امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ (۲۸؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز بدھ)

(رپورٹ: عبدالماجد طاہر-ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد حال مقیم زائن امریکہ)

(۲۸؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز بدھ)

٭… احبابِ جماعت کی انفرادی، فیملی اور اجتماعی ملاقاتیں

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح پانچ بج کر پچاس منٹ پر ’’مسجد فتح عظیم‘‘میں تشریف لاکرنماز فجر پڑھائی۔

نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔ صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔ پروگرام کے مطابق گیارہ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔

آج صبح کے اس سیشن میں ۴۲ فیملیز کے۱۸۶ افراد نے اپنے پیارے آقا سے شرف ملاقات پایا۔ ان سبھی فیملیز نے حضور انور کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضور انور نے ازراہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائے۔

آج زائن کی جماعت کے علاوہ ڈیٹرائیٹ، میامی، شکاگو، لاس اینجلیز ، ڈیٹن، جارجیا، سینٹ لوئیس، اوشکوش، آسٹنSACRAMENTO, SILICON VALLY, MINNESOTA, MILWAUKEE, KANSAS CITYکی جماعتوں سے آنے والے احباب اور فیملیز نے بھی شرف ملاقات پایا۔

بعض مقامات سے احباب بڑے طویل ترین سفر طے کر کے ملاقات کے لیے پہنچےتھے۔ کینساس سے آنے والی فیملیز ۵۵۶ میل ، جارجیا سے آنے والی ۷۴۸ میل، لاس اینجلیز سے آنے والی فیملیز ۲۰۴۶ میل اور سکارمینٹو سے آنے والی فیملیز اور احباب ۲۰۷۲ میل کا طویل سفر طے کر کے پہنچے تھے۔

آج ملاقات کرنے والی فیملیز میں بڑی تعداد اُن لوگوں کی تھی جو پاکستان سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے اور اپنی زندگی میں پہلی بار حضور انور سے مل رہے تھے۔ ان کی خوشی ناقابلِ بیان تھی انہوں نے اپنے پیارے آقا کے قرب میں جو چند لمحات گزارے وہ ان کی ساری زندگی کا سرمایہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک برکتیں سمیٹتے ہوئے باہر آیا اور ان کی تکالیف اور پریشانیاں راحت و سکون میں بدل گئیں۔

شکاگو ایسٹ سے آنے والے عبدالنور سلمان صاحب کہنے لگے کہ میں ملاقات کا احوال الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ یہ میری ساری زندگی کا ا یک یادگار ترین واقعہ ہے۔ میں نے حضور کے چہرے سے نور نکلتے دیکھا ہے۔ شکاگو سے آنے والے ایک دوست جب ملاقات کر کے دفتر سے نکلے تو رونے لگ گئے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے بڑی مشکل سے بات کر رہے تھے۔ کہنے لگے حضور نے مجھے فرمایا ہے کہ نماز پڑھو، نماز پر توجہ دو کہ یہ ہے تمام مشکلات کا حل۔

ایک خاتون بینش احمد صاحبہ کہنے لگیں کہ یہ آج کی ملاقات میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی جو آج پوری ہو گئی۔ یہ بات کہتے ہوئے موصوفہ رونے لگیں۔ کہنے لگیں کہ میں آج کتنی خوش قسمت ہوں کہ اتنی بڑی جماعت ہے اور خدا تعالیٰ نےمجھے یہ موقع عطا فرمایا ہے۔

ایک دوست شاہد احمد صاحب نے کہاکہ میں چھیالیس سال کا ہو گیا ہوں اور کبھی ملاقات نہیں کی۔ مجھے اپنی ساری زندگی میں اس دن کا انتظار تھا۔ آج مجھے ایسا روحانی تجربہ ہوا ہے کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔

ایک صاحب زیرک محمود صاحب کہنے لگے کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں تو پاکستان میں تھا خدا تعالیٰ مجھے امریکہ لے کر آیا اور یہاں مجھے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی۔

ایک دوست سید جمشید علی صاحب جب ملاقات کر کے باہر آئے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بہت خوشی کا اظہار کر رہے تھے کہ مَیں تو اپنے بزنس کی کامیابی کے لیے دعائیں لے کر آیا ہوں۔

زائن جماعت کے ایک دوست اعجاز الحق صاحب کہنے لگے کہ حضور انور نے مجھے فرمایا کہ اب آپ نے اس مسجد کو آباد کرنا ہے اور پانچوں نمازوں کی ادائیگی پر توجہ دینی ہے۔

ایک دوست زید احمد جو جماعت سکارمینٹو سے ۲۰۷۲ میل کا فاصلہ طے کر کے ملاقات کے لیے آئے تھے کہنے لگے کہ مجھے اس قدر خوشی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آج میں امریکہ میں صرف حضور کی وجہ سے ہی ہوں۔ حضور نے پاکستان میں میری فیملی کا وظیفہ لگوایا تھا اور اس بابرکت وظیفے سے میں نے آئی ٹی میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور آج اسی ڈگری کی بدولت امریکہ میں ملازمت حاصل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ(۲۶؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز سوموار)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ(۲۷؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز منگل)

ایک صاحب میجر نعیم احمد جو شکاگو سے آئے تھے کہنے لگے کہ ہم نے یہ مسجد بنوائی ہے۔ ہم اس مسجد کے بنانے والے تھے حضور انور نے مسجد کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ آپ لوگوں نے انتہائی زبردست مسجد بنوائی ہے۔ گیسٹ ہاؤس میں اور مسجد میں کوئی کمی نہیں رہنے دی۔

ایک دوست حافظ علی اصغر صاحب جو لاس اینجلیز سے ۲۰۴۶ میل کا فاصلہ طے کر کے ملاقات کے لیے آئے تھے کہنے لگے کہ حضور نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اور زیادہ قرآن کو سنو اور پڑھو تاکہ حفظ قرآن ٹھیک رہے۔

ایک دوست بشارت ہارگے صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آٹھ سال قبل ساؤتھ افریقہ سے امریکہ آیا تھا میں نے بھی مسجد کی تعمیر میں مدد کی ہے۔ حضور سے ملاقات کر کے ہم بے حد خوش ہیں۔ مجھے تسکین قلب حاصل ہوئی ہے۔ لاس اینجلیز سے ۲۰۴۶ میل کا فاصلہ طے کر کے ملاقات کے لیے آنے والے ایک دوست احمد علی خالد صاحب جب ملاقات کے بعد دفتر سے باہر نکلے تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور دل جذبات سے بھرا ہوا تھا کہنے لگے میری زندگی کی ایک ہی خواہش تھی اور وہ آج اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی ہے۔

ڈیٹرائیٹ سے آنے والے ایک دوست بشارت احمد نے کہا کہ میں اپنے جذبات کو بیان کرنے کی سکت نہیں پاتا۔ یہ میری زندگی میں پہلی ملاقات تھی۔ آج میں انتہائی خوش قسمت ہوں ہم نے حضور انور کی دعائیں حاصل کی ہیں۔

جماعت شکاگو ایسٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نوید ساہی صاحب نے کہا کہ اس وقت میرا دل جذبات سے بھرا ہوا ہے۔ میری اپنی فیملی کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی۔ مجھے پتہ نہیںکہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے میں بہت ایکسائیٹڈ ہوں۔ کچھ بیان نہیں کر سکتا۔ ایک دوست طاہر احمد صاحب جو شکاگو جماعت سے آئے تھے ملاقات کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم اپنے آقا کے سامنے بول ہی نہیں سکتے تھے۔ کوئی بات ہی نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے سوالات کی تیاری بھی کی تھی کہ حضور سے یہ باتیں کریں گے۔ لیکن جونہی حضور انور کے چہرہ مبارک پر نظر پڑی تو پھر ہم سب کچھ بھول گئے۔ میرا سار اجسم کانپ رہا تھا ہم ایک اور ہی دنیا میں تھے۔ شکاگو کے ایک دوست محمد ذکریا صاحب کہنے لگے کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ حضور انور نے میری بیٹی کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور اپنے ساتھ لگایا۔ ہم نے برکتیں حاصل کیں۔ ملاقاتوں کا یہ پروگرام ایک بج کر چالیس منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد فتح عظیم میں تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کے بیرونی احاطہ میں تشریف لا کر پودا لگایا۔ اس کے بعد حضور اقدس ایدہ اللہ اپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔

پروگرام کے مطابق چھ بج کر دس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کے مردانہ ہال میں تشریف لائےجہاں مرد احباب کا ایک گروپ کی صورت میں اجتماعی ملاقات کا پروگرام تھا اس گروپ میں شامل افراد کی تعداد ۲۷ تھی جو مقامی جماعت زائن کے علاوہ دیگر ۱۴ جماعتوں سے آئے تھے۔ ان میں بعض دوست کینٹکی سے ۴۵۲ میل اور جارجیا سے ۷۴۸ میل کا سفر طے کر کے آئے تھے۔ جبکہ سیاٹل سے آنے والے ۲۰۱۴ میل اور پورٹ لینڈ سے آنے والے ۲۰۸۷ میل کا طویل سفر طے کر کے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت باری بار ی تمام احباب سے ان کا تعارف حاصل کیا۔ ان سے دریافت فرمایا آپ کہاں سے آئے ہیں۔ کب آئے ہیں کیا کام کرتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ نے ازراہ شفقت ہر ایک سے اس کا حال دریافت فرمایا۔ جو طالب علم تھے ان کو حضور انور نے قلم عطا فرمائے جو چھوٹی عمر کے بچے باپ کے ساتھ تھے حضور انور نے ازراہ شفقت ان کو قلم عطا فرمائے۔

ایک دوست گلفام اشرف صاحب نے بتایا کہ گوجرانوالہ سے تعلق ہے حضور انور کو دیکھ کر میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئی ہیں۔ انہوں نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کیا ہوا ہے۔ اب حضور انور سے ملاقات کر لی ہے تو انشاءاللہ العزیز اس ملاقات کی برکت سے مجھے جاب بھی مل جائے گی۔موصوف نے بعد ازاں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حضور انور کو محض دیکھ کر ہی اپنے ایمان میں بہت طاقت حاصل کی ہے۔ حضور انور کی صحبت میں بیٹھ کر مجھے آنحضرتﷺ کا زمانہ یاد آگیا ہے۔ حضور انور کی صحبت نے مجھے دین کی مزید خدمت کرنے کا احساس دلایا ہے۔

ایک دوست ظفر سلیم صاحب جو ملواکی جماعت سے آئے تھے ان کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے۔ کہنے لگے بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ خلیفہ ہمارا ہے اور ہم اس کے ہیں۔ حضور نے جس شفقت اور پیار سے بات کی ہے محسوس ہوتا ہےکہ ہمارے اوپر خلیفہ وقت کا سایہ ہے۔

میاں انور احمد جو شکاگو جماعت سے آئے تھے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ زندگی میں میری حضور انور سے پہلی ملاقات ہے جب میں حضور سے بات کرنے لگا تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے میری زندگی کی خواہش آج پوری ہو گئی ہے۔

زائن جماعت سے ایک نوجوان ACHRAF ISSAMنے حضور انور کی خدمت میں عرض کی کہ میرا تعلق مراکش سے ہے اور میں صدر جماعت مراکش اعصام الخامسی صاحب کا بیٹا ہوں۔ ۲۰۱۱ء سے یہاں امریکہ میں ہوں اور یہاں پڑھائی مکمل کر کے کام کر رہا ہوں۔ موصوف نے ملاقات کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باوجود اس کے کہ یہ گروپ ملاقات تھی لیکن پھر بھی ہمیں بہت زیادہ وقت ملا۔ میرے لیے تو یہ بڑے خاص لمحات تھے میں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل ڈیوٹی پر تھا لیکن آج اس ملاقات نے مجھ میں دوبارہ جان ڈال دی ہے مجھے ایک نئی زندگی عطا ہوئی ہے۔

محمود اسلم صاحب جو کہ ڈیٹرائٹ سے آئے تھے کہنے لگے کہ خدا کے نور کی تجلی میرے سامنے تھی۔ حضور کی توجہ مجھ پر تھی۔ مجھے زندگی میں سب کچھ مل گیا۔

ایک طالبعلم سمیع اللہ صاحب جو کہ رچمنڈ جماعت سے آئے تھے کہنے لگے کہ حضور سے ملاقات میرے لیے ایک خاص تجربہ تھا۔ مجھ سے بات نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی پڑھائی کی مدد کے لیے حضور سے قلم کی درخواست کی حضور انور نے مجھے قلم عطا فرمایا اب مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مدد کرے گا۔

جماعت سینٹ لوئس سے آنے والےایک دوست سید ظہیر احمد شاہ صاحب کہنے لگے کہ میرے پاس بات کرنے کو الفاظ نہیں ہیں۔ جو میں محسوس کر رہا ہوں جو میری اس وقت حالت ہے میں بیان نہیں کر سکتا۔

حیدرآباد انڈیا سے آنے والے ایک نوجوان نے عرض کیا کہ میں آٹھ ماہ پہلے یہاں امریکہ میں آیا ہوں۔ آئی ٹی میں ماسٹر کرنے آیا ہوں میری شدید خواہش تھی کہ حضور انور سے ملاقات ہو آج اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کر دی ہے۔

حیدرآباد انڈیا سے آنے والے ایک اور دوست نے عرض کیا کہ وہ کمپیوٹر سائنس میں بیچلرکر رہے ہیں۔ اور ایک دوست نے عرض کیا کہ وہ بھی حیدرآباد انڈیا سے ہیں اور انجینئرنگ مینجمنٹ میں ماسٹر کر رہے ہیں۔ ان سبھی نے حیدرآباد جماعت کے ممبران اور اپنے عزیز و اقارب کا سلام حضور انور کو پہنچایا۔ اور دعا کی درخواست کی۔ حضور انورنے فرمایا اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔ حضور انورنے فرمایا آپ لوگ آئی ٹی، کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کرنے یہاں آئے ہوئے ہیں جب کہ انڈیا اس فیلڈ میں بہت آگے ہے اور وہاں تعلیم کا معیار بہت اچھا ہے۔

اس اجتماعی ملاقات کے آخر پر تمام افراد نے باری باری حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

چھ بج کر پینتالیس منٹ پر یہ ملاقات اپنے اختتام کو پہنچی۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے ہال میں تشریف لے گئےجہاں لجنہ کے گروپ کی حضور انور کے ساتھ اجتماعی ملاقات تھی۔ خواتین کی تعداد ۸۰ تھی جو کہ جماعت زائن کے علاوہ دیگر ۱۷ مختلف جماعتوں اور علاقوں سے آئی تھیں۔ جماعت جارجیا سے آنے والی خواتین ۷۴۸ میل، اور میامی سے آنے والی ۱۴۰۸میل اور سیاٹل سے آنے والی خواتین ۲۰۱۴ میل کا فاصلہ طے کر کے حضور انور سے ملاقات کے لیے پہنچی تھیں۔

جب کہ لاس اینجلیز سے سفر کرکے آنے والی ۲۰۴۶ اور پورٹ لینڈ سے آنے والی خواتین ۲۰۸۷ میل کا طویل سفر طے کر کے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لیے پہنچی تھیں۔حضور انور نے خواتین سے ان کا تعارف اور تعلیم اور کیرئیر کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ طالبات کو حضور انور نے ازراہ شفقت قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کی بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔

بعض خواتین نے حضور انور کی خدمت میں اپنی ’’الیس اللہ بکافٍ عبدہ‘‘ کی انگوٹھیاں متبرک کرنے کی درخواست کی۔ حضور انور نے ازراہ شفقت اس درخواست کو قبول فرمایا۔ بعض خواتین نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت بھی پائی۔لجنہ کے ساتھ یہ ملاقات ساڑھے سات بجے تک جاری رہی۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لیے اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

آٹھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فتح عظیم میں تشریف لاکر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button