امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

ڈالاس شہر اور مسجد بیت الاکرام: ایک مختصر تعارف

ڈالاس، ٹیکساس

امریکی ریاست ٹیکساس کے شمال میں واقع ڈالاس شہر اس ملک کا نواں اور ریاست کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ 340 مربع میل کے اس شہر میں 13 لاکھ سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔ یہاں پر رہنے والوں میں 58 فیصد سفید فام، 24 فیصد سیاہ رنگت اور 18 فیصد دوسری نسلوں کے لوگ شامل ہیں۔ اس شہر کی آبادی گزشتہ دہائی میں غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔ یہ شہر لوگوں کی کشش کا باعث اس لیے ہے کہ یہاں پر ضروریات زندگی کی مناسب قیمتیں، نیم سردی، اچھے سکول اور بہتر معاشی حالات ہیں۔ گو یہاں پر اکثریت عیسائی مذہب کے لوگوں کی ہے مگر مذہبی آزادی اور رواداری ہے۔ دیگر مذاہب کے علاوہ یہاں پر تقریباً ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ستر مساجد ہیں۔

ڈالاس جماعت

ڈالاس جماعت 1989ء میں باقاعدہ طور پر قائم ہوئی۔ اس وقت سارا ڈالاس اور قریبی شہر فورٹ ورتھ کا میٹر وایریا اسی جماعت میں شامل تھا۔ پہلے صدر جماعت مکرم رفیق سید صاحب منتخب ہوئے۔ 1993ء تک یہاں صرف 20 خاندان آباد تھے مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف ڈالاس جماعت کی تجنید 500 سے زائد ہے جبکہ فورٹ ورتھ میں مزید 250 احمدی رہتے ہیں۔ مسجد بیت الاکرام ڈالاس کے مضافاتی شہر ایلن میں واقعہ ہے جس کی آبادی ایک لاکھ ہے۔ مسجد رہائشی علاقہ میں ہونے کی وجہ سے احباب جماعت کی اکثریت کے قریب واقع ہے۔ درجنوں خاندان مسجد بیت الاکرام سے صرف 15 منٹ کی مسافت کے اندر مقیم ہیں۔

مسجد بیت الاکرام کی تاریخ

تاریخ گواہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت اپنے خلفاء کے زیر سایہ ہمیشہ ترقی کی جانب گامزن رہی ہے۔ ڈالاس جماعت کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدّ نظر رکھتے ہوئے 1996ء میں جماعت نے مضافاتی شہر ایلن میں 5ایکڑ زمین 96 ہزار ڈالرز میں خریدی۔ اُس وقت یہ علاقہ بالکل غیر آباد تھا۔ اس کے کچھ سال بعد 2002ء میں مسجد کے لیے دو ہال تعمیر کیے گئے جن کی لاگت تقریباً ساڑھے چھ لاکھ ڈالر تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمة اللہ علیہ نے اجازت فرماتے ہوئے اس مسجد کے لیے دعا کر کے ایک اینٹ بھیجی اور اس مسجد کا نام بیت الاکرام رکھا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے چند سال بعد جماعت کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مسجد کی مزید توسیع کا تقاضا کیا جس کے نتیجہ میں مرکز سے منظوری کے بعد 2012ء میں ایک بڑی گنجائش کی مسجد، مشنری ہاوٴس اور کمرشل باورچی خانہ کے لیے منصوبہ بندی شروع ہوئی۔ چنانچہ 31 مارچ 2018ء میں موجودہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اس تقریب کی صدارت مکرم صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب، امیر جماعت احمدیہ امریکہ نے کی۔ توسیع کے اس منصوبہ کو دو مراحل میں مکمل کیا گیا۔ پہلا مرحلہ مشنری ہاوٴس، کمرشل کچن اور پارکنگ کی تعمیر پر مشتمل تھا جبکہ دوسرے مرحلہ میں خوبصورت بڑی مسجد کی تعمیر شامل تھی۔ پہلے مرحلہ کے لیے جماعت نے جنرل کنٹریکٹر کو کام دیا مگر دوسرے مرحلہ کےلیے ایک مخلص احمدی مکرم منور پراچہ صاحب کی خدمات لی گئیں جس کے نتیجہ میں یہ اعلیٰ معیار کی مسجد بہت کم قیمت پر تعمیر ہوئی۔ مسجد مکمل ہونے کے بعد مسجد کے پرانے ہالوں کو جو 2002ء میں تعمیر کیےگئے تھے ضیافت کے ہالز میں تبدیل کر دیا گیا۔

مسجد بیت الاکرام کے کوائف

دس ہزار مربع فٹ سے زیادہ پر مشتمل یہ نئی مسجد اپنے اندر مردانہ اور زنانہ نمازہال کے علاوہ لابی، متعدد دفاتر، لائبریری اور کانفرنس روم رکھتی ہے۔ مسجد میں 450 احباب نماز ادا کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید 250 افراد کے بیٹھنے کی جگہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ قریباً 5000 مربع فٹ کے پرانے ہالز میں بھی مزید 300 احباب نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد کے کمپلیکس میں 130 سے زائد گاڑیاں بآسانی کھڑی ہو سکتی ہیں۔ مسجد کی کُل لاگت 22 لاکھ ڈالر آئی جبکہ تمام منصوبے پر جس میں مربی ہاوٴس، کمرشل کچن اور پارکنگ لاٹ وغیرہ شامل ہیں 48 لاکھ ڈالرز خرچ ہوئے۔ اس منصوبہ کی تعمیل کے لیے ڈالاس جماعت نے غیر معمولی مالی قربانی کا مظاہرہ کیا۔ چھوٹی جماعت ہونے کے باوجود اخراجات کا اکثر حصہ جماعت کے مخلص احباب نے خود اٹھایا اور مرکز پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالا۔مکرم ظہیر احمد باجوہ صاحب، تب مربی سلسلہ ڈالاس اور مکرم حامد شیخ صاحب، صدر جماعت ڈالاس کے علاوہ تمام مقامی جماعت کی انتھک محنت اور بے شمارمالی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ٹیکساس کی سر زمین کو اپنے وجود سے برکت بخشی۔

(رپورٹ: سید شمشاد احمد ناصڑ، مطیع اللہ جوئیہ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button