مضامین

محرم کے مہینے میں درود شریف اور دعاؤں کی خاص تحریک

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :’’ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہیں ،ہمیں صبرواستقامت کا سبق دے کر ہمیں جنت کے راستے دکھا دیئے ۔ ان دنوں میں یعنی محرم کے مہینہ میں خاص طور پر جہاں اپنے لئے صبرواستقامت کی ہر احمدی دعا کرے ، وہاں دشمن کے شر سے بچنے کے لئےرَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِی کی دعا بھی بہت پڑھیں ۔ پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمیں یہ دعا محفوظ رہنے کے لئے پڑھنے کی بہت ضرورت ہے ۔ اللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْھِمْ کی دعا بھی بہت پڑھیں ۔ درود شریف پڑھنے کے لئے میں… پہلے بھی کہتا رہتا ہوں کہ اس طرف بہت توجہ دیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ دشمن جو ہمارے خلاف منصوبہ بندیاں کررہاہے اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ دشمن جو ہمارے خلاف منصوبہ بندیاں کررہا ہے اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اپنی خاص تائیدونصرت فرمائے اور ہم پر رحم کرتے ہوئے دشمنانِ احمدیت کے ہر شر سے ہر فردِ جماعت کو اور جماعت کو محفوظ رکھے۔ ان کا ہر شر اور منصوبہ جو جماعت کے خلاف یہ بناتے رہتے ہیں یا بنارہے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہی پر الٹائے ۔ ہمیں آنحضرت ﷺ کی حقیقی آل میں شامل فرمائے ۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اصل مقام روحانی آل کا ہے ۔ اگر جسمانی رشتہ بھی قائم رہے تو یہ تو ایک انعام ہے ۔ لیکن اگر جسمانی آل تو ہو لیکن روحانی آل کا مقام حاصل کرنے کی یہ جسمانی آل اولاد کوشش نہ کرے تو کبھی اُن برکات سے فیضیاب نہیں ہوسکتی جو آنحضرت ﷺ کی ذات سے منسلک ہونے سے اللہ تعالیٰ نے دینے کا وعدہ فرمایا ہے ۔

پس ہمیں ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے ۔ جب بھی درود شریف پڑھیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم کس حد تک اس درود سے فیضیاب ہونے کے لئے آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں ۔ کس حد تک زمانے کے امام کی بیعت میں آکر قرآن کریم کی حکومت اپنے سر پر قبول کرنے والے ہیں ۔ اللہ کرے کہ بزرگوں کے مقام کے یہ ذکر اور مخالفین احمدیت کی ہم پر سختیاں اور ظلم اور بعض حکومتوں کا ہم پر ان ظلموں کا حصہ بننا ہمیں پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہو۔ہماری قربانیاں سعید فطرت لوگوں کو احمدیت کی آغوش میں لانے والی ہوں اور ہم احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی فتوحات کے نظارے دیکھنے والے ہوں ۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍نومبر 2012ء۔الفضل انٹرنیشنل 14تا20؍دسمبر 2012ء صفحہ 8)

(مرسلہ: ظہیر احمد طاہر ۔ جرمنی )

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button