین کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے، تو پھر کس طرح کسی ممکنہ شریکِ حیات کی راستبازی یا نیکی کا حقیقی طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے؟
اس پرحضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ کسی شخص کے دل کی باطنی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتا ہے، اس لیے سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ صدقِ دل سے دعا کرنی چاہیے کہ اگر ممکنہ شریکِ حیات نیک اور ہمارے لیے بہتر ہےتو اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائے اور ہمارے دلوں کو راحت اوراطمینان عطا فرمائے اور اگر نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈال دے۔ نیز یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی اور دائمی محبّت وہی ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو۔
دوسرا قدم عملی تحقیق ہے جو کہ نظامِ جماعت کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔کسی شخص کے کردار کے بارے میں جاننے کے لیے لجنہ اور خدام کی تنظیموں سے درج ذیل اہم امور کی بابت معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں کہ گھر میں نماز کی پابندی، دینی تعلیم پر زور، لڑکی کا حیا دار اور شائستہ لباس پہننا، اور خاندان کا مادی نقطۂ نظرمثلاً کچھ خاندان فوراً الگ گھر کے مطالبات کر دیتے ہیں، ایسی باتیں پہلے سے کلیئر کر لینی چاہئیں تاکہ بعد میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آخر میں حضورِ انور نے اس حقیقت پسندانہ رویّےکو اپنانےپر بھی زور دیا کہ کوئی بھی مکمل نہیں ہے۔ مرد اور عورت دونوں میں کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ انسان میں ممکنہ شریکِ حیات کی چھوٹی موٹی خامیوں کو نظرانداز کرنے اور خوبیوں کو سراہنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ اگر چہ مکمل طور پر نیک شخص تلاش کرنا ایک مشکل اَمرہے، تاہم اپنی بہترین استطاعت کے مطابق تحقیق کرنا ضروری ہے اور پھرسب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی مدد دعا کے ذریعے طلب کرنی چاہیے۔
ایک خادم نے حضورِ انور سے راہنمائی کی درخواست کی کہ آج کے دَور میں سوشل میڈیا اور دنیاوی مصروفیات انسان کو دین سے غافل کر دیتی ہیں، ایسے حالات میں مَیں بطورِ خادم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور دین سے مضبوط تعلق میں کیسے قائم رکھ سکتا ہوں؟
اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ سوشل میڈیا نہ دیکھو، اس میں کیوں جاتے ہو، ہر ایک سائٹ پر کیوں چلے جاتے ہو؟ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے پرہیز اور محتاط استعمال کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے تلقین فرمائی کہ صرف دنیاوی خبریں یا علمی باتیں دیکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر جاؤ، ہر قسم کی فضول چیز دیکھنے کےلیے سوشل میڈیا پر نہ جاؤ۔ بہت ساری بکواس ہوتی ہے ، اس بکواس کو سننے کی ضرورت کیا ہے، اس لیےبچو۔ اسی ضمن میں اِستغفار کرنےکی ضرورت کا بھی اعادہ فرمایا کہ یہی ہے وہ ، جو اِستغفار کی بات مَیں نے کی ہے، اِستغفار زیادہ کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ سے نمازوں میں دعا کرو اور اس بات پرdeterminedہو جاؤ اور بڑا پکّا اور مضبوط ارادہ ہو کہ ہم نے نماز کے وقت میں نہ ٹی وی دیکھنا ہے، نہ سوشل میڈیا دیکھنا ہے اور نہ ہی دنیاوی باتوں میں دلچسپی لینی ہے۔ تو جب اس طرح کرو گے، تو دین کو دنیاپر مقدّم رکھنے کا جوعہد کرتے ہو ، تو یہی وہ عہد ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کی بنیاد نماز کو قرار دیتے ہوئے نمازوں کی حفاظت کی تلقین فرمائی کہ دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کی سب سے بڑی اور ضروری چیز تو نماز ہے ، اللہ تعالیٰ نے پہلے تو نماز اور عبادت کا ہی حکم دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے پہلا سوال قیامت والے دن انسان سے پوچھا جائے گا، وہ یہی ہوگا کہ تم باقاعدہ نمازیں پڑھتے تھے یا نہیں؟ تم اللہ کے آگے جھوٹ تو بول نہیں سکتے کہ کہہ دو کہ ہاں جی! غلطی ہو گئی، غلطی ہو گئی تو پھر سزا ہے، تو اس لیے اپنی نمازوں کی حفاظت کرو ۔
اسی طرح حضورِ انور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں دینی غفلت سے بچنے کے لیے نمازیں پڑھنے، دعائیں کرنے اور سوشل میڈیا کےایک حدّ تک مثبت استعمال کی بابت توجہ دلائی کہ جب نمازوں کی حفاظت کرو گے، تو ساتھ اِستغفار بھی کر رہے ہو گے، سوشل میڈیا کو عقل سے استعمال کرتے ہوئے اس پر صحیح باتیں دیکھو گے ، تو بچے رہو گے۔ ایک میڈیا کا لنک کھولتے ہو، تو نیچے ایک لسٹ آجاتی ہے، اور بعض دفعہ بیہودہ قسم کے پروگرام آجاتے ہیں ، بعض بچوں کے پروگرام ٹی وی پر آرہے ہوتے ہیں اس میں بیہودہ اشتہار لگا دیتے ہیں ، اس سے بچوں کے ذہن پہلے ہی pollute اور poisonedہو رہے ہوتے ہیں، تو بچوں کی بھی نگرانی رکھنی چاہیے۔ حضورِ انور نے پُرشفقت انداز میں فرمایا کہ تم ابھی تو خود بچے ہو، جب تمہارے بچے ہو جائیں گے، تو ان کی نگرانی رکھنا۔ اس وقت تک پتا نہیں کہ AI کیا کچھ کرتب دکھا دے گی ۔ نیز آخر میں تاکید فرمائی کہ اس لیے بچ کے رہو ، نمازیں پڑھو، دعائیں کرو اور ان چیزوں کو ایک حدّ تک فائدے کے لیے استعمال کرو اور جہاں نقصان دیکھو وہاں چھوڑ دو۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو ازراہِ شفقت اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
٭…٭…٭




