امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

دورۂ امریکہ کا نواں روز 4؍ اکتوبر 2022ء بروزمنگل

(رپورٹ:عبدالماجد طاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد)

امریکہ بھر سے آئے احبابِ جماعت کی ملاقاتیں، مسجد بیت الاکرام کا معائنہ، یادگاری پودا لگانے کی تقریب

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر دس منٹ پر مسجد بیت الاکرام تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دنیا کے مختلف ممالک سے موصول ہونے والی ڈاک، فیکسز، ای میلز اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ یہاں امریکہ کی مقامی جماعتوں کی طرف سے بھی حضورِانور کی خدمت میں بڑی کثرت سے آنے والے خطوط حضور اقدس ملاحظہ فرماتے ہیں اور ہدایات سے نوازتے ہیں۔

فیملی ملاقاتیں

پروگرام کے مطابق صبح 11بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملی ملاقاتوں کاپروگرام شروع ہوا۔ آج صبح کے اس پروگرام میں 26 فیملیز کے 126 ممبران نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ شرف ملاقات پایا۔حضورِانور نےا زراہِ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو قلم عطافرمائے اور چھوٹی عمر کی بچیوں کوچاکلیٹ عطافرمائے۔

آج ملاقات کرنے والی یہ فیملیز Dallasکی مقامی جماعت کے علاوہ دیگر چودہ جماعتوں سے آئی تھیں۔ آج بھی بعض فیملیز اورا حباب بڑے لمبے اورطویل سفر طے کرکے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔

Maryland سے آنے والی فیملیز 1367میل کا سفر طے کرکے پہنچی تھیں۔ جبکہ Silicon valley سے آنے والی فیملیز 1701 میل اور Sacramento سے آنے والی فیملیز 1725 میل کاسفر طے کرکے اپنے آقا سے ملاقات کے لیے پہنچی تھیں۔ ملاقات کرنے والوں میں سے ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اپنی زندگی میں پہلی بار حضورِانور سے مل رہے تھے اور شرف دیدار سے فیضیاب ہورہے تھے۔

احبابِ جماعت کے تاثرات

سیاٹل جماعت سے 2095 میل کا سفر طے کرکے آنے والے دوست نوید اقبال صاحب نے اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں چالیس سال بعد خلیفۃ المسیح سے ملاہوں۔ آج مجھے ربوہ کے بابرکت دن یاد آئے ہیں۔ آج میری زندگی مکمل ہوگئی ہے۔ میں روحانی شفایابی اور تندرستی محسوس کرتا ہوں۔

ذوالفقار احمدصاحب جو کہ Dallasجماعت سے آئے تھے بات کرتے ہوئے رونے لگ گئے۔ کہنے لگے کہ زندگی میں پہلی بار خلیفۃ المسیح سے ملاقات ہوئی ہے۔ مجھے اور کیا چاہیے۔ مجھے تو سب کچھ مل گیا ہے۔

انیق راجہ صاحب جماعت ڈیلس نے بتایا کہ حضورِانور نے مجھے انگوٹھی دی اور مجھے مقامی مربی کے قریب رہنے کی ہدایت کی۔ میں نے اپنے آقا سے مل کر اپنے دل میں ایک ایسا سکون اور اطمینان پایا ہے جس کو میں بیان ہی نہیں کرسکتا۔

مبشرہ اخترصاحبہ جماعتHoustonسے آئی تھیں۔ ان سے بات نہیں ہورہی تھی، یہ رونے لگ گئیں۔ کہنے لگیں کہ میری ساری زندگی کی ایک ہی خواہش تھی کہ میں اپنے آقا سے ملوں۔ آج اللہ تعالیٰ نے پوری کردی ہے۔ میں نے صرف اور صرف حضورِانور کے چہرہ مبارک میں نور پایاہے۔

Houston جماعت سے آنے والے ایک دوست واصل محمود صاحب نے بیان کیا کہ میں صرف اتنا کر سکتا تھا کہ حضورِانور کا پُرنور چہرہ دیکھوں۔ بس میں چہرہ ہی دیکھتا رہا۔ میں ملاقات کے دوران کچھ نہیں کہہ سکا۔ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

ایک دوست شمیم احمدصاحب اپنی فیملی کے ساتھ Silicon Valley سے 1701 میل کا لمبا سفر طے کرکے آئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضورِانور نے مجھے نصیحت فرمائی کہ شادی میں صبر انتہائی ضروری ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اپنی بیوی کے ساتھ تین چیزیں کرنی ضروری ہیں۔ اپنی آنکھیں بندکرو، اپنے کان بند کرو اور اپنا منہ بند رکھو۔ یہ ایک کامیاب شادی کا راز ہے۔

جماعت Dallas کے ممبر سعود احمدخان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورِانور نے ہمیں وقت دیا اور بڑے صبر سے ہماری ہر بات سُنی اور ہمیں مشورہ بھی دیا۔ حضورِانور نے ہمیں انگوٹھیاں اور چاکلیٹ بھی عطافرمائے۔ میری بیٹی نے قرآن کریم مکمل کیا ہے۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت قرآن کریم پر دستخط فرمائے۔

جماعت Marylandسے 1367 میل کا سفر طے کرکے آنے والے دوست لطف الرحمٰن جاوید صاحب نے بتایا کہ میری بیٹی کو اس کی پہلی شادی میں کچھ مسائل درپیش تھے۔ حضورِانور نے ہمیں بہت دعائیں دیں اور یقین دلایا کہ انشاءاللہ حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔ ہمیں بہت سکون ملا۔

جماعت Sacramento سے 1725 میل کا طویل سفر طے کرکے آنے والے افغانی احمدی دوست سیدعبدالقادر احمدنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں ابھی چند ماہ پہلے افغانستان سے آیا ہوں۔ حضورِانور نے افغانستان میں پیچھے رہ جانے والے احمدیوں کے بارہ میں تفصیل سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں، کتنے قید ہوئے ہیں۔ حضورِانور نے احمدیوں کے حالات دریافت فرمائے۔ حضورِانور کو میری قوم سے محبت ہے۔ افغانستان کے احمدیوں سے محبت ہے۔ حضورہمارا بہت خیال رکھتے ہیں۔

جماعت Dallas کے ممبر اظہرحسین صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں یہاں ایک ہفتہ سے ڈیوٹی کررہا ہوں۔ لیکن آج میری زندگی کی انتہا تھی کہ میں اپنے پیارے آقا سے ملا۔ جب میری اور میری بیوی کی گذشتہ ملاقات ہوئی تھی تو حضورنے فرمایا تھا کہ اب بچہ پیدا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اس کے چند دن بعد ہمیں پتا چلا کہ میری بیوی اُمید سے ہے۔ اب وہی بیٹی ہمارے ساتھ ملاقات میں شامل تھی۔ میں اللہ کا بہت شکراداکرتا ہوں کہ ہمیں ملاقات جیسی عظیم سعادت نصیب ہوئی۔

ڈاکٹر مظفراحمدخان صاحب جن کا تعلق Dallas جماعت سے ہے ملاقات کے بعد کہنے لگے کہ میں ربوہ میں حضورِانور کا کلاس فیلو تھا۔ اتنے عرصہ کے بعد حضورِانور سے ملاقات ہوئی تو ایسا لگا کہ میں اپنے آقا کے ساتھ اپنے بچپن کی قیمتی یادوں کو دہرا رہاہوں۔ یہ واضح تھا کہ حضور مجھے اب بھی اپنا پرانا دوست سمجھتے ہیں لیکن میں اب اپنے خلیفہ کے سامنے تھا۔

جماعت Dallasسے ایک خاتون تانیہ حسین صاحبہ ملاقات کے لیے آئی تھیں۔ یہ بات کرتے ہوئے رونے لگ گئیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کہنے لگیں کہ جب میں بچی تھی، میں اپنی والدہ کے ساتھ جلسہ سالانہ ربوہ میں شامل ہوتی تھی اور میں دیکھا کرتی تھی کہ جب بھی میری والدہ خلیفۃ المسیح کو دیکھتی تھیں تو وہ روتی تھیں۔ میں سوچا کرتی تھی کہ یہ کیوں رو رہی ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔ لیکن اب میں جوان ہوگئی ہوں۔ میرے بھی بچے ہیں، میں والدہ بن گئی ہوں اور آج میری حضورِانور سے ملاقات ہوئی ہے۔ اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ میری والدہ کیوں روتی تھیں۔ ایک خدائی شخصیت کے سامنے ہونا ناقابل یقین ہے۔ حضورِانور کو دیکھ کر مجھے اللہ کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

ملاقاتوں کے آخر پر مسجد تعمیر کمیٹی Dallas کے ممبران نے بھی ملاقات کا شرف پایا اور بعدازاں حضورِانور کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کی بھی سعادت پائی۔

بعدازاں ایک بج کر40منٹ پر حضورِانور نے مسجد بیت الاکرام میں تشریف لا کر نمازِظہر وعصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے آئے۔

مسجد بیت الاکرام کا معائنہ اور یادگاری پودا لگانا

پروگرام کے مطابق چھ بج کر دس منٹ پر حضورِانور اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور ’’مسجد بیت الاکرام‘‘ اور اس سے ملحقہ آفسز اور ہالز وغیرہ کا معائنہ فرمایا۔

مسجدبیت الاکرام ڈیلس کے صحن میں پودا لگانے کی تقریب

ہماری یہ مسجد Allen کے علاقہ میں ہے۔ Allen سٹی کے میئر Ken Fulk صاحب حضورِانور سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے اور ایک طرف انتظامیہ کے ساتھ کھڑے تھے۔ موصوف نے حضورِانور کو اس شہر میں آمد پر خوش آمدید کہا اور بتایا کہ وہ حضورسے ملنے کے لیے آئے ہیں۔ شاید وہ کسی دوسرے پروگرام کی وجہ سے مسجد کی تقریب میں شرکت نہ کرسکیں اور اپنی جگہ کسی اور کوبھجوائیں گے۔ حضورِانور نے موصوف کا شکریہ ادا کیا کہ وہ خاص ملنے کے لیے آئے ہیں۔

بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سب سے پہلے ملٹی پرپز دو ہالوں کا معائنہ فرمایا۔ 1996ء میں ڈیلس (Dallas) جماعت کی پہلی مسجد کے لیے چار ایکڑ کا پلاٹ 96 ہزار ڈالرز میں خریدا گیا تھا۔ 2002ء کے آغاز میں ان دو ہالوں کی تعمیر شروع ہوئی تھی، جو اسی سال مکمل ہوگئی۔ ان دونوں ہالوں کی تعمیر پر 6 لاکھ 60 ہزار ڈالر خرچ آیا تھا۔ معائنہ کے دوران انتظامیہ نے بتایا کہ یہ دونوں ہالز قبلہ رُخ تعمیر کیے گئے ہیں اور مسجد کی تعمیر تک قریباً 19 سال یہ دونوں ہالز مردوخواتین کے لیے بطور مسجداستعمال ہوتے رہے۔ اب اس وقت یہ خواتین کے لیے بطور ڈائننگ ہالز استعمال ہورہے ہیں۔ ان دونوں ہالوں کا رقبہ پانچ ہزار مربع فٹ ہے۔

اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مسجد کے بیرونی احاطہ میں پودا لگایا۔ بعدازاں حضورِانور مسجد کےخواتین والے حصہ میں تشریف لے آئے اور نماز ہال، لجنہ کے آفسز، کچن اور بچوں کے لیے مخصوص جگہ کا معائنہ فرمایا۔ بعدازاں حضورِانور نے مسجد کے مردانہ حصہ میں تشریف لا کر مختلف آفسز اور لائبریری کا معائنہ فرمایا۔

حضور انور ’’مسجد بیت الاکرام‘‘ اور اس سے ملحقہ آفسز اور ہالز وغیرہ کا معائنہ فرماتے ہوئے

مردوں اور خواتین کے مسجد کے ہالوں میں 450 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ اس کے علاوہ دونوں lobbies میں بھی 250 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔

مسجد، مربی ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، ہال، آفسز اور کچن وغیرہ سب شامل کرکے تعمیر شدہ رقبہ تقریباً 19 ہزار مربع فٹ ہے۔اس سارے پراجیکٹ پر کل خرچ 4.8 ملین ڈالرز ہوا ہے۔

فیملی ملاقاتیں

معائنہ کے بعد چھ بج کر پچیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملی ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔

آج شام کے اس سیشن میں آٹھ فیملیز اور چار گروپس نے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔ ملاقات کرنے والے افراد کی تعداد88تھی۔ ان سبھی فیملیز اور گروپس نے انفرادی طور پر حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو قلم عطافرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں کو چاکلیٹ عطافرمائیں۔

آج ملاقات کرنے والی فیملیز اور احباب امریکہ کی مختلف19جماعتوں سے آئے تھے۔ آج بھی بعض احباب بڑے لمبے اور طویل سفر طے کرکے اپنے آقا سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ یہ لوگ جہاں حضورِانور سے ملاقات کی سعادت پاتے ہیں وہاں حضورِانور کی اقتدا میں نمازیں اداکرنے کی بھی توفیق پاتے ہیں۔

آج جماعت Buffalo سے آنے والے 1325 میل، جماعت نیویارک سے آنے والے 1564میل اور Silicon Valley سے آنے والے 1701 میل، Sacramento سے آنے والے احباب اور فیملیز 1725 میل اور سیاٹل (Seattle)سے آنےوالے 2095میل کا طویل سفر طے کرکے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔

احبابِ جماعت کے تاثرات

آج بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جن کی حضورِانور کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی۔

جماعت Tulsaسےآنے والے ایک دوست بشارت الرحمٰن صاحب کہنے لگے کہ آج کی ملاقات میرے لیے ایک خواب تھی۔ میں چند سال پہلے بنگلادیش سے آیا تھا۔ میں امریکہ کے ایک ایسے علاقے میں ہوں، جہاں احباب جماعت کی تعداد کم ہے۔ حضورِانور نے مجھے فرمایا کہ آپ کی جماعت بہت چھوٹی ہے۔ اس لیے آپ کو جماعت منظم کرنے اور تعداد بڑھانے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ حضورِانور نے فرمایا اپنی جماعت کے لیے زیادہ وقت دیں اور دعا بھی کریں۔ اب میں ذمہ داری کےبڑھتے ہوئے احساس کے ساتھ اپنے شہر واپس جارہا ہوں۔

ایک صاحب منیر احمدباجوہ صاحب جماعت Dallas سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ کہنے لگے کہ میری شادی کو چالیس سال ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب ہم میاں بیوی کی حضور انور سے اکٹھی ملاقات ہوئی ہے۔ میں امیر جماعت امریکہ کا ربوہ میں کلاس فیلو تھا۔ ملاقات میں، میں نے حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا کہ اب میں ریٹائرڈ ہوگیا ہوں، مجھے خدمت کا موقع دیں تو حضورِانور نے مسکرا کرفرمایا کہ جاؤ اور اپنے کلاس فیلو سے پوچھو۔

ایک دوست مظفرکشمیری صاحب جماعت ڈیلس نے بتایا کہ میری زندگی میں حضورِانور سے میری یہ پہلی ملاقات تھی۔ ملاقات کا احوال میرے لیے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میں نے حضورِانور کے وجود میں ایک کشش دیکھی ہے۔کہنے لگے کہ میں ملاقات میں خاموش تھا اور اپنی بیوی کو بات کرنے کا موقع دے رہا تھا۔ حضورِانور نے مجھے فرمایا کہ اتنے خاموش کیوں ہیں، بات کریں۔ کہنے لگے کہ میں ایک باورچی ہوں۔ مجھے پاکستان میں کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن میں جماعت کی وجہ سےا مریکہ آسکا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جماعت کے ذریعہ عزت دی اور آج میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے آقا سے ملنے کا موقع عطافرمایا۔

اشفاق منہاس صاحب Dallas جماعت سے آئے تھے کہنے لگے کہ حضورِانور نے مجھے انگوٹھی عطافرمائی۔ میں جلسہ سالانہ کے ایام میں حضورِانور کے گھر ہی ٹھہرتا تھا تو آج جب میں نے انگوٹھی کی درخواست کی تو حضورِانور نے فرمایا کیونکہ آپ ہمارے گھر میں مہمان رہے ہیں تو میں آپ کوایک انگوٹھی دیتا ہوں، حالانکہ آپ تو کئی سالوں سے شادی شدہ ہیں۔

ایک خاتون حمیرہ احمدصاحبہ جماعت Houston سے آئی تھیں۔ بہت جذباتی کیفیت تھی۔ کہنے لگیں کہ میری نوجوان بیٹی ملاقات میں میرے ساتھ تھی، وہ ڈپریشن کی مریضہ ہے تو میں نے حضورسے درخواست کی کہ اس کے لیے دعا کریں، حضورِانور نے بہت دعائیں دیں اور تبرک بھی دیا۔ میرے دل کو تسلی ہوئی اور بہت سکون ملا کہ حضور اس بچی کے لیے دعا کررہے ہیں۔

جماعت Dallas کی ممبر زینب احمدصاحبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آج مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ملی ہے۔ جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگ سکی تھی۔ میری خواہش پوری ہوگئی، میں نے حضور سے مل لیا، یہ کہہ کررونے لگ گئیں اور ان سے مزید بات نہیں ہورہی تھی۔ کہنے لگیں کہ میں ایک بوڑھی عورت ہوں اور آج یہ دن میری زندگی کا سب سےبڑا خوش نصیب دن ہے۔

ایک دوست وسیم احمدمیرصاحب ہیوسٹن جماعت سے آئے تھے۔ ملاقات کرکے جونہی باہر نکلے تو رونے لگے گئے۔ بات ہی نہیں کرسکتے تھے۔ صرف یہ کہا کہ میرے جذبات ایسے ہیں کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔

محمدرضوان جاوید صاحب جو جماعت Fort Worth سےا ٓئے تھے۔ کہنے لگے کہ امیگریشن مسائل کی وجہ سے میں گزشتہ 13 سالوں سے اپنی فیملی سے نہیں ملا۔ اس کی وجہ سے میں پریشان تھا اور کئی سالوں سے میرے دل ودماغ میں بہت تھکاوٹ تھی۔ لیکن حضور سے ملنے کے بعد ساری تھکاوٹ دور ہوگئی ہے۔ حضور نے میرے لیے دعا کی ہے۔ اب میرے دلی سکون اور راحت ہے۔

Dallas جماعت کے ایک دوست احداحمدخان صاحب کہنے لگے کہ آج حضورِانور سے ملاقات میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ میں حضورِانور سے ملنے کے لیے بےچین تھا۔ حضورِانور نے میری بے چینی کو دور کردیا۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام آٹھ بجے تک جاری رہا۔ بعدازاں ساڑھے آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد بیت الاکرام‘‘میں تشریف لا کرنمازِمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button