آیت کریمہ وَمَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًامیں عَلَیْہُ پر پیش کیوں؟
اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اس عہد کی عظمت کا تقاضا تھا کہ یہاں اللہ کا نام عظیم شوکت کے ساتھ ادا ہو، اور یہ علیہِ کی بجائے علیہُ سے ہی ہو سکتا تھا لہٰذا اس عظیم مقصد کی خاطر ی ساکن کے معاً بعد پیش ادا کرنے کی مشکل کو نظر انداز کردیا گیا
قرآن کریم میں عَلَیْہِ کا لفظ کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ ہر جگہ عَلَیْہِ کی ’ہ ‘ کے نیچے زیر ہے۔ سوائے ایک مقام کے جہاں عَلَیْہِ کی بجائے عَلَیْہُ (ہ کی پیش سے ) استعمال ہوا ہے۔ وہ مقام سورۃ الفتح کی آیت ۱۱ میں ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا۔ ضمیر متصل ہ بالعموم مضموم ہوتی ہے، جیسے لَہٗ۔ نَصَرَہٗ۔ اس ہ سے قبل اگر حرف ساکن ہو تو الٹی پیش کی بجائے عام پیش ہوتی ہے جیسے مِنْہُ۔ مگر جب ہ سے قبل زیر ہو تو اس پر کھڑی زیر آتی ہےجیسے بِہٖ۔ اور جب اس ہ سے قبل ساکن یاء ہو اس پر عام زیر آتی ہے، جیسے فِیْہِ۔ عَلَیْہِ وغیرہ۔ گویا یہ الفاظ اصل میں تو بِہُ، فِیْہُ، عَلَیْہُ تھے مگر ان مذکورہ شرائط کی وجہ سے بِہٖ، فِیْہِ، عَلَیْہِ کردیا گیا۔ کیوں؟
اصل بات یہ ہے کہ عربوں کے لیے زیر کے معًا بعد پیش کا ادا کرنا ایک دِقّت طلب امر ہے۔ یعنی بِہُ ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔ اس لیے بِہُ کی جگہ بِہٖ ادا کرتے ہیں اور یہ قانون ہی بن گیا ہے۔ اسی طرح یْ بھی چونکہ زیر کی آواز ہی کی طرح ہے لہٰذا اس کے بعد بھی یکدم پیش کی ادائیگی کی مشکل کو زیر کے ذریعہ دُور کیا گیا ہے۔
مندرجہ بالا وضاحت کے بعد ظاہر ہے کہ عَلَیْہُ اصل میں ہ کی پیش سے ہی ہے مگر تلفظ کی دِقّت کو دُور کرنے کے لیے اسے عَلَیْہِ کردیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے پھر اس آیت میں کیوں عَلَیْہُ پیش کے ساتھ آیا ہے جبکہ وہ مشکل تو اس میں موجود ہے۔ اس کی وجہ اور حکمت کیا ہے؟
عاجز نے اس پر کافی غور کیا۔ مختلف کتب دیکھیں۔عربی تفاسیر سے بھی تحقیق کی۔ آخر عربی تفسیر روح المعانی سے اس کا مثبت جواب ملا۔ اس تفسیر کے مؤلف خاتمۃ المحققین العلامہ ابو الفضل شِھاب الدین السید محمد الألوسی متوفّٰی ۱۲۷۰ھ ہیں۔(خاتمۃ المحققین یعنی آخری محقق کا لقب قابل غور ہے۔ کیا آپ آخری محقق ہیں ؟آپ کے بعد کوئی محقق نہیں ہوسکتا؟)۔ آپ رقم طراز ہیں:’’ قَرَأَ الْجَمْھُوْرُ بِکَسْرِ الْھَاءِ کَمَا ھُوَ الشَّائِعُ۔ وَضَمَّھَا حَفْصٌ ھُنَا۔ قِیْلَ وَجْہُ الضَّمِّ اَنَّھَا ھَاءُھُوَ وَھِیَ مَضْمُوْمَۃٌ۔ فَاسْتَصْحَبَ ذٰلِکَ کَمَا فِی لَہٗ وَضَرَبَہٗ۔ وَوَجْہُ الْکَسْرِ رِعَایَۃُ الْیَاءِ وَکَذَا فِیْ اِلَیْہِ وَفِیْہِ۔ وَکَذَا فِیْمَا اِذَا کَانَ قَبْلَھَا کَسْرَۃٌ (یہ سہو ہے۔ درست کَسْرٌ ہے۔ ناقل) نَحْوَ بِہٖ وَمَرَرْتُ بِغُلَامِہٖ لِثِقْلِ الِْانْتِقَالِ مِنَ الْکَسْرِ اِلَی الضَّمِّ۔ وَحُسْنُ الضَّمِّ فِی الْآیَۃِ التَّوَصُّلُ بِہٖ اِلٰی تَفْخِیْمِ لَفْظِ الْجَلَالَۃِ الْمُلَائِمِ لِتَفْخِیْمِ اَمْرِ الْعَھْدِ الْمُشْعِرِ بِہِ الْکَلَامُ، وَاَیْضًا اِبْقَاءُ مَاکَانَ عَلٰی مَا کَانَ، مُلَائِمٌ لِلْوَفَاءِ بِالْعَھْدِ وَاِبْقَائِہٖ وَ عَدَمِ نَقْضِہٖ۔ وَقَدْ سَاَلْتُ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَجِلَّۃِ وَاَنَا قَرِیْبُ عَھْدٍ بِفَتْحِ فَمِیْ لِلْمُتَکَلِّمِ مِنْ وَجْہِ ھٰذَا الضَّمِّ ھُنَا۔ فَلَمْ اُجَبْ بِمَا یُسَکِّنُ اِلَیْہِ قَلْبِیْ۔ ثُمَّ ظَفَرْتُ بِمَا سَمِعْتَ۔ وَاللّٰہُ تَعَالَی الْھَادِیْ اِلیٰ مَا ھُوَ خَیْرٌ مِّنْہُ ‘‘( زیر سورۃ الفتح آیت مذکورۃ)
ترجمہ: جمہور نے عَلَیْہِ کو حسبِ دستور زیر سے پڑھا ہے اور حفص نے اسے ضمّہ(پیش) سے پڑھا ہے۔کہا گیا ہے کہ پیش کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہ اصل میں ہُوَ کی ہ ہے جو پیش والی ہے۔ پس اسی کے مطابق اس ہ کو بھی پیش دی گئی ہے جیسا کہ لَہٗ اور ضَرَبَہٗ ہیں۔ اور عَلَیْہِ کی زیر یْ کی رعایت کی وجہ سے ہے جیسا کہ اِلَیْہِ اور فِیْہِ میں،اور جیسا کہ اس ہ پر بھی زیر آتی ہے جب اس سے قبل زیر ہو، جیسے بِہٖ، مَرَرْتُ بِغُلَامِہٖ میں۔ اور اس آیت میں پیش کا حسن لفظ اللہ کی تفخیم ہے جو اس عہد کی شوکت و عظمت کے مطابق ہے جو اس کلام سے واضح ہے نیز یہ کہ یہ اصل میں پیش ہی تھی جسے اپنی اصل حالت میں رہنے دیا گیا ہے جو عہد کے قائم رکھنے اور اسے نہ توڑنے کے عین مطابق ہے۔ میں نے اس( علیہُ کی پیش )کے بارے میں بہت سے اجلّ علماء سے سوال کیا جبکہ میں اس جگہ پیش آنے کی وجہ بیان کرنے کے لحاظ سے مقتدی ہوں مگر مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔ پھر مجھے اس بارے میں کامیابی ہوئی جیسا کہ تم نے سن لیا ہےاور اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کی طرف راہنمائی کرسکتا ہے۔
عاجز نے کوشش کی ہے کہ ترجمہ عام فہم ہو بایں ہمہ اس کی وضاحت کی خاطر عرض ہے کہ یہاں تجوید (جو کہ قواعد عربی کا ہی حصہ ہے) کا ایک قاعدہ جاننا بہت ضروری ہے۔
وہ قاعدہ یہ ہے کہ عربی میں تمام لام ترقیق (باریک آواز) سے ادا کیے جاتے ہیں۔لفظ اللہ کا لام بھی جب اس سے قبل زیر ہو ترقیق سے ادا کیا جاتا ہے جیسے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ قاری حضرات اس قاعدے سے خوب واقف ہیں۔ کسی اچھے قاری کو سن کر اصل تلفظ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
اور اگر اللہ کے نام سے پہلے زبر یا پیش ہو تو اس لام کو تفخیم کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ تفخیم کا مطلب ہے آواز باریک نہ ہو بلکہ بھرپور شوکت والی ہو۔یہ ایک اصطلاح ہے علم التجوید کی جسے انگریزی میں emphatic pronunciation کہہ سکتے ہیں۔کسی قاری کو سن کر اس کا صحیح مفہوم سمجھ میں آسکتا ہے۔
لام تفخیم کی مثال : اَللّٰہُ اَکْبْرُ۔ مِنَ اللّٰہِ۔ عَبْدُ اللّٰہِ۔ یہاں سب جگہ اللہ کا لام تفخیم سے ادا کریں گے کیونکہ ا س لام سے قبل زبر یا پیش ہے۔
اس قاعدے کو سمجھ لینے کے بعد اب عَلَیْہُ کی پیش آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے اور اس میں درحقیقت ایک لطیف نکتہ ہے۔
عَلَیْہُ اللّٰہَ والی پوری آیت یہ ہے : اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا (الفتح: 11)
ترجمہ تفسیر صغیر سے یہ ہے : وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ صرف اللہ کی بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے۔ پس جو کوئی عہد کو توڑے گا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی جان پر پڑے گا۔ اور جو کوئی اس عہد کو جو اس نے خدا سے کیا تھا پورا کرے گا، اللہ اس کو اس کا بہت بڑا اجر دے گا۔
حدیبیہ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو سفیر بنا کر قریش سے گفتگو کے لیے مکہ روانہ فرمایا تھا اور یہ خبر پھیل گئی تھی کہ حضرت عثمانؓ کو مکہ میں شہید کردیا گیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیعت لی تھی کہ اگر حضرت عثمانؓ قتل کر دیے گئے ہیں تو ہم اس کا بدلہ ضرور لیں گے چاہے ہم بھی قتل ہوجائیں۔ کسی سفیر کا قتل کسی طور پر بھی درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اس عہد کو توڑے گا وہ اس کی سزا پائے گا اور مَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا اور جو اس عہد کو جو اس نے اللہ سے کیا پورا کرے گا وہ اجر عظیم پائے گا۔
اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اس عہد کی عظمت کا تقاضا تھا کہ یہاں اللہ کا نام عظیم شوکت کے ساتھ ادا ہو،اور یہ علیہِ کی بجائے علیہُ سے ہی ہو سکتا تھا لہذا اس عظیم مقصد کی خاطر ی ساکن کے معاً بعد پیش ادا کرنے کی مشکل کو نظر انداز کردیا گیا۔
اللہ تعالیٰ روح المعانی کے مؤلف کو جزائے خیر عطا فرمائے۔انہوں نے نہایت درست،معقول، قابل قبول اور دل کو تسکین دینے والا لطیف نکتہ پیش کیا ہے، الحمدللہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی اس زمانہ کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہو کر حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ المؤزَّ رکے ہاتھ پر کیا گیا عہد بیعت دل و جان سے پورا کرنے کی توفیق اپنی خاص الخاص رحمت سے عطا فرمائے۔آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ ایک بابرکت تحفہ