امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ(02؍اکتوبر2022ء بروز اتوار)

(رپورٹ:عبدالماجد طاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد)

زائن سے ڈالاس روانگی، ڈالاس میں ورود مسعوعد،

دورۂ زائن کی اخبارات و رسائل میں غیر معمولی کوریج

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح پانچ بج کر پچاس منٹ پر مسجد فتح عظیم میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک ملاحظہ فرمائی اور ہدایات سے نوازا۔

آج پروگرام کے مطابق ZIONسےDALLASکے لیے روانگی تھی۔ صبح سے ہی زائن اور دیگر مختلف جماعتوں سے آئے ہوئے احباب جماعت مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے پیارے آقا کو الوداع کہنے کے لیے جمع تھی۔

دس بج کر پچپن منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے۔ پروگرام کے مطابق لوکل مجلس عاملہ جماعت ZIONنے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ ٹرانسپورٹیشن ٹیم اور ضیافت ٹیم نے بھی گروپ تصاویر بنوانے کا شرف پایا۔

خواتین ایک علیحدہ حصہ میں کھڑی تھیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاز راہ شفقت اس جگہ کی طرف تشریف لے آئے ۔ السلام علیکم حضور! کی آوازیں ہر طرف سے آرہی ہیں۔ بڑے جذباتی مناظر تھے۔حضور انور اپنا ہاتھ بلند کر کے ان کے سلام کا جواب دے رہے تھے۔ ہر طرف سے پر جوش نعرے بلند ہو رہے تھے۔ آگے کچھ فاصلے پر بچیاں الوداعی دعائیہ نظمیں پڑھ رہی تھیں۔ بعدازاں حضور انور بچیوں کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر یہاں سے اس حصہ کی طرف تشریف لے گئے جہاں مرد حضرات کھڑے تھے اور بڑے پر جوش انداز میں نعرے لگا رہے تھے۔ حضور انور اپنا ہاتھ بلند کر کے اپنے ان عشاق کے والہانہ نعروں اور سلام کا جواب دے رہے تھے۔ ایک افریقن دوست غیر معمولی جوش اور پر شوکت آواز میں نعرے لگا رہے تھے۔ حضور انور اس دوست کے پاس سے گزرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا غانین ہو تو اس نے اثبات میں سر ہلایا کہ میں غانین ہوں۔

مربی سلسلہ امریکہ مصور احمد صاحب اپنے نومولود بیٹے کو لیے ہوئے کھڑے تھے حضور انور نے بچے کو پیار کیا اور بعد ازاں تصویر بنوانے کا شرف بھی عطا فرمایا۔

حضور انور قریباً دس منٹ اپنے عشاق کے درمیان موجود رہے ۔

اس دوران حضو رانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت ڈاکٹر تنویر احمد صاحب سے بعض امور پر گفتگو فرمائی۔ ڈاکٹر تنویر احمد صاحب بطور ڈاکٹر قافلہ کے ساتھ ڈیوٹی پر ہیں۔

گیارہ بج کر دس منٹ پر حضور انور نے دعا کروائی اور سب کو السلام علیکم کہا اور قافلہ انٹرنیشنل ایئر پورٹ شکاگو کے لیے روانہ ہوا۔

بارہ بج کر پانچ منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی شکاگو ایئر پورٹ پر تشریف آوری ہوئی ۔ حضور انور ایک پرائیویٹ لاؤنج میں تشریف لے آئے۔

جماعت احمدیہ امریکہ نے شکاگو (CHICAGO)سے DALLASتک کے سفر کے لیے AMERICAN AIRLINESکے ایک چارٹرجہاز ERJ 175 کا انتظام کیا تھا۔ اس جہاز میں 76 سیٹیں تھیں۔ یہ جہاز لاؤنج کے سامنے چند قدم پر پارک کیا گیا تھا۔ حضور انور کی آمد سے قبل سفر کرنے والے تمام احباب کا سامان جہاز میں لوڈ(LOAD)کیا جا چکا تھا۔اس جہاز میں سفر کرنے والے احباب کی تعداد 69تھی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، حضرت بیگم صاحبہ مد ظلہا العالی اور قافلہ کے ممبران کے علاوہ اس جہاز میں سفر کرنے والوں میں مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ امریکہ صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب ، محترمہ امۃ المصور صاحبہ اہلیہ امیر صاحب امریکہ اور محترمہ نقاشہ احمد صاحبہ …نائب امراء میں سے ڈاکٹر حمید الدین صاحب ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب، فلاح الدین شمس صاحب، وسیم ملک صاحب اور اظہر حنیف صاحب نائب امیر و مبلغ انچارج شامل تھے۔

علاوہ ازیں مدیل عبداللہ صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ، نیشنل جنرل سیکرٹری مختار ملہی صاحب، فیضان عبداللہ صاحب چیئر مین میڈیکل ایسوسی ایشن امریکہ، منعم نعیم صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ امریکہ، شریف عودہ صاحب امیر جماعت کبابیر، اور ڈاکٹر تنویر احمد صاحب بطور ڈیوٹی ڈاکٹر ساتھ شامل تھے۔

اس کے علاوہ مختلف جماعتوں کے صدران، مربیان، نیشنل عاملہ کے مختلف سیکرٹریان اور دیگر جماعتی عہدیداران بھی شامل تھے۔

امریکن ایئر لائن کے ERIC ADDUCHIO بطور کوآرڈینیٹر اس سفر میں شامل تھے ۔

جو بورڈنگ پاس مہیا کیا گیا اس پر

[KHILAFAT FLIGHT 2022]

لکھا ہوا تھا۔

فلائٹ کا نمبر KF-2022تھا۔

بورڈنگ کارڈ کے ایک طرف یہ الفاظ درج تھے۔

AHMADIYYA MUSLIM COMMUNITY USA

[100]

1920-2020 CENTENNIAL KHILAFAT FLIGHT 2022

IN THE COMPANY OF HAZRAT MIRZA MASROOR AHMAD KHALIFATUL MASIH V (aba)

جہاز پر سوار ہونےسے قبل، سفر کرنے والے تمام احباب جہاز کے سامنے کھڑے تھے۔ جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تشریف لائے تو تمام احباب نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ گروپ فوٹو بنانے کی سعادت پائی ۔ MTAنے یہ تمام مناظر فلمائے۔

بارہ بج کر پچاس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جہاز پر سوار ہوئے۔

بارہ بج کر اٹھاون منٹ پر جہاز شکاگو کے انٹرنیشنل O, HARE ایئر پورٹ سے ڈیلس DALLAS)کے لیے روانہ ہوا۔ اور قریباً دو گھنٹہ کے سفر کے بعد دو بج کر پچپن منٹ پر ڈیلس کے انٹرنیشنل FORT WORTH ایئر پورٹ پر اترا۔ اور ٹیکسی کرتا ہوا ایک ایسے EXIT GATEپر آکر پارک ہوا جہاں سے باہر جانے کا راستہ انتہائی کم تھا۔ اور قریب ہی گاڑیاں پارک کی گئی تھیں۔

جونہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایئر پورٹ سے باہر تشریف لائے تو صدر جماعت ڈیلس خالد رحیم شیخ صاحب، مبلغ سلسلہ ڈیلس ظہیر احمد باجوہ صاحب اور صدر جماعت FORT WORTH سعید چودھری صاحب حضور انور کو خوش آمدید کہا۔

تین بج کر دس منٹ پر ایئر پورٹ سے ڈیلس جماعت کے مرکز ’’مسجد بیت الاکرام‘‘کے لیے روانگی ہوئی۔ پولیس کی گاڑیوں اور متعدد موٹرسائیکلز نے قافلہ کو ESCORTکیا اور راستہ کو ساتھ ساتھ کلیئر کیا۔ قریباً چالیس منٹ کے سفر کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا ڈیلس جماعت کے مرکز میں ورود مسعود ہوا۔

اپنے پیارے آقا کے استقبال اور حضور انور کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ڈیلس جماعت کے احبا ب جماعت اور امریکہ کی دوسری مختلف جماعتوں اور علاقوں سے حضور انور کے عشاق سینکڑوں کی تعداد میں صبح سے ہی یہاں ’’ مسجد بیت الاکرام‘‘ پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ مرد و خواتین، بچوں بوڑھوں کی ایک بڑی تعداد جو ایک ہزار سے زائد تھی اپنے آقا کی آمد کی منتظر اور زیارت کے لیے بےتاب تھی ۔

ڈیلس (DALLAS)کی مقامی جماعت کے علاوہ یہ عشاق AUSTIN, HOUSTON, FORT WORTH, QUEENS, جارجیا،میری لینڈ(MARY LAND)،TULSA, نارتھ ورجینیا، SAN JOSE, SAN DIEGO , ساؤتھ ورجینیا، BAY POINT, سنٹرل جرسی، LEHIGH VALLEY, RICHMOND,نارتھ جرسی، OSHKOSH, پورٹ لینڈ،BROOKLYN, BUFFALO, CHARLOTTE, ملواکی، یارک(YORK)،بوسٹن، شکاگو، ڈیٹرائٹ، KANSAS CITY, LONG ISLAND,فلاڈلفیا، PITTS BURG, SACRAMENTO ALBAMA, ALBANY, بالٹی مور، CLEVELAND, HAWAI, میامی،PHOENIX, SYRACUS, WILLINGBOROاورTUSCONکی جماعتوں سے آئےتھے۔ بعض جماعتوں سے احباب بڑے لمبے اور طویل فاصلے طے کر کے اپنے محبوب آقا کے استقبال کے لیے پہنچے تھے۔

MARYLANDسے آنے والے 1367میل، لاس ایجلیز سے آنے والے 1433میل، QUEENSسے آنے والے احباب 1578میل اور سیاٹل (SEATTLE)سے آنے والے احباب 2095میل کا طویل فاصلہ طے کر کے اپنے پیارے آقا کے دیدار اور استقبال کے لیے ڈیلس پہنچے تھے۔

ان احباب مرد و خواتین میں سے ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے آقا کا دیدار کرنا تھا اور شرف زیارت پانا تھا ۔ان کا ایک ایک لمحہ بڑی بے تابی سے گزر رہا تھا ۔ آخر وہ مبارک اور ہر ایک کی زندگی کا یادگار لمحہ آپہنچا جب ٹھیک تین بج کر 50 منٹ پر حضور انور کی گاڑی بیرونی گیٹ سے اندر داخل ہوئی ۔جونہی حضور انور گاڑی سے باہر تشریف لائے تو نائب صدر جماعت ڈیلس خالدKIRK صاحب نے مجلس عاملہ جماعت ڈیلس کے ممبران کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خوش آمدید کہا۔ دوسری طرف احباب مسلسل والہانہ نعرے بلند کر رہے تھے ہر طرف سے السلام علیکم حضور ، ’’انی معک یا مسرور‘‘ کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔حضور انور نے اپنا ہاتھ بلند کرکے سب کو السلام علیکم کہا ۔ دوسری طرف احباب کے بھی ہاتھ بلند ہوگئے۔ ہر ایک شرف زیارت سے فیض یاب ہو رہا تھا ۔بہتوں کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ خواتین اور بچیاں شرف زیارت کی سعادت پا رہی تھیں اور اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنے آقا کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ڈیلس(DALLAS) کا یہ پہلا دورہ تھا ۔آج ڈیلس کی سرزمین بھی ان خوش قسمت زمینوں میں شامل ہوگئی جہاں حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس کے مبارک قدم پڑے ہیں ۔ اب اللہ کے فضل سے یہاں بھی ترقیات کے نئے راستے کھلیں گے اور ان شاء اللہ العزیز کامیابیوں اور فتوحات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا ۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے قیام کا انتظام ’’مسجد بیت الاکرام‘‘ کے بیرونی احاطہ میں واقع گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا ۔ حضور انور احباب جماعت کے درمیان سے گزرتے ہوئے اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے ۔

حضور انور نے پانچ بج کر پندرہ منٹ پر’’ مسجد بیت الاکرام‘‘ میں تشریف لاکر نماز ظہر و عصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد اپنی رہائش گاہ پر واپس جاتے ہوئے حضور انور یہاں کے مرکزی کچن میں تشریف لے آئے جو اس وقت بطور لنگرخانہ کے کام کر رہا ہے اور یہاں احباب کے لیے کھانا تیار ہو رہا تھا ۔

حضور انور نے انتظامیہ سے کھانے کے بارے میں اور اس کی مقدار کے بارے میں دریافت فرمایا نیز فرمایا جو دیگچے کھانا پکانے کے لیے آپ نے رکھے ہوئے ہیں وہ سائز میں چھوٹے ہیں ۔ منتظمین نے بتایا کہ وہ ایک ہزار افراد کا کھانا یہاں تیار کرسکتے ہیں۔ اس وقت شام کا کھانا یہاں تیار کیا جارہا تھا یہاں جائزہ کے بعد حضور انور اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔ مسجد بیت الاکرام اور اس سے ملحقہ آفس بلاک اور ہالزوغیرہ کو بجلی کے رنگ برنگے قمقموں سے سجایا گیا ہے ۔اور بیرونی احاطہ میں درختوں کو بھی رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا ہے ۔ حضور انور کی رہائش گاہ پر بھی چراغاں کیا گیا ہے ۔دن ڈھلنے کے ساتھ ہی جماعت کا یہ مرکز جو چار ایکڑ رقبہ پر پھیلا ہوا ہے روشنیوں سے مزین ہو جاتا ہے اور ایک بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ جماعت کا یہ مرکز مین ہائی وے پر واقع ہے۔ ہزارہا مسافر یہاں سے گزرتے ہیں جو اس منظر کا نظارہ کرتے ہیں۔

حضور انور نے ساڑھے آٹھ بجے مسجد بیت الاکرام تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ زائن اور مسجد فتح عظیم کے افتتاح کے حوالہ سے دنیا بھر میں غیر معمولی کوریج ہوئی ہے۔

ا۔ امریکن نیوز ایجنسی AP) Associated Press) نے حضور انور کے دورہ زائن اور مسجد فتح عظیم کے افتتاح کے حوالہ سے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان ہے

Two Prophets, century old prayer duel inspire Zion Mosque

[یعنی کہ ’’دونبیوں کے درمیان صدی پر انا مباہلہ زائن مسجد کی بنیاد کا پس منظر ہے۔‘‘]

[ اس میڈیا آؤٹ لیٹ کی ویب سائٹ کے مطابق تقریباًد نیا کی آدھی آبادی اس کے قارئین ہیں۔]

بعد ازاں یہ مضمون مجموعی طور پر دنیا کے تیرہ مختلف ممالک کے 412 آؤٹ لیٹس اور اخبارات میں شائع ہوا بشمول واشنگٹن پوسٹ (Washington Post )، اے بی سی نیوز (ABC News)، ٹورنٹو سٹار Toronto Star

، The Hill اور بہت سے دوسرے مشہور اخبارات ہیں۔ یہ ایسوسی ایٹڈ پریس (Associated Press ) کے ٹاپ 10 مضامین میں شامل تھا۔

اس مضمون میں بتایا گیا کہ

’’زائن میں 115 سال پہلے ایک مقدس معجزہ ہوا تھا۔ دنیا بھر کے لاکھوں احمدی مسلمان اس پر یقین رکھتے ہیں۔ احمدی اس چھوٹے شہر کو جو شکاگو سے 40 میل شمال میں Michigan جھیل کے ساحل پر واقع ہے ایک خاص مذ ہبی اہمیت دیتے ہیں۔ اس شہر سے احمدی جماعت کا لگاؤ ایک صدی سے زیادہ پہلے مباہلہ اور ایک پیشگوئی کے ساتھ شروع ہوا تھا۔

زائن شہر کی بنیاد 1900ءمیں ایک مسیحی تھیوکریسی (Theocracy) کے طور پر جان الیگزینڈر ڈوئی نے رکھی تھی جو ایک Evangelist اور ابتدائی پینٹی کوسٹل (Pentecostal) مبلغ تھا۔ احمدیوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے ڈوئی کے اسلام کے خلاف بد زبانی اور حملوں کے جواب میں اسلام کا دفاع کیا اور اسے صرف دعاؤں کا ہتھیار استعمال کر کے روحانی جنگ میں شکست دی۔

تقریباً تمام زائن کے موجودہ باشندوں کو اس پر انے دور کی مقد س لڑائی کا کوئی علم نہیں ہے۔ لیکن احمدیوں کے لیے یہ مقدس لڑائی وہ ہے جس نے شہر زائن کے ساتھ ایک ابدی تعلق قائم کیا ہے۔ دنیا بھر سے ہزاروں احمدی مسلمان اس صدی پرانے معجزے کو یاد کرنے کے لیے اور زائن شہر کی تاریخ اور ان کے عقیدے کے ایک اہم سنگ میل ۔’’ شہر کی پہلی احمدیہ مسجد کا افتتاح ‘‘کو منانے کے لیے شہر میں جمع ہوئے ہیں۔

ڈوئی 1847ءمیں اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا خاندان 1860ء میں آسٹر یلیا چلا گیا، جہاں وہ چرچ کا پادری بن گیا۔ ڈوئی 1888ءمیں آسٹر یلیا چھوڑ کر امریکہ چلا گیا جہاں وہ اپنی شفایابی کی Ministry کے ساتھ مشہور ہوا۔

اپنے پیروکاروں کے فنڈز استعمال کرتے ہوئے ڈوئی نے ایک عیسائی یوٹوپیا (UTOPIA) قائم کرنے کی امید میں لیک کاؤنٹی، الینوائے (Lake County, Illinois) میں 6,000 ایکڑ زمین خریدی۔ اس کے شہر کے قوانین جوا، تھیٹر ، سرکس، شراب اور تمباکو سے منع کرتے تھے۔ اس نے قسم کھانے، تھوکنے، ناچنے ، سؤر کا گوشت کھانے ، سیپ(OYSTERS)اور ٹین (TAN) کے رنگ کے جوتوں پر بھی پابندی لگا دی۔ 1900ءمیں بنایا گیا بڑا Shiloh Tabernacle زائن کا مذ ہبی مرکز بن گیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاںڈوئی اپنی بڑھتی ہوئی سفید داڑھی کے ساتھ اور پرانے عہد نامے کے ایک اعلیٰ پادری کے چمکدار کڑھائی والے لباس میں ملبوس نمودار ہوا اور اپنے آپ کو’’Elijah the Restorer‘‘قرار دیا۔ اس نے افریقی امریکیوں کو زائن شہر میں جانے کی اجازت دی لیکن اس نے سیاست دانوں ، طبی ڈاکٹروں اور مسلمانوں کے لیے سخت الفاظ کہے جن کا اظہار اس نے اپنے جریدے میں کیا۔

1902ءمیں ڈوئی نے لکھا: ’’یہ میرا کام ہے کہ میں مشرق و مغرب ، شمال اور جنوب سے لوگوں کو اکٹھا کروں اور اس صیہون شہر کے ساتھ ساتھ دوسرے شہروں میں عیسائیوں کو آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آ جائے جب محمدی مذ ہب اس دنیا سے مکمل طور پر ختم ہو جائے ۔ اے خدا ہمیں وہ دن دکھا۔‘‘

احمد یہ مسلم جماعت زائن کے صدر طاہر صوفی نے جماعت کی نئی مسجد میں کھڑے ہوتے ہوئے کہا ’’ ڈوئی ہماری تاریخ کا بھی ایک حصہ ہے۔‘‘ جماعت نے اس مسجد کانام فتح عظیم رکھا ہے ، جس کا انگریزی میں مطلب’’GREAT VICTORY‘‘ہے۔

یہ چالیس لاکھ ڈالر کی عمارت احمد یہ جماعت کے پرانے مرکز کی جگہ سے دو میل کے فاصلہ پر بنائی گئی ہے ۔

اکتوبر میں افتتاح کے لیے یہ نئی جگہ تیار کر تے ہوئے صدر جماعت طاہر صوفی صاحب نے احمدیوں کی نسلوں کو سوسال قبل کے گزرے ہوئے واقعات کے بارے میں بتایا تھا۔ جب بانیٔ سلسلہ احمد یہ جو انڈیا سے تھے انہوں نے ڈوئی کے اسلام کے خلاف نفرت بھرے الفاظ کے بارے میں سناتو بانی جماعت احمدیہ نے اسے بد زبانی سے باز رہنے کی تاکید کی۔ احمدیوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بانی، جو 1835ء میں پیداہوئے، وہ مصلح تھے جن کی خوشخبری بانی ٔاسلام نے دی تھی۔ ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد حضرت عیسیٰؑ کے مثیل کے طور پر آمد ثانی ہیں۔

صوفی صاحب نے کہا کہ جب ڈوئی نے بانی جماعت احمدیہ کے پیغام کو نظر انداز کیا تو 1902ءمیں آپ نے زائن کے بانی کو ’’ دعا کی لڑائی‘‘ یعنی مباہلہ کا چیلنج دیا۔ نیو یارک ٹائمز اور اس وقت کے دیگر امریکی اخبارات میں ، اس پیج کو دو مسیحوں کے درمیان لڑائی کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ سچا نبی کون تھا اور سچا مذ ہب کون سا تھا۔ بانی جماعت احمدیہ نے تحریری طور پر زور دے کر کہا، ’’جو جھوٹا ہے وہ سچے نبی کی زندگی میں ہی ہلاک ہو گا۔‘‘

ڈوئی نے آپ کے چیلنج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور آپؑ کے بیانات کہ عیسیٰؑ انسان تھے ، مصلوب ہونے سے بچ گئے اور اپنی باقی زندگی کشمیر میں گزاری پر طنز کیا۔ اس نے جو اباً لکھا:

’’ کیا تم سمجھتے ہو کہ مجھے ایسے مچھروں اورمکھیوں کا جواب دینا چاہیے ؟‘‘

اگلے سالوں میں ، ڈوئی کی شان و شوکت ختم ہونے لگی۔ 1905ءمیں ڈوئی کےایک لیفٹیننٹ ولبر وولیوا نے اس سے چرچ کی قیادت سنبھالی جب ڈوئی پر اسراف اور فنڈز کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا۔ اس کے بعد ڈوئی کی صحت خراب ہو گئی۔ اس کا انتقال 1907ء میں فالج کےحملے کی وجہ سے ہوا۔

جبکہ حضرت مرزا غلام احمؑد نے ڈوئی کے انتقال کے ایک سال بعد 73 سال کی عمر میں وفات پائی، ان کے پیروکار ڈوئی کے زوال اور موت کو اپنے بانی اور عقیدے کے لیے ایک عظیم فتح سمجھتے ہیں۔

احمد یہ مسلم جماعت کے امریکی نمائندے امجد محمود خان صاحب نے کہا کہ دنیا بھر کے احمدیوں کے لیے اس مباہلہ نے بانی جماعت احمدیہ کے دعووں کی سچائی کی تصدیق کی ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو احمدی بچے دنیا بھر میں اپنے گھروں اور اپنی مساجد میں سن کر بڑے ہوتے ہیں۔

خان نے کہا، ’’ چاہے آپ میامی (MIAMI)، مین (MAINE)، ساؤتھ ڈکوٹا (SOUTH DAKOTA) یا سیاٹل (SEATTLE) میں کسی احمدی سے بات کریں انہیں اس واقعہ کا پتاضر ور ہو گا اور انہیں سمجھ بھی ہو گی کہ یہ کتنی بڑی فتح تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ و ہ ڈوئی کے انتقال پر خوش ہیں۔” یہ قصہ اسلام پر جھوٹے الزامات کے مقابل پر فتح ہے، اور یہ قصہ تعصب پر دعا کی فتح کا قصہ ہے۔ ‘‘

خان نے کہا کہ عالمی احمد یہ جماعت کے موجودہ را ہنما اور خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب نئی مسجد کا افتتاح کرنے کے لیے زائن میں تشریف لائے ہیں ۔ زائن کی احمد یہ کمیونٹی کو اپنی خواتین کی حمایت حاصل ہے جنہوں نے قائدانہ کردار سنبھالے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ افریقی امریکیوں کی بھی بڑی تعداد جماعت میں شامل ہے۔ زائن جماعت میں تقریباً نصف جماعت افریقی امریکن ہیں۔

احمد یہ مسلم جماعت کی خواتین کی صدر ضیاء طاہرہ بکر صاحبہ نے کہا کہ احمدی خواتین نے نئی مسجد کے لیے کل فنڈز کا تقریباً نصف حصہ دیا ہے۔ بکر جو افریقی امریکی ہیں نے تقریباً چالیس سال قبل اسلام احمدیت قبول کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت اور زبان کی رکاوٹوں پر قابو پانا مشکل نہیں ہے کیونکہ ان کے عقیدے نے تمام ثقافتوں کے احمدیوں کو ایک دوسرے سے محبت میں باندھ رکھا ہے۔ بکر نے کہا کہ’’میں نے جوانی میں چائے نہیں پی تھی اور نہ ہی مسالہ دار کھانا کھایا تھا، لیکن مجھے اب پسند ہے ۔ جب آپ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں تو آپ یہ سب بھول جاتے ہیں کیونکہ آپ دل سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مباہلہ اور ڈوئی کی موت نے احمدی مسلمانوں کے لیے زائن شہر میں خدمت کرنے کے راستے کھول دیے ہیں۔

’’ ہم دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ انہیں ہم مسلمانوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ‘‘ بکر نے کہا۔ ’’ یہ ضروری ہے کہ ہم یہ کام اپنے بچوں کے لیے کر یں تا کہ ہم ان تمام غلط فہمیوں کو دور کر سکیں۔‘‘

احمدی اپنے مینار کی تعمیر میں آگے بڑھ رہے ہیں ، جو انہیں امید ہے کہ اگلے سال مکمل ہو جائے گا۔ مینار اسلام کی عالمی علامت ہے ۔ مینار کی تعمیر ڈوئی کے عیسائی یوٹوپیا (UTOPIA) کے وژن (VISION) سے بالکل بر عکس ہو گی۔ جلد ہی زمین سے 70 فٹ بلند مسجد کا مینار ڈوئی کے ہی شہر کا سب سے اونچا مینار ہو گا۔

امریکن نیوز ایجنسی (Associated Press (AP کا یہ آرٹیکل امریکہ کے 200 اخبارات پرنٹ میڈیا میں اور 176 آن لائن اخبارات / PUBLICATIONS میں شائع ہوا ہے۔

علاوہ از یں کینیڈا میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ زائن اور مسجد فتح عظیم کے افتتاح کی کوریج بہت وسیع پیمانہ پر ہوئی۔

کینیڈا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے 9 بڑے اخبارات اور 6 آن لائن 15 اور ایک ریڈیو سٹیشن کے ذریعہ دورہ زائن کی کوریج ہوئی اور کینیڈا میں آٹھ لاکھ ستاون ہزار لوگوں تک پیغام پہنچا۔

امریکہ کینیڈا کے علاوہ یو کے ، یونان، سیر الیون، تائیوان ، انڈیا، ہانگ کانگ، پیرو، فلپائن، ساؤتھ افریقہ ، تنزانیہ اور ویتنام کے آن لائن اخبارات نے بھی کور یج دی ہے۔

امریکن نیوز ایجنسی(Associated Press (AP جس کے ذریعہ زائن مسجد کے کا افتتاح کی خبر ساری دنیا میں پہنچی ہے اس کا تعارف درج ذیل ہے ۔

یہ دنیاکی سب سے بڑی نیوز ایجنی ہے ۔

یہ اب تک جر نلزم کی دنیا کا سب سے ہائی ایوارڈ PULITZER PRIZE 56 مرتبہ جیت چکے ہیں۔

یہ نیوز ایجنسی گزشتہ 172 سال سے قائم ہے۔اور دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں 203 لوکیشن پر ان کے 378 نیوز روم ہیں۔ ان کے OFFICES ہیں۔ 3300کی تعداد میں ان کے ملازمین ہیں۔

یہ سالانہ 510ملین ڈالرز REVENUEجنریٹ کرتے ہیں۔

Religion News Service کے صحافی نے ہفتہ یکم اکتوبر کی شام حضور انور کا انٹر ویو لیا تھا۔ اس کے بعد اس نے انٹرویو درج ذیل ہیڈنگ کے ساتھ شائع کیا:

Ahmadi Muslims inaugurate new mosque on site of historic prayer duel

[یعنی کہ احمدی مسلمانوں نے تاریخی مباہلہ کے مقام پر نئی مسجد کا افتتاح کیا]

Religion News Service کے قارئین کی تعد ادماہانہ بائیس لاکھ ہے۔

اخبار نے لکھا:

٭… دو آدمیوں نے جو خدا کی طرف سے نبی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے خداسے اپنے دعووں کی سچائی ظاہر کرنے کے لیے دعا کی۔ ایک الیگزینڈر ڈوئی تھا عیسائی پادری جس نے الینوائے (Illinois ) میں زائن شہر کی بنیاد رکھی ۔ اس کے مقابل پر جو چیلنج دینے والے تھے مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ تھے ۔ چیلنج یہ تھا کہ جو پہلے مرے گا وہ ہارے گا۔ چنانچہ ڈوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اس حال میں مر ا کہ اس کی فیملی نے بھی اس کو چھوڑ دیا تھا اور اس طرح اس چیلنج میں اس کی شکست ہوئی۔

٭…حضرت مرزا مسرور احمد جو جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہیں نے فرمایا کہ اس مسجد کے نام پر جو فتح کا اشارہ ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ خد اکا حقیقی اور سچا آدمی کون ہے اور یہ کہ ہمیں تمام مذاہب کا احترام کر نا چا ہیے۔

٭… لجنہ اماءاللہ خواتین کے گروپ نے مسجد کی تعمیر میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا۔

٭… زائن ٹاؤن شپ سپر وائزر Cheri Neal کے مطابق ایک وقت تھا جب زائن کے کچھ باشندوں کو خدشہ تھا کہ احمدی مسلمان اس مباہلہ کی وجہ سے شہر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ۔ وہ کہتی ہیں کہ ان دنوں مباہلہ کا واقعہ زائن میں معروف نہیں ہے لیکن احمدی مسلم جماعت معروف و مشہور ہے ۔ کہتی ہیں ’’اگر آپ ان کے دلوں کو جانتے ہیں ، تو آپ جانتے ہیں کہ یہ قبضہ کرنے کی کوشش نہیں ہے بلکہ یہ ان کی یہاں کے لوگوں کی خدمت کرنے کی کوشش ہے ۔‘‘

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button