امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا دورۂ امریکہ (۷؍اکتوبر ۲۰۲۲ء بروز جمعۃ المبارک)

(رپورٹ:عبدالماجد طاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد)

٭…خطبۂ جمعہ کے ساتھ مسجد بیت الاکرام ڈیلاس کا افتتاح

٭…جماعت فورٹ ورتھ کا دورہ، مسجد بیت القیوم فورٹ ورتھ کا افتتاح و معائنہ

٭…مستقبل میں تعمیر ہونے والے مناروں کے سنگ ہائے بنیاد پر دعا

٭…ممبرانِ جماعت فورٹ ورتھ کےساتھ اجتماعی ملاقات، مجالس عاملہ کے ساتھ تصاویر

٭…حضورِانور نے فرمایا کہ شکریہ تب ہوگا جب مسجد کو آباد کریں گے

٭… اگرلجنہ کی عاملہ active ہوجائے تو مسجد میں آنے والوں کی حاضری بڑھ سکتی ہے۔ اپنے مردوں کو مسجد بھیجیں۔ اسی طرح مقامی جماعت کی عاملہ کے ممبران، خدام، انصار کی عاملہ کے ممبران active ہوں اور باقاعدہ نمازوں پر آنے والے ہوں

٭… وقفِ عارضی کے پروگرام بھی بنائیں۔ تبلیغ کریں، لٹریچر دیں، باہرنکلیں، لوگوں سے رابطے کریں اور یہاں اپنے مرکز آنے کی دعوت دیں

٭… اپنے شہر کی آبادی کاجائزہ لیں۔ کتنی آبادی ہے، کون کون سے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ وائٹ امریکن، افریقن امریکن، ایشین، لاطینی امریکن، یہ کتنی کتنی تعداد میں آباد ہیں؟ پہلے سارا جائزہ لیں اور پھر ایک ethnic گروپ کے حساب سے اپنا تبلیغی پلان بنائیں

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر دس منٹ پر ’’مسجد بیت الاکرام‘‘ ڈیلاس تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔

آج جمعۃ المبارک کا دن تھااورامریکہ کی ٹیکساس سٹیٹ کے شہر ڈیلاس (Dallas)میں حضورِانور کے خطبہ جمعہ کے ساتھ جماعت کی نئی مرکزی مسجد ’’مسجد بیت الاکرام‘‘ کا افتتاح ہورہا تھا۔

نماز جمعہ میں جماعت ڈیلاس (Dallas)کے علاوہ امریکہ بھر کی جماعتوں سے احباب بڑے لمبے اورطویل فاصلے طے کرکے پہنچے تھے۔ امریکہ کی مختلف جماعتوں Houston، Queens، Austin، جارجیا، Fort Worth، Maryland، نارتھ ورجینیا، Tulsa، Bay  Point، ساؤتھ ورجینیا، San Die Go، San Jose، سنٹرل جرسی، Lehigh Valley، Richmond، پورٹ لینڈ، نارتھ جرسی، Oshkosh، Brooklyn، Buffalo، ملواکی، Charlotte، یارک (York)، شکاگو، ڈیٹرائیٹ، بوسٹن، Kansas City، Long Island، فلاڈلفیا، Pittsburg، Sacramento، Alabama,، Albany، بالٹی مور، Cleveland، Hawaii، میامی، Phoeniy، Tuscon، Syracus Willingboro اور دیگر جماعتوں سے آئے تھے۔

بعض جماعتوں سےا حباب بڑے لمبے اورطویل فاصلے طے کرکے نمازجمعہ کی ادائیگی کے لیے پہنچے تھے۔

Maryland سےا ٓنے والے احباب 1367میل، لاس اینجلیز سےا ٓنے والے احباب اور خواتین 1433 میل جبکہ Queen کی جماعت سےا ٓنے والے احباب 1578 میل کا سفر طے کرکے نمازجمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے تھے۔

پھر ایک بڑی دور کی جماعت سیاٹل (Seattle) سے آنے والے احباب 2095 میل کا طویل سفر طے کرکے اپنے پیارے آقا کی اقتدا میں نمازِجمعہ ادا کرنے کے لیے پہنچے تھے۔

نمازِجمعہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد اڑھائی ہزار سے زائد تھی۔

پروگرام کے مطابق ایک بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد بیت الاکرام‘‘ میں تشریف لا کر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ (خلاصہ خطبہ کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے:https://www.alfazl.com/2022/10/07/56748/)

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے اس خطبہ جمعہ کا مکمل متن حسب طریق الفضل انٹرنیشنل میں علیحدہ شائع ہوگا۔

حضورِانور کا یہ خطبہ جمعہ پہلی مرتبہ ڈیلاس (Dallas)ٹیکساس سٹیٹ سے ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے ذریعہ براہِ راست ساری دنیا میں نشر ہوا۔

حضورِانور کا یہ خطبہ جمعہ دو بجے تک جاری رہا۔ بعدازاں حضورِانور نے نمازِجمعہ کے ساتھ نمازِعصر جمع کرکے پڑھائی۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

آج پروگرام کے مطابق Dallas سے جماعت Fort Worth کے لیے روانگی تھی۔ ڈیلاس سے فورٹ ورتھ کا فاصلہ 53 میل ہے۔ چھ بج کر پانچ منٹ پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ سے باہر تشریف لائے اور Fort Worthکے لیے روانگی ہوئی۔

پولیس کی گاڑیوں نے قافلہ کو escort کیا اور ساتھ ساتھ راستہ کلیئر کرتے رہے۔

قریباً ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد سات بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مسجد بیت القیوم Fort Worth میں ورودِمسعود ہوا۔

جونہی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی گاڑی سے باہر تشریف لائے تو مقامی جماعت کے صدر مکرم سعید چودھری صاحب نے حضورِانور کو خوش آمدید کہا۔ احباب جماعت مسلسل نعرے بلند کررہے تھے۔ خواتین اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے شرفِ زیارت سے فیضیاب ہورہی تھیں۔ بچے اور بچیاں خوبصورت لباس میں ملبوس دعائیہ نظمیں اور استقبالیہ گیت پیش کررہے تھے۔ حضورِانور نے اپنا ہاتھ بلند کرکے سب کو السلام علیکم کہا۔ ہر طرف خوشی ومسرت سے ہاتھ بلند تھے، ’السلام علیکم حضور‘ اور ’انّی معک یامسرور‘ کی صدائیں ہر طرف سے بلند ہورہی تھیں۔ اس جماعت کے لیے یہ انتہائی مبارک اور بابرکت لمحات تھے۔ ان کے پیارے آقا کے مبارک قدم پہلی بار اس جماعت کی سرزمین پر پڑے تھے۔ ان کے لیے ایک ایسی خوشی کا سماں تھا جو بیان نہیں کی جاسکتی۔ بہتوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔

حضورِانور ان احباب کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنا ہاتھ بلند کرکے ان کے نعروں اور السلام علیکم کا جواب دیتے رہے۔

بعدازاں حضورِانور نے ’’مسجد بیت القیوم‘‘ کی بیرونی دیوار پر لگی تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔ اس کے بعد حضورِانور نے مسجد کے بیرونی احاطہ میں ایک پودا لگایا۔

بعدازاں حضورِانور نے اس عمارت کا معائنہ فرمایا۔ مسجد کی lobby میں اس عمارت کے دو بڑے نقشہ جات آویزاں کیے گئے تھے۔ صدرصاحب جماعت نے حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا کہ اس عمارت کے دائیں اور بائیں دو مینار تعمیر کیے جائیں گے اور اسی طرح ایک گنبد بھی بنایا جائے گا۔ مینار اور گنبد نقشہ میں ظاہر کیے گئے تھے۔

اس کے بعد حضورِ انور نے مسجد کے مردانہ ہال اور خواتین کے ہال کا معائنہ فرمایا۔ بعدازاں حضورِانور لائبریری کے اندر تشریف لے گئے۔ علاوہ ازیں جماعتی دفاتر، میٹنگ روم اور تبلیغی روم بھی دیکھے اور ملٹی پرپز ہال اور لجنہ کے ہال میں بھی تشریف لے گئے۔

مسجد بیت القیوم کی یہ عمارت 4.7 ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے۔ یہ قطعہ زمین 2018ء میں 7 لاکھ 75ہزار ڈالرز کی قیمت میں خریدا گیا تھا۔

یہاں پر جو تعمیرات موجود ہیں ان کا مسقف حصہ 13 ہزار مربع فٹ ہے۔ اس عمارت میں جماعتی دفاتر کی تعداد آٹھ ہے۔ اس کے علاوہ ایک gym(فٹنس روم) بھی بنایا گیا ہے۔

مسجد کے مردانہ اور خواتین کے ہال میں 300 افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اگراس عمارت کے باقی ہالز اور lobbies وغیرہ شامل کیے جائیں تو ہزار کے لگ بھگ لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔

حضورِانور مسجد کے بیرونی احاطہ پارکنگ ایریا کی طرف بھی تشریف لے گئے اور زمین کی حد بندی کے بارہ میں دریافت فرمایا۔

بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہال میں تشریف لے آئے جہاں ایک میز پر مسجد کے دو مختلف نقشہ جات پرنٹ کرکے رکھے گئے تھے، اور دو میناروں کےسنگ بنیاد کے لیے دو اینٹیں بھی رکھی گئی تھیں۔ علاوہ ازیں ایک باسکٹ بال بھی رکھا گیا تھا۔ خدام یہاں باسکٹ بال بھی کھیلتے ہیں۔ مقامی صدرجماعت کی درخواست پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت دونوں نقشوں پر اپنے دستخط فرمائے۔ باسکٹ بال پر بھی اپنے دستخط فرمائے اور میناروں کی تعمیر کے لیے دونوں اینٹوں پر اپنی ’’الیس اللہ بکاف عبدہٗ‘‘ والی انگوٹھی مَسْ کرکے دعا کی۔ بعدازاں حضورِانور کچھ دیر کے لیے دفتر تشریف لے گئے۔

اس دوران مقامی احباب ہال میں بیٹھ چکے تھے اور خواتین ایک دوسرے ہال میں جمع ہوچکی تھیں۔

ساڑھے سات بجے حضورِانور ہال میں تشریف لائے، ہال کے دروازہ پر ایک مقامی امریکن خاتون اپنے خاوند اوربچوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔ موصوفہ اِس شہر کی زوننگ افسر ہیں۔ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملنے کے لیے آئی تھیں۔ حضورِانور ازراہِ شفقت کچھ دیر کے لیے ان کے پاس کھڑے ہوئے اور گفتگو فرمائی۔

اجتماعی ملاقات جماعت فورٹ ورتھ

بعدازاں پروگرام شروع ہوا۔ حضورِانور نےا حباب سے دریافت فرمایا یہاں کتنے اسائیلم سیکرزہیں، ہاتھ کھڑا کریں۔ کیا سب نے کام شروع کردیا ہے۔ جس پر سبھی نے کہا کہ ہم نے کام شروع کردیا ہے۔ پھر حضورِانور نے فرمایا کہ آپ کے دل یہاں لگ گئے ہیں۔ اگر نہیں لگے تو لگانے پڑیں گے۔

حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ جو لوگ مجھے مل چکے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ اس پر احباب نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے تو حضورِانور نے فرمایا۔ اسائیلم سیکرز میں سے زیادہ تعداد ہے جو مجھے مل چکی ہے۔

اس کے بعد سیکرٹری وقفِ نو جو سیکرٹری تعلیم القرآن و وقف عارضی بھی ہیں نے اپنا تعارف کروایا۔ حضورانور نے ان سے دریافت فرمایا کہ یہاں آپ کی مقامی جماعت میں کتنے واقف نو بچے ہیں۔ کیا تعداد ہے؟موصوف نے بتایا کہ دس بچے ہیں اور جو لڑکیاں ہیں ان کے پروگرام وغیرہ لجنہ کرتی ہے۔ اس پر حضورِانور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ خواہ لجنہ پروگرام کرتی ہو۔ لیکن ریکارڈ آپ کے پاس بحیثیت سیکرٹری ہونا چاہیے۔ اس پر موصوف نے بتایا کہ بچیوں کی تعداد 13 ہے۔ اس طرح کل 23 ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا آپ تعلیم القرآن ووقف عارضی کے سیکرٹری بھی ہیں۔ وقفِ عارضی کے پروگرام بھی بنائیں۔ تبلیغ کریں، لٹریچر دیں، باہرنکلیں، لوگوں سے رابطے کریں اور یہاں اپنے مرکز آنے کی دعوت دیں۔ ہر مہینے میں مختلف جگہوں سے پندرہ بیس لوگ مل جائیں گے تو پورے علاقے میں اسلام کا تعارف کرواسکتے ہیں۔ حضورِانور نے فرمایا جو جو وسائل یہاں مہیا ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے جو جو کام ہوسکتا ہے آپ لوگوں کو کرنا چاہیے۔

بعدازاں سیکرٹری تبلیغ سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ تبلیغ کا پلان کیا ہے۔ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ ہم نے ہفتہ وار پروگرام شروع کیے ہوئے ہیں۔ باہر سے مہمان اپنے سینٹر میں بلاتے ہیں اور اُن سے بات چیت کرتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا جو آپ کے یہاں ہمسائے ہیں ان کو بھی بلائیں، بروشر، لیف لیٹس تقسیم کرنے کا پروگرام بنائیں۔ اپنے شہر کی آبادی کاجائزہ لیں۔ کتنی آبادی ہے، کون کون سے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ وائٹ امریکن، افریقن امریکن، ایشین، لاطینی امریکن، یہ کتنی کتنی تعداد میں آباد ہیں؟ پہلے سارا جائزہ لیں اور پھر ایک ethnic گروپ کے حساب سے اپنا تبلیغی پلان بنائیں۔

سیکرٹری تربیت نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے یہ مسئلہ ہے کہ لوگوں کو مسجد لانے کے لیے بہت کوشش کرنی پڑ رہی ہے۔ حضورِانور نے فرمایا مسلسل محنت کرنی پڑے گی۔ جو نہیں آرہے ان کو روزانہ یاددہانی کروائیں۔

بعدازاں صدرصاحب جماعت فورٹ ورتھ نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا شکریہ ادا کیا کہ حضورِانور کی آمد کے ساتھ آج ہمیں یہ دن دیکھنے کو ملا ہے۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ شکریہ تب ہوگا جب مسجد کو آباد کریں گے۔ حضورِانور کے استفسار پر صدرصاحب نے بتایا کہ مسجد سے پندرہ منٹ تک کے فاصلہ پر تیس چالیس فیصد احمدی آبادی ہیں۔ حضورِانور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ فجر اور مغرب عشاء پر حاضری پچاس فیصد ہونی چاہیے اور یہ کم از کم ٹارگٹ رکھیں اور اس کو بڑھاتے چلے جائیں۔ ویسے تو سوفیصد ہونا چاہیے۔

حضورِانور نے فرمایا پٹرول مسجد آنے کے لیے رکھیں اور باقی اپنی شاپنگ کے لیے، خریدوفروخت کے لیے پیدل جائیں۔

خواتین کی طرف سے ایک غیرملکی خاتون نے سوال کیا کہ عورتوں کے خاص ایام میں نماز، قرآن کریم کی تلاوت وغیرہ کے بارہ میں کیا حکم ہے۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا۔ یہ تو محدود دن ہیں، ان میں نماز نہیں پڑھی جاتیں اور نہ تلاوت قرآن کی جاتی ہے، لیکن ذکرالٰہی کر سکتے ہیں، دعائیں کرسکتے ہیں، حدیث میں دعائیں ہیں، کرسکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کو یاد رکھ سکتی ہیں۔

حضورِانور کے استفسار پر صدرصاحبہ لجنہ مجلس فورٹ ورتھ نے بتایا کہ یہاں خواتین کی تجنید 70 ہے اور ان میں زیادہ تعداد مستعد اور فعال ہے جبکہ ایک حصہ فعال نہیں ہے۔

حضورِانور نے فرمایا آپ عورتوں کی تربیت کا پروگرام ایسا بنائیں کہ وہ آگے اپنے بچوں کی تربیت کرسکیں۔

حضورِانور نے فرمایا: اگرلجنہ کی عاملہ active ہوجائے تو مسجد میں آنے والوں کی حاضری بڑھ سکتی ہے۔ اپنے مردوں کو مسجد بھیجیں۔ اسی طرح مقامی جماعت کی عاملہ کے ممبران، خدام، انصار کی عاملہ کے ممبران active ہوں اور باقاعدہ نمازوں پر آنے والے ہوں تو مسجد کی حاضری بہت بڑھ جائے گی۔

اس کے بعد مقامی جماعت کی مجلس عاملہ نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس انصاراللہ کی عاملہ نے بھی حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کاشرف پایا۔

ایک دوست فراز احمدصاحب نے مسجد اور اس کمپلیکس کی renovation میں بہت زیادہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور سارا کام طوعی طور پر کیا ہے۔ موصوف کو بھی حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف نصیب ہوا۔

یہ پروگرام سات بج کر پچاس منٹ پر ختم ہوا۔ بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کچھ دیر کے لیے لجنہ ہال میں تشریف لے گئے۔ جہاں خواتین شرف زیارت سے فیضیاب ہوئیں۔

آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد بیت القیوم‘‘ تشریف لا کر نمازِمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد اب یہاں سے واپس ڈیلاس (Dallas) کے لیے روانگی کا پروگرام تھا۔

’’مسجد بیت القیوم‘‘ اور اس سارے کمپلیکس کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔ بہت ہی خوبصورت منظر تھا۔ ان روشنیوں کی وجہ سے مسجد کے اردگرد کا سارا علاقہ روشن تھا اور سارے ماحول میں ایک خوشی کا سماں تھا۔

آٹھ بج کر بیس منٹ پر یہاں سے ڈیلاس کے لیے روانگی ہوئی۔

پولیس کی گاڑیوں نے قافلہ کو escort کیا اور جگہ جگہ دوسری گاڑیوں کو روک کر راستہ کلیئر کرتے رہے۔

قریباً ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد نو بج کر پچیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مسجد بیت الاکرام ڈیلاس آمد ہوئی۔مسجد کے بیرونی احاطہ میں احباب جماعت مردوخواتین حضورِانور کے واپس آنے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ان سبھی نے اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے حضورِانور کو خوش آمدید کہا۔

بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button