متفرق مضامین

دل کا حلیم ہونا

(صفدر نذیر جاوید گولیکی)

پیشگوئی مصلح موعود کا ایک عظیم الشان پہلو

’’میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میں نے کبھی کسی شخص سے بغض نہیں رکھا بلکہ شدید دشمنوں کے متعلق بھی میرے دل میں کبھی کینہ پیدا نہیں ہوا‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

پیشگوئی مصلح موعود ہمیشہ آپؓ کے حسین اخلاق اور اعلیٰ کردار کی یاد دلاتی رہے گی۔ اس پیشگوئی میں حضرت مسیح موعودؑ نے ایک ایسے وجود کی بشارت دی، جو نہ صرف علمی و روحانی لحاظ سے بلند مقام پر فائز ہوگا بلکہ اخلاقی برتری کا بھی حامل ہوگا۔

حلم، بردباری اور برداشت ایک اعلیٰ اخلاقی جوہر ہے جو انسان کے کردار کی عظمت کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک حلیم القلب شخص نہ صرف صبر و تحمل کا پیکر ہوتا ہے بلکہ اپنے حسن اخلاق سے دوسروں کے دل بھی جیت لیتا ہے۔ پیشگوئی مصلح موعودؓ میں مذکور الفاظ ’’اوردل کا حلیم‘‘ حضرت مصلح موعودؓ کی سیرت کے اس پہلو کی عکاسی کرتے ہیں جو حلم و بردباری کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتا ہے۔ اس مضمون میں حضرت مصلح موعودؓ کی حیاتِ مبارکہ میں اس کے عملی نمونوں پر روشنی ڈالیں گے۔

آپس میں صلح اور محبت رکھو

تحریک جدید کے آغاز کے وقت حضرت مصلح موعودؓ نے بھائیوں سے صلح کرنے اور یکجان ہونے کا ارشاد فرمایا۔ اس حکم کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: جس وقت میں نے جماعت کے لیے یہ حکم تجویز کیا اس وقت سب سے پہلے میں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اے خدا !میرا دل صاف ہے اور مجھے کسی سے بغض و کینہ یا رنجش نہیں سوائے ان کے جن سے ناراضگی کا تُو نے حکم دیا ہے لیکن اگر میرے علم کے بغیر کسی شخص کا بغض یا اس کی نفرت میرے دل کے کسی گوشہ میں ہو تو الٰہی میں اسے اپنے دل سے نکالتا ہوں اور تجھ سے معافی اور مدد طلب کرتا ہوں۔ مگر میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میں نے کبھی کسی شخص سے بغض نہیں رکھا بلکہ شدید دشمنوں کے متعلق بھی میرے دل میں کبھی کینہ پیدا نہیں ہوا۔ہاں ایک قوم ہے جس کو میں مستثنیٰ کرتا ہوں اور وہ منافقین کی جماعت ہے۔ مگر منافقین کا قطع کرنا یا انہیں جماعت سے نکالنا یہ میرا کام ہے تمہارا نہیں۔ جس کو میں منافق قرار دوں اس کے متعلق جماعت کا فرض ہے کہ اس سے بچے لیکن جب تک میں کسی کو جماعت سے نہیں نکالتا ، تمہیں ہرایک شخص سے صلح اور محبت رکھنی چاہئے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہئے۔ (خطبات محمود جلد ۱۵صفحہ ۳۷۲)

ہمیں پیار اور محبت سے دوسروں کو سمجھانا چاہیے

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: خداتعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ آج تک کسی ایک شخص کابھی میرے دل میں بغض پیدا نہیں ہوا ہاں ان افعال سے بغض ضرور ہوتا ہے جو سلسلہ احمدیہ اور اسلام کے خلاف کئے جاتے ہیں۔ لیکن افعال سے بغض بغض نہیں کہلاتا بلکہ وہ اصلاح کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ ہم چوری کو بےشک برا کہتے ہیں لیکن چور سے ہمیں کوئی بغض نہیں ہوتا وہ اگر چوری چھوڑ دے تو ہم ہر وقت اس سے صلح کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ پس اصلاح محبت کے جذبات کے ماتحت کرنی چاہئے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ محض دوسرے کو نقصان پہنچانے کی خواہش میں دوسرے کی شکایت کر دیتے ہیں۔ ان کے مدنظر یہ نہیں ہوتا کہ اس کی اصلاح ہو جائے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اسے نقصان پہنچے۔ ایسے لوگ جب میرے پاس کسی کے متعلق شکایت کرتے ہیں اور میں محبت اور پیار سے اسے سمجھاتا ہوں اور وہ سمجھ جاتا ہے تو شکایت کرنے والے کہنے لگ جاتے ہیں بھلا اصلاح کس طرح ہو ہم نے فلاں کی شکایت خلیفۃ المسیح تک بھی پہنچائی مگر انہوں نے کچھ نہ کیا۔ گویا ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کی شکایت کی جائے اس کے خلاف ضرور کوئی قدم اٹھایا جائے حالانکہ یہ اصلاح کا آخری طریق ہے اس سے پہلے ہمیں محبت اور پیار سے دوسروں کو سمجھانا چاہئے اور اگر وہ سمجھ جائیں توہمیں خوش ہونا چاہئے کہ ہمارے ایک بھائی کی اصلاح ہو گئی۔ (خطبات محمود جلد ۱۵صفحہ۲۴۰)

دشمنوں کے لیے بھی میرے دل میں کوئی بغض نہیں

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: میں دوستوں کو ہدایت کرتا ہوںکہ جو مضمون بھی لکھیں نرمی اورمحبت سے لکھیں۔ یہ صحیح ہے کہ جہاں کوئی تلخ مضمون آئے گا اس کی کچھ نہ کچھ تلخی تو باقی رہے گی۔ لیکن جہاں تک ہو سکے الفاظ نرم استعمال کرنے چاہئیں… میں مانتا ہوں کہ پیغامیوں کی طرف سے ہمیشہ سختی کی جاتی ہے۔ اس لیے بعض دوست جواب میں سختی سے کام لیتے ہیں۔ مگر مجھے یہ طریق سخت ناپسند ہے۔ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ شدید سے شدید دشمن کے متعلق بھی سخت کلامی مجھے پسند نہیں۔ میرے نزدیک مولوی ثناء اللہ صاحب ہمارے اشدترین دشمن ہیں۔ مگر میں نے کئی بار دل میں غور کیا ہے۔ ان کے متعلق بھی اپنے دل میں کبھی بغض نہیں پایا۔ اور میں سمجھتاہوں اگر کسی دشمن کے متعلق دل میں بغض رکھا جائے تو اس سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے… ہر شخص کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اگرکسی کو سزا دینی ہو تو اس نے اگر کسی نے بخشنا ہو تو اس نے، میں کیوں اپنے دل میں بغض رکھ کر اسے سیاہ کروں۔ پس دل میں بغض اور کینہ رکھ کر کام نہ کرو بلکہ محبت و اخلاص رکھ کر کرو۔ (الفضل یکم مئی ۱۹۴۰ء)

صلح کا عالمی پیغام

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: میں اپنی طرف سے دنیا کو صلح کا پیغام دیتا ہوں میں انگلستان کو دعوت دیتاہوں کہ آؤ! اور ہندوستان سے صلح کر لو اور میں ہندوستان کو دعوت دیتا ہوں کہ جاؤ! اور انگلستان سے صلح کر لو اور میں ہندوستان کی ہر قوم کو دعوت دیتا ہوں اور پورے ادب و احترام کے ساتھ دعوت دیتا ہوں بلکہ لجاجت اور خوشامد سے ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں کہ آپس میں صلح کرلو اور میں ہر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاںتک دنیوی تعاون کا تعلق ہے ہم ان کی باہمی صلح اور محبت کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہیں اور میں دنیا کی ہر قوم کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں۔ ہم کانگرس کے بھی دشمن نہیں ’ ہم ہندو مہا سبھا والوں کے بھی دشمن نہیں مسلم لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں اور زمیندارہ لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں اور خاکساروں کے بھی دشمن نہیں اور خداتعالیٰ جانتا ہے کہ ہم تو احراریوں کے بھی دشمن نہیں۔ ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور ہم صرف ان کی ان باتوں کو برا مانتے ہیں جو دین میں دخل اندازی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ورنہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں اور ہم سب سے کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو کہ ہم خداتعالیٰ کی اس مخلوق کی خدمت کریں۔ ساری دنیا سیاسیات میں الجھی ہوئی ہے۔اگر ہم چند لوگ اس سے علیحدہ رہیں اور مذہب کی تبلیغ کا کام کریں تو دنیا کا کیا نقصان ہو جائے گا۔ (الفضل ۱۷جنوری ۱۹۴۵ء)

منکرین خلافت کو معاف کرنا

۱۹۳۲ء میں محترم خواجہ کمال الدین صاحب کی وفات پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنی تقریر میں خواجہ صاحب مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے فرمایا: اگرچہ خواجہ صاحب نے میری بہت مخالفتیں کیں لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے وقت خدمات بھی کی ہیں اس وجہ سے ان کی موت کی خبر سنتے ہی میں نے کہہ دیا کہ انہوں نے میری جتنی مخالفت کی وہ میں نے سب معاف کیں۔ خداتعالیٰ بھی ان کو معاف کرے۔حقیقت یہ ہے کہ جن بندوںکو خداتعالیٰ کھینچ کر اپنے مامورین کے پاس لاتا ہے ان میں ہو سکتا ہے کہ غلطیاں بھی ہوں لیکن خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں ان خوبیوں کی قدر کرنی چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں خلافت کا انکار بڑی خطا ہے خداتعالیٰ نے اسے بڑا گناہ قرار دیا ہے مگر ہمارا جہاں تک تعلق ہے۔ ہمیں معاف کرنا چاہئے خداتعالیٰ کے نزدیک اگر ایسے شخص کی نیکیاں بڑھی ہوئی ہوں گی۔ تو وہ اس سے بہتر سلوک کرے گا۔ (الفضل یکم جنوری ۱۹۳۳ء)

جابر افغان گورنمنٹ سے ہمدردی اور ان کے لیے دعا

۳۱؍اگست ۱۹۲۴ء کو کابل میں حضرت مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کو شہید کر دیا گیا اس وقت حضرت مصلح موعودؓ لندن میں تھے۔ آپ نے اس موقع پر ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:باوجوداس کے لمبے عرصہ ظلم کے میں اپنے دل میں افغان گورنمنٹ اور اس کے حکام کے خلاف جذبات نفرت نہیں پاتا۔ اس کے فعل کو نہایت برا سمجھتا ہوں۔ مگر میں اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اور وہ میری ہمدردی کی محتاج ہے اگر کوئی شخص یا اشخاص اخلاقی طور پر اس حد تک گر جائیں کہ ان کے دل میں رحم اور شفقت کے طبعی جذبات بھی باقی نہ رہیں۔ تو وہ یقینا ً… ہماری ہمدردی کے زیادہ محتاج ہیں۔ میں نے آج تک کسی سے عداوت نہیں کی اور میں اپنے آپ کو اس واقعہ کی بنا پر خراب کرنا نہیں چاہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے سچے متبع بھی اس طریق کو اختیار کریں گے۔ …میں جانتا ہوں کہ ظلم نہ ظلم سے مٹتے ہیں اور نہ عداوت سے۔ پس میں نہ ظلم کا مشورہ دوں گا اور نہ عداوت کے جذبات کو اپنے دل میں جگہ دوں گا۔ (الفضل ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۲۴ء)

۱۰؍فروری ۱۹۲۵ء کو افغانستان میں قاری نور علی صاحب او رمولوی عبدالحلیم صاحب کو سنگسار کر دیا گیا۔ ان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:مجھے جس وقت گورنمنٹ کابل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بعید حرکت کی خبر ملی۔ میں اسی وقت بیت الدعا میں گیا اور دعا کی کہ الٰہی تو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول۔ تا وہ صداقت اور راستی کو شناخت کرکے … اخلاق کو سیکھیں اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات سے وہ باز آجائیں میرے دل میں بجائے جوش اور غضب کے بار بار اس امر کا خیال آتا تھا کہ ایسی حرکت ان کی حد درجہ کی بیوقوفی ہے ۔امیر اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے گزشتہ تاریخ توجانتے ہوں گے اور تاریخی حالات اس میں انہوں نے پڑھے ہوں گے اگر اس سے بے خبر ہیں تو کم ا زکم مسلمان کہلانے کی حیثیت سے وہ قرآن تو پڑھتے ہوں گے اور ان حالات کو بھی پڑھتے ہوں گے کہ ظالموں نے اپنے ظلموں سے صادقوں اور راستبازوں کو ذلیل کرنا چاہا۔ اور صداقت اور ر استی کے مٹانے کے لیے سر سے پاؤں تک زور مارا۔ مگر آخر کار مٹائے جانے والے وہی ہوئے جو کہ ظالم تھے۔ انہو ں نے اس قرآن میں پڑھا ہو گا کہ ظالموں نے راستبازوں کی جماعتوں کو حقیر اور کمزور سمجھا اور اپنی قوت اور طاقت کے گھمنڈ میں ان کو ہرطرح دکھ دینے کی کوشش کی۔ لیکن خدا نے ان کو یہی جواب دیا کہ تم کیا طاقت رکھتے ہو تم سے پہلے تم سے زیادہ طاقتیں رکھنے والی قومیں گزری ہیں جنہوں نے خدا کے راستبازوں کو نابود کرنا چاہا اور جو صداقت وہ لائے اس کو دنیا سے مٹانا چاہا… مگر باوجود اس کے وہ راستبازوں کا وجود دنیا سے مٹا نہ سکے اور صداقت دنیا میں پھیل کر رہی… اس لیے ان تجربات اور واقعات کی بناء پر اس تقریر کے ذریعہ میں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طاقت اور قوت کے زمانہ میں اخلاق کو ہاتھ سے نہ دیں کیونکہ اخلاق اصل وہی ہیں جو قوت اور طاقت کے وقت ظاہر ہوں۔ ضعیفی اور ناتوانی کی حالت میں اخلاق اتنی قدر نہیں رکھتے جتنی کہ وہ اخلاق قدر رکھتے ہیں جب کہ انسان برسر حکومت ہو۔ اس لیے میں آنے والی نسلوں کونصیحت کرتا ہوں کہ جب خداتعالیٰ ان کو ہماری ان حقیر خدمات کے بدلے میں حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں جس طرح ہم اب برداشت کر رہے ہیں وہ بھی برداشت سے کام لیں اور وہ اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں بلکہ ہم سے بھی آگے بڑھیں۔پھر فرمایا:میں ہرگز ہرگز گورنمنٹ کابل یا وہاں کے متعصب ملانوں کے خلاف کینہ نہیں رکھتا ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ خود ان کو اس روحانی اندھے پن سے بچانے کے لیے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ ضروری ہے کہ ان کو یہ محسوس کرایا جائے کہ ہریک شریف انسان ان کے اس فعل کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے بہت شدت سے متاثر ہے۔(الفضل ۱۹؍ فروری ۱۹۲۵ء)

امیر افغانستان کا خیر مقدم

امیر امان اللہ شاہ افغانستان جس کے عہد میں کئی احمدی شہید کیے گئے ۱۹۲۷ء میں ہندوستان کے دورہ پر آیا۔ اس موقع پر جماعت احمدیہ کی طرف سے خیر مقدمی پیغام بھیجا گیا۔ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ نے تحریر فرمایا: جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس امام کی طرف سے میں ہزمیجسٹی امیر کابل کی خدمت میں ان کے سر زمین ہند میں (جو کہ جماعت احمدیہ کے مقدس امام کی جائے پیدائش ہے) ورود کے موقع پر نہایت خلوص سے خیر مقدم کہتا ہوں۔ ہم ہزمیجسٹی کی وفادار احمدی رعایا افغانستان کے ساتھ اس دعا میں متحد ہیں کہ ہزمیجسٹی کا سفر یورپ نہایت کامیابی کے ساتھ سر انجام پائے اور آپ اپنی مملکت میں سالماً خانماً واپس تشریف لائیں۔

بہ سر رفتنت مبارک باد
بسلامت روی و باز آئی

شیر علی سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح امام جماعت احمدیہ قادیان

اس کا ذکر کرتے ہوئے اخبار انقلاب لاہور نے لکھا۔ ہمیں یہ معلوم کرکے بے انتہا مسرت ہوئی کہ جماعت احمدیہ قادیان کے امام صاحب نے اعلیٰ حضرت شہریار غازی افغانستان کے ورود ہند پر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں خیر مقدم کا محبت آمیز پیغام بھیج کراپنی فراخدلی کا ثبوت دیا ہے اور قادیان کے جرائد نے اس پیغام کو نہایت نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ آج سے کچھ مدت پیشتر دو تین احمدیوں کے رجم پر جماعت احمدیہ اعلیٰ حضرت شہر یار افغانستان کی حکومت کی سخت مخالف ہو گئی تھی اور ان دنوں میں امام جماعت اور جرائد قادیان نے نہایت تلخ لہجے میں حکومت افغانستان کے خلاف احتجاج کیا تھا… یہ نہایت قابل تعریف بات ہے کہ امام جماعت احمدیہ نے اس ہنگامی وجہ اختلاف کو فراموش کرکے مہمان محترم کا خیر مقدم کیا۔ اس طرز عمل کا اثر ایک طرف عام مسلمانان ہند پر بہت اچھا ہو گا۔ دوسری طرف افغانستان میں رہنے والے احمدیوں کے تعلقات اپنے بادشاہ اور اس کی حکومت کے ساتھ زیادہ خوشگوار ہو جائیں گے… ( الفضل ۲۳؍ دسمبر ۱۹۲۷ء)

ایک دفعہ ایک سخت مخالف غیر از جماعت کسی کام کے سلسلہ میں حضرت مصلح موعودؓ سے ملنے کے لیے ربوہ آئے۔ ان کی حضرت ام ناصر صاحبہ سے قریبی رشتہ داری بھی تھی اس لیے سیدھے وہاں پہنچے اور پیغام بھجوایا کہ میں نے حضرت صاحب سے ملنا ہے مجھے وقت لے دیں۔ مگر انہوں نے غیرت کی وجہ سے جواب دیا۔’’یوں تو آپ میرے خاوند کو گالیاں دیتے ہیں مگر جب کام ہوتا ہے تو سفارش کروانے آ جاتے ہیں۔ میں نہ صرف یہ کہ پیغام نہ دوں گی بلکہ آپ سے ملنا بھی پسند نہیں کرتی‘‘وہ صاحب ادھر سے مایوس ہو کر دفتر پرائیویٹ سیکرٹری گئے اور وہاں سے کوشش کرکے ملاقات کا وقت لے لیا۔ کچھ دیر بعدحضور حضرت ام ناصر صاحبہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ انہی صاحب کے لیے اکرام ضیف کے طور پر ایک دو ڈش مزید تیار کر دو۔ وہ کھانا میر ے ساتھ کھائیں گے۔حضرت ام ناصر صاحبہ نے ان کا پیغام اور اپنا جواب بتایا تو حضور نے فرمایا تم نے تو اپنی غیرت کا اظہار کر دیا ہے مگر اب وہ میرے مہمان ہیں اور رسول اللہؐ نے مہمان کی بڑی عزت رکھی ہے۔ وہ گالیاں دے کر اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں اور میں نے سنت رسولؐ پر چل کر اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے۔ (ماہنامہ خالد فروری ۱۹۸۷ء صفحہ ۵۶)

مخالف پڑوسی سے حسن سلوک

قادیان میں ایک صاحب ڈاکٹر گوربخش سنگھ تھے۔ وہ جماعت سے عناد رکھتے تھے اور سلسلہ کی برملامخالفت کیا کرتے تھے بلکہ سرخیل معاندین تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میری بھانجی ایف۔ اے میں تعلیم پاتی تھی اور اس نے فلاسفی کا مضمون لیا ہوا تھا۔ اس مضمون میں وہ کمزور تھی قادیان میں سوائے احمدیہ جماعت کے افراد کے اور کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ تھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مکرم عبدالسلام صاحب اختر فلاسفی میں ایم۔ اے ہیں میرے ان کے والد ماسٹر علی محمد صاحب بی ا ے بی ٹی سے اچھے مراسم تھے۔ چنانچہ میں ان کے پاس حاضر ہوا اور اپنی بھانجی کے لیے عبدالسلام صاحب کو ٹیوشن پڑھانے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ ماسٹر صاحب فرمانے لگے میرا بیٹا عبدالسلام واقف زندگی ہے اور اس کے وقت کا ایک ایک منٹ حضرت صاحب کے تحت حکم ہے۔ اگر حضرت صاحب اجازت دے دیں تو وہ بخوشی یہ خدمت بجا لا سکتا ہے۔ ان دنوں میں میں نے حضرت صاحب اور جماعت کے خلاف کچھ مقدمات کئے ہوئے تھے اور میرے تعلقات حضور کے ساتھ کشیدہ تھے۔ لہٰذا میں حضرت صاحب کی خدمت میں مکرم عبدالسلام صاحب کو اجازت دینے کے لیے کہنا نہ چاہتا تھا۔ لیکن جب پڑھانے کا کو ئی اور انتظام نہ ہو سکاتو مجبوراً میں نے حضور کی خدمت میں اپنی غرض کے لیے ایک رقعہ لکھا۔ حضور نے اس پر بخوشی عبدالسلام صاحب کو جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ مکرم عبدالسلام صاحب کئی ماہ تک میری بھانجی کو پڑھاتے رہے۔ میں نے ان کو ٹیوشن فیس دینا چاہی لیکن انہوں نے کہا کہ میں حضرت صاحب کے حکم کے ماتحت بطور ڈیوٹی پڑھا رہا ہوں اس کا معاوضہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ نتیجہ نکلنے پر یہ لڑکی بہت اچھے نمبروں میں پاس ہوئی اور میں ایک تھال میں مٹھائی اور مبلغ دس روپے لے کر عبدالسلام صاحب کے گھر پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ مٹھائی اور روپے نہیں لے سکتا۔ اگر آپ چاہیں توحضرت صاحب کے پاس لے جائیں۔ میں نے وہ مٹھائی حضور کی خدمت میں بھجوائی۔ حضور نے بچی کو مبارکباد دی اور فرمایا کہ آپ ہمارے پڑوسی ہیں۔ میں نے جو بچی کی پڑھائی کا انتظام کیا ہے وہ کسی معاوضے کے لیے نہیں تھا۔ حضور نے مٹھائی دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ تقسیم کرا دی اور رقم مجھے واپس کر دی۔ (مجلۃ الجامعہ مصلح موعود نمبرصفحہ ۱۵۱)

ہمدردی کا چشمہ

ایک شخص تھا ’’فخر الدین ملتانی‘‘ایک فتنہ کا بانی مبانی۔ اس نے اپنی زبان سے ، قلم سے حضرت محمود اور آپ کے اہل بیت کے خلاف انتہائی سب و شتم اور بہتان طرازی سے کام لیا۔ اس کی اشتعال انگیزی حد سے بڑھی ہوئی تھی اور اس کا دل حضرت مسیح موعودؑ کے خاندان اور حضرت مصلح موعودؓ کے لیے بغض و عناد سے بھرا ہوا تھا۔ لیکن جب وہ فوت ہو گیا تو اس کی بیوی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی مالی تنگی اور سامان خورو نوش سے تہی دستی کا ذکر کرتے ہوئے امداد کی درخواست کی۔ باوجود اس کے کہ فخرالدین ملتانی اور اس کے ساتھیوں کے فعل سے احمدیوں اور حضور کے دل زخمی تھے اور اس کا پیدا کردہ فتنہ جاری تھا مگر یہ مجسم حلم وجود۔ شفقت ورأفت کا پیکر اس کنبے کی زبوں حالی پر درد سے بھر گیا اور ہمدردی خلق کا چشمہ آپ کے دل میں موجزن ہوا اور آپ نے ان کے لیے سامان خورو نوش فراہم کرنے کا انتظام کیا جبکہ فخرالدین کے نام نہاد دوست اس کی کوئی بھی مالی مدد نہ کرسکے۔

حضورؓ نے اعلان فرمایا تھا کہ آپ سوائے اپنے رشتہ داروں یا واقفین کے دوسرے احباب جماعت کے نکاحوں کا اعلان کرنے کی فرصت نہ نکال سکیں گے لیکن جب فخرالدین ملتانی کے لڑکے نے کہا کہ اگر اس کی ہمشیرہ کا نکاح خود حضور پڑھانا منظور فرماویں تو تب ہی اس کا رشتہ احمدیوں میں ہو سکتا ہے ورنہ کوئی احمدی اس کا رشتہ قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا تو آپ نے یہ درخواست قبول کرتے ہوئے فخرالدین کی لڑکی کے نکاح کا اعلان خود فرمایا۔ (مجلۃ الجامعہ مصلح موعود نمبر صفحہ ۱۵۴)

معاند احمدیت کے آخری ایام کی خدمت

جماعت احمدیہ کے ایک دیرینہ معاند اور ایک بہت بڑے اخبا ر نویس بیمار ہو کر مری میں صاحب فراش تھے۔ وہ فالج کی بیماری میں مبتلا تھے اور نہایت کس مپرسی کے عالم میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ کو علم ہوا۔ تو آپ برداشت نہ کر سکے اور ڈاکٹر غلام مصطفٰے صاحب کو بغرض علاج بھجوایا ۔ اور ادویہ کے لیے اپنی جیب خاص سے رقم مرحمت فرمائی۔ اس سلسلہ میں جناب عبدالحکیم صاحب عامر کا بیان ہے کہ ایک سال پیشتر جب آغا صاحب (شورش کاشمیری صاحب مدیر چٹان۔ ناقل)سخت علیل تھے قادیانیوں کے روحانی پیشوا (مراد حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ) نے ایک پیغام کے ذریعے آپ کو غیر ملکی دوائیوں کی پیشکش کی… مولانا ظفر علی خان کی علالت کے دنوں میں جبکہ وہ مری میں مقیم تھے، قادیانیوں کے روحانی پیشوا کی طرف سے مولانا کو بھی اس قسم کی پیشکش کی گئی تھی۔ (نوائے وقت ۳۰؍ اکتوبر۱۹۷۵ء) (ماہنامہ انصاراللہ فروری ۲۰۰۸ء صفحہ ۳۶تا ۴۲)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مصلح موعود کی پیشگوئی کا دن ہم کیوں مناتے ہیں؟

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button