امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ (۲۷؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز منگل)

(رپورٹ: عبدالماجد طاہر-ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد حال مقیم زائن امریکہ)

(۲۷؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز منگل)

٭… مسجد فتحِ عظیم میں ڈاکٹر ڈووی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مباہلہ کی تفصیلات پر مشتمل نمائش کا افتتاح اور معائنہ

٭…مسجد فتحِ عظیم کی یادگاری افتتاحی تختی کی نقاب کشائی اور دعا

٭…منارۃ المسیح کی طرز پر تعمیر ہونے والے ستر فٹ بلند منارے کا سنگِ بنیاد

٭…مسجد فتحِ عظیم کی خوبصورت عمارت کا معائنہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح پانچ بج کر بچاس منٹ پر مسجد فتح عظیم میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے رہائشی حصہ میںتشریف لے گئے۔ صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی مختلف دفتری امور کی ادائیگی میں مصروفیت رہی۔ بعد ازاں پروگرام کے مطابق دوپہر ایک بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد فتح عظیم سے ملحقہ نمائش ہال میں تشریف لا کر نمائش کا معائنہ کیا۔ اس نمائش کو درج ذیل دس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ، آنحضرتﷺ اور اسلام، حضرت مسیح موعود علیہ السلام، قرآن کریم اور تراجم، امام مہدیؑ کے بارہ میں جملہ مذاہب کی پیشگوئیاں، حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے دعاوی اور نشانات، ڈاکٹر الیگزینڈرڈوئی شدید معاند اسلام اور اس کی اسلام دشمنی، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پرمعارف جواب اور دعوت مباہلہ، ڈاکٹر ڈوئی کا عروج اور عبرتناک انجام، فتح عظیم کا جاری سفر۔

ان تمام دس مضامین کو برقی طور پر ہر حصہ میں ایک بڑی سکرین پر ویڈیو لوپنگ(VIDEO LOOPING)کے ذریعہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ہر حصہ میں ٹی وی سکرین کے نیچے شیشے کے ایک شوکیس میں اس حصہ کے مضمون کے متعلق جملہ نوادرات رکھے گئے ہیں۔ اس نمائش میں جو اہم اشیاء رکھی گئی ہیں اُن میں ڈاکٹر ڈوئی کے سوسال پرانے نوادرات کی تصاویر، ریویو آف ریلیجنز کے وہ ابتدائی شمارے جن میں ڈاکٹر ڈوئی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چیلنج دیا تھا اور اس کی ہلاکت کے بارہ میں پیشگوئی فرمائی تھی۔ یہ ۱۹۰۲ء، ۱۹۰۵ء اور ۱۹۰۷ء کے شمارے ہیں۔

ڈاکٹر ڈوئی کے رسالے ’’LEAVES OF HEALING‘‘کے وہ شمارے بھی رکھے گئے ہیں جن میں آنحضرتﷺ کے بارے میں گند اچھالا گیا تھا۔ یہ شمارے اس لیے رکھے گئے ہیں تاکہ یہ بتایا جائے کہ ڈاکٹر ڈوئی کے اس بغض و عناد کے مقابلہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کو ہتھیار کے طور پر پیش کیا۔

۱۹۰۲ء اور ۱۹۰۳ء کے وہ اصل اخبارات بھی رکھے گئے ہیں جن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کے ساتھ وہ چیلنج بھی رقم ہے جو آپؑ نے ڈوئی کو مخاطب ہوتے ہوئے دیا تھا۔ ان اخبارات میں LIBRARY DIGESTاور تین مزید اخبارات شامل ہیں۔

اخبار BOSTON HERALD صفحہ بڑا کر کے

5X7 فٹ کے سائز میں دیوار پر آویزاں کیا گیا ہے جس کی سُرخی درج ذیل ہے’’GREAT IS MIRZA GHULAM AHMAD‘‘حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سیکشن میں حضور علیہ السلام کا ایک کوٹ بھی شیشے کے شوکیس میں رکھا گیا ہے جوآپؑ زیب تن فرماتے تھے۔

آنحضرتﷺ کے بارے میں غیروں کی آراء میں ایک قابل ذکر شخصیت EMPEROR MING ہیں جنہوں نے ۱۵۷۳ء میں حضورﷺ کے بارہ میں ایک سو چائنیز زبان کے الفاظ پر مشتمل آپؐ کی مدح میں نظم لکھی ہے جو ملک چین میں اڑھائی ہزار مساجد میں موجود ہے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ(۲۶؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز سوموار)

سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ(۲۸؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز بدھ)

اخباربوسٹن ہیرالڈ کے ۲۸ جون ۱۹۰۷ء کے شمارہ میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی تصویر کے ساتھ دیگر پیشگوئیوں کا ذکر ہے جن میں زلازل، دُم دار ستارہ اور چاند سورج گرہن اور طاعون وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کے اخباری نسخہ جات شو کیس میں رکھے گئے ہیں۔ نمائش کی ایک انتہائی اہم چیز وہ Kioskہے جس میں ۱۶۰ اخباری تراشے جمع کیے گئے ہیں اور ورلڈ میپ کے مختلف حصوں کو ٹچ کرنے سے یہ تمام تراشہ جات ساٹھ انچ کی ٹی وی سکرین پر واضح ہو جاتے ہیں اور صاف پڑھے جاتے ہیں۔ یہ تمام تراشہ جات ۱۹۰۲ء سے لے کر ۱۹۰۹ءکی دہائی میں امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، اسکاٹ لینڈ، اور انڈیا کے اخباروں میں شائع ہوئے تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نمائش کے معائنہ کے دوران اس Kioskکو لانچ کیا اور ڈاکٹر ڈوئی کے ذکر، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی اور ڈوئی کے عبرتناک انجام کے حوالہ سے مختلف علاقوں کے اخبارات کا مشاہدہ کیا۔ جن میں NEBRASKA, ALASKAنیویارک اور بوسٹن وغیرہ کے اخبار شامل ہیں۔

حضورِ انور نمائش کا معائنہ فرما رہے ہیں

نمائش میں دیوار پر جو مختلف ٹی وی سکرین لگائی گئی ہیں ان میں ایک ٹی وی سکرین پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی فتح کے ۱۴ تراشے خودبخود منظر عام پر آتے ہیں اور مختلف ممالک میں شائع ہونے والے اخبارات چند منٹوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فتح اور تصدیق کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک ٹی وی سکرین پر ۲۰ اخبارات کے وہ تراشے ہیں جن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ڈوئی کو دیے جانے والے مباہلہ چیلنج کا ذکر ہے۔ یہ تراشے ٹی وی سکرین پر بغیر کوئی بٹن دبائے یا ٹی وی سکرین کو ٹچ کیے تبدیل ہوتے ہیں۔ ٹی وی سکرین کے سامنے ہاتھ ہلا کر اشارہ کریں تو اگلا تراشہ آجاتا ہے۔ اس طرح صرف ہاتھ کے اشارہ سے جو تراشہ بھی آپ دیکھنا چاہتے ہیں وہ آپ کے سامنے آجائے گا۔

ایک ٹی وی سکرین پرہاتھ کے اشارہ سے بدلتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وہ اقتباسات ہیں جن میں خداتعالیٰ سے تعلق کے بارہ میں تعلیمات بیان کی گئی ہیں۔ ایک کالم پر نیویارک ٹائمز کی وہ عبارت درج ہے جس کا عنوان RIVAL PROPHETSہے۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پرزور الفاظ میں ڈوئی کو چیلنج دیا ہے۔

جس شوکیس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کوٹ آویزاں ہے اس کے اوپر دیوار پر یہ درج ہے

’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نمائش کے معائنہ کے دوران ڈوئی کے نوادرات دیکھ کر فرمایا کہ موسیٰ کے زمانے میں فرعون تھا جس کی ممی کو محفوظ کیا گیا۔ آج (ڈوئی کے) ان نوادرات کو محفوظ کر کے آپ نے اس نشان کو محفوظ کر لیا ہے۔

نمائش کا ایک حصہ قدرت ثانیہ کے حوالہ سے تیار کیا گیاتھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت احمدیہ کے ذریعہ جماعت احمدیہ مسلسل ترقی کر رہی ہے تو دوسری طرف ڈوئی اور اس کی جماعت کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ شوکیس میں خلفاء کی بعض کتب رکھی گئی ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتب دیکھ کر فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اور خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی کتب بھی شامل کریں۔

چاند سورج گرہن کے حوالہ سے پرانے اخبارات کے تراشے رکھے گئے ہیں۔ ۱۸۹۵ء کے اخباری تراشے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ مغرب کے لئے ۱۸۹۵ء میں گرہن لگا تھا اور اہلِ مشرق کے لئے ۱۸۹۴ء میں گرہن لگا تھا۔

نمائش کے آخری حصہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی رؤیا ’’غلام احمد کی جے‘‘کو سکرین پر دکھایا گیا تھا۔ اور تبرکات کو ظاہر کیا گیا تھا۔ حضور انور نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ ’’میرے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو تبرکات ہیں‘‘ حضور انور نے اپنے ہاتھ میں پہنی ہوئی دونوں انگوٹھیوں ’’الیس اللّٰہ بکافٍ عبدہ‘‘ اور ’’مولیٰ بس‘‘ کی طرف اشارہ کیا۔

اس نمائش کا مکمل انتظام مکرم انور محمود خان صاحب نیشنل سیکرٹری تحریک جدید اور ان کی ٹیم نے بڑی محنت سے کیا۔ آخر پر اس ٹیم کے ممبران نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔

نمائش کے معائنہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کی بیرونی دیوار پر لگی تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مینارہ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ شہر کی انتظامیہ کی طرف سے مسجد کے ساتھ مینارۃ المسیح کی طرز پر ایک مینارہ تعمیر کرنے کی بھی منظوری ملی ہے۔ اس مینارہ کی اونچائی ۷۰ فٹ ہوگی۔

مسجد فتح عظیم اور اس سے ملحقہ ہال اور دفاتر کو ایک نقشہ کی صورت میں بورڈ پر آویزاں کیا گیا تھا۔ حضور انور نے یہ نقشہ جات دیکھے۔ مکرم فلاح الدین شمس صاحب نائب امیر یو ایس اے نے اس پراجیکٹ کے حوالہ سے حضور انور کی خدمت میں مختلف امور عرض کیے اور بتایا کہ ہمارے اس قطعہ زمین کا کل رقبہ ۱۰ ایکڑ پر محیط ہے جس میں سے اس وقت اڑھائی ایکڑ زیر استعمال ہے۔ مسجد اور دفاتر کی تعمیر ہے گیسٹ ہاؤس کی تعمیر ہے ایک وسیع پارکنگ ایریا بنایا گیا ہے اور اسی اڑھائی ایکڑ رقبہ میں مختلف جگہوں پر مارکیز بھی لگائی گئی ہیں۔

حضور انور نے دریافت کیا کہ جو باقی ساڑھے سات ایکڑ رقبہ ہے وہ اس نقشہ کے مطابق کس طرف ہے تو اس پر موصوف نے اُس حصہ کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اس طرف ہے اور اس رقبہ پر درخت لگے ہوئے ہیں۔ حضور انور نے پارکنگ ایریا کے بارہ میں دریافت فرمایاتو عرض کیا گیا کہ مسجد کے پارکنگ ایریا میں ۹۵ گاڑیاں آسکتی ہیں۔

بعد ازاں حضور انور نے مسجد سے ملحقہ ہال اور دفاتر کا معائنہ فرمایا۔ نمائش ہال کے علاوہ لائبریری ہے۔ دفاتر میں، دفتر صدر جماعت اور لجنہ کے دفاتر شامل ہیں۔چلڈرن کلاس کے لئے بھی ایک کمرہ رکھا گیا ہے۔ آڈیو ویڈیو روم بھی ہیں۔ اور ایک لانڈری روم بھی بنایا گیا ہے۔ لفٹ کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ دو سٹوریج رومز بھی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ گراؤنڈ فلور (BASE MENT)میں بھی تشریف لے گئے جہاں ایک ملٹی پرپز ہال(MULTI PURPOSE HALL)تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا رقبہ ۲۴۵۱ مربع فٹ ہے۔ اس وقت اسے نماز کی ادائیگی کے لئے استعمال کیاجا رہا ہے۔ اس ہال میں ۳۰۰ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس ہال میں مردوں اور عورتوں کے لیے علیحدہ علیحدہ واش رومز بنائے گئے ہیں۔ اور کمرشل کچن بھی موجود ہے۔

معائنہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد میں تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔

ریلیجن نیوز سروس(RELIGION NEWS SERVICE)کی ایک صحافی ایملی مِلر حضورانور کا انٹرویو کرنے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ موصوفہ کے امریکہ میں لاکھوں فالوورز ہیں۔ یہ صحافی خاتون مسجد فتح عظیم کے پس منظر اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور ڈاکٹر ڈوئی کے درمیان مباہلہ پر ایک مضمون لکھ رہی ہیں۔

پروگرام کے مطابق چھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نمائش ہال میں تشریف لائے جہاں انٹرویو کا پروگرام تھا۔

انٹرویو کے آغاز میں جرنلسٹ نے پہلا سوال یہ کیا کہ اس مسجد کے افتتاح کے لئے حضور کا یہاں آنا کیا اہمیت رکھتا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ہم جہاں بھی مسجد بناتے ہیں عموماً وہاں کی جماعت مجھ سے پوچھتی ہے کہ کیا میرا وہاں آنا ممکن ہے ؟ جرمنی ہو یا برطانیہ ہو یا کوئی اور ملک ہو۔کووِڈ سے پہلےمیں مساجد کے افتتاح کے لئے جایا کرتا تھا لیکن یہاں زائن میں ایک خاص چیز ہے جیسا کہ آپ نے نمائش میں بھی دیکھا ہے تو یہ بھی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔

حضور انور نے فرمایا’’میں عام طور پر مساجد کا افتتاح کرتا ہوں اور وہاں اپنی جماعت کے افراد سے ملتا ہوں۔ اس طرح ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور میں انہیں نصائح کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ مسجد کی تعمیر کا مقصد کیا ہے۔ یہ نہ ہو کہ آپ صرف اس کو عارضی طور پر یا کچھ خاص ہونے کی وجہ سے منائیں۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ ہماری زندگی اور ہمارے دین کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے مساجد اسی مقصد کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں۔ اور میں اپنے لوگوں کو یاد دلاتا ہوں کہ انہیں صرف مسجد کی تعمیر پر خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں حقیقت میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے تو اس طرح ان کی راہنمائی ہوتی ہے اور پھر وہ اپنے آپ میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ ‘‘

جرنلسٹ نے دوسرا سوال کیا کہ اس مسجد کا نام فتح عظیم ہے اس سے کیا مراد ہے؟ فتح کس کی ہے؟

اس پر حضور انور نے فرمایا ’’اگر آپ یہ نمائش دیکھیں تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ مسیح محمدی اور نام نہاد مسیح کا مقابلہ کیسے شروع ہوا، چنانچہ یہی دعاؤں کا مقابلہ تھا جس کا اعلان بانئ سلسلہ احمدیہ نے کیا۔ پہلے آ پ نے ڈوئی کو نصیحت کی کہ تم انبیاء اور مقدس لوگوں کے خلاف یہ غلیظ زبان نہ استعمال کرو لیکن وہ آپ کے خلاف بدزبانی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اُس نے کہہ دیا کہ میں دعا کروں گا کہ پوری امت مسلمہ اور ہر مسلمان تباہ ہو جائے۔ اس پر بانئ جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ پورے مذہب کو تباہ کرنے کی بجائے ہم دو لوگ ہیں اس لیے ایک دوسرے کے خلاف دعا کرتے ہیں۔ اور پھر دعاؤں کا مقابلہ شروع ہوگیا تھا اور خداتعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ اس مباہلہ میں فتح تمہاری ہوگی اور پھر بالآخر ایسا ہی ہوا۔ تو ’’فتح عظیم‘‘ کا یہ نام آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا۔ چنانچہ جب ہم نے یہ مسجد بنائی تو جماعت نے اس کا نام رکھنے کی درخواست کی تو اس پر میں نے کچھ نام تجویز کیے اور جماعت سے کہا کہ کوئی ایسا نام منتخب کریں جس کو امریکہ کے باشندے آسانی سے بول سکتے ہوں لیکن مقامی جماعت نے اصرار کیا کہ یہ نام ’’فتح عظیم‘‘اس مسجد کے لئے مناسب ہے پھر میں نے اس کی منظوری دی تو اس طرح اس مسجد کا نام ’’فتح عظیم‘‘ رکھا گیا۔‘‘

پھرجرنلسٹ نے سوال کیا کہ امریکہ کے باشندوں کے لئے اس مباہلہ کا واقعہ جاننا کیوں ضروری ہے؟

اس پر حضور انور نے فرمایا ’’یہ صرف امریکہ کے باشندوں کے لئے ہی اہم نہیں ہے بلکہ یہ سب کے لئے اہم ہے۔ ہر امریکی تاریخ میں دلچسپی نہیں رکھتا لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بہت شوقین ہیں وہ سوچتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک میں رہنے والے مختلف لوگوں کی تاریخ اور مختلف مذاہب اور ان کے پس منظر کے بارے میں جاننا چاہیے۔ اس لئے جو لوگ دلچسپی رکھتے ہیں وہ یہاں آئیں اور ہماری تاریخ جانیں اور یہ کہ کسی ایک مذہب کی فتح نہیں ہے دراصل لوگوں کو یہ بتانے کی فتح ہے کہ خدا کا سچا بندہ کون ہے اور یہ کہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی گالم گلوچ نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں تمام مذاہب کا احترام کرنا چاہیے۔ یہیں قرآن کریم کی تعلیم ہے اور یہی بات بانئ سلسلہ احمدیہ نے کہی ہے کہ تم ایک دوسرے کا احترام کرو۔ اور یہ کہ انسان کی پیدائش کا اصل مقصد اللہ کی عبادت ہے اس لئے آپ کا جو بھی طریقہ ہے جس مذہب کو بھی آپ مانتے ہیں آپ اس اصل مقصد کے مطابق عمل کرو لیکن دوسرے لوگوں کے خلاف غلیظ زبان یا گالی گلوچ کا استعمال نہ کریں۔ تو اب جب ہم اس تاریخ کو لوگوں کے سامنے بیان کریں گے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں اور مذہب سے دلچسپی رکھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ یہ سب کچھ ایسا ہی ہوا۔‘‘

بعدازاں جرنلسٹ کے اس سوال پر کہ آپ کے مطابق لوگوں پر اس مباہلہ کے کیا اثرات ہونگے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’ہمارا کام اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور اسلام کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے اور آپ کسی کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اور جو لوگ اسلام قبول نہیں کرتے وہ کم از کم یہ سمجھ لیں گے کہ اسلام ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے اور اپنے فرائض ادا کرنے کا کہتا ہے۔ بانئ سلسلہ احمدیہ نے کہا کہ میرے آنے کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا اور اللہ تک پہنچانا ہے انہیں یہ سمجھانا ہے کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی ہے اور اللہ کی عبادت کیوں کرنی ہے اور اپنے خالق کے سامنے جھکنا ہے اور دوسرا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا احساس دلانا ہے لوگوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ انہیں ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنا چاہیےاوریہی بات قرآن کریم سکھاتا ہے اور یہی ہم مانتے ہیں اور یہی ہے جس کی ہم تبلیغ کرتے ہیں۔‘‘

پھر جرنلسٹ نے آخری سوال یہ کیا کہ کیا اب بھی دنیا میں آرگنائزڈ ریلیجن یعنی منظم مذہب کا کوئی کردار ہے کیامذہب امن کی آواز بن سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا ’’ ہم کہتے ہیں کہ دین کا مقصد کسی کو ڈرانا نہیں ہے جیسا کہ میں پہلے آپ کو بتا چکا ہوں کہ بانئ سلسلہ احمدیہ دو مقاصد کے لئے دنیا میں ظاہر ہوئے اور آپ نے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو زندہ کرنے کا دعویٰ کیا اور یہ تعلیم دو اصولوں پر مشتمل ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ اس لیے اگر آپ ان دونوں فرائض کو جانتے ہیں تو پھر ہم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم جس کی تبلیغ کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں ہم اس قسم کے جنونی ملاں، شرپسند نہیں ہیں جو معاشرے کا امن خراب کر رہے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ ہمیں امن سے رہنا چاہیے اور ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ تم ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرو۔ قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ تم بت پرستوں کے خلاف کوئی بدزبانی بھی نہ کرو۔ کیونکہ وہ انتقام میں اللہ کے خلاف وہی زبان استعمال کریں گے۔ اس لیے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

حضور انور نے فرمایا ’’جہاں تک مسجد کا مقصد ہے اور ہم کس طرح رہتے ہیں ہم یہاں کیا کرنے جا رہے ہیں میں اپنے خطاب میں بھی بیان کروں گا‘‘

یہ انٹرویو چھ بج کربیس منٹ پر ختم ہوا۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے۔ جہاں پروگرام کے مطابق فیملیز ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔

آج شام کے اس سیشن میں ۳۲ فیملیز کے ۱۵۲ افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کا شرف پایا۔ ان سبھی افراد نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضور انور نے ازراہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے۔ اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائے۔

آج زائن کی جماعت کے علاوہ INDIANA, OSHKOSH, CHICAGO, MILWAUKEE, IOWA, SEATTLE, SILICON VALLEYکی جماعتوں سے آنے والی فیملیز نے بھی شرف ملاقات پایا۔ بعض فیملیز بڑا طویل سفر طے کر کے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لئے پہنچی تھیں۔ سیاٹل سے آنے والے ۲۰۱۴ میل اور سیلیکون ویلی سے آنے والی فیملیز ۲۱۹۰ میل کا سفر طے کر کے آئی تھیں۔ملاقاتوں کا یہ پروگرام آٹھ بجے تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فتح عظیم میں تشریف لاکر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button