امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ(۱۲؍ اکتوبر ۲۰۲۲ء بروز بدھ)

(رپورٹ:عبدالماجد طاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد)

٭…امریکہ مین متعین سیرالیون کے سفیر ، نیز گیمبیا کے سفیر کے سیکرٹری کی حضورِ انور سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال

٭…اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کی پروفیسر شعبہ تاریخ کی ملاقات

٭…امریکہ کے دور دراز علاقوں سے حاضر ہونے والے احبابِ جماعت کے اپنے پیارے امام سے ملاقات کے بعد تاثرات

٭…ایم ٹی اے ٹیلی پورٹ کامعائنہ

٭…اجتماعی بیعت کی ایمان افروز تقریب

٭…واقفاتِ نو اور واقفینِ نوکی پیارے حضور کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں، متنوع امور پر حضورِ انور سے راہنمائی کا حصول

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر پندرہ منٹ پر ’’مسجد بیت الرحمٰن‘‘ تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک ملاحظہ فرمائی اور مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

امریکہ میں متعین سیرالیون کے سفیر کی ملاقات

پروگرام کے مطابق صبح گیارہ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میٹنگ روم میں تشریف لائے۔ جہاں سیرالیون کے امریکہ میں سفیر آنریبل صدیق ابوبکر Wai صاحب حضورِانور سے ملاقات کے لیے آئے ہوئے تھے۔ موصوف نے حضورِانور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جماعت احمدیہ سیرالیون میں صحت اور تعلیم کے میدان میں مسلسل ہماری مدد کررہی ہے اور جماعت کا تعاون ہمیں حاصل ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ یہ ہمارا فرض ہے۔ سفیر نے بتایا کہ بچپن میں انہیں احمدیہ سکول میں داخلہ نہ مل سکا تھا۔ وہاں معیار دیکھا جاتا تھا۔ میں معیار پر پورا نہ اُتر سکا تھا۔

حضور انور نے ملک کی معیشت اور اقتصادی حالت کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ ملک کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن کیا ہے۔ اس پرسفیر نے عرض کیا کہ سیرالیون زرعی ملک ہے۔ حضور انور نے فرمایا آپ زراعت پر زیادہ توجہ دیں۔ کوئی ماڈل فارم بنائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کس طرح زراعت کو زیادہ بہتر کیا جا سکتا ہے۔ آپ لوگ پرانے طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اب نئی تکنیک اختیار کریں۔ جدید مشینری کا استعمال کریں اور جدید طرز پر کاشتکاری کریں۔

حضور انور نے فرمایا وہاں خواتین پرا نے آلات کے ذریعہ چھوٹے لیول پر کساوا اور بعض دوسری فصلیں کاشت کرتی ہیں۔ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے یہ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن آپ لوگوں کو بڑے پیمانے پر کام کرنا چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا سیرالیون کی زمین بہت زرخیز ہے۔حضور انور کے دریافت فرمانے پر سفیر موصوف نے بتایا کر امریکہ میں سیرالیون کے چار لاکھ پچاس ہزار کے قریب لوگ رہتے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا یہ تو ایک بڑی تعداد ہے۔

یہ ملاقات قریباً دس منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات کے آخر پر موصوف نے حضور انور ایدہ اللہ کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت بھی پائی۔

تاریخ کی پروفیسر شوبھانہ شنکر کی ملاقات

بعدازاں پروگرام کے مطابق پروفیسر Shobana Shankar نے حضور سے شرف ملاقات پایا۔ موصوفہ اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک میں تاریخ کی پروفیسر ہیں۔ اور ان کا تعلق انڈیا سے ہے۔ تاریخ کے شعبہ میں ان کی خصوصیت افریقہ میں مختلف مذاہب، اقلیتی کمیونیٹیز اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی ہے۔

پروفیسر صاحبہ نے عرض کیا کہ میں چند سال پہلے غانا بھی رہی ہوں۔ وہاں کچھ عرصہ کے لیے گئی تھی۔ حضور انور نے فرمایا میں نے غانا میں ایک عرصہ گزارا ہے۔ اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ اگر چہ حضور نے کافی عرصہ پہلے غانا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن حضور کا کام اب بھی وہاں زندہ ہے۔ حضور کے کام اب بھی باقی ہیں۔

پروفیسر صاحبہ نے عرض کیا کہ وہ مغربی افریقہ کے احمدیوں پر ایک کتاب لکھنا چاہتی ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: اگر آپ کتاب لکھنا چاہتی ہیں تو آپ کو وہاں جانا پڑے گا اور وہاں کے احمدیوں کے انٹرویوزکرنے پڑیں گے۔ آپ کو خود معلومات حاصل کرنی ہوں گی۔ خاص طور پر اگر آپ تحقیق کرنا چاہتی ہیں توہم آپ کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ پروفیسر صاحبہ کی درخواست پر حضورِانور نے فرمایا کہ مقامی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے حوالہ سے بھی ہم آپ کی مدد کریں گے۔

پروفیسر صاحبہ نے بتایا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں لیکن ان کی دادی صاحبہ نے ان کو سکھایا تھا کہ ہندو ہونے کے باوجود مسلمانوں کا احترام کرنا چاہیے۔

موصوفہ کے ایک سوال پر حضور انور نے فرمایا کہ میں چار سال غانا کے انتہائی نارتھ کے علاقہ میں رہا ہوں اور چار سال ساؤتھ کے علاقہ میں رہا ہوں۔ حضورانور نے فرمایا نارتھ اور ساؤتھ میں قبائلی سسٹم مختلف ہے اور ان کے مختلف کلچر ہیں۔ شمال میں مسلمان ہیں اور جنوب میں عیسائی ہیں اور جوجماعت کی تعداد بڑھ رہی ہے وہ نارتھ میں ہے۔ ہمارے مشن ہاؤسز،سکولز اور ہسپتال ساؤتھ میں ہیں۔ سالٹ پانڈ میں ہمارا پہلا مشن ہاؤس اور مسجد ہے اور وہاں ہمارا ہیڈکوارٹر رہا ہے۔

پروفیسر صاحبہ نے گندم اُگانے کے منصوبہ کے بارہ میں پوچھا جس پر حضورِانور نے فرمایا : میں نے سوچا اگر نائیجیریا میں گندم اُگائی جاسکتی ہےتو یہاں غانا میں کیوں نہیں اُگائی جاسکتی تو میں نے وہاں تجربہ کیا اور یہ کافی کامیاب رہا۔

حضور انور نے فرمایا وہاں ہرقسم کی سبزیاں اُگائی جاسکتی ہیں بشرطیکہ آپ کو مناسب سہولیات حاصل ہوں۔

حضور انور کے استفسار پر پروفیسر صاحبہ نے بتایا کہ وہ اپنی کتاب میں لڑکیوں کے احمدی سکولوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ بہت سے افریقی پروفیسروں نے مجھے بتایا کہ وہ احمدی سکولز میں پڑھتے تھے۔ افریقہ میں لڑکیوں کے لیے بھی بہترین احمدیہ سکولز تھے۔ جہاں لڑکیوں نے بہترین رنگ میں تعلیم حاصل کی۔ موصوفہ نے کہا کہ وہ افریقہ کے پرنٹنگ پریس اور احمدیہ اخبارات سے بھی متاثرہے۔ پہلا اسلامی انگریزی اخبار جماعت احمدیہ نے ہی شروع کیا تھا۔ حضور انور نے فرمایا ’’The Truth‘‘اخبار تھا۔ پروفیسر نے کہا کہ میں اپنی کتاب میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ جماعت احمدیہ نے افریقہ کی ترقی میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

آخر پرحضورِانور نے فرمایا کہ افریقہ میں احمدیہ مسلم خواتین اور ان کی تعلیم پر اپنی تحقیق کو وسعت دینے کے لیے سیرالیون اور فرانکوفون ممالک کا بھی دورہ کریں۔

یہ ملاقات گیارہ بج کر 22 منٹ تک جاری رہی۔ آخر پر موصوفہ نے تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

گیمبیا کے سفیر کے سیکرٹری کی ملاقات

بعدازاں پروگرام کے مطابق حضور انور اپنے دفتر تشریف لے آئے۔ جہاں امریکہ میں گیمبیا کے سفیر کے سیکرٹری Saikou Ceesay صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرف ملاقات پایا۔حضور انور نے موصوف سے گیمبیا کے حالات کے بارہ میں دریا فت فرمایا۔ موصوف Ceesay صاحب نے گیمبیا میں جماعت کی تعلیمی و طبی خدمات اور دیگر منصوبوں اور پروگراموں پر شکریہ ادا کیا۔ موصوف نے بتایا کہ وہ جاپان میں بھی رہے اور جاپانی زبان بھی بولتے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرایا کہ نا گویا جاپان میں ہماری مسجد ہے اور انہیں وہاں جانا چاہیے۔ حضورانور نے فرمایا کہ جماعت جو گیمبیا میں خدمات کی توفیق پارہی ہے یہ انشاءاللہ جاری رہیں گی۔ ملاقات کے آخر پر حضور ِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ موصوف نے تصویر بنوانے کا شرف پایا۔

فیملیز ملاقاتیں

اس کے بعد پروگرام کے مطابق فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ آج صبح کے اِس سیشن میں 37 فیملیز کے 162 افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔ حضور انور نے ازراہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائے۔

آج ملاقات کرنے والے یہ احباب اور فیملیز Mary Land کی مقامی جماعت کے علاوہ دیگر مختلف 18 جماعتوں اور علاقوں سے آئی تھیں۔ Albany سے آنے والی فیملیز 353 میل، Charlotte سے آنے والی 422 میل، بوسٹن سے آنے والی 427 میل جبکہ Georgia سے آنے والی 661 میل اور Orlando سے آنے والے احباب اور فیملیز 874 میل کا طویل سفر طے کر کے آئے تھے۔

آج بھی ملاقات کرنے والوں میں بہت سے ایسے احباب اور فیملیز تھیں۔ جن کی زندگی میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے پہلی ملاقات تھی۔

جماعت Syracuse سے آنے والے ایک دوست طاہر احمد صاحب کہنے لگے کہ میری تو دنیا ہی بدل گئی ہے۔ اس سے اچھا دن میری زندگی میں نہیں ہوسکتا۔ پر میری پہلی ملاقات تھی۔موصوف رورہے تھے۔ جب حضوردور سے آتے تھے تو ہم دیکھ لیتے تھے لیکن آج میں انتہائی قریب تھا۔ میں بتانہیں سکتا کہ میری کیا حالت ہے۔

ایک دوست فاتح باجوہ صاحب Long Island جماعت سے آئے تھے۔ کہنے لگے کہ میں شروع میں بہت گھبرایا ہوا تھا لیکن جونہی میں اندر گیا اور حضور انور پر نظر پڑی تو میں نے اپنے دل میں بے انتہا سکون پایا۔ ہمیں کل ہی ملاقات کا پتہ چلا۔ میں یہاں مسجد میں ڈیوٹی کررہا تھا۔ میری بیوی نیویارک میں قریباً چار سو میل دور تھی۔ وہ فورا ًٹرین کے ذریعہ یہاں پہنچی ہے اور ہمیں ملاقات کا شرف نصیب ہوا ہے۔

جماعت Atlanta سے آنے والے ایک دوست فضل الہٰی صاحب جب ملاقات کے بعد باہر آئے تو رونے لگ گئے اور بات ہی نہیں کر سکتے تھے۔ بڑی مشکل سے کہنے لگے کہ مجھے اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں ہے۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ میری ملاقات ہوگئی ہے۔ میں دس سال کاتھا اور دعا کرتا تھا کہ میری بھی خلیفہ وقت سے ملاقات ہو۔ آج 34 سال بعد میری ملاقات ہوئی ہے حضور کے چہرہ پر نور ہی نور تھا۔ میں دیکھ نہیں سکتاتھا۔ حضور انور نے ہمیں بہت دعائیں دی ہیں۔ میرے بیٹے کو پیدائش میں تھوڑا مسئلہ ہوا تھا۔ اس کا آپریشن ہوا۔ یہ وقف نو ہے۔ حضور انور نے اس بچے کو بہت دعائیں دی ہیں۔

محمد واصف صاحب جماعت Cleve Land سے آئے تھے۔ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے۔ ہم پاکستان میں تھے۔ حضور انور کو ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے اور دعا کیا کرتے تھے کہ ہمیں بھی حضور سے ملنانصیب ہو۔ آج اللہ تعالیٰ نے ہماری دعائیں قبول کرتے ہوئے ہمیں ملاقات کی نعمت عطا کردی۔ ملاقات سے ہمارے دل کو تسکین ملی ہے۔ حضور انور نے ہمیں نصیحت فرمائی کہ نماز نہیں چھوڑنی کیونکہ ہم لا پرواہی کرتے تھے۔

ایک دوست عتیق چودھری صاحب بیان کرتے ہیں کر ملاقات کے لیے بہت دیر سے انتظار کر رہا تھا۔ ہم صبح سات بجے کے آئے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ہم ملاقات کے لیے اندر گئے تو پھر اس دنیا میں نہ رہے۔ اس وقت میرے جذبات ایسے ہیں کہ الفاظ میں نہیں بتا سکتا۔ ہم حضور انور کے خطبات سنتے ہیں اور ٹی وی پر حضور انور کو دیکھتے ہیں لیکن ملاقات میں جو کیفیت تھی وہ بیان نہیں کی جاسکتی۔ حضور انور نے ہمیں فرمایا نماز پڑھا کریں۔ حضور انور نے ہمیں نماز کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دلائی۔

جماعت بالٹی مور سے آنے والے دوست عبد المالک ولی صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت کچھ سوچ کر گئے تھے لیکن وہاں جاکر کچھ نہ کہا جاسکا۔ جو کہنا تھا سب کچھ بھول گئے۔حضور نے فرمایا بیٹے کی داڑھی ہے لیکن ابو کی داڑھی چھوٹی ہے۔ ابو نے مجھے ملاقات سے پہلے ہی کہا تھا کہ حضور انور یہ پوچھیں گے کہ تمہاری داڑھی بڑی اور ابو کی چھوٹی ہے۔

ظہور طیب صاحب جماعت Willingboro سے آئے تھے۔ کہنے لگے میں بیان نہیں کرسکتا میں نے تو کمرے میں نور ہی نور دیکھا ہے۔ حضور نے مجھ سے بہت پیار سے بات کی۔ مجھے بہت سکون ملا ہے، حضور نے مجھے نصیحت فرمائی کہ اب جاکر جلدی شادی کرلو۔

جماعت Charlotte سے ایک دوست شریف احمد صاحب ملاقات کے لیے آئے تھے۔ کہنے لگے کہ زندگی میں پہلی بار حضور انور سے ملاقات ہوئی ہے۔ آج میری زندگی کا بہترین دن ہے۔ اب معلوم نہیں کہ دوباره یہ دن نصیب ہو یا نہ ہو۔ان کی اہلیہ رونے لگ گئیں، کہنے لگیں کہ سب برکت حضور کے قدموں میں بیٹھنے میں ہے۔ جماعت کی خدمت میں ہے۔ مجھے جماعت کی وجہ سے بہت برکتیں ملی ہیں۔ میں نے اپنے بچوں کو یہی سمجھایا ہے کہ جماعت کے کام کرو گے تو تمہیں برکتیں ملیں گی۔ جماعت کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ ان کا بیٹا جامعہ احمدیہ کینیڈا کے ساتویں سال میں ہے۔ کہنے لگا کہ حضور انور نے مجھے نصیحت فرمائی کہ پہلے اپنے خاندان کے افراد کو تبلیغ کرو۔حضور نے مجھے بہت ہی پیار دیا۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام ایک بج کر بیس منٹ پر ختم ہوا۔ بعدازاں ایک بج کر چالیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد بیت الرحمٰن تشریف لا کر نماز ظہر وعصر جمع کرکے پڑھائی۔

اجتماعی بیعت

نمازوں کی ادائیگی کے بعد پروگرام کے مطابق بیعت کی تقریب ہوئی۔ حضور انور کے دست مبارک میں بیعت کی سعادت پانے والے دوستCharistopher R Meyers کا ہاتھ تھا۔ یہ صاحب گزشتہ تین ماہ سے زیر تبلیغ تھے اور نو مبائعین کے پروگرام میں شامل ہوئے تھے اور وہاں انہوں نے حضور ِانور کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی خواہش کااظہار کیا تھا۔

کرسٹوفر کے ساتھ تین نومبائعین حمزہ الیاس صاحب، عماد احمدسلیم صاحب اور ہسپانوی نژاد دوست Roberto William Cerrato صاحب بھی بیعت میں شامل تھے۔

بیعت کی اس تقریب میں حضور انور کی اقتدا میں نماز میں شامل ہونے والے تمام احباب مرد وخواتین شامل ہوئے جن کی تعداد 13 سو سے زائد تھی۔ بہتوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم دستی بیعت کی تقریب میں شمولیت کی سعادت حاصل کریں گے۔ بعضوں نے روتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی میں یہ پہلی بیعت کی ایسی تقریب تھی جس میں ہم شامل ہوئے۔

بعضوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ جب ہمیں علم ہوا کہ آج نماز ظہر وعصر کے بعد بیعت کی تقریب ہے تو ہم اپنے گھروں سے مسجد کی طرف بھاگے ہیں کہ وقت سے پہلے پہنچیں کہیں اِس سعادت سے محروم نہ ہو جائیں۔بیعت کی تقریب کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

معائنہ مسرور ٹیلی پورٹ مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ

پروگرام کے مطالق چھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ سے باہر تشریف لائے اور ’’مسرورٹیلی پورٹ مسلم ٹی وی احمدیہ انٹرنیشنل‘‘کے معائنہ کے لیے تشریف لے گئے۔ MTA کا یہ ارتھ سٹیشن مسجد بیت الرحمٰن کے بیرونی احاطہ میں واقع ہے۔ حضور انور نے سب سے پہلے نیٹ ورک آپریشن سینٹر(ٹرانسمشنروم) کا معائنہ فرمایا اور ڈائریکٹر ٹیلی پورٹ چودھری منیر احمدصاحب سے سسٹمز کے بارہ میں بعض امور دریافت فرمائے۔ اس سینٹرمیں کمپیوٹر سرورز، سیٹلائٹ، فائبر آپٹک آن لائن سٹریمنگ ٹرانسمشنکے سسٹمز نصب ہیں۔ حضور انور نےازراه شفقت اس حصہ کا بھی معائنہ فرمایا۔ اس کے بعدحضورِانور ٹیلی پورٹ کے ماسٹر کنٹرول روم (MCR) میں تشریف لائے جہاں سارے چینلز کے کنٹرول اور مانیٹرنگ سسٹمز نصب ہیں۔ حضورِانور نے ڈائریکٹر ٹیلی پورٹ سے نارتھ اور ساؤتھ امریکہ میں ٹرانسمشن کے بارہ میں بعض امور دریافت فرمائے اور ہدایات دیں۔

بعدازاں ڈائننگ اور بورڈ روم سے ہوتے ہوئے حضورِانور اِس ٹیلی پورٹ کے دفتر میں تشریف لے آئے۔ ڈائریکٹر ٹیلی پورٹ چودھری منیراحمد صاحب نے حضورِانور کی خدمت میں دفتر کی کرسی کو برکت بخشنے کی عاجزانہ درخواست کی۔ حضورِانور ازراہِ شفقت کچھ دیر کے لیے دفتر کی کرسی پر تشریف فرماہوئے اور ڈائر یکٹر صاحب کوہدایت کی کہ آپ سامنے والی کرسی پر بیٹھ جائیں تاکہ تصویر میں آسکیں۔

بعدازاں حضورِانور باہر تشریف لائے جہاں مسرور ٹیلی پورٹ کے سٹاف کے ممبران ایک قطار میں کھڑے تھے۔حضور انور نے دوسری منزل کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ حضور انورکی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہاں سٹور کو تبدیل کرکے پوسٹ پروڈکشن کا آفس بنایا ہے۔

بعدازاں حضورِانور باہر برآمدے میں تشریف لے آئے اور چند لمحے باہر بڑی سیٹیلائٹ ٹرانسمشنڈش کا معائنہ فرمایا۔

کلاس واقفاتِ نو

اس وزٹ کے بعد چھ بجکر پانچ منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز’’مسجد بیت الرحمٰن‘‘ کے مردانہ ہال میں تشریف لے آئے جہاں واقفات نو کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کلاس شروع ہوئی۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ جو عزیز ہ فائزہ انور صاحبہ نے کی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا۔تلاوت کا اردو ترجمہ آمنہ نور شاہ صاحبہ نے پیش کیا۔بعد ازاں ثوبیہ جمیل صاحبہ نے آنحضرت ﷺ کی حدیث مبارکہ اور اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔حدیث مبارکہ کادرج ذیل اردو ترجمہ عزیزہ ہالہ مسرور صاحبہ نے پیش کیا۔

’’حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ فرمارہے تھے کہ دنیا کی عورتوں میں سے بہترعمران کی بیٹی مریم تھیں اور اس زمانہ میں کی عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہ ہیں۔‘‘

(صحیح البخاری۔ کتاب احادیث الانبیاء)

اس کے بعد عزیزہ ہما منیر صاحبہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل اقتباس پیش کیا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’مجھے توتعجب ہوتا ہے کہ جب کہ ہر ایک انسان بالطبع راحت اور آسائش چاہتا ہے اور ہموم وغموم اور کرب وافکار سے خواستگار نجات ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جب اس کو ایک مجرب نسخہ اس مرض کا پیش کیا جاوے تو اس پر توجہ ہی نہ کرے۔ کیا للّٰہی وقف کا نسخہ 1300 برس سے مجرب ثابت نہیں ہوا؟ کیا صحابہ کرامؓ اسی وقف کی وجہ سے حیات طیبہ کے وارث اور ابدی زندگی کے مستحق نہیں ٹھہرے؟ پھر اب کون سی وجہ ہے کہ اس نسخہ کی تاثیر سے فائدہ اُٹھانے میں دریغ کیا جاوے۔

بات یہی ہے کہ لوگ ا س حقیقت سے ناآشنا اور اس لذت سے جو اس وقف کے بعد ملتی ہے۔ ناواقف محض ہیں۔ورنہ اگر ایک شمہ بھی اس لذت اور سرور سے ان کو مل جاوے تو بے انتہاء تمناؤں کے ساتھ وہ اس میدان میں آئیں۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ 501)

بعدازاں آبیہ شکرورک صاحبہ نے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد ہبہ ہدایت چودھری صاحبہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام:

خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار

جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار

خوش الحانی سے پیش کیا۔ اور اس اردو نظم کا انگریزی ترجمہ عزیزہ سلمیٰ طاہر نے پیش کیا۔

اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن کو اردو آتی ہے ہاتھ کھڑا کریں۔ اس پر واقفات نو نے اپنے ہاتھ کھڑے کیےتو اس پر فرمایا؛ کمال ہے، ۳۰ سے ۴۰ فیصد ہیں جن کو اردو آتی ہے۔ باقی جو واقفاتِ نو ہیں وہ بھی اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھیں۔اردو سیکھو تا کہ تم حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کی کتب اصل زبان میں سمجھ سکو اور ان سے راہنمائی لے سکو۔ ترجمہ کبھی بھی اصل متن سے انصاف نہیں کرسکتا۔ کسی حد تک تو ترجمہ احاطہ کرتا ہے لیکن مکمل طور پر نہیں۔ اگرا ٓپ اپنا دینی علم بڑھانا چاہتی ہیں تو اردو سیکھیں۔ واقفاتِ نو کو اردو سیکھنی چاہیے تا کہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی کتابیں سمجھ سکیں۔

حضورِ انور نے فرمایا؛آپ میں سے کتنی ہیں جو قرآنِ کریم کا ترجمہ جانتی ہیں اور کتنی ہیں جو ترجمہ سیکھ رہی ہیں۔ (واقفاتِ نو نے ہاتھ اٹھائے)

اس پر فرمایا؛آپ سب کو قرآنِ کریم کا ترجمہ سیکھنا چاہیے۔ اگر نہیں سیکھیں گے تو آپ کو قرآنی مضامین سمجھ نہیں آئیں گے۔ قرآنِ کریم میں دی گئی ہدایات اور احکامات سمجھ نہیں آئیں گے۔ لازماً ترجمہ سیکھیں اور روزانہ ایک یا دو رکوع تلاوت کریں اور پھر اس کا ترجمہ بھی پڑھیں۔ اگر ممکن ہو تو یاد رکھنے کی بھی کوشش کرو یا کم از کم مشکل الفاظ کا ترجمہ یاد کرو۔ الاسلام ویب سائٹ پر لفظی ترجمہ موجود ہے۔ وہاں سے سیکھنا شروع کریں۔ یہ آپ کی ڈیوٹی ہے۔

بعد ازاں واقفاتِ نو بچیوں نے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کی اجازت سے مختلف سوالات کیے۔

ایک واقفہ نو راضیہ تبسم نے سوال کرتے ہوئے عرض کی کہ بچوں کو معاشرے کے بداثرات سے بچانے کے لیے پبلک یا پرائیویٹ اداروں میں بھجوانے کی بجائے گھر میں سکولنگ فراہم کرنے کے بارے میں حضور کیا فرماتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛اگر آپ اپنے بچوں کو گھر پر پڑھا سکتی ہیں اور ان کی ٹریننگ کرسکتی ہیں تو ابتدائی سالوں میں اپنے بچوں کو سکول بھجوانے کی بجائے گھر میں تعلیم دینا آجکل سب سے بہترین طریقہ ہے۔لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کتنا وقت دے سکتی ہیں۔ اور پھر یہ کہ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کی قوتِ برداشت بھی بہت اچھی ہیں۔ کیونکہ بچوں کو پڑھانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس طرح نہیں کہ ایک چھوٹی سی غلطی پر آپ بچے کو تھپڑ ماردیں کہ غلط کیوں پڑھ رہا ہے۔ پس آپ کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر آپ کے صبر کا معیار اچھا ہے تو آپ پڑھا سکتی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ زیادہ بہتر ہے۔ بہت سی مائیں یہ کررہی ہیں اور یہ طریق کافی کامیاب ہے۔ ایک مرتبہ جب بنیاد مضبوط ہو جائے اور بچے اپنے ایمان میں پختہ ہو جائیں، اپنے فرائض سمجھنے والے ہو جائیں اور اخلاقیات سمجھ جائیں، اخلاقی اقدار حاصل کرلیں یا یہ سمجھ لیں کہ دین ان سے کیا چاہتا ہے۔ تو اس کے بعد آپ انہیں سکول بھجوا سکتی ہیں۔

ایک واقفہ نو ہالہ مسرور نے سوال کیا کہ حضور میرے سکول کی طرف سے مجھے بعض کتب دی گئیں اور پھر ان کے مطالعہ کے بعد ان پر اپنا تجزیہ بیان کرنے کا بھی کہا۔ اس کتب کا متن غیر اسلامی تھا۔ مثلاً اس میں دہریہ خیالات، تعدد ازدواج، ڈرگز اور عریانی کے تصورات تھے۔ حضور کیا ایک احمدی کو ایسی اسائنمنٹ سے معذرت کرلینی چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛آپ اپنے استاد کو بتا سکتے ہیں کہ میں نے کتاب پڑھی ہے اور آپ اس کے مضامین سے اتفاق نہیں کرتے۔ یہ غیر اخلاقی باتیں ہیں اور مذہب کی بنیادی تعلیمات سے دور کرتے ہیں۔ اورمیرے اخلاق کے خلاف ہے، یہ میں پسند نہیں کرتی۔ اگرا ٓپ چاہتے ہیں کہ میں اس پر اپنا تجزیہ پیش کروں تو اس کتاب میں تمام چیزیں لغویات ہیں اور ان باتوں کے حوالہ سے اپنا نقطہ نظر بیان کریں اور بتائیں کہ آپ کیوں اتفاق نہیں کرتیں۔ اپنی رائے دیں۔ اگر پھر وہ آپ کو صفر مارک دیں تو پرواہ نہ کریں۔

ایک واقفہ نو تہمینہ منشاد نے سوال کیا کہ کیا حضور خیال کرتے ہیں کہ رشیا یوکرائن جنگ کے نتیجہ میں اور خاص کر روس کی جانب سے یوکرائن کے اندر حالیہ بمباری کے بعد دنیا بدل جائیگی۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛یہ صرف رشیا اور یوکرائن جنگ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ تو اب بڑھتی جائےگی اور لگتا ہے کہ روس اور یوکرائن سے بھی آگے پھیل جائےگی اور اس میں تمام دنیا ملوث ہو جائےگی۔اگر ساری دنیا اس میں شامل ہو جائے تو پھرمیں امید کرتا ہوں کہ لوگ سوچیں گے کہ یہ سب کیوں ہوا ہے۔ لیکن اس وقت تک اس بات پر غور کرنے کے لیے بہت ہی تھوڑے افراد رہ جائیں گے۔ وہ تب میرے خیال میں اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جھکیں گے۔ اچھائی کی طرف جھکیں گے اور سچا مذہب ڈھونڈھے کی کوشش کریں گے۔ اس وقت احمدی مرد و خواتین کا کام ہو گا کہ ان کی سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کریں اور انہیں بتائیں کہ اب تم نے اپنی خواہشات کا مزہ چکھ لیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہدایات اور احکامات کی پابندی کرو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ اگر اب بھی تم اس پر عمل نہ کرو گے تو پھر ایک اور جہنم مقدر ہوگی اور نتیجۃً دنیا تباہ ہو جائےگی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کیا ہونے والا ہے۔ لیکن احمدیوں کو چاہیے کہ تیاری کریں کہ کس طرح دنیا کو اپنے خالق کی پہچان کروانے کی تبلیغ کرسکتے ہیں۔

ایک واقفہ نو تانیہ انجم قریشی نے سوال کرتے ہوئے عرض کیا کہ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ جماعت میں بھی ایسے بچے جن کی ذہنی نشو ونما کم ہوتی ہے یا معذور بچوں بالخصوص autism سے متاثر بچوں کو stigmatize کیا جاتا ہے۔ حضور راہنمائی فرمائیں کہ اس stigmatization کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے اور کس طرح اس حوالہ سے برداشت اور تحمل پیدا کیا جاسکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛اگر لوگ ایسے بچوں کا خیال نہ رکھیں اور ان کے والدین کے جذبات کا خیال نہ رکھیں تو ایسے لوگ جاہل ہیں۔ اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔ ان سے مریض کی طرح ہی نیک برتاؤ کرنا چاہیے اور ان بچوں اور ان کے والدین سے ہمدردی کرنی چاہیے۔ یہی ایک راستہ ہے۔ میں ہمیشہ یہی کہتا آیا ہوں۔ آجکل autism یا اس کی ایک معمولی قسم یا ADHD عموماً 10سے 15فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ پس ہمیں اس کا ادراک کرنا چاہیے اور بچوں اور والدین کے جذبات کا خیال کرنا چاہیے اور انہیں بطور مریض ہی لینا چاہیے۔

ایک واقفہ نو تمثیلہ مدثر صاحبہ نے سوال کیا کہ اگر حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے بھی دنیا قائم تھی تو پھر حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم انسانوں کو بھی دینے کی بجائے صرف فرشتوں کو کیوں دیا گیا؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛یہ کہاں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ کہا کہ آدم ہی واحد انسان ہے، جس کو سجدہ کرو یا اس کی مدد کرو یا احترام کرو؟ یہ نہ تو قرآنِ کریم میں ہے، نہ ہی بائبل میں اور نہ ہی کسی قدیمی صحیفہ میں لکھا ہے۔ وہ آدم جس سے ہماری انسانی نسل کا آغاز ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے آدم تھے اور اللہ تعالیٰ نے اسی طرح فرشتوں کو ہر آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیں ایک مرتبہ حضرت ابن عربی رحمہ اللہ جو کہ بہت اعلیٰ پایہ کے دینی عالم ہیں اور تاریخِ اسلام کی ایک مشہور شخصیت ہیں، ان کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ جب وہ عمرہ کررہے تھے تو انہوں نے رؤیا میں بعض اور افراد کو بھی عمرہ کرتے دیکھا، جو کہ شکل و شباہت کے لحاظ سے مختلف تھے۔ ان سے حضرت ابن عربی رحمہ اللہ نے دریافت فرمایا کہ آپ آدم کی اولاد ہو۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ کس آدم کی بات کررہے ہو؟ آدم توبہت سارے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہمارے حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر ہے، لیکن آدم کوئی ایک نہ تھا۔ دنیا کو بنے صرف چھ ہزار سال تو نہیں ہوئے۔ دنیا تو لاکھوں کروڑوں سال سے قائم ہے۔ آسٹریلیا کے aborigines ہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا دین ۴۵ ہزار سال سے قائم ہے۔ اور اسی طرح بعض اور قدیمی قومیں بھی ایسے ہی دعوے کرتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے آدم کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ موجودہ انسانی نسل چھ ہزار سال پرانی ہے اس سے قبل بھی بہت سے آدم تھے۔

ایک واقفہ نو نوال مجید صاحبہ نے سوال کیا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ تو ایسی چیز بنانے کا مقصد کیا تھا جس نے بالآخر ختم ہی ہوجانا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛آپ یہ دیکھیں کہ آپ کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟ یہی سلسلہ ساری دنیا میں جاری ہے۔ ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے ایک عرصہ کے بعد فوت ہو جاتا ہے۔ بعض تیس سال، بعض چالیس او ربعض سو سال تک۔ زندگی کا دورانیہ اتنا ہی ہے۔ اسی طرح دنیاکا بھی ایک دورانیہ ہے اور موت کے بعد کا بھی ایک عرصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دنیا کی ابتدا جیسے ایک زور دار دھماکےسے ہوئی۔ یہی تم مانتے ہو اور یہی سائنس بھی کہتی ہے کہ دنیا کی ابتدا big bang سے ہوئی۔ پھر اس سے ستارے، نظام شمسی اور کائنات وجود میں آئی۔ اسی طرح فرماتا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ پھر ہر چیز اسی black hole میں واپس چلی جائےگی۔ سائنس بھی یہی کہتی ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں آیا ہے۔ پھر دوبارہ سے ایک big bang کے ذریعہ ایک نئی دنیا کا آغاز ہوگا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ ہماری دنیا کا آغاز اس طرح ہوا لیکن یہ دنیا بھی اربوں کھربوں سال پرانی ہے۔ تو اس چیز کی فکر نہ کریں کہ یہ کوئی جلد ختم ہونے والی ہے۔

ایک واقفہ نو ارفہ تنویر بٹ نے سوال کیا کہ حضور جب آپ کسی ملک سے اپنا دورہ مکمل کر کے واپس تشریف لے جاتے ہیں تو احمدی بہت اداس ہوجاتے ہیں۔ حضور کے کیا جذبات ہوتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛آپ کا کیا خیال ہے کہ میرے کیا جذبات ہونے چاہئیں؟ اگرا ٓپ میرے جانے پر اداس ہو جاتے ہیں تو میرے جذبات کس طرح مختلف ہوسکتے ہیں۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن کچھ دیر کے بعدا ٓپ لوگ اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ میں آیا تھا اور چلا گیا، لیکن میں آپ کو کبھی نہیں بھولتا۔ میں ہر وقت آپ لوگوں کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں۔ اسی طرح نظام چلتا ہے۔ اسی طرح ہونا چاہیے کہ جو شخص آپ کے شہر یا علاقہ یا زندگی میں آئے، اس کو بالآخر جانا ہے اور ہمیں اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اسی طرح ہم اپنے تعلق کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ یہی آپ کو کرنا چاہیے اور یہی مجھے کرنا چاہیے۔

عزیزہ کاشفہ وہاب مرزا نے سوال کیا کہ سورۃ النور کی آیت 36 میں اللہ تعالیٰ اپنے نور کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ زیتون کے تیل سے روشن ہوئی ہے۔ یہاں زیتون کے درخت کی کیا اہمیت ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛زیتون کے تیل کی یہ خوبی ہے کہ وہ دھواں نہیں کرتا۔ اس سے صرف روشنی پیدا ہوتی ہے۔ یہ تو ایک چیز ہے۔ پھر زیتون اس علاقہ کی علامت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، جس علاقہ میں زیادہ تر انبیاء مبعوث ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کو پسند بھی ہے۔ اس وقت میرے پاس قرآنِ کریم نہیں ہے لیکن آپ اس کی اگلی چند آیات دیکھیں تو وہاں اس کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ تم وقفِ نو ہو، کتنی عمر ہے؟

اس پر بچی نے عرض کی کہ 13سال کی ہوں۔

حضورِ انور نے فرمایا؛13سال لیکن تمہاری انگریزی اچھی ہے۔ تو فائیو والیم کمنٹری سے اس کی تفصیل پڑھو۔ جہاں یہ آیت ہےوہاں اس کا جواب تفصیل سے دیا گیا ہے۔ ایک تو یہی بات ہے جو میں نے بتائی ہے کہ زیتون کا تیل جلایا جائے تو دھواں نہیں ہوتا صرف روشنی ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا استعمال استعارہ کے طور پر کیا ہے۔ تمام انبیاء کی روشنی ہے اور سب سے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کی روشنی ہے۔

حضورِ انور نے سورہ نور آیت ۳۶ کا بھی ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔ وہ چراغ شیشے کے شمع دان میں ہو۔ وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔ وہ (چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو۔اسی طرح انبیاء کی بھی روشنی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرتﷺ کا نور ہے۔

عزیزہ حانیہ رحمان خان نے سوال کیا کہ کیا واقفاتِ نو کو علم فلکیات میں جانے کی اجازت ہے، جیساکہ NASA یا SpaceX میں کام کرسکتی ہیں؟

فرمایا؛ہاں، اگر تمہیں اس میں دلچسپی ہے تو کر سکتی ہو۔ لیکن یہ بات یقینی بناؤ کہ جہاں کام کررہی ہو وہاں اپنے لباس کا خیال رکھو اور لباس اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ کام کرسکتی ہو لیکن NASA میں جانے سے پہلے اجازت حاصل کرلو۔

عزیزہ مریم مبارک احمد نے سوال کیا کہ کیا کوئی اتفاق نامی چیز بھی ہے، یا پھر ہر ایک عمل کو اللہ تعالیٰ کی مرضی قرار دینا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛اگر آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو اگر آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور پھر وہ ہو بھی جائے۔ اسی طرح اگر آپ کہتی ہیں کہ فلاں شخص کا برتاؤ ایسا ہو، وغیرہ اور آپ اس کے لیے دعا کرتی ہیں، تو پھر ایسا ہو بھی جائے تو آپ چونکہ خدا پر ایمان رکھتی ہیں تو یہی کہیں گی کہ اللہ تعالیٰ نے مدد کی ہے۔اور اگر ایسانہ بھی ہو، تب بھی یہی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اسی میں ہوگی۔ لیکن اگر کوئی دہریہ ہے تو وہ ان چیزوں کو اتفاق کہے گا۔ اگر کوئی چیز گم گئی ہے اور آپ اسے تلاش کرنے کے لیے دعا کررہی ہیں اور اچانک آپ کے ذہن میں آجائے کہ وہ چیز تو فلاں جگہ رکھی تھی یا پھر وہ چیز آپ کو کہیں مل جائے تو آپ نے چونکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی، اللہ پر ایمان رکھتی ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ جبکہ دہریہ کہے گا کہ اتفاقاً یاد آگیا کہ فلاں جگہ چیز رکھی تھی۔ فرق یہ ہے کہ جب آپ دعا کرتے ہیں اور پھر وہ چیز مل جائے تو یہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ اگر آپ نے دعا نہیں بھی کی، تب بھی ہمیں ہمیشہ یہی سوچنا چاہیے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوتا ہے۔ اگر بغیر دعا کے بھی کوئی چیز مل جائے تب بھی وہ اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے ملی ہے۔اگر کوئی خواہش بغیر دعا کیے پوری ہو جائے، تب بھی ہمیں اسے اللہ تعالیٰ ہی کی رضا قرار دینا چاہیے۔

عزیزہ سعدیہ نوال نے سوال کیا کہ حضور استخارہ کرنے کا ٹھیک طریق کیا ہے؟ مثلاً اگر کوئی رشتہ آتا ہے تو کیا ہم اس پر غور کرنے سے پہلے استخارہ کریں یا پھر جب فیملیز وغیرہ مل لیں، تب استخارہ کریں۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ جب تمہیں یا کسی لڑکی کو کوئی رشتہ آئے پہلے چھان بین کر لینی چاہیے کہ ظاہری طور پر لڑکا کیسا ہے، دینی معیار کیا ہے، برتاؤ کیسا ہے، اخلاق کیسے ہیں۔ اگر لڑکا اچھا ہے، فیملی اچھی ہے، تو پھر استخارہ کرو۔ اللہ تعالیٰ سے راہنمائی طلب کریں کہ اگر یہ لڑکا میرے لیے بہتر ہے تو اللہ تعالیٰ مدد کرے۔ استخارہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کوئی خواب دیکھیں گے یا اللہ تعالیٰ آپ کو الہام کے ذریعہ بتائے گا کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ استخارہ یہ ہے کہ اگر یہ بہتر ہے تو میرے ذہن کے خدشات اور خوف دور ہو جائیں اور اس رشتہ کو میرے لیے بابرکت بنادے اور اگر یہ میرے لیے بہتر نہیں ہے تو پھر اس رشتہ کو میرے سے دور کردے۔ پس یہ استخارہ ہے کہ آپ کے دل میں ایک تسلی پیدا ہو جاتی ہے۔ سو فیصد تو تسلی ہونا مشکل ہوتا ہے لیکن ۹۰ فیصد تک تسلی ہوجاتی ہے۔ اگر دلی تسلی ہو تو رشتہ قبول کرلینا چاہیے اور اگر تسلی نہیں تو انکار کردینا چاہیے۔

عزیزہ سائرہ بھٹی نے سوال کیا کہ حضور کیا فرشتے بھی انسانوں کی طرح محدود زندگی رکھتے ہیں یا پھر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتے بنا دیے تو پھر ہمیشہ رہتے ہیں؟

فرمایا؛فرشتوں کی کوئی جسمانی شکل نہیں ہوتی۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مختلف نام دیے ہوئے ہیں،مثلاً جبرئیل علیہ السلام جو انبیاء پر نازل ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ کبوتر یا فاختہ کی شکل میں نازل ہوئے، آنحضرتﷺ پر انسانی شکل میں لیکن اس کے باوجود ان کا کوئی جسمانی وجود نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کا مظہر ہیں۔ چونکہ ان کا کوئی جسم نہیں تو یہ پیدا ہونے اور فوت ہونے کےمحتاج نہیں ہوتے۔ تو ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی ہے، جتنا چاہے زندہ رکھے، جیسا کہ ہر چیز فنا ہونی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ فرشتوں کو کیسے ختم کرے گا۔ چونکہ ان کا جسمانی وجود نہیں ہے، اس لیے یہ انسانوں کی طرح فوت نہیں ہوتے۔

عزیزہ افشاں زہرا میاں نے سوال کیا کہ کیا احمدی واقفاتِ نو موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کو روکنے کے لیے کچھ کرسکتے ہیں؟

اس پر فرمایا؛آپ کو زیادہ درخت لگانے چاہئیں۔ پھر گاڑی انتہائی ضرورت پر استعمال کریں یہ نہیں کہ 100گز دور برگر کی دکان پر جانے کے لیے گاڑی نکال لیں۔ ماحول کو آلودہ نہ کریں، carbon emissions کم کریں اور اس کے لیے درخت لگائیں۔ ہر واقفاتِ نو کو سال میں کم از کم دس درخت لگانے چاہئیں، اس طرح ہم ہزاروں درخت لگا لیں گے اور اس سے بھی مد د ملے گی۔ اس کے علاوہ لوگوں میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے اور لوگوں کو ان کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔ کوشش کریں کہ climate change اور greenhouse effect کے بڑے پروموٹر بن جائیں۔ تو اس طرح آپ اپنے ملک، اپنے علاقہ اور شہر کی مدد کرسکتے ہیں۔

عزیزہ ہبۃ الحئی مشکوٰۃ نے سوال کیا کہ کیا تمام موصی لازماً جنت میں جائیں گے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ہمیں یہ امید کرنی چاہیے کہ یہ سب جنت میں جائیں کیونکہ انہوں نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانا چاہتا ہے اور نیک بھی ہے۔یہ نہیں کہ جو موصی ہو کر پانچ نمازیں بھی نہ پڑھتا ہو،لڑائی جھگڑے کرتا ہو، بری عادات ہوں، اخلاقی حالت ٹھیک نہ ہو اور پھر امید ہو کہ وہ لازماً جنت میں جائیگا، تو ایسا نہیں ہوگا۔ اگر کوئی مذہب سے عقیدت رکھتا ہے، پنجوقتہ نماز کا التزام کرتا ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد قائم کرتا ہے، اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں، اس کے دین کی ترویج کے لیے اتنی بڑی مالی قربانی کرتا ہے، تو جب یہ تمام خوبیاں اکٹھی ہوتی ہیں تو وہ شخص بلاشبہ جنتی ہے۔ تمام باتیں دیکھی جاتی ہیں، تمام خوبیاں ہوں اور پھر زندگی بھر مالی قربانی اور وفات کے بعد ایک بڑی رقم اللہ کی راہ میں دے تو پھر امیدکی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے گا اور جنت میں مقام دے گا۔

عزیزہ فاتحہ مسرور نے سوال کیا کہ میری بہن اور میں بڑی باقاعدگی سے مسجد جاتے ہیں۔ ہماری جماعت کافی بڑی ہے لیکن ہماری عمر کی لڑکیاں مسجد نہیں آتیں۔ تو پھر میں اور میری بہن کس طرح احمدی سہیلیاں بناسکتی ہیں؟

اس پر حضور انور نے فرمایا؛دیکھیں بچیوں پر تو پنجوقتہ نمازیں مسجد میں جا کر ادا کرنا فرض نہیں ہے۔ اگرآپ جاتی ہیں تو اچھی بات ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ صرف آپ جاتی ہوں گی اور بھی بچیاں ہوں گی جو کہ مسجد آتی ہوں گی۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے استفسار پر اس بچی نے عرض کی کہ حضور بڑی عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔

اس پر حضور انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا؛چلو پھر ان بڑی عمر کے لوگوں سے کہا کرو کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بھی لےکر آئیں۔ انہیں بھی پتہ چلے گا کہ آپ آتی ہیں اور وہ اپنے گھروں میں جا کر بیٹیوں کو بھی کہیں گے کہ کم از کم ہفتہ میں ایک دو مرتبہ مسجد آجایا کریں۔ دوسرا مسجد کے علاوہ بھی دیکھ سکتی ہیں۔ اچھی لڑکیاں ہوتی ہیں، اپنے آس پاس پڑوس میں دیکھیں۔ اپنے اجلاسات اور میٹنگز میں بھی مل جائیں گی۔

واقفات نو کی یہ کلاس سات بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔

کلاس واقفینِ نَو

بعدازاں سات بج کر دس منٹ پر پروگرام کے مطابق واقفین نو کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کلاس شروع ہوئی۔ کلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم مصباح الدین صاحب نے کی اور اس کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا۔ تلاوت کا اردو ترجمہ عزیزم حافظ اسیداللہ ورک صاحب نے پیش کیا۔

اس کے بعد عزیزم صہیب ظفراعوان نے آنحضور ﷺ کی حدیث مبارکہ پیش کی اور اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ حدیث مبارکہ کا درج ذیل اردو ترجمہ عزیزم احمدنور بہادر نے پیش کیا۔

حضرت ابوعبس ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:۔

جس کے قدم خدا کی راہ میں غبارآلود ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ اسے دوزخ پر حرام کردے گا۔

(صحیح البخاری، کتاب الجمعہ)

اس کے بعد عزیزم سیدنواس احمد نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل اقتباس پیش کیا:۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالی کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے حظ اٹھایا ہے، یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لیے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میراشوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے۔ پس میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکاہوں اور اس وقف کے لیے اللہ تعالی نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں، بلکہ تکلیف اور دکھ ہو گا، تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رک نہیں سکتا۔ اس لیے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو نصیحت کروں اور یہ بات پہنچا دوں۔ آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اسے سنے یانہ سنے۔ اگر کوئی نجات چاہتاہے اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلبگار ہے، تو وہ اللہ کے لیے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت، میری قربانیاں، میری نمازیں، اللہ ہی کے لیے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اس کی روح بول اُٹھے اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنجب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا۔ خدامیں ہو کر نہیں مرتا، وہ نئی زندگی پانہیں سکتا۔‘‘

( ملفوظات، جلد اول، صفحہ 501 تا502)

اس اقتباس کا انگریزی ترجمہ عزیزم ماہر احمدوڑائچ نے پیش کیا۔اس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام

خدمت دین کو اِک فضل الٰہی جانو

اس کے بدلے میں کبھی طالب انعام نہ ہو

عزیزم عقیل احمداکبر نے خوش الحانی سے پیش کیا۔ اور اس نظم کا انگریزی ترجمہ عزیزم معیز احمد نے پیش کیا۔

بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا؛

اردو بولنی سیکھو، پڑھنی سیکھو۔ تا کہ آپ حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کی کتب اصل صورت میں پڑھ سکیں۔ ترجمہ تو اصل متن سے انصاف نہیں کرسکتا۔ اس طرح آپ سمجھ سکیں گے کہ حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام ہم سے کیا چاہتے تھے۔

حضورِ انور نے فرمایا؛پھر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ جب تلاوت کررہے ہو تو اس کا مطلب بھی سمجھنے کی کوشش کرو۔ روزانہ قرآنِ کریم کا ایک رکوع ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرو۔ لفظی ترجمہ بھی الاسلام ویب سائٹ پر موجود ہے۔ کچھ پارے تو ہیں، باقی بھی جلد آجائیں گے۔ پس ترجمہ قرآنِ کریم سیکھنے کی کوشش کرو تاکہ آپ کو سمجھ آئے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کیا چاہتا ہے۔ کیا احکامات ہیں۔ مذہب پر عمل کرنے کی کیا ہدایات ہیں۔ ٹھیک ہے۔ بس یہ دوباتیں ہمیشہ یاد رکھو۔

نیز فرمایا؛پھر ایک اور ضروری چیز پنجوقتہ نمازیں ہیں۔ نمازوں کی ادائیگی کبھی بھی کسی صورت نہیں بھولنی۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا کہ ہاتھ اٹھائیں، جنہوں نے پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔ پھر فرمایا؛ پانچ نمازیں ہر ایک مسلمان پر فرض ہیں۔آپ سب کو پانچ نمازیں ادا کرنی چاہئیں۔

بعد ازاں واقفینِ نو نے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے سوالات کیے۔

عزیزم تیمور عبد اللہ نے سوال کیا کہ وہ کون سی ایسی چیز ہےجس میں یوایس اے جماعت کے ممبران کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بہتر ی کرنی چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ روزانہ پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کریں۔ یہ وہ ایک چیز ہے، جس میں ہر ایک ممبر جماعت کو ٹارگٹ بنا لینا چاہیے کہ وہ روزانہ پانچ نمازیں ادا کریں گے۔ یہ نہیں کہ صرف نماز ادا ہو، بلکہ مکمل توجہ سے ادا کی جائے۔ جب آپ نمازیں پڑھیں گے تو پھر آپ اپنی ذمہ داری سمجھیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے والے ہوں گے اور پھر آپ مذہب کے بارے میں مزید علم حاصل کریں گے اور اپنی ذمہ داریاں سمجھیں گے۔

عزیزم احتشام نجیب چودھری نے سوال کیا کہ خلافت سے قبل کس طرح حضور نے خلفیہ وقت سے قرب کا تعلق قائم رکھا۔ خاص کر جب کہ حضور اتنی دور غانا میں تھے اور پھر خلافت کے یوکے منتقل ہونے کے بعد حضور ایک عرصہ ربوہ میں رہے۔ حضور ہمیں امریکہ میں رہنے والوں کا کیا نصیحت فرمائیں گے کہ ہم بھی اسی طرح خلافت سے قرب حاصل کرسکیں۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی تھی، جس میں یہ سکھایا گیا تھا کہ خلافت کے بغیر کوئی زندگی نہیں، کوئی روحانی زندگی نہیں۔ جب میں وقف کرکے غانا گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو باقاعدگی سے خطوط لکھتا تھا۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو بھی اسی طرح خطوط لکھتا تھا۔ پھر میں اپنے لیے دعا بھی کرتا رہتا تھا کہ میں ہمیشہ خلافت کے قریب رہوں اور کبھی بھی ایسا کچھ نہ کروں کہ جس سے خلیفہ وقت کو تکلیف ہو۔ یہ وہ چیزیں ہیں، جن سے آپ خلافت سے تعلق مضبوط کرسکتے ہیں۔ خلیفۃ المسیح سے زندہ تعلق قائم رکھیں اور پھر خلیفہ وقت کے لیے مسلسل دعائیں کرتے رہیں۔ اپنے لیے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایمان میں بڑھائے اور خلیفۃ المسیح سے تعلق میں ترقی اور مضبوطی عطا فرمائے۔

عزیزم قمر احمد خان نے سوال کرتے ہوئے سوال کیا کہ ا للہ تعالیٰ سورہ نساء کی آیت نمبر 120 میں فرماتا ہے کہ ’شیطان ان کو گمراہ کرے گا اور وہ اللہ کی تخلیق میں تغیر کریں گے۔

طبی میدان میں ترقی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ہم اپنی شکل و شباہت بہتر کر سکتے ہیں، جیسا کہ کاسمیٹک سرجری، بوٹاکس اور مختلف ٹرانسپلانٹ وغیرہ کے ذریعہ۔ کیا یہ طریق قرآنِ کریم کی اس ہدایت کے خلاف ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛یہ علم اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا ہے اور یہ علم انسان کی بہتری کے لیے ہے۔ یہ کوئی تبدیلی تو نہیں ہے۔ یہ انسانی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دوسری قسم کی بھی تبدیلی یا تغیر کرو گے جو کہ تمہیں جہنم میں لے جائےگا اور اس سے معاشرے کا امن برباد ہو جائیگا۔ یہ کلوننگ ہے۔ کلوننگ منع ہے۔ اس کے ذریعہ آپ انسان کی تمام خصوصیات تبدیل کردیتے ہیں اور اسے جانور بنا دیتے ہیں اور اسی طرح کسی جانور کی شکل تبدیل کردیتے ہیں۔ یہ منع ہے۔ اس کے علاوہ تمام دیگر چیزیں انسان کی بہتری کے لیے ہیں اور یہ جائز ہیں۔

اس کے بعدعزیزم مصطفیٰ احمد ظفر اللہ نے سوال کیا کہ بعض اوقات ہم بطور وقفِ نو یہ خیال کرتے ہیں کہ مجلس خدام الاحمدیہ اور جماعت کے مختلف کام کررہے ہیں اور باقاعدہ وقف کرنا ضروری نہیں ہے۔ ہم اپنے آپ کو کیسے motivate کرسکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ کیا آپ کے والدین نے ایک مختصر وقت کے لیے یہ قربانی دی تھی اور اپنے بچے کو وقف کیا تھا یا پھر مستقل خدمت کے لیے کیا تھا۔ آپ اس بات کا احساس کریں کہ آپ کے والدین نے آپ کی تمام زندگی احمدیت کی خدمت کے لیے پیش کی تھی۔ ایم ٹی اے، سیکیورٹی وغیرہ میں مختصر دورانیہ کے رضاکارانہ کام کرنا کافی نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے کہا ہے کہ پندرہ سال کی عمر کو پہنچ کر آپ تجدیدِ عہد کریں کہ آپ اپنا وقفِ زندگی جاری رکھیں گے اور پھر ۲۱ سال کی عمر میں دوبارہ تجدیدِ عہد کریں۔ مرکز کو باقاعدہ اطلاع دیں کہ آپ کس فیلڈ میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، کب تک تعلیم جاری رہے گی۔ مرکز سے پوچھیں کہ آیا جماعت کو میری خدمات کی ضرورت ہے یا پھر آپ اپنی فیلڈ میں جاب کریں اور تجربہ حاصل کریں۔ مرکز آپ کی اس بارے میں رہنمائی کردے گا۔ آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ اپنے عہد کے مطابق جماعت کو اپنی خدمات پیش کردیں جیساکہ آپ کی ولادت سے قبل آپ نے والدین نے وعدہ کیا تھا۔

عزیزم مدثر احمد صاحب نے سوال کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ہمارا مقدر لکھ دیا ہوا ہے تو پھر ہم اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے محنت کیوں کریں؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛آپ کی قسمت کا تو اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے، آپ کو تو علم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اگر آپ اچھے کام کریں گے تو ان کا اچھا اجر پائیں گے اور اگر غلط کریں گے تو اس کی سزا پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی نہیں فرمایا کہ آپ اصلاحِ نفس نہیں کرسکتے، نہ ہی یہ فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ کہتے ہیں کہ ایک بڑا مجرم شخص تھا، اس نے ۹۹ قتل کئے ہوئے تھے۔ بالآخر اس کے ذہن میں آیا کہ اس نے اتنے گناہ کئے ہیں، وہ کبھی بھی معاف نہیں کیا جائیگا۔ کسی نے اس کو بتایا یا اس کے ذہن میں آیا کہ اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے۔ پس وہ کسی نیک شخص کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ میں اتنے جرم کرچکا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرسکتا ہے؟ اس پر اس بظاہر نیک شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اس نے سوچا کہ جہاں ۹۹ قتل کئے ہیں، وہاں ایک اور سہی۔ چنانچہ اس نے اس شخص کو بھی قتل کردیا۔ پھر کسی نے اس کو بتایا کہ اس شخص نے جو تمہیں بتایا، وہ ٹھیک نہ تھا۔ تم فلاں جگہ جاؤ، وہاں جو شخص ہے، وہ تمہیں اس بارے میں صحیح رہنمائی دے گا۔ چنانچہ یہ مجرم شخص اس سے ملنے چلا گیا۔ لیکن راستے میں ہی فوت ہو گیا۔ جب وہ مرا تو جنت اور دوزخ کے فرشتے آگئے۔ جنت والا فرشتہ کہتا کہ یہ نیک ارادے سے سفر کررہا تھا اور راستے میں ہلاک ہو گیا ہے، اس لیے میں اسے جنت میں لےجانے کے لیے آیا ہوں جبکہ دوزخ والا فرشتہ کہنے لگا کہ یہ بڑا ظالم انسان ہے، یہ جہنم میں جائےگا۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ راستے ناپے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ جس شخص کے پاس وہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی امید کرتے ہوئے جارہا تھا اور جتنا فاصلہ وہ طے کرچکا تھا، وہ زیادہ تھا بنسبت اس فاصلہ کے جتنا کہ باقی تھا۔ چنانچہ وہ فرشتہ جو جنت سے آیا ہوا تھا، اسے جنت میں لے گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ قسمت جانتا ہے۔ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن غفورا ور رحیم بھی اللہ تعالیٰ ہی کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرسکتا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلیں اور جس حد تک ہماری استطاعت ہے، ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ چاہے تو ہمارے گناہ بخش دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مقدر بھی تبدیل کرسکتا ہے۔ لیکن اگر ہم برے کام کرتے رہیں تو اللہ تعالیٰ سزا دے گا اور اگر ندامت پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً معاف کرسکتا ہے۔

عزیزم گلفام اشرف نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں حالیہ سیلاب احمدیوں پر مظالم کی سزا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛یہ صرف احمدیوں پر مظالم کی وجہ سے نہیں، اور بھی بہت سی خرابیاں ہیں۔ اب تو ان کے سیاستدانوں اور ملاں نے بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ ملک میں سیلاب اور قدرتی آفات، بدامنی اور سیاسی انتشار سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ لیکن اس بات کا ادراک نہیں کرنا چاہتے کہ یہ ان کے بُرے کاموں اور معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے کا نتیجہ ہے۔ میرے خیال میں احمدیوں پر مظالم اس کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

عزیزم فاتح احمد نون نے سوال کیا کہ بعض اوقات نماز وقت پر ادا کرنے میں سستی ہو جاتی ہے اور پھر ہم ارادہ کرتے ہیں کہ آئندہ سستی نہیں کریں گے۔ اس سستی کو کیسے ختم کرسکتے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ جب آپ تھکے ہوں تو آپ کھانا کھانا بھول جائیں۔ تو جب آپ تھکے ہونے کے باوجود کھانا کھانا نہیں بھولتے، جسمانی غذا کو نہیں بھولتے تو نماز تو آپ کی روحانی غذا ہے۔ اگر آپ کا ایمان پختہ ہے اور آپ اللہ سے پیار کرتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کا فرض ہے، تو پھر آپ نماز پڑھیں گے۔ آپ کو نماز کی اہمیت معلوم ہے کہ اس سے انسان اپنے خالق کا قرب حاصل کرتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ سب کچھ عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے تو پھر آپ کو شکر بھی ادا کرنا چاہئے۔ اس کا ایک طریق یہ ہے کہ بغیر کسی سستی کے نماز وقت پر ادا کی جائے۔

ایک وقفِ نو اسماعیل احمد نے سوال کیا کہ حال ہی میں ملکہ الزبیتھ فوت ہوئی ہے اور حضور ِ انو رنے اس کی فیملی سے اظہارِ افسوس کیا ہے۔ ملک الزبیتھ کی وہ کون سی ایسی خصوصیت ہے جو حضورِ انور کو سب سے زیادہ پسند تھی اور مستقبل کے رہنماؤں کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛میں نے تو اس بارے میں سوچا نہیں۔ وہ ملک کی ملکہ تھی اور بطور برطانوی شہری میرا فرض تھا کہ میں اظہارِ افسوس کرتا۔ برطانوی سلطنت نے ہمیشہ سے تمام مذاہب کو آزادی دی ہے حتیٰ کہ colonialism کے دور میں بھی۔ برصغیر پاک و ہند میں عیسائی حکومت ہونے کے باوجود اور عیسائیت اور عیسائی پادریوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہونے کے باوجود مسلمانوں کو مکمل آزادی دی۔ اس سے قبل سکھ حکومت کے دوران مساجد ویران ہوتی تھیں اور عبادت کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ اس لیے حضرت اقدس مسیحِ موعودعلیہ السلام نے بھی ان کی تعریف کی۔ اگرچہ انہوں نے بعض غلط کام بھی کیے ہیں لیکن تمام مذاہب کو آزادی دینا ایک اچھا قدم تھا اور اسی وجہ سے تعریف کی۔ برطانوی حکومت کی وجہ سے مسلمان محفوظ رہے نہیں تو ختم ہوجاتے۔

عزیزم شایان اسلم نے سوال کیا کہ حضورِ انور شہر زائن، ڈیلس اور اب میری لینڈ تشریف لائے ہیں۔ اب تک حضور ِ انور کو کیا چیز بہت پسند آئی ہے اور کیا بہتر کیا جاسکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ہر جگہ بہترین ہے۔ جہاں بھی میں احمدیوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اچھے ہیں، ایمان میں مضبوط ہیں، خوش ہیں، نمازوں کے لیے آرہے ہیں، تو میں خوش ہوتا ہوں۔ کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں باہر تو کہیں نہیں گیا، صرف مسجد گیا ہوں اور احمدیوں سےملا ہوں۔ بس یہی میری خوشی ہے کہ آپ سب کے ایمان مضبوط ہیں اور خلافت سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ آپ اپنے ایمان اور خلافت سے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں۔

عزیزم مرزا مامون احمد بیگ نے سوال کیا کہ حضور کی ایسے افراد کے لیے کیا راہنمائی و ہدایت ہے جو انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے وکیل بن رہے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛’انصاف‘اور کوشش کریں کہ کامل عدل و انصاف کے بارے میں جو قرآنِ کریم نے ہدایات دی ہوئی ہیں، انہیں تلاش کریں۔ قرآنِ کریم کی کئی آیاتِ کریمہ ہیں، ان سے راہنمائی مل جائے گی، میں نے بھی کئی جگہ مختلف خطابات میں آیات بیان کی ہوئی ہیں، وہاں سےمل جائیں گی۔ تو اگر کامل انصاف قائم کرسکیں یا اس کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں تو اس سے بہتر انسانی خدمت کیاہو سکتی ہے۔

عزیزم فاران سمیع جدران نے سوال کیا کہ حضور کی رائے میں کیا یوایس اے میں رہنے والے افراد کے لیے حج و عمرہ کرنا محفوظ ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛بالکل۔ آپ کرسکتے ہیں۔ کسی کے پاسپورٹ پر نہیں لکھا کہ وہ احمدی ہے۔ بعض احمدی ایسے بھی ہیں جن کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں اور ان پر احمدی لکھا ہوا ہے، اس کے باوجود وہ حج و عمرہ کے لیے جاتے ہیں۔ اگر آپ جانا چاہتے ہیں تو جاسکتے ہیں۔

عزیزم فہد میاں نے سوال کیا کہ حضور جب دورہ پر کسی ملک تشریف لاتے ہیں تو اس ملک کے ہر احمدی اور ان کی فیملیز کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حضور انور سے شرفِ ملاقات حاصل کرسکیں۔لیکن بہت کم لوگ یہ سعادت حاصل کرپاتے ہیں۔ ان احمدیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے حضور کیا کہیں گے جو ملاقات کا شرف حاصل نہیں کرسکے۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛بہت سے احمدی ہیں، صرف یہاں یوایس اے میں نہیں بلکہ دیگر جگہوں پر بھی ہیں، پاکستان میں بھی ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں احمدی ہیں، انڈیا میں افریقہ میں۔ تو خلیفہ وقت تو ہر ایک کوجا کر نہیں مل سکتا۔ اب تو اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے ہر ایک احمدی ایم ٹی اے کے ذریعہ خلیفہ وقت سے رابطہ میں ہے۔ ہر جمعہ آپ خلیفۃ المسیح کا خطبہ سن سکتے ہیں۔ پس اگر آپ کا خلافت سے پختہ تعلق ہے تو آپ خطبہ سنیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح آپ اللہ تعالیٰ کو خوش کرسکتے ہیں۔ اس طرح آپ خلافت سے اپنا تعلق مضبوط کرسکتے ہیں۔ صرف فیملیز کے ساتھ ملاقات کرنا آپ کا مقصد نہ ہو۔ اصل چیز یہ ہے کہ اپنا ایمان بڑھانے کی کوشش کریں اور خلافت سے تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔

عزیزم اوصاف احمد تفہیم نے عرض کیا کہ میں ۱۲ سال کا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب حضور میری عمر کے تھے تو حضور کو کون سا کھیل پسند تھا اور کون سا مضمون پسند تھا؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛میں کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔ تاہم میں کھیل میں اچھا نہیں تھا۔ پھر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ حقیقت سننا چاہتے ہیں تو مجھے کبھی کوئی مضمون پسند نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مدد کی۔ میں بس ایک اوسط درجہ کا طالبِ علم تھا۔

فرمایا؛لیکن آپ کو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کو محنت کرنی چاہیے۔ آپ وقفِ نو ہیں۔ آپ کیا بننا چاہتے ہیں۔

اس پر اوصاف نے عرض کی کہ میں انجینئر بننا چاہتا ہوں۔ اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا بس اگر انجینئر بننا چاہتے ہو تو محنت کرو۔

عزیزم احتشام عباسی صاحب نے عرض کیا کہ کالج جانے والے طلباء تعلیم کے ساتھ ساتھ جماعتی کاموں میں توازن کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛آپ پانچ دن کالج جاتے ہیں اور ویک اینڈ پر دو دن فارغ ہوتے ہیں۔ اگر آپ ویک اینڈ پر وقت ادھر اُدھر ضائع نہ کریں اور کمپیوٹر وغیرہ پر لغو چیزیں نہ دیکھیں تو آپ وہی وقت جماعت کو دے سکتے ہیں۔ پہلی بات ہے کہ خدام الاحمدیہ سے کہیں کہ آپ کو کچھ کام دیں۔ پھر ٹارگٹ رکھیں کہ ویک اینڈ پر چار سے پانچ گھنٹہ دینی تعلیم پر دیں۔ اپنا دینی علم بڑھائیں۔ یہ آپ کو مستقبل میں جماعت کی خدمت کرنے میں مدد دے گا۔ ساتھ ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ سے کہیں کہ وہ کوئی ڈیوٹی دینا چاہتے ہیں تو دیں۔

عزیزم محمد احمد سید طاہر نے سوال کیا کہ جماعت کی حالیہ ضروریات کے پیشِ نظر حضور ہمیں ہائی سکول کے بعد کس فیلڈ میں جانے کا مشورہ دیں گے۔

اس پر فرمایا؛آپ کی دلچسپی کس میں ہے۔ موصوف نے عرض کیا کہ کمپیوٹر سائنس ٹیکنالوجی میں دلچسپی ہے۔

اس پر فرمایا؛ٹھیک ہے۔ مرکز کو بتائیں کہ یہ آپ کی دلچسپی ہے اور آپ تعلیم مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو مرکز کی طرف سے راہنمائی مل جائےگی۔ فی الوقت آپ کو جس بھی مضمون میں دلچسپی ہے، اس میں دلجمعی سے تعلیم حاصل کریں۔

عزیزم عبدا لودود بھٹی نے سوال کیا کہ ایسے واقفینِ نو جو اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اوراپنی فیلڈ میں جاب حاصل نہیں کرسکے، وہ دیگر فیلڈز میں چلے جائیں یا پھر اپنی ہی فیلڈ میں کوشش کرتے رہیں؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ بطور وقفِ نو تعلیم مکمل کرنے کے بعد سب سے پہلے آپ مرکز سے راہنمائی لیں۔ بتائیں کہ آپ نے تعلیم مکمل کرلی ہے اور پوچھیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ کیا جماعت چاہتی ہے کہ آپ کو امپلائی کرے یا پھر اپنی فیلڈ میں تجربہ حاصل کریں۔ مرکز راہنمائی کرے گا۔ لیکن اس دوران وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی نہ کوئی کام کریں، چاہے کوئی چھوٹا ہی کام کیوں نہ ہو۔ اگرا ٓپ کی فیلڈ میں کام نہیں مل رہا اور اس کی بجائے کوئی اور چھوٹا موٹا کام مل رہا ہو تو وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ کام کیا جائے۔ مصروف رہنا بہتر ہے اور مرکز سے بھی راہنمائی لیتے رہیں۔

واقفین نو کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ کلاس آٹھ بج کر تین منٹ پر ختم ہوئی۔

بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کچھ دیر کے لیے اپنے دفتر تشریف لے گئے۔ ساڑھے آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ’’مسجد بیت الرحمٰن‘‘ تشریف لا کر نمازمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button